کشمیر کی تحریک آزادی ، برہان وانی کی شہادت کے بعد

تحریر: محمد اشرف وانی

کئی دہائیوں پر محیط مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں کئی اتار چڑھائو آئے لیکن کشمیری اپنے بنیادی حق، حق خودارادیت کے مطالبے سے نہ کبھی دستبردار ہوئے اور نہ ہی بھارت اور اس کی قابض فوج کے بے انتہا مظالم ان کی آواز دبانے میں کامیاب ہوسکے۔ وقت اور دنیا کے بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام نے بھی اپنی تحریک میں کئی نئی جہتیں متعارف کرائیں۔ کبھی یہ جدوجہد سیاسی محاذ تک محدود رہی اور کبھی اس کا دائرہ عسکریت تک بڑھا دیا گیا۔ کبھی عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اس میں دور حاضر کے میڈیا کو استعمال کیا گیا تاکہ بھارتی تسلط کے خلاف اس جدوجہد کو مزید مؤثر اور ثمر آور بنایا جائے۔ اس تحریر میں ہم برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کی تحریک آزادی کے حوالے سے رونما ہونے والی کچھ اہم تبدیلیوں پر نظر ڈالیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ تنازعہ کشمیر سے متعلق کون کون سے نئے پہلو کھل کر سامنے آئے اور ان کے کشمیر ی عوام اور تحریک آزادی پر کیا اثرات پڑے ؟

برہان خود بھی مقامی مجاہد تھااور اس کی پیروی میں تحریک آزادی کی خاطر جدوجہد کرنے والے سارے نوجوان بھی کشمیری ہیں لہٰذا یہ بالکل واضح ہوگیا کہ کشمیر کی موجودہ مزاحمتی جدوجہد مقامی ہے نہ کہ بیرونی مداخلت سے چلنے والی کوئی تحریک۔ اس بات کا اعتراف نہ صرف بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے کیا بلکہ سرکاری حلقوں میں بھی اس پر بحث رہی۔ بھارت کے کئی مصنفین نے حکومت سے سوال کئے کہ اگر برہان وانی دہشت گردہ تھا تو اس کے جنازے میں شرکت کرنے والے لاکھوں کشمیری بھی کیا دہشت گرد تھے ؟

بھارتی بیانیے کی نفی
بھارت کی روزِاول سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی کو دہشت گردی سے جوڑا جائے اور دنیا کو باور کرایا جائے کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ عالمی دہشت گردی کی ہی ایک شکل ہے ۔ 9/11کے بعد بالخصوص بھارت نے زورو شور سے کشمیر میں برپا تحریک آزادی کو دہشت گردی کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی اور بعض ممالک کو وہ یہ باور کرانے میں کامیاب بھی ہوا کہ جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ بیرونی عوامل یا پاکستان کی وجہ سے ہی ہو رہا ہے۔ ان سالوں میں کئی ایسے واقعات اخبارات کی زینت بنے جب مقامی کشمیری نوجوانوں کو سرحد کے قریب لے جاکر پاکستان سے دراندازی کرنے والے دہشت گردبنا کر فرضی مقابلوں میں شہید کیا گیا تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکے ۔ لیکن برہان وانی کی شہادت اور اس کے ردعمل میں ریاست گیر بھارت مخالف احتجاجوں اور مظاہروںنے ایک بار پھر تمام بھارتی منصوبے خاک میںملا دیئے ۔ برہان خود بھی مقامی مجاہد تھااور اس کی پیروی میں تحریک آزادی کی خاطر جدوجہد کرنے والے سارے نوجوان بھی کشمیری ہیں لہٰذا یہ بالکل واضح ہوگیا کہ کشمیر کی موجودہ مزاحمتی جدوجہد مقامی ہے نہ کہ بیرونی مداخلت سے چلنے والی کوئی تحریک۔ اس بات کا اعتراف نہ صرف بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے کیا بلکہ سرکاری حلقوں میں بھی اس پر بحث رہی۔ بھارت کے کئی مصنفین نے حکومت سے سوال کئے کہ اگر برہان وانی دہشت گردہ تھا تو اس کے جنازے میں شرکت کرنے والے لاکھوں کشمیری بھی کیا دہشت گرد تھے ؟ بھارتی مؤقف کو بھارتی سول سوسائٹی اور پوری دنیا نے بھی مسترد کردیا اور اس رائے کا برملا اظہار کیا کہ کشمیر میں جاری تحریک مقامی تحریک ہے ۔ لہٰذا بھارت کے اس بیانیے کی عمارت کہ کشمیر میں بیرونی مداخلت سے دہشت گردی ہورہی ہے، دھڑام سے زمین بوس ہوگئی۔ اس دوران برہان کی شہادت کے کچھ روز بعد ہی اوڑی حملے کا ڈرامہ رچایا گیا تاکہ بھارت جو حقیقت میں اس فکری محاز پرعبرتناک شکست کھا چکا تھا، اس کی کچھ بحالی ہوجائے۔ میرے نزدیک ستمبر 2016کے وسط میں ہونے والے اوڑی حملہ کا مقصد اس ناکامی کے اثرات کو کسی نہ کسی حد تک کم کرنا تھا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کشمیریوں کی انتفادہ کو کچلنے کے لئے پیلٹ گن اور گولیوں کے بے جا استعمال اور کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے پر بھارت کو عالمی سطح پر غیر معمولی تنقید کا نشانہ بنایا گیا لہٰذا اس تنقید کا رخ موڑنے کے لئے اوڑی حملے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر آئے روز بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں تاکہ دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے ہٹا کر اس طرف مبذول کروائی جائے اور پاکستان کو مورودالزام ٹھہرا کر اصل مسئلے پر پردہ ڈالا جائے۔

kashmirkitehrekazadi.jpg
جدوجہد کی نئی نسل میں منتقلی
8جولائی 2016 کا دن کشمیرکی جدوجہد آزادی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ اس دن بھارتی فورسز کے ہاتھوں معروف نوجوان عسکری کمانڈر برہان مظفر وانی کی اپنے دو ساتھیوں سمیت جنوبی ضلع اسلام آباد کے علاقے میں ماورائے عدالت شہادت سے جدوجہد آزادی کی کئی نئی جہتیںکھل کر منظر عام پر آگئیں۔اس دن کو اس تاریخی منتقلی کے نام سے بھی منسوب کیا جائے گا جب بھارتی استعماری تسلط کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری جدوجہد کو عملی طور پر ریاست جموں و کشمیر کی چوتھی نسل کے سپرد کردیا گیا۔ برہان وانی کی شہادت اور اس کے بعد ہونے والے غیر معمولی ردعمل اور رونما ہونے والے ان گنت واقعات نے اس بات پر مہر ثبت کی کہ کشمیری نوجوانوں نے حقیقتاً یہ منصب سنبھالنے کی ذمہ داری لے لی۔ ریاست کی یہ چوتھی نسل، جو بھارتی تسلط کے خلاف برسر پیکار ہے، نہ صرف شعوری طور پر ایک اعلی معیار پر فائز ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہے اور وہ بخوبی جانتی ہے کہ کس طرح بھارتی تسلط کے خلاف اس تحریک کو حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے۔ یہ نسل دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کی آواز کو پوری دنیا تک مؤثر انداز میں پہنچارہی ہے اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے دنیا کو باخبر کررہی ہے اس حقیقت کے باوجود کہ اس مادی دنیا اور معاشی مفادات کے شور میں ان کی آوازماند پڑ رہی ہے۔


نئی نسل کی بے خوفی

عالمی اور پاکستانی میڈیا میں بھی کشمیری نوجوانوں کی کئی ایسی تصاویر دکھائی گئیں جو سینہ کھولے بھارتی فوجیوں کو للکار رہے ہیں کہ جرأ ت ہے تو گولی چلادو۔ مقبوضہ کشمیر میںکئی دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم نے کشمیریوںکے دلوں سے خوف کو نکال باہرکردیا ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد جو سب سے زیادہ رجحان کشمیری نوجوانوں میں پایا گیا وہ یہی ہے کہ انہیںموت کا ڈر نہیں۔ کریک ڈائونوں کے دوران، یا کسی مجاہد کے کسی علاقے میں پھنسنے کے وقت آس پاس کی آبادی کا بھارتی قابض فوج کے خلاف سنگبازی میں حصہ لینا اور اپنی جانیں دے کر مجاہد ین کی جانیں بچانا اس بات کی واضح دلیل ہے۔ آج کی نوجوان نسل یہ جان چکی ہے کہ وہ ذلت کی زندگی نہیں گزاریں گے اور عزت کی موت کو ہمیشہ ترجیح دیں گے۔ کشمیری نوجوان یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں میں کھلے عام بھارتی قبضے کے خلاف نہ صرف تبصرے کرتے نظر آتے ہیں بلکہ اس کے خلاف مظاہرے اور دھرنے منظم کررہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں درجنوں ایسے واقعات رونما ہوئے جب قابض بھارتی فوج کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اندر گھس کر آزادی کے حق میں بلند ہونے والی ان آوازوں کو دبانے کی کوششیں کرتی رہی، تاہم وہ بے سود ثابت ہوئیں کیونکہ نوجوان نسل نے بھارتی بندوقوں سے ڈرنا چھوڑدیا ہے اور آزادی ان کی زندگی کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔


تعلیم یافتہ نوجوانوںمیں تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کا رجحان
کشمیر کی تحریک آزادی کے حوالے سے جو ایک اور انتہائی اہم رجحان ہمیں نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھارت کے خلاف جاری جدوجہد میں متحرک ہوگئے اور اپنے حال و مستقبل کی فکر کے بجائے آزادی ان کی اولین ترجیح بن گئی ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد اکثر کشمیری نوجوان جنہوں نے اس جدوجہد میںجانیں دیں یا بھارت کے خلاف برسرپیکار ہیں وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ہمیں ان میں انجینئرز، ڈاکٹرز اور زندگی کے دوسرے اہم شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی نظر آرہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی فارغ التحصل ایک کشمیری نوجوان باضابطہ طور پربھارت کے خلاف عسکری مزاحمتی تحریک کا فعال رکن بن گیا جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیری نوجوانوں میں بھارت کے خلاف نفرت کن حدوں کو چھو رہی ہے۔ پھر بے انتہا بھارتی مظالم کے باوجود، آزادی کا موضوع ہر یونیورسٹی، کالج اور سکول کا اہم موضوع ہوتا ہے جہاں نوجوان ٹولیوں میں بیٹھ کر اپنے مستقبل کے بجائے آزادی کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں موجودہ جدجہد میں ہمیں ان نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد نظر آتی ہے جو معاشی لحاظ سے آسودہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ کشمیر میں جاری جدوجہد کسی معاشی مقصد کے لئے نہیں جیسا کہ بعض بھارتی تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ آزادی کے حصول کے لئے ہے۔


عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر اٹھنے والی سنجیدہ آوازیں
اگرچہ موجودہ مادی دنیا میں اصولوں کی پیروی کا نظریہ اپنی معنویت کھوچکا ہے جیسا کہ ہم مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے بارے میں عالمی دوغلا پن دیکھ رہے ہیں۔ یعنی باوجود اس کے کہ دنیا کے سب سے بڑے ضامن ادارے اقوام متحدہ کی ان مسائل کے بارے میں کئی قراردادیں موجود ہیں لیکن دنیا ان مسائل کی طرف متوجہ نہیں ہورہی۔ وجوہات میرے سامنے دو ہی ہیں ایک یہ کہ دونوں مسائل کا تعلق مسلمانوں سے ہے اور دوسری یہ کہ دنیا کے جو ممالک ان مسائل کو حل کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں ان کے سامنے معاشی مفادات زیادہ اہم ہیں، لہٰذا وہ ان مسائل کو حل کرنے کی ہامی نہیں بھر سکتے کیونکہ ان کی عالمی منڈیا ںمتاثر ہوسکتی ہیں۔ اس کے باوجود مسئلہ کشمیر کو دنیا میں نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 8 جولائی کے واقعے نے ایک دفعہ پھر دنیا کو جھنجوڑ دیا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس سے نہ صرف یہ خطہ بلکہ پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔ لہٰذا بھارت کی لاکھ کوشش کے باوجود کہ دنیا میں مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر آوازیں نہ اٹھیں، بہت سے ممالک نے اس تنازعے کو فوری طور پر حل کرنے پر زور دیا۔ خود اقوام متحدہ نے کئی بار پیشکش کی اگرچہ وہ بے معنی رہیں۔ امریکہ سمیت کئی ممالک نے اس مسئلے کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔


کشمیر اور ہندوتوا
بھارت میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے برسراقتدار آنے سے پہلے تک حکومتوں کا یہی مؤقف رہا ہے کہ بھارت ایک سیکولر اور ڈیموکریٹک ری پبلک ہے۔ اگرچہ بی جے پی اب بھی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس میں ہونے کی وجہ سے بظاہر یہی مؤقف اپنائے ہوئے ہے لیکن اس حکومت نے ایسا کوئی موقع نہیں چھوڑا جس سے بھارت کو ہندوتوا اسٹیٹ میں تبدیل نہ کیا جائے۔ بی جے پی کے بھارت میں اقتدار میں آتے ہی غیر ہندو بھارتیوں کے خلاف ہونے والے مظالم نہ صرف بھارت اور خطے بلکہ پوری دنیا کے میڈیا کی خبر بنتے رہے۔ کشمیر کے بارے میں بی جے پی کے عزائم شروع سے ہی واضح تھے ۔ پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ساتھ اقتدار میں شرکت اور مسلم اکثریتی اسٹیٹ میں زعفرانی جھنڈے لہرانے کی خواہش بی جے پی کے اندر پہلے سے موجود تھی۔ ہندو جوتشیوں سے کشمیر کی شناخت کو ہندو میتھالوجی سے جوڑنے اور پھر ہندوتوا کا وہاں پرچار کرنے اور آر ایس ایس کو مختلف علاقوں میں اپنی آئیڈیالوجی کے نہ صرف پرچار کرنے بلکہ کھلے عام مارچ کرنے کی حوصلہ افزائی اسی منصوبے کی کڑیاں تھیں۔ لیکن کشمیری سیاسی طور پر بیدار قوم ہیں اور انہیں ہندوئوں کے عزائم کا پہلے سے ادراک تھا۔ برہان کی شہادت کی راہ پر جنم لینے والی وسیع جدوجہد نے بھارتی حکومت کے ان خوابوں کو بھی خاک میں ملادیا۔ جس طرح 2008 میں امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کا معاملہ فکری طور پر بیدار کشمیریوں نے بھارت کے منہ پر طمانچے کی طرح مارا اسی طرح بھارت کے کشمیر کو ہندوتوانے کے عزائم بھی خاک میں مل گئے۔ چونکہ برہان کی شہادت کے بعد کشمیریوں نے یکجان ہوکر بھارت کے ہر منصوبے کو ناکام بنایا۔ کشمیر میں شہداء کے جنازے کو سبز ہلالی پرچم سے لپیٹنا یا پھر مظاہروںکے دوران ہلالی پرچموں کو لہرانا دراصل بھارت کے لئے کھلا پیغام ہوتا ہے کہ کشمیری، بھارت اور پاکستان سے زیادہ دوقومی نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔

مضمون نگار پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور ایک قومی خبر رساں ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 211 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter