خطۂ کشمیر کے سرفروشوں کو سلام

تحریر: الطاف حسن قریشی

بھارت ستر برسوں سے کشمیری عوام پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے، مگر وہ ان کے جذبۂ حریت کو ضعف نہیں پہنچا سکا، بلکہ اس میں ہر آن ایک نئی قوت اور ایک نئی شان پیدا ہورہی ہے۔ سربکف نوجوان اور پُرعزم خواتین بھارت کی غلامی کے خلاف صف آرا ہیں اور گولیوں کی بوچھاڑ میں آزادی کے نغمے الاپ رہے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ آزادی کے متوالے برہان الدین وانی کی شہادت نے تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ برہمنی راج لرزہ براندام ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام سات دہائیوں سے بھارت کے غاصبانہ قبضے کا جوا اُتار پھینکنے کے لئے جدوجہد کرتے آئے ہیں جس کی پاداش میں بھارتی درندے ان کی عزت و ناموس پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومتیں ان سے زندگی کی ہر سہولت چھین لینے اور ہر اذیت پہنچانے پر کمربستہ رہی ہیں۔ ایک چھوٹے سے خطے میں چھ لاکھ سے زائد فوج اور پیرا ملٹری فورس کی درندگی سے انسانیت چیخ اُٹھی ہے اور ایک بہت بڑا انسانی المیہ وجود میں آرہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انسانیت کی یہ چیخ انسانی برادری کے اندر تشویش اور کرب کی وہ لہر نہیں اُٹھا پائی ہے جو خون آشام مظالم کے خلاف اُٹھنی چاہئے تھی، تاہم اب عالمی حلقوں میں کسک کا احساس اُبھرنے لگا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بے کس اور مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز سنائی دیتی ہے۔ ہماری فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ بیرونی ممالک کے عسکری اور سیاسی قائدین سے مذاکرات کے دوران تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کی اہمیت واضح کررہے ہیں۔

khitanekashmir.jpg
بھارت کو ایک روز کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینا ہوگا، کیونکہ انسانی تاریخ میں طاقت کے بل بوتے پر آزادی کا جذبہ فنا نہیں کیا جاسکا۔ فرانس، الجزائر میں سالہاسال مسلمانوں کا خون بہاتا اور انہیں ظلم کی چکی میں پیستا رہا، مگر وہ ہر قربانی دینے اور فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے لئے پُرعزم تھے۔ ان کی خوں رنگ قربانیوں سے خود فرانس متاثر ہونے لگا اور اس کے اندر سے طاقت ور آوازیں اُٹھنا شروع ہوئیں کہ الجزائر کو آزاد کیا جائے۔ دنیا کے عظیم ادیب اور دانش ور، الجزائر کے عوام کی آواز میں اپنی آواز ملانے لگے اور پھر فرانس کا نہایت مقبول اور جرأت مند لیڈر ڈیگال الجزائر کی آزادی کا عَلم لے کر اُٹھا اور الجزائر آزاد ہوگیا۔ اب یہی عمل بھارت کے اندر بڑی توانائی کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ وہاں کے باضمیر ادیب اور اہلِ قلم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ہونے والی خلاف ورزیوں پر کڑی تنقید کرنے کے علاوہ محکوم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بلند آہنگ آواز میں حمایت کررہے ہیں۔ وہ غیر جانبدار تجزیہ نگار جو مقبوضہ کشمیر کے طول و عرض میں جاتے ہیں، گواہی دے رہے ہیں کہ کشمیری نوجوان جس انداز میں سینہ سپر ہیں، انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ وہ یہ بھی گواہی دے رہے ہیں کہ نوجوانوں کی یہ تحریکِ مزاحمت پوری طرح داخلی اور ملک گیر ہے۔ اس میں خواتین بڑی تعداد میں حصہ لے رہی ہیں جو اس کی کامیابی اور فیروز مندی کی ضمانت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ انقلابِ ایران سے پہلے جب میں اگست 1978ء میں امریکہ سے ایران گیا، تو مشہد اور اصفہان کے مظاہروں میں خواتین پیش پیش تھیں۔ وہ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے کر آتی تھیں۔ ان کے جذبوں کے آگے بالآخر فوج سرنگوں ہوگئی۔ مجھے یقین ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی یہ منظر طلوع ہونے والا ہے۔


تاریخ شاہد ہے کہ بھارت نے بدترین و غابازی اور جعل سازی سے ریاست جموں و کشمیر کے الحاق کا ڈرامہ رچایا تھا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکی تھی۔ بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو نے سفارتی حلقوں میں یہ من گھڑت کہانی پھیلا دی تھی کہ وی پی مینن 26 اکتوبر 1947ء کو جموں گیا اور مہاراجہ نے دستاویزِ الحاق پر دستخط کردیئے اور بھارت سے امن و امان بحال کرنے کے لئے مدد کی اپیل کی، چنانچہ اس کی اپیل پر اگلے دن یعنی 27 اکتوبر کی صبح سری نگر ایئرپورٹ پر بھارتی فوجیں اُتاری گئیں۔ معروف برطانوی مصنف
Alastair Lamb
نے اس جھوٹ کا پول اپنی کتاب
Incomplete Partition
(نامکمل تقسیم) میں کھول دیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ بھارت میں تعینات برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر الیگزنڈر سائمن نے 26 اکتوبر کے سرکاری روزنامے میں جو واقعہ درج کیا تھا، اسے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ ڈپٹی ہائی کمشنر نے روزنامچے کی رپورٹ انگلستان بھی ارسال کی تھی اور پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کو بھی بھیجی تھی۔ سائمن نے ریکارڈ کیا کہ اس نے ایک ضروری ملاقات کے لئے وی پی مینن کو فون کیا۔ اس نے کہا کہ آج اس لئے ملاقات ناممکن ہے کہ اسے فوری طور پر جموں کے لئے پرواز کرنا ہے۔ اس پر سائمن پالم ایئرپورٹ پہنچ گیا۔ وہاں وی پی مینن واپس دہلی آنے کے لئے تیار بیٹھا تھا، کیونکہ تاخیر ہوجانے کی وجہ سے اب ہوائی جہاز رات سے پہلے جموں ایئرپورٹ پر اُتر نہیں سکتا تھا۔ وہ دونوں اپنی اپنی گاڑیوں میں دہلی واپس آگئے۔ وی پی مینن 26 اکتوبر کو جموں نہیں جاسکا، مگر اپنی یادداشتوں کے مطابق ڈیفنس کمپنی کو یہ جھوٹی اطلاع دے چکا تھا کہ وہ جموں جا کر مہاراجہ سے دستاویز الحاق پر دستخط حاصل کرچکا ہے۔ مسٹر لیمب نے تاریخی شہادتوں سے ثابت کیا کہ بھارت نے 27 اکتوبر کی صبح سری نگر ایئر پورٹ پر فوجیں اُتار کر جارحیت کا ارتکاب کیا کہ اسے فوج کشی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ مہاراجہ نے بعد میں جن کاغذات پر دستخط کئے، وہ سرے سے دستاویزِ الحاق نہیں تھی اس لئے اس کی نقل کہیں بھی موجود نہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کی آرکائیوز میں بھی اس کا کہیں وجود نہیں ہے۔
وہ معاملہ جو سرتاپا فریب اور دھوکہ دہی پر مبنی ہو، اس کی ناکامی یقینی ہے۔ اس نزاع کو طول دینے سے بھارت کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور عالمی امن کے لئے اس کا طرزِ عمل شدید خطرہ بنتا جارہا ہے۔ اسرائیل سے بھارت نے پیلیٹ گنز درآمد کیں جن سے اب تک چھ ہزار سے زائد کشمیری بچے، جوان اور عورتیں گھائل کی جاچکی ہیں جو انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرم ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیراعظم ایک بہت بڑے وفد کے ہمراہ بھارت آئے اور دونوں ملکوں کے درمیان فوجی معاہدے طے پائے۔ اسرائیل سے ایسے ہتھیار بڑے پیمانے پر درآمد کئے جائیں گے جو تحریکِ آزادٔکشمیر کچلنے کے لئے استعمال ہوں گے، مگر انہیں اندازہ نہیں کہ بھارت میں اور کہاں کہاں بغاوت کا لاوا پھٹنے والا ہے جو اس کی ظاہری طاقت کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دے گا۔ کشمیری عوام اپنی منصفانہ جدوجہد میں تنہا نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پاکستان اس مقدمے کا ایک فریق ہے اور اسے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ اہلِ کشمیر پاکستانی پرچم لہرا کر اور شہیدوں کو پاکستانی پرچم میں دفنا کر اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا اعلان کرچکے ہیں۔ اب پاکستانی قیادت اور عوام پر لازم ہے کہ عالمی فورمز پر نہایت مؤثر انداز میں پوری تیاری کے ساتھ مسئلہ کشمیر اُٹھاتے رہیں، مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے رونگٹے کھڑے کردینے والے مناظر ملک ملک پہنچائیں اور پاکستان میںکشمیریوں کے حق میں پُرامن مظاہرے بھی منعقد کئے جائیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے انتخابی منشور میں کشمیر کی آزادی کو مرکزی اہمیت دینا ہوگی کہ وہ ہماری شہ رگ ہے۔ اس موقع پر ہمارے ایٹمی سائنس دان، ہمارے فیصلہ ساز ادارے اور ہماری سیاسی و عسکری قیادت مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے چھوٹے سائز کے ایٹم بم تیار کرکے بھارت کا سرجیکل سٹرائیک کا نظریہ دفن کردیا ہے اور خطے کی عالمی طاقتیں بھی پاکستان کے ساتھ امن کی کوششوں میں پوری طرح مستعد ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 307 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter