معرکہ بڈھ بیر پشاور

Published in Hilal Urdu

تحریر:سید آصف شیرازی

شہیدِ پاکستان اسفند یار بخاری نے قوم کو ایک بڑے سانحے سے بچایا

اسفندیار بخاری 14اگست 1988کو اٹک شہر میںپیدا ہوئے۔اُن کے والد محترم سید فیاض بخاری ضلع اٹک کے معروف پیتھالوجسٹ ہیں۔ اُن کے بڑے بھائی سید شہریاربخاری انجینئر ہیں اور آج کل برطانیہ میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ جبکہ برادر خورد سید حسان بخاری میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ اُن کی والدہ اٹک شہر میں عرصہ دراز سے خواتین کو درس قرآن دے رہی ہیں۔ اسفند نے ابتدائی تعلیم اے پی ایس اٹک سے حاصل کی۔ جب وہ کلاس دوم میں تھے تو کلاس میں بلیڈ لگنے سے آپ کی انگلی زخمی ہو گئی۔ کلاس کے بچوں نے شور مچایا کہ اسفند یار کا خون نکل رہا ہے۔ اسفند نے اس تکلیف کی حالت میں اپنی کاپی پر اپنے خون سے پاک لکھا۔ اتنے میں ان کی ٹیچر آ گئیںا ور انہوں نے ٹشو پیپر سے خون بند کرنے کے لئے اسفند کی انگلی پکڑ لی۔ اسفند نے اس درد کی حالت میں ٹیچر سے کہا کہ میڈم مجھے پاکستان تو پورا کرنے دیتیں۔


اس کے بعد وہ فضائیہ کالج کامرہ چلے گئے۔ جہاں پر اُن کی ایڈمشن ٹاپ پر تھی۔ ایک اچھے کھلاڑی اور ایک بہترین مقرر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ اُن کو کلاس ٹیچر میڈم امتیاز نے منی کمپیوٹر کا خطاب دیا۔ انہوں نے
7th
کلاس میں ٹاپ کیا اور اسی سال کیڈٹ کالج حسن ابدال کے لئے منتخب ہو گئے۔ کیڈٹ کالج حسن ابدال میں اُن کی جملہ صلاحیتیں نکھر کر سامنے آ گئیں۔ ایف ایس سی تک پہنچتے پہنچتے وہ کیڈٹ کالج کے
Legend
بن چکے تھے۔ انہیں ''نایاب طالب علم'' کے خطاب سے نوازا گیا۔ کیڈٹ کالج میں جناح ونگ کے کمانڈر، بیالوجی کلب کے صدر، ہاکی کے کپتان، شطرنج کے چیمپیئن، بلند پایہ مقرر، بے مثل گھڑسوار، فٹ بال اور باسکٹ بال کے کھلاڑی رہے۔ کالج میگزین' ابدالین' کے معاون ایڈیٹر اور مسلسل پانچ سال بورڈ آف ایڈیٹرز اور رائیٹرز کے ممبر رہے۔ اس دوران اُن کی 9تحریریں میگزین کا حصہ بنیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اُن کی لاجواب قیات میں جناح ونگ نے چیمپیئن شپ بھی جیت لی۔ وہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کی تاریخ میں واحد ہاکی کھلاڑی ہیں جو پنجاب ہاکی
Under-18
کے کیمپ کے لئے منتخب ہوئے۔
اُن کی نہایت شاندار کارکردگی پر اپریل 2006 میں اٹک فیسٹیول میں انہیں' فخر اٹک' کے باضابطہ خطاب سے نوازا گیا اور ان کی تصویر اٹک کی لائبریری میں آویزاں کر دی گئی تاکہ ضلع اٹک کے طلبہ میں جذبہ مسابقت نمو پائے۔ بے شک یہ کسی سترہ سالہ طالب علم کے لئے بہت ہی اعزاز کی بات تھی۔ اسفند یار نے ایف ایس سی اعلیٰ نمبرو ں سے پاس کی تو تمام گھر والوں کا خیال تھا کہ وہ میڈیکل کالج جوائن کرے گا۔ مگر اسفند یار بخاری نے پاکستان آرمی میں جانے کا اٹل فیصلہ کیا۔ وہ اکثر مسکرا کر کہا کرتے تھے کہ پاکستان کی بہادر فوج کو میری ضرورت ہے۔ ہمارا ملک دہشت گردی کی جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔ ان مشکل حالات میں میں دفاع وطن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پھر وہ میڈیکل چھو ڑ کر پی ایم اے کاکول چلے گئے۔

markabudber1.jpg
اُن کا عسکری کیریئر مختصر مگر تابناک رہا۔ نومبر 2006میں پی ایم اے کاکول کو جوائن کیا۔ بے مثال کارکردگی پر تھرڈ ٹرم میں کارپول اور فورتھ ٹرم میں بٹالین سینئر انڈر آفیسر بنا دیئے گئے۔ اسی دوران اُنہوں نے پیراگلائیڈنگ اور پیراجمپنگ کے کورسز کئے۔ اُن کے ٹرم کمانڈر میجر صفر خان نے اُن کی اعلیٰ صلاحیتوں سے متاثر ہو کر جنرل رومیل کا خطاب دیا۔ اُنہوں نے ہاکی اور تیراکی میں میڈل حاصل کئے۔ اُن کی کپتانی میںطارق کمپنی نے ہاکی چیمپیئن شپ جیت لی۔ وہاں اُنہوں نے گھڑسواری میں بھی شیلڈ حاصل کی۔ وہ ایک بہترین باکسر تھے اور 18اکتوبر 2008 کو ملٹری
Subjects
میں پی ایم اے کاکول میں ٹاپ کرنے پر اُنہیں
'Tactics'
میڈل ملا۔ 25اکتوبر 2008 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے سب سے بڑے اعزاز
Sword of Honour
سے سرفراز ہوئے۔ پھر اُنہوں نے بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ
FF۔ 11
(فرسٹ پٹھان)جوائن کی اور بہاولپور چلے گئے۔ 2009 میں وہ ایک جنگی مشق' الصمصام۔3' کے سلسلے میں سعودی عرب گئے۔ اُن کی بہترین کارکردگی پر گورنمنٹ آف سعودی عریبیہ نے اُن کو گولڈ میڈل سے نوازا۔ 2010 میں انہوں نے لیفٹیننٹ ٹو کیپٹن امتحان میں پاک آرمی میں اول پوزیشن حاصل کی۔ 2011 میں وہ کوئٹہ میں انفنٹری کورس کے لئے گئے۔ وہاں انہوں نے پاک آرمی کے لئے ایک عسکری آلہ
''Target Acquisition Instrument''
ایجاد کر کے واہ فیکٹری بھجوایا۔ 2013 میں وہ
U-N
مشن پر لائبیریا گئے اور وہاں اقوام متحدہ امن میڈل سے نوازے گئے۔ 2015میں نوشہرہ سے مڈکیرئیر کورس میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کی اور 102بریگیڈپشاور میں گریڈ تھری سٹاف پوسٹ پر تعینات کر دیئے گئے۔


اے پی ایس کے سانحہ کے بعد سے وہ کافی مضطرب تھے۔ اکثر کہا کرتے کہ مجھے آرمی پبلک سکول کے معصوم بچے سونے نہیں دیتے۔ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم پر کس جرم کی پاداش میں حملہ ہوا۔ پھر کہتے کہ اگر اﷲ نے مجھے موقع دیا تو میں آرمی پبلک سکول کا بدلہ ضرور لوں گا۔


18ستمبر2015 جمعہ کے دن بڈھ بیر ایئرفورس کیمپ پشاور پر بزدل دہشت گردوں نے حملہ کیا اور مسجد میں 18نمازیوں کو شہید کر دیا۔ جب کیپٹن اسفند یار وہاں پہنچے تو 28لوگ شہید اور 29زخمی ہو چکے تھے۔ آرمی کمانڈر میجر حسیب زخمی ہو کر سی ایم ایچ جا چکے تھے۔ کیپٹن اسفند یار نے شدید فائرنگ میں خود جا کر ریکی کی اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ کیو آر ایف کی کارروائی کو منظم کیا اور رضاکارانہ طور پر خود کو کمانڈ کے لئے پیش کر دیا۔ جبکہ یہ اُن کی ڈیوٹی نہ تھی۔ پھر 12پنجاب اور 15بلوچ کے جوانوں کی قیادت سنبھالی۔ ان کے ہمراہ آفیسرز اور جوانوں نے بار بار اُن کو عقب میںرہنے کی تلقین کی۔ مگر وہ اس شدید فائرنگ میں گاڑی سے کود گئے اور دہشت گردوں پر چڑھ دوڑے۔ اُن کی شجاعت اور دلیری دیکھ کر دہشت گردوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ اس دن ان کی خودکش جیکٹیں بھی نہیں پھٹ رہی تھیں اور اپنی جان بچاتے پھر رہے تھے۔ کبھی ایک بیرک میں اور کبھی دوسری بیرک میں۔ آج ایک شیر نے ان گیڈروں کو آگے لگا لیا تھا۔ اسفند یار نے بذات خود کئی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ اُن کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترنے والے وہ دہشت گرد تھے جنہوں نے نمازیوں کو شہید کیا تھا۔ اُنہوں نے بہترین قیادت کی اور کمانڈوز کے آنے سے قبل ہی آپریشن ختم کر کے جرأت و بہادری کی نئی داستان رقم کر ڈالی۔ روم کلیئرنس کے دوران آخری دہشت گرد کو موت کی راہ دکھائی مگر اس کی چلائی ہوئی گولی ان کے سینے پر بائیں جانب لگی اور وہ اﷲ کی راہ میں بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے اپنے وطن عزیز پر قربان ہو گئے۔ ان کے اس کارنامے کی بدولت دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کی اس جرأت رندانہ سے ایئرفورس کے سیکڑوں لوگوں کی جانیں بچ گئیں اور کپتان اسفند یار نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قوم کو اے پی ایس سے بھی کہیں بڑے سانحے سے بچا لیا۔


بے شک ''شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔''
شہید کے جسد خاکی کو 32گھنٹے بعد سی ایم ایچ سے ان کے گھر لایا گیا تو پورا اٹک شہر شہید کے دیدار کو امڈ آیا۔ جب چہرے سے کپڑا ہٹایا گیا تو، سبحان اﷲ! چہرے پر دلفریب فاتحانہ مسکراہٹ تھی اور خون رواں تھا۔ جو رکنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ پاک آرمی اور اٹک شہر کے سیکڑوں مردوزن اس کے چشم دید گواہ ہیں۔ اُن کا جنازہ اٹک کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ اُس دن پورا اٹک شہر بند تھا۔ جنازے میں دیگر شہروں کے بھی سیکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ جب انہیں سپردِخاک کرنے لگے تو اس وقت اُن کی شہادت کو 36گھنٹے گزر چکے تھے۔ اُن کا چہرہ ایک بار پھر دکھایا گیا تو خون اس وقت بھی بہہ رہا تھا۔ آخری مرتبہ بریگیڈیئر کامران نے شہید کے بہتے ہوئے خون کو صاف کیا اور پھر انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اے پاک فوج کے سچے شہید تجھے پوری قوم کا سلام!!!
اے راہِ حق کے شہیدو! وفا کی تصویرو
تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

 

markabudber.jpg

*****

*****

 
Read 106 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter