مسئلہ کشمیر... پاکستان و انڈیا مثبت سمت کی جانب کیسے بڑھیں؟

تحریر: فاروق اعظم

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے بعد ویڈیو بیان میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا انڈیا اور پاکستان کو سب کچھ بھلا کر کسی مثبت سمت میں جانا چاہئے یا ایک دوسرے کے خلاف ایسے ہی چلتے رہنا ہے؟ اگرچہ سوال بڑا سیدھا ہے، تاہم اس کے جواب کے لئے گزشتہ پون صدی کی تاریخ کھنگالنی ہوگی، کہ آخر سبب کیا ہے کہ ستر سال گزرنے کے باوجود پاکستان و انڈیا کی باہمی دشمنی ختم نہ ہوسکی۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دونوں ممالک کے مابین مسلسل تنائو کی کیفیت کے باعث دونوں اطراف کوبے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اب بھی بجٹ کا بڑا حصہ جنگی ساز و سامان پر صَرف ہوتا ہے۔ پاکستان نے ایٹم بم بھی بحالت مجبوری بنایا تھا۔ اگر انڈیا جنگی جنون میں مبتلا نہ ہوتا اور ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو پاکستان کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اس جانب پیش رفت کرتا۔


پاکستان اور انڈیا کے مابین تنازعات کی فہرست وقت کے ساتھ طویل ہوتی گئی، تاہم اس فہرست میں اب بھی مسئلہ کشمیر سب سے دیرینہ اور بنیادی ہے۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ مسئلہ کشمیر ہی دونوں ممالک کے لئے بہتر تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو غلط نہ ہوگا، کیوں کہ اس تنازعے نے ہی مزید تنازعات کو جنم دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان و انڈیا تین باقاعدہ جنگیں لڑچکے ہیں۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر جھڑپیں اس کے علاوہ ہیں۔ بعض جھڑپوں کی شدت اور فوجیوں و عام شہریوں کا جانی و مالی نقصان اس قدر زیادہ ہے کہ اسے محدود سطح کی جنگ کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کا سب سے مہنگا اور انتہائی اونچا محاذِ جنگ سیاچن بھی مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے وجود میں آیا ہے۔ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان پانی کا مسئلہ بھی تنازعہئِ کشمیر کا پیدا کردہ ہے۔ موجودہ وقت میں دریائوں کی صورت حال اور مقبوضہ کشمیر میں متنازع ڈیموں کی تعمیر کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کار یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اگر پاکستان و انڈیا کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی تو وہ پانی کے مسئلے پر ہوگی۔


الغرض کشمیر وہ فلیش پوائنٹ ہے جو دونوں ممالک کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اس تناظر میں یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا تنازعہئِ کشمیر کا پرامن حل ممکن ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اس قدر گمبھیر نہ تھا، جس قدر بنا دیا گیا۔ 1948ء میں کشمیر پر پہلی پاک بھارت جنگ کے دوران جب یہ قضیہ اقوام متحدہ لے جایا گیا تو سلامتی کونسل کا تین نکاتی فیصلہ یہ تھا کہ فوری جنگ بندی کی جائے۔ کشمیر سے فوجوں کو نکالا جائے۔ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے۔ ان میں سے پہلا نکتہ بھارت کے مفاد میں تھا، لہٰذا اس پر فوری عمل ہوگیا۔ باقی دو نکات مسلمہ ہونے کے باوجود اب بھی عمل درآمد کی راہ تک رہے ہیں۔ بھارت کو ان دو نکات پر عمل درآمد کے لئے مجبور کرنا ہی کشمیر کے مسئلے کا پرامن تصفیہ ہے۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت نے 1972ء کے شملہ معاہدہ، 1999ء کے اعلان لاہور اور 2004ء کی اسلام آباد سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر پاک بھارت مشترکہ اعلامیے میں بھی باہمی بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن یہ تمام معاہدے اور اعلامیے بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کے باعث کاغذ کے ایک بے جان ٹکڑے سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں کرسکے۔


یہاں یہ ضمنی سوال ابھر سکتا ہے کہ کیا مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی نئی تجویز کارآمد ثابت ہوسکتی ہے یا پرانے مؤقف پر ہی کاربند رہا جائے؟ اس تناظر میں سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف 2004ء میں چار نکاتی کشمیر فارمولا پیش کرچکے ہیں۔ جس میں ریاست جموں و کشمیر کو سات ریجنز میں تقسیم کرکے وہاں سے فوجوں کی مرحلہ وار واپسی اور اس کے انتظامات پاکستان اور بھارت کو مشترکہ طور پر سنبھالنے کی بات کی گئی تھی۔ پرویز مشرف کا اس فارمولے کے متعلق کہنا ہے کہ تنازعہئِ کشمیر کا یہی بہتر حل تھا، جس سے من موہن سنگھ بھی متفق تھے۔ تاہم بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے اس فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے اسے تنازعہئِ کشمیر پر اپنے اصولی مؤقف سے انحراف قرار دیا تھا۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ جس ہندوستان کی تقسیم کو برصغیر کے قضیے کا واحد حل قرار دیا گیا تھا، اب وہاں دو متحارب ممالک مشترکہ طور پر ایک ریاست کے انتظامات کیسے سنبھال سکتے ہیں؟ بالفاظ دیگر پون صدی قبل تقسیم ہند ناگزیر سمجھی گئی، لیکن اب چار نکاتی فارمولے کے تحت پاکستان اور بھارت کو ایک متنازع ریاست کا مشترکہ والی بنانا ہی بہتر حل تصور کیا گیا، جہاںبننے والے سات ریجنز بھی مذہبی تقسیم کی بنیاد پر ہوں۔ ہمارے نزدیک کشمیر کا پرامن حل کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے ہی ممکن ہے، جس کا تقاضا اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی کرتی ہیں۔ موجودہ حالات میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کی خاطر ریاست کشمیر کو غیر فوجی خطہ بنانا مثبت سمت کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ کشمیر سے فوجوں کی واپسی کے لئے پاکستان تعاون پر تیار ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان کے وزرائے اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت ہر فورم پر یہ مطالبہ دہرا چکے ہیں، تاہم انڈیا اس پر عمل درآمد کے لئے آمادہ نظر نہیں آتا۔ دراصل فوجوں کی واپسی کا مطلب انڈیا کے نزدیک کشمیر سے دستبردار ہونا ہے۔ یقیناََ کلبھوشن یادیو کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ مثبت سمت کی جانب چلنے میں رکاوٹ کون اور کیوں بن رہا ہے۔


یہاں ایک نظر مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کشمیری قوم پر بھی ڈالتے ہیں کہ موجودہ صورت حال میں ان کی تحریک کن مراحل سے گزر رہی ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی نے کئی موڑ دیکھے ہیں۔ سیاسی جدوجہد، عسکری جدوجہد، احتجاجی تحاریک، تاہم تحریک کی موجودہ لہر نے گزشتہ تمام تحریکی مرحلوں پر سبقت حاصل کرلی ہے۔ وہ چاہے 2008ء کی شرائن بورڈ تحریک ہو یا 2010ء کی جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک۔ جولائی 2016ء میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی میں آنے والی تیزی نے انڈیا کو حواس باختہ کردیا ہے۔ ہر طبقۂ فکر کے افراد سڑکوں پر ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کہ ''لے کے رہیں گے آزادی، چھین کے لیں گے آزادی''۔ چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ اسکول و کالج کی طالبات بھی سڑکوں پر انڈین فورسز کا بے خوف و خطر مقابلہ کر رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق برہان مظفر وانی کی شہادت 8 جولائی 2016ء سے جنوری 2018ء تک مقبوضہ کشمیر میں 172 افراد جام شہادت نوش کرچکے ہیں، جب کہ زخمیوں کی تعداد 20767 ہے۔ اسی طرح پیلیٹ گن سے زخمی افراد کی تعداد 8353 ہے۔ اس ڈیڑھ سال کے عرصے میں تحریک آزادی کے دوران گرفتار کشمیریوں کی تعداد 18876 سے تجاوز کرچکی ہے، تاہم اس کے باوجود تحریک آزادی بجائے سرد پڑنے کے مزید قوی ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کاروں نے انڈین فورسز کے لئے روز بہ روز بڑھتی مشکلات کو دیکھتے ہوئے برہان وانی کی شہادت کے بعد کا عرصہ انڈیا کے لئے مشکل ترین دور قرار دیا ہے۔


اس پس منظر میں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روکنے کے لئے کیا انڈیا کے پاس مزید کوئی آپشن باقی رہ گیا ہے؟ اب تک جبر کے تمام حربے آزمائے جاچکے ہیں، چاہے وہ فورسز کے ذریعے طاقت کا وحشیانہ استعمال ہو یا کالے قانون 'افسپا'
(Armed Forces Special Powers Act)
کا سہارا۔ حریت قیادت کے لئے قید و نظر بندی کی صعوبتیں ہوں یا پرامن کشمیری مظاہرین پر پیلیٹ گن کا استعمال۔ اگر ان تمام حربوں اور چالوں کے باوجود کشمیریوں سے آزادی کا نعرہ چھینا نہیں جاسکا اور وادی میں لہراتے سبز ہلالی پرچم لپیٹے نہیں جاسکے تو انڈیا کو جان لینا چاہئے کہ مزید طاقت کے استعمال سے بھی کشمیریوں کو زیر نہیں کیا جاسکتا۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ انڈیا ایک عرصے سے گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بننے والی صورت حال کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پٹھان کوٹ، اوڑی کیمپ حملے سمیت تمام کارروائیوں میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی ہر ممکن کوششیں کی گئیں اور اس کے لئے عالمی سطح پر بھرپور پروپیگنڈہ بھی کیا گیا، تاہم ثبوت یا شواہد دینے میں بھارت اتنا ہی ناکام ہے، جتنا اس کے لئے الزام لگانا آسان۔ انڈیا کا الزام ہے کہ کشمیری پرامن ہیں، حالات پاکستان خراب کر رہا ہے۔ کشمیریوں نے اپنی موجودہ تحریک سے انڈیا کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کردیا ہے۔ بہتری اسی میں ہے کہ انڈیا الزام تراشی اور کشمیریوں کو کچلنے کی پالیسی پر کاربند رہنے کے بجائے کشمیریوں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے انہیں استصواب رائے کا حق دے۔


ان حالات میں پاکستان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کے الزامات پر معذرت خواہانہ رویہ اپنانا ترک کردے اور انڈیا پر دبائو بڑھانے اور عالمی رائے عامہ کو اس جانب متوجہ کرنے کے لئے خارجہ ڈیسک کو متحرک کرے۔ یہاں ہم اپنی اس رائے کو ایک بار پھر دہرائیں گے کہ کشمیر کمیٹی کو وزارت خارجہ میں ایک علیحدہ بلاک کا درجہ دیا جائے، جو عالمی سطح پر کشمیر کے لئے لابنگ کرے۔ اس کے سربراہ اور اراکین بھی رکن اسمبلی کے بجائے ماہرین کو مقرر کرنا چاہئے۔ وہ ریٹائرڈ جرنیل، سابق جج، ٹیکنوکریٹ یا پھر خارجہ امور میں مہارت رکھنے والے سیاستدان بھی ہوسکتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر جو 1993ء سے قائم ہے، جس کا مقصد دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا اور اپنی سفارشات پیش کرنا تھا۔ اب اس کا کام محض چند رسمی اجلاس کا انعقاد اور مذمتی بیانات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ ہمارے اربابِ اقتدار کو جان لینا چاہئے کہ کسی تحریک کے لئے 71 برس کا عرصہ کم نہیں ہوتا۔ اگر اب بھی ہم مسئلہ کشمیر پر محض وقت گزاری سے ہی کام لیں گے تو یاد رکھیں کہ آئندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

کشمیر کا ترانہ
تری جنت میں ہم آئیں گے اور آ کر سجائیں گے
طلوع ہو گا سویرا تو اندھیرے بھاگ جائیں گے
نسیم خلد کے جھونکے یہاں گلشن کھلائیں گے
نویدِ فصلِ گل سن کے عنادل چہچہائیں گے
یہاں اک بار پھر شاداب گلشن لہلہائیں گے
تری جنت میں ہم آئیں گے اور آ کر سجائیں گے
اندھیروں میں بڑی مدت سے یہ ڈوبا رہا گلشن
جو برسوں آتشِ نمرُود میں جلتا رہا گلشن
بہار آئے گی پھر دیکھیں گے ہم مہکا ہوا گلشن
جو ہے کشمیر بَر رُوئے زمیں جنت نما گلشن
شہیدوں کے لہو بہتے رہے جو، رنگ لائیں گے
تری جنت میں ہم آئیں گے اور آ کر سجائیں گے
عنادل لے اڑے غم آشیاں برباد ہونے کے
نظر آنے لگے آثار پھر آباد ہونے کے
زمانے آئیں گے پھر لوٹ کر دل شاد ہونے کے
فلک پر ہو رہے ہیں مشورے آزا د ہونے کے
بہاریں جانفزا ہوں گی وہ موسم لوٹ آئیں گے
تری جنت میں ہم آئیں گے اور آ کر بسائیں گے
مظفر اسلم

*****

*****

 
Read 212 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter