تنازعۂ کشمیر

Published in Hilal Urdu

تحریر: ہلال احمد

5 فروری کوپاکستان اور آزاد کشمیر میں ایک بار پھر ''یوم یکجہتیٔ کشمیر'' منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیریوں کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد میں مصروف کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور یہ کہ ان کی سیاسی'سفارتی اور اخلاقی سطح پرحمایت ہر قیمت پرجاری رکھی جائے گی۔ پاکستان نے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی ہمیشہ بھرپور حمایت کی ہے، پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ پاکستان نے کشمیریوں کے حقِ آزادی کے لئے ہر بین الاقوامی فورم پر بھرپور وکالت کی ہے جبکہ بھارت نے کشمیر پر جبری تسلط جما رکھا ہے۔ پاکستان میں ماضی سے اب تک حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری قوم کا مؤقف یکساں رہا ہے۔ پاکستان کے عوام 5 فروری کو ہر سال یوم یکجہتیٔ کشمیر روایتی جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لئے ملک بھر میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں جو اس امر کی عکاس ہیں کہ پاکستانیوں کے دل کشمیری عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اورکشمیر کے بغیر پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں غیر محفوظ اور نامکمل ہیں۔ کشمیر کے تمام دریائوں کا رُخ بھی پاکستان کی جانب ہے جبکہ کشمیر اور پاکستان کے لوگ یکساں دینی وابستگی بھی رکھتے ہیں۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے اور ان کا یہ فرمانا ہے کہ کوئی خوددار ملک اورقوم یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شہ رگ دشمن کے حوالے کردے۔

tanazakashimir.jpg
بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 94 ہزار 888 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے جبکہ 1990ء کے بعد بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں 7099 افرا د دورانِ حراست شہید کئے گئے۔ اس عرصے میں ایک لاکھ 43 ہزار 48 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک لاکھ 8 ہزار 596 رہائشی مکانوں اور دیگر تعمیرات کو نذر آتش کیا گیا۔ قابض بھارتی فوج نے خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور اب تک 11 ہزار 36 خواتین کی عصمتوں کو پامال کیا گیا۔ جولائی 2016ء میں برہان وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک کارروائی کے دوران شہادت کے بعد کشمیر میں تحریک انتفادہ نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور لوگ قابض بھارتی سامراج کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، انہوں نے بھارتی تسلط کے خلاف بھرپور ردعمل کا اظہار کیا جس نے کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک نئی جان ڈال دی۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں سیکڑوں لوگوں کو شہید کیا گیا اور 20 ہزار 873 افراد کو زخمی کیا گیا۔ اس عرصے میں بھارتی فوج نے نہتے نوجوانوں پر مہلک ''پیلیٹ گنوں'' کا بے دریغ استعمال کیا۔ پیلیٹ گنوں کے استعمال سے 8355 کشمیری نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے 73 نوجوان اپنی بینائی سے محروم ہوئے جبکہ 207 نوجوانوں کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور 974 نوجوانوں کی دونوں آنکھیں متاثر ہوئیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد 18 ہزار 990 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ان میں سے 818 کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا۔ 2017ء میں قابض افواج اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی حکومت کے احکامات پر حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند قائدین اور سرگرم رہنمائوں کو بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے ذریعے من گھڑت مقدمات کے تحت گرفتار کیا اور وہ اس وقت نئی دہلی سمیت کئی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔ یہ سب کچھ انہیں مرعوب کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے تاہم ایسے ہتھکنڈے کشمیریوں کو اپنی منزل سے دور نہیں کر سکتے۔


کشمیری عوام 1947ء سے بالعموم اور 1988 ء سے بالخصوص آزادی کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں جو دراصل 'تحریک تکمیلِ پاکستان' ہے۔ کشمیریوں نے بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ بھارتی قابض افواج نے حالیہ عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی ہیں۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں اب تک بڑی تعداد میں نہتے مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور کالے قوانین کا نفاذ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا باعث بن رہا ہے۔ بھارت کا یہ دعویٰ ہے کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں بھارتی فوج کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ بہتر ہے جب کہ اصل حقائق اس کے برعکس ہیں۔ کشمیر میں گزشتہ 28 برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد شہری شہید اور 10 ہزار لاپتہ ہو چکے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد محض 4 ہزار ہے، کشمیر کے طول و عرض میں گزشتہ 28برس کے دوران 500 سے زائد مزارِ شہداء آباد ہوچکے ہیں اور ہزاروں کشمیری گمنام قبروں میں آسودہئِ خاک ہیں جو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔


کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کے لئے متعددکالے قوانین نافذ ہیں جن میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ
Disturbed Areas Act
بھی شامل ہیں۔ ان کالے قوانین کے تحت ہزاروں شہریوں کو بلاوجہ پابندِ سلاسل کیا گیا جن میں سے ایک بڑی تعداد اب بھی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظر بند ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے کشمیر میں نافذ کالے قانون ''آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ''کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے دنیا کا بدترین قانون قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے جولائی 1990ء میں تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کے لئے بڑے پیمانے پر کالے قوانین نافذ کرکے ریاست کو شورش زدہ قرار دیا تھا اور بھارتی فوجیوں کو وسیع پیمانے پر اختیارات دیئے۔کشمیر میں''آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ'' سمیت متعدد کالے قوانین نافذ ہیں جن کا اصل مقصد بھارتی افواج کو انسانی حقوق کی پامالیوں کی کھلی چُھوٹ دینا ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری کے سرکاری دعوئوں کے باوجود فرضی جھڑپوں اور حراستی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔کشمیر میں 7 ہزار افراد کو دوران حراست قتل کیا گیا۔ کشمیر کی عدالتوں کی جانب سے نظر بند نوجوانوں کی رہائی کے فیصلوں کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا جس سے انسانی حقوق کی صورتحال اور زیادہ ابتر ہوئی ہے۔
مسئلہ کشمیر پر بھارتی مؤقف تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ تقسیم برصغیرکے اصولوں اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر کشمیر پاکستان کا ایک اہم حصہ قرار پایا تھا تاہم 1947 میں برطانوی سامراج نے متعصب ہندو لیڈروں کے ساتھ سازباز کرکے کشمیر کو زبردستی بھارت کے ساتھ شامل کروالیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ بھارتی حکمران کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور وہ پاک بھارت مذاکرات میں تنازعہ کشمیر کو ایک طرف رکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت کی روایتی سرکاری پالیسی رہی ہے کہ پاک بھارت تعلقات کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط نہیں کیا جانا چاہئے۔ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور جذبہ حریت کو فوجی قوت کے ذریعے دبانا اور کشمیریوں کی جدوجہد کوکمزور کرنے کے لئے پاکستان کو اندرونی مسائل میں الجھا دینا چاہتا ہے۔ بھارت نے آج پورے خطے کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے اور اس نے پاکستان میں دہشت گردی کی آگ لگا رکھی ہے لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ایجنسیز نے اپنی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں بھارت سمیت تمام دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا ہے۔

tanazakashimir1.jpg
مسلمانوں کی غالب اکثریت اور جغرافیائی محل وقوع کے پیش نظر 1947 میں کشمیر کاپاکستان کے ساتھ الحاق فطری بات تھی لیکن کشمیر کی مسلم اکثریت کی رائے کو مسترد کرتے ہوئے ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے ایک خفیہ گٹھ جوڑ کے ذریعے بھارت کے ساتھ الحاق کا ڈرامہ رچایا۔ دو قومی نظریئے کی بنیاد پر متحدہ ہندوستان کی تمام ریاستوں اور دیگر علاقوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ بھارت یا پھر پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں۔ کشمیر میں مسلمانوں کی غالب اکثریت اور جغرافیائی محل وقوع کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ الحاق ایک قدرتی امر تھا لیکن ایسے نہیں ہونے دیا گیا۔ تقسیمِ برصغیر کے اصولوں کے تحت طے پایا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی آبادی والے علاقوں کو بھارت میں شامل کیا جائے گا۔اس اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہئے تھا۔ اس نام نہاد الحاق کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسترد کرتے ہوئے کشمیر میں رائے شماری کے حق میں قراردادیں پاس کی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ برطانوی مصنف 'الیسٹر لیمب' کا کہنا ہے کہ اس الحاق کی کوئی قانونی اور بین الاقوامی حیثیت نہیں ہے۔ بھارت طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں اور عالمی برادری کی خواہشات کا احترام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے ۔ استصواب رائے کے تحت کشمیر کے عوام اگر پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو بھارت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوناچاہئے۔


27 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب رقم ہوا اس روز بھارتی مسلح افواج تمام بین الاقوامی اصول و ضوابط اور قوانین کو اپنے پائوں تلے روندتے ہوئے وادٔ کشمیر میں داخل ہوئیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے دارالحکومت سرینگر سے فرار ہونے کے بعد جموں میں پناہ لی اور بھارت کے ساتھ ایک نام نہاد الحاق کا ڈرامہ رچایا جس کے فوری بعد بھارت نے بڑے پیمانے پر اپنی افواج کو کشمیر میں داخل کردیا۔ بھارت کے گورنر جنرل لارڈ مائونٹ بیٹن اور پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے حکم پر رائل انڈین ایئر فورس کا پہلا ڈکوٹا طیارہ صبح نو بجے سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتر گیا اس طرح دو قومی نظریئے اور تقسیم بر صغیر کے مسلمہ اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیر ی مسلمانوں کے حق آزادی پر شب خون مارا گیا۔ اس سازش میں لارڈ مائونٹ بیٹن، وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاراجہ ہری سنگھ کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے صدر شیخ محمد عبداللہ بھی برابر کے شریک تھے جسے کشمیر کے بھارت کے ساتھ انضمام کی صورت میں اقتدار کا لالچ دیا گیا تھا۔


تقسیم بر صغیر سے قبل کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس 19 جولائی 1947 کو سرینگر میں اپنے اجلاس میں الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کر چکی تھی۔ مسلم کانفرنس کی یہ متفقہ قرارداد لاکھوں کشمیری مسلمانوں کی آواز تھی ۔ 1947 میں ایک سازش کے ذریعے اصولوں اور ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے برطانوی حکومت اور بھارت کے رہنمائوں نے مسلم اکثریت رکھنے والے پنجاب کے ضلع گورداسپور کو بھارت میں شامل کیا اور بھارت کو ریاست جموں و کشمیر پر فوج کشی کے لئے زمینی راستہ فراہم کیا۔ کشمیر کو بھارت کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ ضلع گورداسپور سے ہی گزرتی تھی۔ مسلم اکثریتی گورداسپور کے بھارت کا حصہ بننے کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیر پر اپنا تسلط جمانے کے لئے باقاعدہ سازش رچائی، حالانکہ یہ اقدام مسلمانان ریاست کی خواہشات اور امنگوں کے خلاف تھا۔ دو قومی نظریئے کی بنیاد پر پاکستان کا قیام قدرت کا ایک انعام ہے جسے بھارت نے کبھی قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے ہمیشہ مختلف حربوں کے ذریعے پاکستان کو مشکلات سے دوچار کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ زمینی حقائق پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنا ناجائز تسلط ختم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔


انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہناہے کہ بھارتی فوجیوں کو انسانی حقوق کی پامالیوں کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے، انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور کئی دیگر تنظیمیں کشمیر میں نافذ کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کو دنیا کا بدترین قانون قراردے چکی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں بھارتی فوج کو انسانی حقوق کی پامالیوں کا مرتکب قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے تحت بھارتی فوجی کسی بھی شہری کو قتل کرکے قانون کے شکنجے سے بچ سکتے ہیں۔ اس بدنام زمانہ کالے قانون کے تحت بھارتی افواج کو بے پناہ اختیارات دیئے گئے ہیں، وہ کسی بھی عام شہری کو جان سے مار سکتے ہیں، لوگوں کو گرفتار اور املاک کو تباہ کرسکتے ہیں۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کشمیر میں کئی دہائیوں سے لاگو ہے اوراس کالے قانون کے تحت بھارتی حکومت کی اجازت کے بغیر فوجی اور نیم فوجی دستوں کے افسروں اور اہلکاروں پر سول عدالتوں میں مقدمات نہیں چلائے جاسکتے، اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو اس کالے قانون نے کشمیر میں انسانی حقوق پامال کرنے والے فوجیوں کو گرفتاری اور سزا سے بچانے میںاہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ1990ء میں پوری وادٔ کشمیر اور جموں ریجن کو شورش زدہ قرار دیا گیا جس کے بعد متنازعہ قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کو لاگو کردیا گیا۔


مقبوضہ کشمیر میں انسداد دہشت گردی کے کالے قوانین ''ٹاڈا'' اور ''پوٹا'' کے تحت بھی لوگ نظر بند ہیں، اگرچہ یہ قوانین بھارت میں ختم کر دیئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود کشمیر میں ہزاروں افراد کو ابھی تک ان قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا ہے۔ تحریک آزادی کے بعض کارکنوں کو پہلے ہی موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔


مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے کئی بڑے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن کی ابھی تک تحقیقات نہیں ہوئیں۔21جنوری1990ء کو سری نگر کے علاقے گائوکدل میں بھارتی قابض افواج نے52 معصوم کشمیریوں کو شہید کیا۔ اس قتل عام کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ محض چار دن بعد 25 جنوری 1990ء کو شمالی کشمیر کے ہندواڑہ میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ہاتھوں 17 نہتے اور معصوم کشمیریوںکو ابدی نیند سلادیا گیا۔ اس وقت کشمیر میں تحریک آزادی عروج پر تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں لاپتہ افراد کے لواحقین حصول انصاف کے لئے بھارتی سپریم کورٹ، مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ' ماتحت عدالتوں، بھارت کے انسانی حقوق کے قومی کمیشن اورمقبوضہ کشمیر کے نام نہاد سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن سے رجوع کرچکے ہیں لیکن آج تک لاپتہ افراد کی گمشدگیوں میں ملوث کسی بھی فوجی اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔ کشمیر کا نام نہاد سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن بھارتی فوج اور حکومت کے سامنے بے بس ہے۔ لاپتہ شہریوں کے لواحقین نے ماضی میں کٹھ پتلی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیشن تشکیل دیاجائے جسے حکومت نے مسترد کیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کی صورت میںبھارتی فوج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات منظر عام پر آئیںگے۔


کشمیری عوام بھارت کے غیر قانونی فوجی قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں، انہیں اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کا موقع ملنا چاہئے، بھارت کشمیریوںکے جمہوری حقوق تسلیم کرنے تک خودکوجمہوری ملک قراردینے کا حق نہیں رکھتا لہٰذا اسے اپنی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی میں تبدیلی لاکر کشمیریوں کوحق خود ارادیت دینا چاہئے، بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے وعدہ کیا تھا جسے اب تک پورا نہیں کیا گیا۔کشمیریوں کو انسانی حقوق کی پامالیوں اور ظلم وزیادتیوں کا نشانہ بنا کر خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیریوں نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اپنی جدوجہد کو منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔


بھارت کے سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ حکومت بھی کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دبانے کے لئے سرگرم ہے اور وہ کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو فوجی قوت کے ذریعے دبانا چاہتی ہے۔ بھارت کا یہ دعویٰ ہے کہ کشمیر اس کا ''اٹوٹ انگ'' ہے، بھارت کی حکمران بی جے پی کا پاکستان اور کشمیرکے بارے میں مؤقف غیر لچکدار ہے، اس نے پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکراتی عمل سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی ہے، یہ صرف بھارت کی سخت گیر ہندو فرقہ پرست سیاسی جماعت کا ہی مؤقف نہیں ہے، بھارت کی نام نہاد سیکولر جماعتوں کا اصل چہرہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے، یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بھارت نے ماضی میں کبھی بھی اس مسئلے کے حل کے لئے آمادگی کا اظہار نہیں کیا اور نہ وہ اب اس کے لئے آمادہ ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو سرحد پار دہشت گردی قرار دینے اور دراندازی کے الزامات سے کشمیریوں کو دہشت گرد ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا تنازعہ ہے۔ بھارتی حکومت کشمیر کے بارے میں اپنے اسی مؤقف پر عمل پیرا ہے جو اس نے کشمیر پر قبضے کے وقت اختیار کر لیا تھا اب تک کشمیر کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں کوئی بھی تبدیلی نہیں لائی گئی جو اس بات کا واضح ثبوت اور ٹھوس دلیل ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنا ناجائز تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر 2003ء میں طے پانے والی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرکے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شہری آبادی کو بلاجواز فائرنگ کا نشانہ بنارہا ہے اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان علاقوں میں بڑی تعداد میں معصوم شہری بھارتی جارحیت کا شکار ہوچکے ہیں، بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدہ تعلقات سے جنوبی ایشیا کا پورا خطہ متاثر ہوا ہے۔ عالمی طاقتوں نے بھارت اور پاکستان کے مابین ماضی میں کشیدگی اور فوجی تصادم کو روکنے کے لئے ہر ممکن طریقے استعمال کئے لیکن اب ان کی خاموشی نے جنوبی ایشیا کے پورے خطے کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑدیا ہے۔ بھارتی حکومت کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو حق خودارادیت تسلیم کرنے کے بجائے اسے امن و امان اور اندرونی سلامتی کا مسئلہ قرار دے رہی ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2014ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور کشمیر کے بارے میں سخت گیر پالیسی اختیار کرلی ہے جو ایک منظم منصوبہ کا حصہ ہے۔ بھارت نے ماضی میں نائن الیون کے واقعات کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جس پالیسی کو اختیار کیا اس کے انتہائی منفی نتائج نے اس وقت بھی پورے خطے کو متاثر کررکھا ہے۔ پاکستان میں بھارتی دہشت گردی سے پورے خطے کا امن متاثر ہوا ہے، ان حالات میں پاکستان اپنے دفاع سے کسی بھی صورت غافل نہیں رہ سکتا۔

مضمون نگارسینئر صحافی ہیں۔اور اے پی پی اُردو سروس کے انچارج ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مجاہدین کشمیر کا ترانہ

 

اے وادیٔ کشمیر
اب بن کے رہے گی تری بگڑی ہوئی تقدیر
اے وادیٔ کشمیر
اﷲ کا فرمان ہے ایمان ہمارا
ہم سے تو یہی کہتا ہے قرآن ہمارا
جنت کبھی ہو سکتی نہیں کفر کی جاگیر
اے وادیٔ کشمیر
ایٹم کا خطر لشکرِ جرار کا ڈر کیوں
اسلام کو ہو کفر کی یلغار کا ڈر کیوں
اسلام کے ہاتھوں میں ہے ایمان کی شمشیر
اے وادیٔ کشمیر
کچھ فکر نہیں خون کے دریا جو بہیں گے
ہم ظلم کے طوفان سے ٹکرا کے رہیں گے
توڑیں گے ترے پائوں سے ہر جور کی زنجیر
اے وادیٔ کشمیر
فردوس در آغوش نظاروں کی قسم ہے
ہم کو تری رنگین بہاروں کی قسم ہے
نکلے گی سنہری ترے ہر خواب کی تعبیر
اے وادیٔ کشمیر
ظالم کا جہاں زیر و زبر ہو کے رہے گا
مظلوم کی آہوں کا اثر ہو کے رہے گا
گونجے گا فضائوں میں تری نعرئہ تکبیر

tufail_hoshyar.jpg
طفیل ہوشیارپوری

*****

 
Read 28 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter