وطن کے رکھوالے

Published in Hilal Urdu

تحریر : رابعہ رحمن

زندگی انسان سے کبھی کچھ عطا کر کے، کبھی کچھ چھین کے امتحان لیتی ہے۔ انسان رضائے الٰہی، ایمان کی طاقت، دنیاوی حرص و ہوس میں سے خود کو جس کے زیرِ اثر بھی لاتا ہے اسی کے مطابق اس کا مقابلہ بھی کر تا ہے۔ اس کا یہی فیصلہ اس کی زندگی اس کے خاندان اور وطن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ با ت اظہر من الشمس ہے کہ جہاں بھی معاملہ وردی اور وطن کا ہوتا ہے وہاں مومن کا فیصلہ اٹل ہوتاہے۔


اللہ کے مومن غازی ہوتے ہیں یا شہید، ان کے پاس تیسرا کوئی راستہ یا سوچ نہیں ہوتی ۔پچھلے دو ماہ سے وطن عزیز کے جن فوجی جوانوں اور آفیسرز نے اس مٹی کی سیرابی کے لئے بے دریغ اپنا خون بہایا انہی میں میجر اسحاق شہید کا خون بھی شامل ہے ۔


خوبصورت چہرہ، معصوم آنکھیں اور توانا جسم اس پرمستزاد ان کا عزم کہ وہ خود کہتے تھے کہ میں زیادہ دیر تم لوگوں کے ساتھ نہیں ہوں۔ میجر اسحاق شہید کے لئے وطن کی عظمت وہ احساس تھا کہ جس پہ وہ اپنی ہر خوشی قربان کر نا چاہتے تھے۔


1971کی جنگ ختم ہوئی، پاکستان دولخت ہو گیا بہت سے پاکستانیوں کو قیدی بنا لیا گیا اسی میں میجر اسحاق کے والد محمدحسین بھی قید ہوئے ،تین سال تک ان کی خبر نہ ملی جب ان کو رہائی ملی تو وہ پاکستان اپنے اہل خانہ میں لوٹ آئے ۔میجر اسحاق شہید کے دادا کی لڑی میں غلام محمد نے برما میں لڑتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کی اور 2012میں چچا کا بیٹا سپاہی راشد وانا میں 21سال کی عمر میں اس وطن پہ قربان ہو ا۔

watankrakhwale.jpg


میجر اسحاق شہید کے خاندان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ خاندان اس وطن سے کتنی محبت کرتا ہے۔ جو خاندان اپنی آزادی کی حفاظت اور اپنی جان ہتھیلی پہ لے کر قربان کرنے کو بڑھتا چلا جاتا ہے اس کی عظمت کی مثال نہیں ملتی۔


میجر اسحاق موضع دھدہڑ وادٔ سون سکیسر ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی پھر ان کے والد نے ریٹائر منٹ کے بعد فیصل آباد میںگھر لے لیا اور خود وہ کویت چلے گئے۔ جب 1990میں عراق نے کویت پر حملہ کیا تو میجر اسحاق کے والد محمد حسین واپس آ گئے، اس وقت میجراسحاق فیصل آباد میں تعلیم حاصل کر رہے تھے،وہیں پر انہوںنے قرآنِ پاک حفظ کیا،وہ انتہائی ذہین اور محنتی تھے،چنانچہ انہوں صرف چار سال میں حفظ قرآنِ کریم مکمل کرلیا۔ ایبٹ آباد میں
FSc
کی ساتھ ہی
ISSB
کا امتحان بھی دیا اورفوج کے لئے منتخب ہوگئے۔2007میں ٹریننگ کے لئے چلے گئے۔ ان کا نام ان پندرہ کیڈٹس میں تھا جو کہ انتہائی قابل اور ذہین تھے۔ پاس آئوٹ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے والد محترم کی رجمنٹ 21میڈیم کا انتخاب کیا۔

PMA
میں
CSUO
رہے ۔وہ باکسنگ کے چیمپیئن بھی تھے۔ کتب بینی کے شوق کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی اخبار کے پرزے میں کوئی چیز گھر آجاتی تو اسے بھی مکمل پڑھتے۔کوئی موضوع بھی زیر بحث آتا تو میجر اسحاق سننے والوں کو حیران کردیتے۔


زندگی میں کسی اطلاع کی تصدیق کرنے کے لئے بیگم عائشہ اسحاق نیٹ پر دیکھنے لگتیں توکہتے تھے کہ کیوں وقت ضائع کر رہی ہو جو اطلاع میں دے رہا ہوں وہی کمپیوٹر اور گوگل دے گا، اس لئے میری بات کا یقین کر لو۔ پھر عائشہ نے کہا کہ واقعی مجھے دو تین بار ہارنا پڑا تو پھر میںنے ان کو چیلنج کرنا ہی چھوڑ دیا، وہی ہمارا انفارمیشن سیل تھے۔ اکثر اوقات اپنی بیگم عائشہ سے اپنے شوقِ شہادت کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔ جو بالآخر اُن کا مقدر ٹھہری۔
الگ الگ گھروں میں رہنا بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کی ہمیشہ خواہش ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی چار دیواری میں ہوں ایک ہی لان میں بیٹھ کر باتیں کریں، بچوں کی تعلیم و تربیت ایک انداز میں کریں، وہیں کرکٹ کھیلیں، وہیں بزرگوں کی محفل سے استفادہ کریں، انہیں ملک سے باہر جانے والے لوگوں کے نظریے سے بالکل اتفاق نہ تھا ۔وہ دکھ سکھ کے تمام موسم اپنوں کے ساتھ گزارناچاہتے تھے۔پرانے ٹی وی ڈرامے انتہائی شوق سے دیکھتے اور سب کو جمع کر کے دکھاتے بھی تھے وہ ڈرامہ'' سنہرے دن'' بہت شوق سے دیکھتے تھے۔


والدین سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کہتے میں جب ماں کو مسکراتادیکھتا ہوں تو میری روح تک تروتازہ ہوجاتی ہے، میجر اسحاق شہید کی والدہ بہت سادہ ، معصوم دل اور محبت کرنے والی خاتون ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا ہر جگہ مجھے اپنے ساتھ رکھتا تھا یہاں تک کہ شادی کے بعد چھوٹا سا فلیٹ ملا تو بھی ساتھ لے کر گیا۔ میجر اسحاق کی پل بھر کی جدائی والدہ برداشت نہیں کرتی تھیں کیونکہ بیٹے نے انہیں کبھی جدا رہنے کی عادت نہیں ڈالی تھی۔ میجر اسحاق 2008میں پاس آئوٹ ہوئے تو چھور چلے گئے۔ وہاں سے سیاچن پوسٹنگ ہو گئی تو ماں کو ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے، والدہ اداس ہونے لگیں تو بہت محبت سے کہنے لگے میری دو مائیں ہیں ایک آپ میری ماں ہیںاور ایک یہ وطن۔ میں ایک ماں کے سائے سے نکل کر دوسری ماں کی گود میں جا رہا ہوں۔


میجر اسحاق کی شادی 3اکتوبر2015ء کو ہوئی۔ اپنی بیگم عائشہ کو ہمیشہ مضبوط اعصاب کا مالک بننے کو کہتے تھے اور کہاکرتے تھے کہ میں نے فوج صرف وردی یا سیلوٹ کے لئے نہیں جوائن کی بلکہ میں اللہ کی تلوار بننا چاہتا تھا اس لئے وردی کو چنا ہے اور آپ کو بھی ہرمشکل اور آسانی میں مضبوط اور پر عزم بیوی کی شکل میںدیکھنا چاہتا ہوں۔زندگی کے گہرے معاملات کبھی زیرِ بحث نہ لاتے کسی مشکل کا تو کبھی ذکر ہوتا ہی نہ تھا۔کہتے تھے پہلے ایک فوجی کا مضبوط دل اپنے اندر پیدا کرو،باہر نکلو، لوگوں سے ملو، خود کو بہادر بناؤ کیونکہ جتنی فوجی افسر کی بیگم بہادر ہوتی ہے اتنا ہی افسر بھی حوصلہ پکڑتا ہے اور اگر میں شہید ہو گیا تو تم نے اونچی آواز میں نہیں رونا۔


کیسا امتحان لے رہے تھے میجر اسحاق شہید اپنی بیگم سے، آج عائشہ کو سمجھ آتی ہے کہ وہ تو اس کو تیار کر رہے تھے ان حالات کے لئے جو ہونے جا رہے تھے۔ملی نغمہ''میرے وطن یہ عقیدتیں ''بہت شوق سے سنتے، اورجب مشہور ملی نغمہ 'بابا میری آواز سنو 'اپنی بیٹی فاطمہ کو سناتے تومجھے کہتے کہ یہ نغمہ فاطمہ گائے تو تم رونے نہ لگ جانا۔


ڈی آئی خان سے آگے کولاچی جانا تھا تو انہوںنے دوٹریک سوٹ سامان میں رکھے اور کہا میں جلدی آؤں گا۔ ڈی آئی خان کی خاص ڈش 'صحبت' بہت پسند تھی۔ ہم سب راستے میں تھے تو میس حوالدار کوفون کر دیا کہ ڈش تیا ر رکھنا میں کھا کے آگے نکل جاؤں گا، 'صحبت' کھانے بیٹھے تو عائشہ اسحاق گاڑی میں سامان رکھوانے لگیں تو بولے میرے ساتھ کھانا کھالو کام بعد میں ہو جائے گا، پھر تو تم اکیلے ہی کھایا کرو گی۔ 19نومبر کو وہ کولاچی چلے گئے۔ گشت پر جانا تھا تو 10:14پر انہوں نے عائشہ کا میسج واٹس ایپ پہ دیکھا۔ اس کے بعد عائشہ میسج کرتی رہی مگر آگے سے کوئی جوابی میسج وصول نہیں ہو رہا تھا۔ انہوں نے تو عائشہ کو کہا تھا کہ ابھی واپس آجائیں گے گشت کر کے مگر21نومبر کی رات11:15کو سوئی ہوئی فاطمہ چیخیں مار کے رونے لگی۔ عائشہ جاگ رہی تھیں انہوں نے کہا کہ فاطمہ ڈیڑھ سال میں اس طرح کبھی نہیں روئی تھی، عائشہ کہنے لگیں کہ مجھے لگاجیسے اسحاق کو کچھ ہو گیا۔ پھر انہوں نے فون ملایا تو نمبر بند تھا۔ اتنے میں نیچے سے لوگوں کی آوازیں آنے لگیں۔ عائشہ بھاگ کر نیچے پہنچی۔ مسزکرنل عباس اور دوسری بیگمات کو دیکھتے ہی عائشہ نے پوچھا ''اسحاق شہید ہو گئے'' سب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ کوئی کیا تسلی دیتا۔ ماں تو اک رات پہلے ساری رات گھر کے چکر لگاتی اور اسحاق شہید کی حفاظت کے لئے پڑھ پڑھ کے آیت الکرسی پھونکتی رہیں اور آج رات وہ سکون کی گہری نیند میں تھیں۔ ماں نے کہا کہ جس رات میرا اسحاق شہید ہوا اس رات اللہ نے مجھے وہ نیند عطا کی جسے بیان کرنا ناممکن ہے۔


وہ عائشہ کو ہمیشہ کہتے تھے کہ اللہ کی ننانوے رحمتیں گنا کرو اور جو ایک مشکل آجائے تو اس کو لے کر ننانوے رحمتیں نہ بھولا کرو۔ جب میجر اسحاق شہید کا جنازہ اٹھایا گیا تو لوگوں نے سمجھا کہ اب دو سالہ بیاہی لڑکی کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا مگر عائشہ نے ان کے کہنے کے مطابق نہ واویلا کیا نہ چلائیں بلکہ جنازہ اٹھتے ہی اپنے کمرے میں جا کر دو نفل ادا کئے اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگیں۔آنسو خاموشی سے دہکتے ہوئے گالوں پہ انگاروںکی طرح گرتے رہے مگر ہونٹوں سے آہ تک نہ نکلی کیونکہ انہیں اپنے مجازی خدا میجر اسحاق شہیدکے سبق اور خواہش کا احترام کرنا تھا ۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شہدائے وطن
بجھا کر ظلم کے شعلے شرارے رکھ دئیے تم نے
اٹھا کر بھنور سے بیڑے کنارے رکھ دئیے تم نے
یہ تم نے قوم کے لوگوں سے کیسی ہے تجارت کی
منافعے دے دئیے ہم کو خسارے رکھ لئے تم نے
پریشاں قوم کو تم نے راہِ منزل ہے دکھلائی
اندھیری راہ میں لا کر ستارے رکھ دئیے تم نے
میںکیسے داد دوں تم کو تمہاری جاں نثاری کی
سبھی رشتے ہی اللہ کے سہارے رکھ دئیے تم نے
مجھے معلوم ہے کوئی عدُو نہ سر اٹھائے گا
گرا کر بربریت کے چوبارے رکھ دئیے تم نے
تمہی سے ہم نے پائے ہیں وفا و امن کے تحفے
ہمارے واسطے سارے کے سارے رکھ دئیے تم نے
تمہی نے اشک پونچھے ہیں میری مظلوم ملت کے
گلوئے ظلم پر تیغوںکے دھارے رکھ دئیے تم نے
میرے شہداء کی مائوں تم بڑی عظمت کی مالک ہو
وطن پر وار کر آنکھوںکے تارے رکھ دئیے تم نے

محمد سعید گل

*****

 
Read 41 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter