ٹائم سکوائر کیا بیچتا ہے تکسیم سکوائر کے آگے

Published in Hilal Urdu

تحریر: مونا خان

ترکی استنبول کے مختصر دورے میں ہم نے بہت سی چیزیں نوٹس کیں گو کہ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت ۔۔۔ لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ دیکھ ہی لیا ہم نے بھی۔ اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی غیر معمولی اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جانے کی تیاری کی تو ہم نے بھی بوریا بستر باندھ لیا کہ بھیا ہم بھی ساتھ جائیں گے کہ آخر دیکھیں تو مسلم امہ ٹرمپ پر کیسے دبائو ڈالے گی۔لیکن ٹرمپ بھی نا۔ مجال ہے جو اس کے کان پر جوں بھی رینگی ہو مسلم امہ کے اعلامیے کی جس میں اس پر مشترکہ لعن طعن کی گئی۔ قصہ مختصر یہ کہ اجتماعی دعا میں اثر ہوتا ہے اس لئے اجلاس میں امریکہ کے لئے مشترکہ بدعائیں کی گئیں۔ اب دیکھیں یہ بدعائیں کب رنگ لاتی ہیں ۔ یہ تو تھا احوال اس مقصد کا جس کے لئے استنبول کا ہنگامی دورہ کرنا پڑا۔
پہلے دن تو بس گھوم پھر کر استنبول کا نظارہ کیا۔ سِم لی جو کہ بغیر پاسپورٹ دکھائے ہی مِل گئی۔ سِم ڈیٹا ایکٹو ہوا تو جان میں جان آئی۔ سوچا اب گوگل میپ کی مدد سے اِدھر ادھر آوارہ گردی کر سکوں گی۔

timesquarekia.jpg
استنبول اتنا مہنگا شہر بالکل نہیں ہے۔ایک لاکھ میں چار پانچ دن کا دورہ، ہوٹل کا قیام اور شاپنگ آرام سے کر سکتے ہیں۔ شاپنگ کی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ ترکی میں استعمال ہونے والی کرنسی کو 'لیرا' کہتے ہیں۔ ایک لیرا پاکستان کے اٹھائیس روپے کے برابر ہے۔ شام کو ہم نے اپنا بیک پیک اٹھایا اور تکسیم سکوائر چلے گئے۔ میرا ہوٹل تکسیم سکوائر کے بالکل ساتھ تھا اس لئے میرے لئے ایسا ہی تھا کہ باہر نکلوں اور سامنے تکسیم سکوائر۔!!!


اب تک جتنے ملکوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے ترکی واحد جگہ ہے جہاں پاکستانی پاسپورٹ دِکھانے پر سامنے والا آپ سے محبت سے پیش آتا ہے۔ ترکی کا شہر استنبول حسین تو ہے ہی لیکن ترکی کی ہر لڑکی بیتر، حُورم اور لڑکے بہلول اور سلطان ہیں۔


حسین لوگ ہیں اور خوش اخلاق بھی۔ خاص طور پہ پاکستانیوں سے بہت پیار کرتے ہیں ۔ بس انہیں انگریزی نہیں آتی اور ہمیں ترکی زبان نہیں آتی اس لئے یہ رشتہ نہیں ہو سکتا۔ رشتہ کرنے کے لئے ترک زبان سیکھنی پڑے گی یا ان کو اردو یا انگریزی سیکھنی پڑے گی۔ دورے کے دوران بہت سے ہینڈسم ترک متوجہ ہوئے لیکن ہم نے اس لئے توجہ نہیں دی کہ اب ترک زبان کون سیکھے ۔ اس لئے متوجہ ہونے والوں کی نظروں سے بس محظوظ ہوتی رہی۔ انگریزوں اور ترک لوگوں میں بظاہر کوئی خاص فرق نہیں ۔ ویسے ہی ماڈرن لوگ۔


ونڈو شاپنگ اور گھومنے پھرنے کے لئے تکسیم سکوائر حسین جگہ ہے۔ شاپنگ بہت اچھی اور مناسب ہے۔ کپڑوں کی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ تکسیم سکوائر میں ایک مقام پر سٹیج بنا کرمیوزک سسٹم نصب کیا گیا ہے جہاں روز شام کو کنسرٹ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تکسیم سکوائر کی روشنیوں سے مزّین گلیوں میں بھی بے تحاشا رش نظر آتا ہے ۔ لندن کی طرح استنبول میں بھی فٹ پاتھ ریسٹورنٹس کا رواج ہے۔ جہاں آپ بیٹھ کر چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھتے ہوئے کافی انجوائے کر سکتے ہیں ۔ ۔


تکسیم سکوائر کی روشن گلیوں میں لمبی واک کرتے ہوئے ٹائم سکوائر کی واک یاد آگئی لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ تکسیم سکوائر صاف ستھرا جبکہ ٹائم سکوائر پر واک کرتے ہوئے آپ کو اپنی ناک کو ڈھانپنا پڑتا ہے تاکہ بدبو کے بھبھکوں سے بچ سکیں لیکن رش کا عالم دونوں جگہوں پر ایک جیسا ہے۔


ترکی کھانے بھی بہت اچھے اور منفرد ہیں۔ ترکی کے سیخ کباب بہت مشہور ہیں ۔ شوارما چکن بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔ ترکی کے کھانوں میں سفید اُبلے ہوئے چاول وافر مقدار میں نظر آتے ہیں جو کہ چکن یا پھر سیخ کبابوں کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ اگر آپ کو بارگیننگ کی عادت ہے تو ترکی میں بارگین کر کے قیمت کم کروائی جا سکتی ہے خاص طور پہ یہ کہہ کر کہ میں پاکستان سے ہوں اوراتنی دُور صرف اس خوبصورت جگہ کو دیکھنے آیا ہوں۔ تو بس اس کے بعد سامنے والے کا مہمانانہ رویہ شروع ہو جائے گا۔ وقت کم تھا اور استنبول کے ساحل پہ تصویر بنوانا بھی بہت ضروری تھا۔ آخر فیس بک کو کیا منہ دکھاتی کہ کوئی ڈھنگ کی تصویر بھی نہ بنا پائی۔ بس پھر جو بھلا آدمی ہمیں ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا۔ اس کی منتیں ترلے کئے کہ دیکھو بھائی! ساحل تک لے چلو وہاں فوٹو بنوائے بِنا ہم نہیں جائیں گے واپس۔ بیچارہ ہماری بسورتی شکل دیکھ کر ساحل پہ رکنے کے لئے تیار ہو گیا۔ ادھر اتر کر ابھی دو قدم ہی چلی تھی کہ ایک بوڑھی گوری اپنے دو عدد پالتو کتوں کے ساتھ نظر آئی اور وہ کتے تو ہمیں دیکھ کر ایسے لپکے جیسے ہمارا ہی انتظار کر رہے تھے۔ میں تو گاڑی کے پاس ہی رک گئی۔ عجیب کشمکش کا عالم تھا تصویر بھی ضروری تھی لیکن چودہ ٹیکے لگوانے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ اتنے میں ایک سکیورٹی والا آیا اور ہمیں آگے جانے کو کہا اور خود ہمارے اور ان کتوں کے بیچ دیوار بن گیا۔ لیکن ہم پھر بھی گاڑی سے زیادہ دور نہیں گئے۔ اتنی دور کہ پیچھے سمندر کا پانی نظر آ جائے اور حملہ ہونے کی صورت میں جھٹ گاڑی تک بھی پہنچا جا سکے۔ یہ مرحلہ مکمل ہوا تو کچھ سکون آیا۔


ترکی میں بلیو مسجد بہت مشہور ہے اور وہاں دور دور سے لوگ جمعہ پڑھنے آتے ہیں۔ ترکی کی سب سے اچھی بات مجھے یہ لگی کہ ہم پاکستانیوں کی طرح ہر بات کو مذہب کی عینک سے نہیں دیکھتے اورنہ ہی وہاں ملا ازم کو فروغ حاصل ہے۔ ہر ایک کا اللہ سے اپنا رابطہ۔کوئی کسی کے دین پر انگلی نہیں اٹھاتا۔ اس لئے وہ ہم سے کہیں آگے ہیں اور بحیثیت قوم یہ بات بہت اہم ہے۔ ہم تو ذات پات، فرقوں میں بٹے ہیں جبکہ ترک عوام صرف ایک قوم ہیں۔ اللہ ہمیں بھی ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

مونا خان ایک نجی نیوز چینل سے منسلک ہیں۔ فارن افیئرز اور ڈیفنس کارسپونڈنٹ ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 935 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter