موبائل فون ۔ صحت کے لئے بڑھتا خطرہ

تحریر: ڈاکٹرسیدہ صدف اکبر

موبائل فون ایک ایسی ایجاد ہے جس نے ہماری زندگیوں اور رات دن کے معمول کو اپناغلام بنا لیا ہے۔ جس کے بغیر ہم شاید اب ادھورے ہیں اور کچھ لوگ تو اب اس کے بغیر سانس لینے یا جینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ دنیا بھر میں کسی بھی وقت کسی سے بات کرنی ہو، کوئی پیغام بھیجنا ہو، فوراً اپنا موبائل فون نکالیں اور اپنا کام کریں۔ یہاں تک کہ ریڈیو، ٹی وی ، کیمرہ غرض ہر چیز اس چھوٹے سے آلے میں سمو کر رہ گئی ہے۔ اس مواصلاتی آلے نے خط کتابت اور مواصلاتی نظام کا پورا نقشہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔

mobilephoneseaht.jpg
کیلیفو رنیا کے شعبہ پبلک ہیلتھ کے مطابق موبائل فون کے زیادہ استعمال سے بچے اور بڑے دونوں کی صحت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ بچوں کے ذہن کی نشوونما زمانۂ جوانی میں ہی ہوتی ہے اور موبائل کے زیادہ استعمال سے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
WHO
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فارریسرچ کی ایک تحقیق کے مطابق موبائل فون سے نکلنے والی شعاعیں دماغ پر منفی اثرات ڈالتی ہیں اور دماغ کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباََ تیرہ کروڑ افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔موبائل فون کے زیادہ اورلگا تار استعمال سے انسانوں کے سماجی اور گھریلو تعلقات پر بُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیںاور بچوں اور والدین کے درمیان بھی دیوار بن رہا ہے۔ آج کل کے جدید آلات پوری دنیا کو ایک نقطے پر لے آتے ہیں، ان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ان کی موجودگی میں ایک فرد جزوقتی طور پر ہر جگہ موجود تو ہوتا ہے مگر مکمل طور پر وہ کہیں بھی موجود نہیں ہوتا۔


یوکرائن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وائرلیس آلات سے خارج ہونے والی تابکاری شعاعیں مختلف طبی مسائل جن میں کینسر سے لے کر الزائمر اور رعشہ جیسے امراض شامل ہیں ، کاباعث بن سکتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ شعاعیں جسم میں تنائو کا باعث بھی بنتی ہیں۔ خاص طور پر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں موبائل فون کابہت زیادہ یا ضرورت سے زیادہ استعمال نیند کی کمی اور مختلف اعصابی اور نفسیاتی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق موبائل فون کا ہر وقت اور زیادہ استعمال انسانی یادداشت پر بھی گہرے اور منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔


ہانگ کانگ کی ایک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق موبائل فون کا زیادہ اور مسلسل استعمال ہاتھوں اور کلائیوں کے ساتھ ساتھ انگلیوں میں بھی درد کی وجہ بنتا ہے جسے کارپل ٹنل سنڈروم
(Carpal Tunnel Syndrome)
کہتے ہیں۔ یہ تکلیف موبائل فون ، ٹیبلیٹ یا کی بورڈ کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں زیادہ پائی جاتی ہے ، جبکہ ایک ہاتھ سے موبائل فون چلانے والوں میں بھی یہ شکایت عام ہوتی ہے اور جدید تحقیق کے مطابق جتنی دیر لوگ ان آلات کا استعمال کرتے ہیں، اتنی ہی دیر اس تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے جوڑوں اور پٹھوں میں بھی درد کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ موبائل فون کے استعمال کے دوران ایک ہاتھ مستقل مصروف رہتا ہے جس کی وجہ سے ہاتھ اور انگلیوں کے جوڑوں اور کندھوں میں درد معمول بن جاتا ہے اور فون کال پر مسلسل مصروف رہنے سے گردن اور سر میںبھی درد شروع ہوجاتا ہے۔
موبائل فون جو کہ ایک وائرلیس آلے کی طرح کام کرتا ہے، اس میں ریڈیو فریکوئنسی توانائی موجود ہوتی ہے اور انسانی جسم کے جس حصے کے قریب موبائل فون ہوتا ہے، وہاں کے ٹشوز ریڈیوایکٹو توانائی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں جو انسانی صحت کو بے حد نقصان پہنچاتے ہیں۔ جبکہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے قوت مدافعت بھی کمزور ہونے لگتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق موبائل فون کی اسکرین یا کی پیڈ کو مستقل چھونے اور استعمال کرنے سے اس میں مختلف جراثیم اور بیکٹیریا سٹور ہو جاتے ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق ایک موبائل فو ن پر ایک ٹوائلٹ سیٹ سے بھی زیادہ جراثیم پھیلانے والے بیکٹیریا اور جراثیم موجود ہوتے ہیں۔


ایک اور تحقیق کے مطابق موبائل فون کی اسکرین پر زیادہ دیر تک نظر یں جمانے یا دیکھنے سے نظر کمزور ہو جاتی ہیں۔جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق اسمارٹ فونز جو آج کل ہر فرد کے ہاتھ میں نظر آتے ہیں، ان میں سے سورج کی طرح نیلی روشنی خارج ہوتی ہے جو کہ الٹراوا ئلٹ شعاعوں کی طرح انسانی جلد پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ جلد میںموجود پروٹین کولیگن
Oxidative stress
کے ذریعے نقصان پہنچا سکتی ہے اور یہ روشنی جلد کی نچلی تہوں میں جذب ہو کر وقت اور عمر سے پہلے بڑھاپے ، جھریاں اور جلد کی رنگت میں تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
موبائل فونز کا استعمال آج کل ناگزیر ہو چکا ہے۔ایک دوسرے سے بات چیت اور کام کے دوران موبائل فون کا استعمال لازمی ہوگیا ہے مگر کچھ احتیاطیں ہمیں اپنا لینی چاہئیں جو ہمیں اس کے مضر اثرات سے حتی الامکان محفوظ رکھ سکتی ہیں۔


موبائل فون کا استعمال کرتے وقت کوشش کرنی چاہئے کہ کال کرنے سے بہتر ہے کہ پیغا م کے ذریعے بات کر لی جائے یعنی
Message
کے ذریعے۔ اس طریقے سے صحت کو براہ راست نقصان پہنچنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح موبائل فون کو مسلسل ایک ہی کان پر رکھ کر زیادہ دیر تک بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ فون کی پوزیشن تبدیل کرتے رہنا چاہئے اور کچھ افراد کو فون پر بات کرتے ہوئے مسلسل چلنے کی عادت ہوتی ہے مگر چلتے ہوئے بات کرنے سے بہتر ہے کہ ایک جگہ ٹھہر کر بات مکمل کر لی جائے۔


بچوں کو صرف ضرورت کے وقت ہی موبائل فو ن کے استعمال کی اجازت دینی چاہئے کیونکہ اس کے مسلسل اور زیادہ استعمال سے بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت اور کارکردگی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ موبائل فون استعمال کرتے ہوئے فون کا جسم سے تھوڑا فاصلہ رکھنا چاہئے۔ تحقیق کے مطابق جسم اور فون میں کم ازکم دو انچ کا فاصلہ لازمی ہونا چاہئے اور اگر ممکن ہوتو فون پر بات کرنے کے لئے اسپیکر فون ، بلیوٹوتھ ہیڈ سیٹ کا استعمال کرناچاہئے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق موبائل فون کے استعمال میں فون انسانی جسم سے جتنا دور ہوتا ہے اتنا ہی محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ فون کالز کی تعداد اور دورانیہ بھی کم رکھنا چاہئے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق موبائل فونز کی زیادہ تابکاری فون کے ابتدائی حصے میں ہوتی ہے لہٰذا جب تک کال وصول نہ ہو جائے اس وقت تک فون کو کان کے ساتھ نہیں لگانا چاہئے۔


موبائل فون کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے موبائل فون شرٹ میں دل کے قریب جیب میں نہیں رکھنا چاہئے اور اگر رکھنے کے لئے کوئی اور جگہ موجود نہیں ہوتو موبائل فون کو یا تو بند کردیں یا اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اسکرین والا حصہ آگے کی طرف رکھنا چاہئے۔


ایک اور رپورٹ کے مطابق موبائل فون میں جب سگنلز کمزور ہوں تو موبائل فون کا کم سے کم استعمال اور اگر ممکن ہوتو استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ موبائل فون پر آڈیو یا ویڈیو کم سے کم سننے یا دیکھنے چاہئے اور رات کے وقت یا آرام کے وقت موبائل فون کو بستر اور آرام کر نے کی جگہ سے دور رکھنا چاہئے کیونکہ اس کے اندر سے خارج ہونے والی تابکاری شعاعیں انسانی جسم میں جذب ہورہی ہوتی ہیں جو صحت کے لئے بے حد خطرناک ہیں۔

مضمون نگار دادا بھائی انسٹیٹوٹ آف ہا ئر ایجوکیشن میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات کے لیٔے لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 478 times Last modified on Wednesday, 14 March 2018 06:12
Rate this item
(0 votes)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter