سی پیک۔ بحرِ ہند اور پاک بحریہ

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان

پاکستان بحریہ کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کا تعلق نہ صرف ہمارے بحری راستوں کے تحفظ بلکہ سی پیک کے مستقبل سے ہے اور یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کم وسائل کے باوجود پاکستانی بحریہ نے جس طرح پہلے اس نوع کے چیلنجوں کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اسی طرح بھارتی بحریہ کے نئے اقدامات سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نبرد آزما ہو گی۔

دنیا کے تیسرے بڑے سمندر میں دور رس مضمرات کی حامل سیاسی اور دفاعی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ان میں سے ایک اس کے مشرقی حصے آبنائے ملا کا کے قریب گزشتہ جولائی میں منعقد ہونے والی مالا بار 2017 کے نام سے بھارت، امریکہ اور جاپان کی مشترکہ بحری مشقیں ہیں ۔ دوسری طرف بحر ہند کے شمال مغربی حصے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بحری اور فضائی قوت میں اضافہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بحیرہِ عرب اور اس کے گرد و نواح میں واقع پانیوں مثلاً خلیج عدن اور خلیج ہُر مز میں امریکہ نے بحری جہازوں، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں کی صورت میں دورانِ امن کی سب سے بڑی بحری قوت جمع کر رکھی ہے۔ جسے وہ افغانستان ، شام اور عراق میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے فضائی حملوں کی صورت میں استعمال کر رہا ہے۔ جولائی میں''مالابار 2017'' کے نام سے امریکہ ، جاپان اور بھارت کی جو مشترکہ بحری مشقیں منعقد ہوئی ہیں ، اس میں شریک ممالک کے 93لڑاکا طیاروں ، 16بحری جہازوں اور دو آبدوزوں نے حصہ لیا تھا۔ ان کے علاوہ امریکہ کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز یو ۔ ایس ایس نمٹز اور جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز سے تعلق رکھنے والے ہیلی کاپٹر بردار جہاز'' آئی زومو'' نے بھی شرکت کی تھی۔ بھارت کی طرف سے اس کے طیارہ بردار جہاز آئی ۔ این ایس و کرمادتیانے شرکت کی۔

cpecbehrhind.jpgبحرہند اپنے محل وقوع اور مخصوص جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے قدیم زمانے سے ہی عالمی اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ جدید دور میں یہ سمندر یورپی طاقتوں کے درمیان نو آبادیات کے حصول کے لئے رسہ کشی کا مرکز تھا۔ اور بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں امریکہ اور روس کے درمیان اس سمندر پر بالادستی قائم کرنے کے لئے دوڑ جاری تھی ۔ تا ہم سابقہ سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور سر دجنگ کے خاتمہ کے بعد چین نے معاشی اور عسکری لحاظ سے جس طرح ترقی کی ہے اس سے بحر ہند کے جیو سٹریٹیجک نقشے نے ایک بالکل نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ بھارت دنیا ، خصوصاً مغربی ممالک اور جاپان کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے کہ چین بحرِ ہند پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاک چین اکنامک کاریڈور سی پیک کی مثال دی جارہی ہے ۔ بھارت کادعویٰ ہے کہ سی پیک کے ذریعے چین گوادر میں بحری اڈہ قائم کر کے خلیج فارس ، ہارن آف افریقہ اور اس سے آگے پورے افریقہ پر بالا دستی قائم کر کے یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق بعید کے درمیان بحر ہند کے راستے رابطے کو اپنے کنٹرول میں لانا چاہتا ہے۔ اگرچہ بھارت کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں اور چین نے گوادر میں اپنے بحری اڈے کے قیام کی سختی سے تردید کی ہے۔ تا ہم بھارت نے امریکہ اور جاپان کے ساتھ مل کر بحر ہند میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس مقصد کے لئے اس نے بحرہند کے ایسے مقامات کو منتخب کیا ہے، جو سٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں۔ مثلاً مشرق میں آبنائے ملا کا اور مغرب میں خلیج عدن اور باب المندب۔ آبنائے ملا کا کے راستے چین خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے تیل اور افریقہ سے معدنی و سائل حاصل کرتا ہے اور خلیج عدن اور باب المندب کا علاقہ سی پیک کی سیکورٹی کے لئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھار ت کے ان تمام اقدامات کا مقصد سی پیک کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا ہے ، تاکہ پاکستان اس سے مستفید نہ ہو سکے۔ اس سلسلے میں بھارتی بحریہ کے سر براہ ایڈمرل سنیل لانبا کے ایک تازہ ترین بیان کا حوالہ دینا مناسب ہو گا جس میں بحرِ ہند کو اپنے زیر اثر لانے کے لئے بھارتی حکمت عملی کا پتہ چلتا ہے۔ ایک نیول کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ: پچھلے سال ہم نے جہازوں کی تعیناتی پالیسی پر نظر ثانی کی تھی اور بھارتی بحریہ اس متفقہ نتیجے پر پہنچی تھی کہ اس کی تعیناتی مشن بیسڈ ہو۔ تاکہ سمندر (بحر ہند) کے وہ علاقے جن سے ہمارے مفادات وابستہ ہیں ، مستقل طور پر ہماری نگرانی کے تحت رہیں ۔ا س سے ہمیں ان علاقوں میں وقوع پذیر ہونے والی تما م سر گرمیوں سے آگاہی حاصل ہوتی رہے گی۔ اس حکمتِ عملی کے تحت بحر ہند میں جتنے بھی تنگ آبی راستے ہیں ، ان پر بھارتی بحریہ کے 12سے 15جہاز ہر وقت موجود رہتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے بھارتی بحریہ کو اہم سمندری راستوں پر جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ایڈمر ل لانبا کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرِ ہند پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے بھارتی بحریہ نے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ ان میں بحرِ ہند کے اہم مقامات اور اہم سمندری راستوں پر بھارتی بحریہ کے جہازوں کی تعیناتی ہے اور خطے سے باہر دوست ممالک مثلاً امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور اسرائیل کے ساتھ نہ صرف مشترکہ بحری مشقیں بلکہ قریبی دفاعی تعلقات قائم کرنا ہے۔ بھارتی حکومت کے متعدد اہم عہدیداران کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان اکنامک کاریڈور (سی پیک) میں رکاوٹ کھڑی کرنا ہے۔ ان اقدامات کا جواز پیش کرنے کے لئے بھارتی حکومت چین پر الزام عائد کر تی ہے کہ وہ بحرِہند میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا کر علاقے کی ایک اہم اور مستقل بحری قوت بننا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کی نئی وزیر ِ دفاع نرملا سیتار امن کا ایک حالیہ بیان قابل غور ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعض ممالک جن کا اس خطے سے جغرافیائی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے بحرِہند میں مستقل طور پر اپنی بحری قوت قائم کر رکھی ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کا ا شارہ یقینا چین کی طرف تھا ۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے انہوں نے چین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بحرِہند کے شمالی پانیوں میں 14بحری جہاز کھڑے کر رکھے ہیں
(Hindu Nov 5, 2017)
۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بحرِہند ، خصوصاً اس کے شمال مغربی حصے میں بھارت اپنی بحری قوت میں اضافہ کرنے کی کوشش کر ے گا۔

cpecbehrhind1.jpg
پاکستان بحریہ کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کا تعلق نہ صرف ہمارے بحری راستوں کے تحفظ بلکہ سی پیک کے مستقبل سے ہے اور یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کم وسائل کے باوجود پاکستانی بحریہ نے جس طرح پہلے اس نوع کے چیلنجوں کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اسی طرح بھارتی بحریہ کے نئے اقدامات سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نبرد آزما ہو گی۔ پاکستانی بحریہ ملک کی سمندری حدود اور قومی مفادات کے تحفظ کے لئے نہ صرف ہمہ وقت تیار ہے بلکہ اس مقصد کے حصول کے لئے تمام صلاحیتوں کی حامل ہے اس کا اظہار پاک بحریہ کے سر براہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے حال ہی میں بلوچستان کے ساحل پر واقع بحری تنصیبات اور سہولتوں کا دورہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کیا ہے۔ اپنے دور ے کے دوران پاک بحریہ کے سر براہ نے گوادر اور اورماڑہ میں واقع بحری یونٹس کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں پاک بحریہ کے موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں کے علاوہ آپریشنل سرگرمیوں ، گوادر کی بندرگاہ کے دفاعی نظام خصوصاً سی پیک سے متعلقہ دفاعی انتظامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ایڈمرل عباسی نے جن خیالات کا اظہار کیا ان سے ثابت ہوتا ہے کہ پاک بحریہ کی اعلیٰ قیادت ملک کو سمندر کی طرف سے در پیش تمام چیلنجوں سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح مستعد ہے۔ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پاک بحریہ نے گزشتہ دو تین دہائیوں میں اپنی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس کے لئے چین کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں پاک بحریہ نے اپنے بیڑے میںفریگیٹس کا اضافہ کیا ہے اور آبدوزوں کے حصول کے لئے معاہدہ طے پا چکا ہے۔ دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کے ذریعے اور خاص طور پر بحرِہند کی ٹاسک فورس میں شا مل ہو کر ، پاک بحریہ نے روائتی اور غیر روائتی سیکورٹی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی مفید تجربات حاصل کئے ہیں ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ بحرِ ہند کے ساحل پرواقع تمام ممالک کی طرح پاک بحریہ بھی سمندر میں جہازوں کی آزادانہ اور بلاروک ٹوک آمدورفت کی حامی ہے۔ اور اسے یقینی بنانے کے لئے پاک بحریہ دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بھی کر رہی ہے اور آئندہ اس تعاون کو مزید وسعت دینے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ بحرِ ہند میں بھارتی بحریہ کی بڑھتی ہوئی سر گرمیوں اور اس کے اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے لئے نیول ڈپلائمنٹ کا مقابلہ کرنے لئے پاک بحریہ کی طرف سے یہ بالکل درست ا قدام ہے۔

 
Read 233 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter