تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

اسی طرح شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد نے بھی چند برس قبل اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جب وہ اپنے والد کے ساتھ لندن کے ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی تو وہاں ہندوستانی را کے افسران آیا کرتے تھے جن سے مل کر بنگلہ دیش کے قیام کے لئے منصوبہ سازی ہوتی تھی۔ کیا دشمن ملک کے ساتھ ساز باز کر کے اپنا ملک توڑنا حب الوطنی ہے؟ جب مجیب نے دعویٰ کیا ہے کہ میں تو 1948سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے کام کر رہا تھا تو یہاں پر بتایا جانا چاہئے کہ اس وقت مشرقی پاکستان سے کون سی زیادتیاں ہوئی تھیں جنہوں نے صرف ایک سال کے اندر اندر یہ جواز مہیا کیا تھا؟ ناانصافی کا جواز ہو بھی تو حب الوطنی کا تقاضا ملکی اتحاد کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنا ہوتا ہے نہ کہ ملک توڑنا۔

گزشتہ دنوں کئی حوالوں سے شیخ مجیب الرحمن میڈیا میںزیرِ بحث رہے۔کچھ نے انہیں غدار کہا اور چندنے محبِ وطن کی مہرثبت کی۔ اس ضمن میں یہاں کسی علمی، تحقیقی اور تجزیاتی بحث کے بجائے صرف ایک حوالے سے گزارشات پیش کر رہا ہوں۔


جب یہ کہا جائے کہ : ''شیخ مجیب الرحمن پاکستان توڑنے کی تحریک کا سربراہ تھا اور وہ طویل عرصے سے ہندوستان کی مدد سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہا تھا تو اس کے جواب میں ایک افلاطونی گروہ مشرقی پاکستان کی محرومیوں یا بے انصافیوں کا رقت آمیز انداز میں ذکر کر کے پورے مسئلے کو گڈ مڈ کر دیتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ مجیب نے تحریک پاکستان میں کارکن کی حیثیت سے حصہ لیا تھا اور پھر صدارتی انتخابات میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس کے ساتھ حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ درپردہ بھارت سے بھی رابطے میں تھا اور آزاد بنگلہ دیش ہی اس کی منزل تھی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کے تمام صوبے یا اکائیاں، تمام قصبے، گائوں اور شہر ایک جیسے خوشحال ہیں لیکن اس عدم توازن سے کبھی ملک توڑنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ محب وطن قائدین، اتحاد کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنی اکائی یا صوبے کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اور کبھی دشمن قوتوں کو ساتھ ملا کر ملک توڑنے کی سازش نہیں کرتے۔


مثال کے طور پر مشرقی پاکستان کے بڑے اور اہم لیڈران کرام میں خواجہ ناظم الدین، اے کے فضل الحق، حسین شہید سہروردی، نورالامین، ڈاکٹر ایم اے مالک، فضل قادر چودھری، مولوی تمیز الدین، پروفیسر غلام اعظم، مولوی فرید احمد اور عبدالحمید خان بھاشانی وغیرہ شامل تھے۔ بھاشانی صاحب سوشلزم کے پرچارک تھے اور فضل الحق نے مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کلکتہ کے دورے کے دوران، متحدہ بنگال کا مطالبہ کر دیا تھا جو مشرقی پاکستان میں گورنر راج کا باعث بنا۔ ان دو حضرات کے علاوہ تمام لیڈر حضرات متحدہ پاکستان کے فریم ورک کے اندر رہ کر بنگالیوں کے حقوق کے لئے سیاسی جدوجہد میں یقین رکھتے تھے اور نہایت محب وطن تھے۔


فروری 1948 میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے اردو کو قومی زبان قرار دیا تو قومی سوچ کے حامل بنگالی لیڈروں نے بنگلہ دیش کو بھی قوی زبان بنانے کے لئے سیاسی، آئینی جدوجہد جاری رکھی اور نتیجے کے طور پر مئی 1954میں بنگلہ دیش کو بھی دستور ساز اسمبلی نے قومی زبان قرار دیا اور پھر 1956 کے دستور پاکستان میں اردو اور بنگلہ قومی زبانیں قرار پائیں۔ پھر جغرافیائی مجبوری کو سمجھتے ہوئے انہی بنگالی لیڈروں نے 1956کی دستور سازی میں اہم کردار سرانجام دیا اور دونوں صوبوں کے درمیان آبادی کے فرق کے بجائے برابری (پیرٹی) کے اصول کو تسلیم کیا۔ اگر اکتوبر 1957 میںجنرل ایوب خان کا مارشل لاء نہ لگتا تو 1956کے آئین کے تحت پاکستان ایک جمہوری، اسلامی اور فلاحی ریاست کی حیثیت سے ابھرتا۔


مطلب یہ کہ ایک طرف وہ بنگالی قیادت تھی جو پاکستان کی سالمیت، اتحاد اور استحکام میں یقین رکھتی تھی اور دوسری طرف شیخ مجیب الرحمن بھی قومی سیاست میں متحرک تھا۔ مشرقی پاکستان کی کابینہ میں وزیر بھی رہا لیکن باطنی طور پر قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد سے آزاد بنگلہ دیش کا حامی تھا۔ مجھے اپنے ان احباب کے فہم پر حیرت ہوتی ہے جو مجیب الرحمن پر حب الوطنی کا ٹھپہ لگاتے ہیں حالانکہ خود مجیب الرحمن نے ببانگ دہل جنوری 1972میں برطانوی صحافی ڈیوڈ فراسٹ کو ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ'' میں تو 1948سے 'آزاد بنگلہ دیش' کے قیام کے لئے کام کر رہا تھا۔'' کیا ان 'دانش ور' حضرات کی بے جا سینہ کوبی اور سرٹیفکیٹ کے اجرا کے برعکس مجیب الرحمن کا اعترافی بیان زیادہ بھاری اور مقدم نہیں ہے؟


سوال یہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمن اپنے اعلان کے مطابق 1948سے کیوں بنگلہ دیش کا خواب دیکھ رہا تھا؟ پس منظر کے طور پر یہ جاننا ضروری ہے کہ فروری 1948میں پاکستان کی دستورساز اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی۔ اس فیصلے کی بنگالی ارکان اسمبلی کی ایک تعداد نے حمایت کی تھی لیکن بالخصوص بنگال سے کانگریس کے ارکان اسمبلی نے مجموعی طور پر مخالفت کی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف مشرقی پاکستان میں غم و غصے کی لہر پھیلا کر ہنگامے کئے گئے۔ مارچ 1948میں قائداعظم نے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور اپنی تقاریر میں واضح کیا کہ آپ اپنے صوبے کی حد تک بنگلہ کو سرکاری زبان اور ذریعہ تعلیم بنا لیں لیکن قومی رابطے کی زبان اردو ہو گی جسے پورے ملک میں بولا اور سمجھا جا تا ہے۔ مگر بنگلہ آبادی کی اکثریت کے احساس کو شیخ مجیب الرحمن جیسے شورش پسند لوگوں نے احتجاج اور انارکی کی راہ پر ڈالنے کے لئے سرتوڑ کوششیں شروع کر دیں۔ قرائن و شواہد بتاتے ہیں کہ مجیب کے ذہن میں علیحدگی کے جراثیم اسی وقت سے پرورش پانے لگے تھے، اسی لئے اس نے ڈیوڈ فراسٹ کے سامنے سچ بولتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ میں 1948سے علیحدگی کے لئے کام کرتا رہا ہوں۔


اسی طرح شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد نے بھی چند برس قبل اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جب وہ اپنے والد کے ساتھ لندن کے ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی تو وہاں ہندوستانی را کے افسران آیا کرتے تھے جن سے مل کر بنگلہ دیش کے قیام کے لئے منصوبہ سازی ہوتی تھی۔ کیا دشمن ملک کے ساتھ ساز باز کر کے اپنا ملک توڑنا حب الوطنی ہے؟ جب مجیب نے دعویٰ کیا ہے کہ میں تو 1948سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے کام کر رہا تھا تو یہاں پر بتایا جانا چاہئے کہ اس وقت مشرقی پاکستان سی کون سے زیادتیاں ہوئی تھیں جنہوں نے صرف ایک سال کے اندر اندر یہ جواز مہیا کیا تھا؟ ناانصافی کا جواز ہو بھی تو حب الوطنی کا تقاضا ملکی اتحاد کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنا ہوتا ہے نہ کہ ملک توڑنا۔


شیخ مجیب الرحمن کے عزائم، 'را' سے تعلقات، ہندوستانی حمایت اور یلغار پر کئی کتابیں ہندوستان، انگلستان اور دوسرے ممالک میں چھپ چکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندستان کی مالی، سیاسی اور فوجی مدد کے بغیر مجیب الرحمن کبھی بھی اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکتا۔ یہ موضوع تفصیلی بحث کا متقاضی ہے۔


سوانح عمری کے انداز میں لکھی گئی وہ کتاب کہ جسے چشم دید گواہ نے بیان کیا ہو، تاریخ کا حصہ تصور ہوتی ہے، بشرطیکہ گواہ قابل اعتماد ہو۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ہمارے اکثر لکھنے اور بولنے والے حضرات و خواتین، تحقیق اور انصاف کے بجائے جذباتی اور غصیلے انداز سے فتویٰ جاری کر دیتے ہیں اور تجزیے کے بجائے مخالفین کی القابات سے تواضع کرتے ہیں جس سے تاریخی مقدمات کا صحیح پس منظر نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ فی الحال اس سلسلے کی ایک اہم کتاب کا حوالہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ کتاب اس لئے اہم ہے کہ اس میں ایک چشم دید بلکہ اس سازش میں شامل ایک اہم کردار کے اعترافات شامل ہیں۔ یہ کتاب ستمبر 2011 میں شائع ہوئی جس کے مصنف کا نام ہے ساشنک ایس بینر جی
(Sashank S. Banerjee)
اور عنوان
India, Mujib-ur-Rehman, Bangladesh Libration & Pakistan
ہے۔ اس کتاب کا مصنف ڈھاکہ کے ہندوستانی قونصلیٹ میں پولیٹیکل افسر کی حیثیت سے متعین تھا۔ پولیٹیکل افسر کا مطلب انٹیلی جنس افسر ہوتا ہے۔


وہ لکھتا ہے : '' 25دسمبر 1962 کو جب میں کرسمس پارٹی سے فارغ ہو کر نصف شب گھر پہنچا تو پیغام ملا کہ ڈھاکہ کے ممتاز بنگلہ اخبار روزنامہ اتفاق کے ایڈیٹر مانک میاں (تفضل حسین) بلا رہے ہیں۔ روزنامہ اتفاق کا دفتر قریب ہی تھا۔ میں وہاں گیا تو مانک میاں نے شیخ مجیب الرحمن سے میرا تعارف کروایا جو وہاں پہلے سے موجود تھا۔ دو گھنٹے کی اس ملاقات میں مانک میاں نے وضاحت کی کہ وہ دراصل اٹانومی (صوبائی خود مختاری) کی آڑ میں بنگلہ دیش کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مجیب الرحمن نے کہا کہ مجھے اپنی جدوجہد کے لئے ہندوستان کی مدد کی ضرورت ہے۔ پھر مجیب نے مجھے ہندوستان کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے نام ایک خط دیا جسے ڈپلومیٹک بیگ سے بھجوایا جانا تھا۔ اس خط میں بنگلہ دیش کی آزادی کا روڈ میپ دے کر ہندوستان سے ہر قسم کی مدد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ میں نے اپنے باس کو خط دکھا کر بیگ کے ذریعے نئی دہلی بھجوا دیا۔ مجیب نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ میں نہرو سے خفیہ ملاقات کرنا چاہتا ہوں اور لندن شفٹ ہو کر یکم فروری 1963کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کر دوں گا اور عبوری حکومت قائم کر دوں گا۔ جب کہ مانک میاں ڈھاکہ میں رہ کر اپنے اخبار کے ذریعے لوگوں میں آزادی کا شعور بیدار کرتا رہے گا ۔ وزیراعظم نہرو نے خط ملتے ہی اپنے انٹیلی جنس چیف سے میٹنگ کی اور پھر اپنے سکیورٹی مشیروں سے مشورہ کر کے مجیب کو پیغام بھیجا کہ ہم حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔''


آگے چل کے بینر جی نے لکھا ہے: ''دراصل چین سے شکست کی ذلت اٹھانے کے بعد نہرو پریشان تھا۔ تاہم اس کے باوجود اس نے مجیب کے خط کو حددرجہ اہمیت دی۔ جواب آنے میں کچھ تاخیر ہوئی تو مجیب صبر نہ کر سکا اور بغیر پاسپورٹ بارڈر کراس کر کے ہندوستانی ریاست تری پورہ کے دارالحکومت شہر ''اگرتلہ'' چلا گیا اور وہاں کے وزیراعلیٰ سچندرالال سنگھ سے ملاقاتیں کر کے اس سے بھی یہی استدعا کی۔ مجیب واپس آیا تو میں نے اسے وزیراعظم نہرو کا پیغام دیا کہ ہندوستان آپ کی پوری مدد کرے گا لیکن فی الحال بین الاقوامی صورت حال موزوں نہیں۔ لندن جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ ڈھاکہ میں رہ کر کام کریں اور وزیراعظم نہرو سے رابطے کے لئے صرف ڈھاکہ کے ہندوستانی ڈپلومیٹک مشن کو استعمال کریں۔ جلد بازی نہ کریں۔ مناسب موقعے کا انتظار کریں۔ جس دن آپ کے جلسے میں 10لاکھ لوگ آ گئے آپ لیڈر بن جائیں گے۔ آپ سیاسی قوت میں اضافے کے ساتھ ساتھ چندہ مہم شروع کریں۔ ہندوستان مالی امداد بھی دے گا اور رہنمائی بھی کرے گا۔'' وہ مزید لکھتا ہے کہ '' اس دوران مشرقی پاکستان کے انٹیلی جنس بیورو کو مجیب کی اگرتلہ یاترا کا پتا چل گیا او رمجیب گرفتار ہو گیا۔ مقدمہ چلتا رہا اور اس نے مجیب کو ایک انقلابی لیڈر بنا دیا۔ صدر ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو دبائو کے تحت فروری 1969میں مجیب کو رہا کر دیا گیا۔ مجیب کا چھ نکاتی پروگرام بھی ملک توڑنے کا خاکہ تھا۔ جنرل یحییٰ خان اقتدار میں آیا۔ 'ون مین ون ووٹ' کی بنیاد پر انتخابات ہوئے۔ اقتدار منتقلی کے بجائے مارچ میں آرمی ایکشن ہوا۔ دسمبر 1971میں ہندوستانی فوج نے مشرقی پاکستان فتح کر کے بنگلہ دیش بنا دیا۔،،


مصنف نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کس قدر تھوڑے عرصے میں ہندوستان کے روڈ میپ پر عمل ہوا اور مشن پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ کتاب کے حوالے سے یہ بہت مختصر تفصیلات درج کی جا رہی ہیں۔ بہرحال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری سیاسی غلطیوں اور آمریتوں نے مجیب کا کام آسان بنا دیا۔ لیکن یہ ایک تاریخی سچ ہے کہ مجیب علیحدگی چاہتا تھا اور ہندوستان کی مدد سے آزادبنگلہ دیش کے قیام کے لئے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہا تھا جس کی تصدیق مزید بہت سے مستند ذرائع سے ہوتی ہے۔


بھارتی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی 'را' کے بانی بی رامن نے اپنی کتاب
Role of Raw
میں اعتراف کیا ہے کہ 1965کی جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے میں ناکامی کے بعد سے مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کے لئے پانچ نکاتی پروگرام پر پوری قوت سے کام کا آغاز کیا گیا او ر بنگل دیش کی پیدائش اسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کا ڈپٹی اسپیکر شوکت علی، پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر یہ اعلان کرتا ہے کہ'' میں بھارت کو سو فی صد کریڈٹ دیتا ہوں کہ اس نے بنگلہ دیش کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔''

(روزنامہ انڈی پینڈنٹ ڈھاکہ 17دسمبر 2011ئ)


اس پس منظر میں لوگوں کو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ مجیب کی سیاسی وارث حسینہ واجد اتنے طویل عرصے کے بعد کیوں جھوٹے مقدمے قائم کر کے اور جعلی عدالتیں بنا کر ان حضرات کو پھانسیاں دے رہی ہے کہ جنہوں نے 1971 میں پاکستان کو متحد رکھنے کے لئے برحق جدوجہد کی تھی۔ اسی طرح 1947 میں ہجرت کر کے آنے والے بہاری پاکستانیوںکو کیوں آج تک مہاجر کیمپوں میں محدود رکھا ہے اور انہیں شہریت دینے سے کیوں انکاری ہے؟ مجیب کا انجام دُنیا دیکھ چکی ہے اب دیکھیں اس کی جانشینی کا کیا انجام ہوتا ہے؟

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 425 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter