کشمیر۔ عالمی ضمیر کے لئے ایک چبھتا سوال - اداریہ

قیامِ پاکستان کے وقت برصغیر میں قائم برطانوی حکومت اور کانگریس کی ملی بھگت کی بدولت خطے کے دو اہم ملک پاکستان اور ہندوستان آج بھی مختلف تنازعات میں گِھرے ہوئے ہیں جن میں کشمیر کا تنازعہ سرفہرست ہے۔ ایک سازش کے تحت ضلع گورداسپور کو جو کہ پاکستان کا حصہ بنتا تھا، ہندوستان کو دے دیا گیا، جس سے ہندوستان کے لئے کشمیر میں افواج داخل کر کے قبضہ کرنا بہت آسان ہو گیا کیونکہ گورداسپور کے پاکستان کا حصہ ہونے کی صورت میں ہندوستان کے پاس کشمیر تک اس وقت کوئی اور زمینی راستہ موجود نہیں تھا۔ یوں تقسیم کے وقت تاریخی بددیانتی کی بناء پر آج اکہتر برس گزرنے کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کا ظلم و ستم جاری ہے۔ نوجوانوں کو یونیورسٹیوں ، کالجوں اور اُن کے گھروں سے اُٹھا کر گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے اور عام کشمیریوں کا استحصال تو ہر روز کی کہانی ہے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے تو پیلیٹ گنز کا استعمال کر کے سیکڑوں نہیں ہزاروں نوجوانوں کو اپاہج بنایا جا رہا ہے اور کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کر کے ان کی نسلیں تباہ کی جا رہی ہیں۔


غاصبیت کی انتہا تو یہ ہے کہ کشمیریوں کو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے بھی اپنی آواز بلند کرنے کا حق نہیں دیا جا رہا اور مقبوضہ کشمیر میں متعدد ویب سائٹس سرے سے معطل ہیں اس لئے کہ دنیا تک بھارت کی آٹھ لاکھ فوج جو وہاں تعینات ہے، کے ظلم و ستم نہ پہنچ پائیں۔ لیکن یہ بھارت کی خام خیالی ہے کہ وہ بزورِطاقت کشمیریوں کا حق خودارادیت بہت زیادہ دیر تک سلب کر سکے گا۔ بھارت کو یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ 1948میں اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو خود اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں لے کر گئے تھے۔ جس پر اقوام متحدہ میں بھارت نے اقرار کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔ جس سے بعد ازاں بھارت نے نہ صرف انحراف کیا بلکہ پاکستان پر مختلف جنگیں مسلط کیں جن کا پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا گیا۔


آج کشمیری عوام جاگ چکے ہیں اور اُنہیں اپنے حقوق سے آگہی حاصل ہو چکی ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال 5فروری کو یوم یکجہتیٔ کشمیر منایا جاتا ہے جس میں پوری قوم کشمیریوںکے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا عزم دہراتی ہے اور یہ مطالبہ کرتی ہے کہ بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ بلاشبہ پاکستان کے لئے کشمیر کا مسئلہ زندگی اور موت جیسا معاملہ ہے کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور پاکستان اس حوالے سے پُرعزم ہے کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد میں اپنا سفارتی، سیاسی اور اخلاقی تعاون جاری رکھے گا۔


بھارت کی افواج اسی بناء پر آئے روز لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر کے پاکستانی مورچوں اور شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہیں جس پر افواجِ پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب دیا جاتا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے حال ہی میں لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کے دورے کے موقع پر پاکستانی فوج کے جوانوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے 2003کے سیزفائر معاہدے کی پاسداری کا غلط مطلب نہ لیا جائے۔ بھارت کی اشتعال انگیزی اور جارحیت کا ہمیشہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے بھارتی شیلنگ سے زخمی ہونے والے شہریوں اور فوجی جوانوں کی عیادت بھی کی۔ آرمی چیف کا بیان پاکستان کے اُس مؤقف کی تائید کرتا ہے جو وہ کشمیر کے حوالے سے بطورِ ریاست رکھتا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھی اور ہے۔ پاکستان یوم یکجہتیِٔ کشمیر کے موقع پر اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں طے کیا جائے اور کشمیریوں کو اُن کا حق دلایا جائے۔ جہاں تک بین الاقوامی برادری کا تعلق ہے تو کشمیریوں پر اب تک ڈھایا جانے والا ظلم و ستم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے۔ عالمی طاقتوں کو کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت روکنے کے لئے اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہئے اور اُنہیں سفارتی سطح پر اقوام متحدہ پر زور دینا چاہئے تاکہ کشمیر کا دیرینہ مسئلہ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حل کروایا جا سکے۔

Read 261 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter