اسرائیلی وزیراعظم کادورۂ بھارت

Published in Hilal Urdu

تحریر: علی جاوید نقوی

اسرائیل اوربھارت کوقریب لانے میں امریکہ کے کردار کوبھی نظراندازنہیں کیا جا سکتا، امریکی صدرٹرمپ افغانستان میں بھی بھارتی کردار بڑھانے کے حامی ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکاچھ روزہ دورۂ بھارت بے مقصد یااتفاقیہ نہیں تھابلکہ یہ خطے میں طاقت کاتوازن بگاڑنے کے منصوبے کاحصہ ہے۔ امریکہ، بھارت، اسرائیل ایک غیرعلانیہ گرینڈالائنس بناچکے ہیں،یہ گرینڈالائنس خطے میں قیام امن کے لئے ایک بڑاخطرہ ہے۔تینوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اورپالیسی ساز ایک دوسرے سے بھرپورتعاون کررہے ہیں۔امریکی دباؤ اور بھارتی اثرورسوخ کے باعث افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔اسرائیل بھی اس کھیل میں شامل ہوچکاہے ۔واشنگٹن،تل ابیب اورکابل سے اپنے اپنے ایجنٹوں کی ڈوریں ہلائی جارہی ہیں،اس کھیل میں کچھ ملک بھی شامل ہیں۔حیرت اس بات کی ہے کہ بھارت ایک طرف عرب ممالک سے تعلقات بڑھارہاہے تودوسری طرف اسرائیل سے نئے معاہدے کررہاہے۔ اسرائیل سے دوستی اورعربوں کوبھی سلام۔بھارت نے بیک وقت عرب ممالک اوراسرائیل دونوں کوخوش رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پروٹوکول کو نظراندازکرکے اسرائیلی وزیراعظم کاگرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا، شاید وہ ہمیں بتاناچاہتے تھے، ہوشیار ہو جاؤ ہم تمہارے خلاف متحد ہیں۔ملاقاتوں میں دونوں رہنما ایک دوسرے کوبھائی اوردوست قراردیتے رہے۔ اسرائیل اوربھارت کی قربتوںکی سب سے بڑی وجہ پاکستان ہے ۔ وہ بیانات کچھ بھی دیتے رہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک پاکستان کواپنادشمن سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ 130کاروباری شخصیات کاوفدتھا جس میں اسلحہ ساز،فوجی سامان اور حساس آلات بنانے والی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل تھے۔ اتنے بڑے وفد کے ساتھ آنے کامطلب یہ ہے کہ اسرائیل،بھارت کے ساتھ عسکری اور کاروباری تعلقات بڑھاناچاہتاہے ۔بھارت اوراسرائیل نے مفاہمت کی 9یادداشتوں پر دستخط کئے، جن میں سول ایوی ایشن، آئل، گیس، سائبر سکیورٹی، ٹیکنالوجی اورفلم پروڈکشن جیسے شعبے شامل ہیں۔جس وقت بھارتی وزیراعظم مودی،نیتن یاہوکے لئے اپنی پلکیں بچھار ہے تھے، بھارت کے مختلف شہروں میں مودی کے خلاف مظاہرے ہورہے تھے۔ مودی اورنیتن یاہوکے خلاف نعرے لگ رہے تھے، اسرائیلی جھنڈے جلائے جارہے تھے۔اسرائیلی وزیراعظم نے جہاں بہت سی ملاقاتیں کیں وہیں وہ ممبئی حملوں میں زندہ بچ جانے والے ایک بچے سے بھی ملے، یہ ایک پروپیگنڈا مہم کاحصہ تھا۔ اسرائیل سالانہ ایک ارب ڈالرسے زیادہ کافوجی سامان بھارت کوبرآمد کرتاہے۔ نئے معاہدوں سے بھارت کو فوجی سازوسامان کی برآمدبڑھ جائے گی ۔


نیتن یاہونے صرف سیاست دانوں اورپالیسی سازوں سے ہی ملاقات نہیں کی بلکہ بالی ووڈ اداکاروں سے بھی ملے،امیتابھ بچن اوربہت سے دوسرے بھارتی فنکاروں نے نیتن یاہوکے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بالی ووڈ کے فنکاروں کی خوب تعریف کی اورکہا کہ وہ اوراسرائیلی بالی ووڈ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔بھارت اوراسرائیل دونوں جانتے ہیں کہ فلموں اورڈراموں کے ذریعے کس طرح لوگوں کے ذہنوں اورسوچ کوبدلاجاسکتاہے ۔اب اسرائیل اوربھارت فلم انڈسٹری کے شعبے میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔


اسرائیلی وزیراعظم پاکستان کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں اورساتھ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کوبھارت اوراسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے پریشان نہیں ہوناچاہئے۔دونوں رہنما پاکستان کو نصیحتیں کررہے ہیں،لیکن دوسری طرف پاکستان کی چین سے دوستی اورسی پیک منصوبے سے امریکہ،بھارت اوراسرائیل تینوں پریشان ہیں۔انھیں اندازہ ہوگیا ہے کہ سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ہے،دوسری طرف ان ممالک کے سرمایہ کاروں کو ڈرہے کہ آئندہ چند سال میں چینی کمپنیاں انھیں دیوالیہ کردیں گی۔ انڈیا اسرائیل بزنس سیمینار بھی ہوا جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے بھارتی سرمایہ کاروں سے ناشتے پرملاقات کی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بائبل کے ساتھ ساتھ سنسکرت زبان کودنیا کی بہترین زبان قرار دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کادعویٰ ہے کہ ان کایہ دورہ بھارت اوراسرائیل دونوں کے لئے ترقی کے نئے دروازے کھول دے گا لیکن اس قسم کے دعوے ابھی قبل ازوقت ہیں۔

 

اسرائیل اوربھارت کی قربتوںکی سب سے بڑی وجہ پاکستان ہے ۔ وہ بیانات کچھ بھی دیتے رہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک پاکستان کواپنادشمن سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ 130کاروباری شخصیات کاوفدتھا جس میں اسلحہ ساز،فوجی سامان اور حساس آلات بنانے والی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل تھے۔ اتنے بڑے وفد کے ساتھ آنے کامطلب یہ ہے کہ اسرائیل،بھارت کے ساتھ عسکری اور کاروباری تعلقات بڑھاناچاہتاہے ۔

نیتن یاہوبھارت کادورہ کرنے والے دوسرے اسرائیلی وزیراعظم ہیں۔اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون بھارت کادورہ کرچکے ہیں۔بھارت اوراسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ صدرٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان کی بظاہربھارت نے مخالفت کی تھی لیکن دوسری طرف بھارت اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون بھی بڑھا رہا ہے۔ نیتن یاہو پندرہ سال میں بھارت کادورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی وزیراعظم ہیں لیکن اس وقت ان کی اپنی سیاسی پوزیشن بے حد کمزورہے۔اسرائیل کے اندران کی پالیسیوں کوتنقید کانشانہ بنایاجارہاہے۔دنیا کے بہت سے حکمرانوں کی طرح اُن پربھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ ان کے بیٹے کی ایک آڈیومنظرعام پرآئی ہے جس میں وہ گیس خریداری کے ایک سمجھوتے میں رشوت کامطالبہ کررہے ہیں۔ نیتن یاہوکادامن صاف نہیں،اسرائیل کی متنازعہ پالیسیوں کی طرح وہ خود بھی داغدار ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ بھارت کی جانب سے رشوت کی پیشکش پر اسرائیل، بھارت کوغیرروایتی ہتھیاراورٹیکنالوجی بھی خفیہ طورپرفراہم کرنے پرراضی ہو جائے۔ اس دورے کوسمجھنے کے لئے باریک بینی اورگہرائی سے اس کاجائزہ لیناہوگا۔


قارئین کویادہوگاجولائی 2017ء میں بھارتی وزیراعظم مودی نے اسرائیل کادورہ کیاتھا،وہ اسرائیل کادورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم تھے۔مودی جب اسرائیل پہنچے تونیتن یاہونے کہا تھا''ہم گزشتہ ستربرسوں سے آپ کا انتظار کر رہے تھے''۔اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان سات مختلف معاہدوں پردستخط کئے گئے تھے ۔ اسرائیلی وزیراعظم کا حالیہ دورہ بھارت اسی گٹھ جوڑ کا تسلسل ہے۔دونوں ممالک ایک دوسرے سے فوجی تعاون مسلسل بڑھارہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے نام پردونوں ممالک کے درمیان رابطے اورخفیہ معلومات کاتبادلہ بھی جاری ہے۔فلسطین کے حوالے سے بھارتی حکومت اپنامؤقف بدل چکی ہے جس پربھارتی مسلمانوں کوبے حد تشویش ہے۔ نیتن یاہوکے دورہ بھارت کے دوران کئی شہروں میں مسلم تنظیموں اورسول سوسائٹی نے فلسطینیوں پراسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کیااورجلوس نکالے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کے دوران بھی کشمیر ی نوجوانوں کومارا گیا، لائن آف کنٹرول پربھارتی جارحیت کے باعث کئی فوجی جوان شہید ہوگئے۔اسرائیل اور بھارت کے درمیان ایک قدرمشترک یہ بھی ہے کہ بھارت کشمیریوں پراوراسرائیل فلسطینیوں پرظلم ڈھارہاہے اوران کے علاقے پرقبضہ کئے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں لیکن دونوں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پروا نہیں کرتے اوردونوںکوامریکہ کی سرپرستی حاصل ہے۔یہ بات بھی غورطلب ہے کہ اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے جبکہ بھارت کومودی حکومت انتہاپسند ہندوریاست بنانے کی کوششیں کررہی ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں کی تحریک آزادی کوکچلنے کے لئے بھارت، اسرائیلی مہارت اوراسلحہ سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ کشمیریوں پرپیلٹ گن سمیت خطرناک ترین اسلحہ استعمال کیاجارہاہے۔


اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کے موقع پرپاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کو نئی دلی طلب کیاگیاتاکہ ان سے معلومات کاتبادلہ ہوسکے۔ سفارتی امور کے ماہرین جانتے ہیں ایسااُس وقت کیاجاتاہے جب متعلقہ ملک کی پالیسیوں کے بارے میں معلومات درکارہوتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ برادرعرب ممالک کوبھی بتایاجائے کہ ان کانام نہاد دوست بھارت نہ صرف اسرائیل سے مراسم بڑھا رہا ہے بلکہ وہ عرب ممالک کے مفادات کوبھی نقصان پہنچارہاہے۔
اسرائیل اوربھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں ہمیں ایک اورزاویے کو بھی مدنظررکھناہوگا وہ ہے ایران اوربھارت کے تعلقات اورمعاہدے ۔ایران کی اسرائیل اورامریکہ دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں۔بھارتی وزیراعظم نے نیتن یاہو کے دورے میں اپنی جس گرم جوشی کامظاہرہ کیاہے دیکھتے ہیں ایران اس پرکیا ردعمل ظاہرکرتاہے۔ایران اورافغانستان دونوں کواس بارے میں گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں اثرورسوخ مزیدبڑھانے کے لئے بھارت، ایران کی چابہاربندرگاہ استعمال کررہاہے ۔دوسری طرف افغان عوام کی اکثریت بھی خواہ وہ موجودہ اشرف غنی کی حکومت کے حامی ہو، اسرائیل کوپسند نہیں کرتی۔ اب اسرائیل اوربھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات نہ صرف پاکستان کے لئے خطرناک ہیں بلکہ ایران اورافغانستان کوبھی اس بارے میں سوچناپڑے گا۔ بھارت اوراسرائیل کی دوستی خطے کے تینوں مسلم ممالک پاکستان، ایران اور افغانستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بعض غیرملکی ذرائع ابلاغ کہہ رہے ہیں کہ یہ دوستی، شادی یارشتہ داری میں بدلتی نظرنہیں آرہی۔ ہاں ممکن ہے یہ کاروباری ڈیل کی حد تک کامیاب رہے۔بھارت کواسرائیلی اسلحہ اورٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جبکہ بھارت اپنی مصنوعات اورافرادی قوت اسرائیل کو فروخت کرنے کا خواہشمند بھی ہے۔ اس لئے دونوں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاناچاہتے ہیں۔


پاکستان، ایران اورافغانستان تینوں ہمسائے اورمسلم ممالک،خطے میں اسرائیل اوربھارت کے گٹھ جوڑ کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرسکتے ہیں لیکن اس کے لئے افغانستان کوبھارتی اثرورسوخ سے باہرنکلناہوگا،گوافغان حکومت کے لئے یہ اتناآسان نہیں ہے۔پاکستان اورایران کے درمیان بعض امورپرغلط فہمیاں پید اہوگئی تھیں۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے دورۂ ایران کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضابحال ہوئی ہے۔آرمی چیف کے بعد چیئرمین سینٹ اورحکومت کے دیگروفود نے بھی ایران کادورہ کیااورایرانی وفود بھی پاکستان آئے ۔وفود کے ان تبادلوں اورگفت وشنید سے تعلقات معمول پرلانے میں مدد ملی ہے۔ایرانی قیادت بھی کسی طورپریہ گوارا نہیں کرے گی کہ اسرائیل کا اس خطے یاافغانستان میں اثرورسوخ بڑھے ۔


اسرائیل اوربھارت کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے لئے بھی بڑاخطرہ ہے۔اسرائیل اوربھارت کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز 1992ء میں ہواتھا۔2003ء میں ایریل شیرون نے بھارت کادورہ کیا اور وہ بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے وزیراعظم بن گئے ۔اگرصورتحال کاباریک بینی سے تجزیہ کریں توواضح ہوجائے گاکہ ان دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے آغازکے ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردی اورقتل وغارت کاسلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ 2015ء میں بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے اسرائیل کادورہ کیا۔ 2017ء میں ہندوقوم پرست نریندرمودی نے وزیراعظم بننے کے بعد اسرائیل کا دورہ کیااورکئی معاہدوں پردستخط کئے۔صرف چھ ماہ بعد جنوری 2018ء میں نیتن یاہونے بھارت کاچھ روزہ دورہ کیا۔نیتن یاہو اورنریندر مودی ممبئی حملوں کی یاد میں آنسوبھی بہاتے رہے،بھارتی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پرتنقید کرنے کاموقع ہاتھ سے نہ جانے دیا ۔نیتن یاہوکادورہ عام نوعیت کانہیں بلکہ اسے انڈیا اوراسرائیل کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ کے تناظرمیںدیکھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک پاکستان دشمنی میں متحد ہیں دونوں کاٹارگٹ وطن عزیز ہے۔


اسرائیل اوربھارت کوقریب لانے میں امریکہ کے کردار کوبھی نظراندازنہیں کیا جا سکتا، امریکی صدرٹرمپ افغانستان میں بھی بھارتی کردار بڑھانے کے حامی ہیں،شاید نیتن یاہومودی کی ڈھارس بندھانے آئے ہوں۔اس بات کابھی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ،عرب دنیامیں اپنے پاؤں پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔اس کامقصد پاکستان اوردوست عرب ممالک میں دوریاں اورغلط فہمیاں پیداکرناہے۔اسرائیل اوربھارت کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ خطے کے امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ہمیں دوست ممالک کے ساتھ مل کراس کامقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 122 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter