ہم سب کی جنگ

Published in Hilal Urdu

تحریر: انوار ایوب راجہ

''کرامت حسین کو یونیورسٹی میں سب کیری کہتے تھے اور وہ ان چند ایک نوجوانوں میں سے تھا جو آئی ڈینٹٹی کرائسس کا شکار تھے۔ کرامت عرف کیری اچھا طالب علم تھا مگر بہت کچے ذہن کا تھا۔ وہ اپنی برطانوی شناخت، اپنی پاکستانی شناخت اور اپنے مذہبی عقائد کے درمیان ایک سینڈویچ تھا اور یہی اس کا المیہ تھا۔'' ولی بھائی خاموش ہوئے تو میں نے پوچھا ''اس کیری کا ہم سے کیا تعلق ؟ ہم تو آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا دنیا میں ہونے والی جنگیں ہماری ہیں ؟''


'' میں تمھارے سوال کی طرف آ رہا ہوں۔'' ولی بھائی نے بات جاری رکھی ''کرامت کی کہانی سن لو تمہیں اپنا محاذ چننے میں آسانی ہو گی۔'' میں نے معذرت کی اور میں موسیٰ ، شین اور شیری کے ساتھ خاموشی سے بیٹھ گیا اور کرامت کی کہانی سننے لگا۔


ولی بھائی بولے ''ایک روز کرامت یونیورسٹی میں کچھ نوجوانوں کو ملا جو تبلیغ کر رہے تھے۔ انہوں نے جعلی فقیری کا جال بچھایا ہوا تھا اور جو کوئی بھی ان کے جال میں پھنستا وہ اسے اپنے پیر صاحب کا پتہ دیتے۔ یہاں کوئی تصوف والی بات نہیں تھی، بس مرد بھرتی ہو رہے تھے۔ کرامت بھی بھرتی ہو گیا۔ اس نے پیر صاحب کا پتہ لیا اور ایک شام ان کے آستانے پر حاضر ہوا۔برطانیہ میں اس قدر شاندار پیر خانہ دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا اور ایک دو ملاقاتوں میں وہ بھرتی ہونے کے ساتھ ساتھ پیر کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے لگ گیا۔ آغاز میں کرامت کا کام پیر کے جلسوں میں مہمانوں کی دیکھ بھال کرنا تھا، پھر آہستہ آہستہ جب کرامت قابل یقین مریدوں کی فہرست میں آیا تو اس کی، بقول خلیفہ جیمز کے، تربیت کی گئی۔ پیر کے خلیفے ماڈرن تھے اور ان کے نام ہیری، جیمز، جمی اور ٹیری تھے کیونکہ جب وہ پیر کے مرید بنے تو ان کی اپنی پہچان ہارون سے ہیری، جمشید سے جیمز ، جمال سے جمی اور طارق سے ٹیری ہو چکی تھی اور پیر اس پر خوش تھا کیونکہ یہ اس کی مارکیٹنگ کے لیے بہت سود مند نام تھے۔''
''ہارون سے ہیری ، جمشید سے جیمز، جمال سے جمی اور طارق سے ٹیری؟ کتنی عجیب بات لگتی ہے۔ یہ پیر صاحب کوئی مافیا تھے ؟ موسیٰ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔


''مافیا نہیں آشرم ، ایک آماجگاہ جہاں سے پریشان حال لوگ خیر خریدنے آتے تھے، جہاں تھوڑی سے کوشش سے بہت سے دکھی لوگوں کے راز کریدے جاتے اور بدلے میں انہیں مزید غم اور تکالیف کے تعویذ پلائے جاتے۔ خیر اس میں لوگوں کا بھی قصور ہے، جب آپ کا ایمان کمزور ہو، توکّل ا ﷲ کی ذات کے بجائے گدیوں سے جڑ جائے تو نتیجہ ہمیشہ خوف ناک ہوتا ہے، جیسے کرامت کا ہوا۔'' ولی بھائی نے وضاحت کی۔
''کیا یہ پیر کوئی اَن پڑھ شخص تھا یا اس کے پاس کوئی جن تھا، یا یہ کالا جادو کرتا تھا ؟'' شین نے پوچھا۔


''نہیں وہ ایک اکائونٹنٹ تھا بلکہ ڈاکٹر، آپ اسے ایک بیرسٹر بھی کہہ سکتے ہیں، کبھی کبھی تو لگتا تھا یہ کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہے، ایک مکمل پیکیج، ایک بہروپیا بھی ہم کہہ سکتے ہیں، مگر مکمل بہروپیا اور اس کے بہروپ میں یہ سب لوگ چھپے تھے۔ آپ اس سے جس موضوع پر بات کریں اس کے پاس جواب ہوتا تھا۔'' ولی بھائی نے شین کے سوال کا جواب دیا اور بات جاری رکھی۔ ''مگر یہ کمال اس کا نہیں تھا، یہ کمال تھا خلیفوں کا جو ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے اور اکثر رات کو سنوکر کھیلتے ہوئے پیر صاحب کو حالات حاضرہ سناتے۔ پیر صاحب کے دو گھر تھے، ایک گھر جہاں صرف مرید اور عوام پیر صاحب سے ملنے آتے اور ایک گھر پیر صاحب کے آرام کے لئے تھا۔ پیر صاحب کی کوئی تین یا چار بیگمات تھیں اور سب کے لئے الگ الگ دن تھے۔ ان سب کے اپنے اپنے گھر تھے اور اپنی اپنی باری پر، یہ خواتین جنھیں مائی صاحبہ کہا جاتا، تشریف لاتیں اور پیر صاحب کے ساتھ وقت گزارتیں مگر رات کو پیر صاحب اپنے خلیفوں کے ساتھ سنوکرضرور کھیلتے اور یہیں انہیں حالات حاضرہ سے آگاہی حاصل ہوتی۔ پیر صاحب کا کمال یہ تھا کہ ان کی یادداشت بہت اچھی تھی اور یہی ان کی طاقت تھی۔ پیر صاحب نماز روزہ بھی حساب کا کرتے بس کہتے کہ انسان کو اپنے من میں رب ڈھونڈنا چاہئے اور بہت سے نوجوان اپنے من کی تلاش میں قرآن سے رجوع کرنے کے بجائے پیر کے در سے انوارات کی تلاش کرنے لگے۔ خیر کرامت آہستہ آہستہ پیر کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ پیر ان سب کو اپنی آنکھوں کا تارا بناتا جن کی سلیٹ خالی ہوتی کیونکہ خالی سلیٹوں پہ عبارتیں مرضی کی لکھی جاسکتی ہیں، مگر جب سلیٹ پر کچھ سیدھی ترچھی لکیریں ہوں اور بہت بار کچھ نہ کچھ لکھا گیا ہو تو اپنی مرضی کی عبارت لکھنے کے لئے جگہ ڈھونڈنی پڑتی ہے اور اگر جگہ نہ ملے تو مایوسی کے ساتھ ساتھ لکھنے والی کی صلاحیتوں کو پرکھنے والے سامنے آ جاتے ہیں اور یہ وہ خوف تھا جس سے پیر ہر بار دوچار رہتا اس لئے خاص مریدو ں میں صرف وہی شامل تھے جن کی سلیٹوں پر پیر نے خود عبارت لکھی تھی، وہ پیر کے روبو ٹ تھے، جہاں چاہا بھجوا دیا، جسے چاہا سڑک پہ رسوا کروا دیا اور جب دل کیا ان روبو ٹوں کی بیٹریاں نکالیں اور انہیں مستقبل کے لئے سنبھال کر رکھ لیا۔ جیسے ماڈلز اور سیاستدانوں میں مقابلہ ہوتا ہے جیسے دو پہلوان آپس میں لڑتے ہیں ویسے ہی پیری مریدی کی دنیا کا کاروبار چلتا ہے، پیر پیر کا ویری ہوتا ہے اور جب دلیل سے یہ لوگ بات سمجھا نہیں پاتے تو ان کے روبوٹ کام آتے ہیں۔''
''ویری انٹرسٹنگ ولی بھائی، پھر کیا ہوا ؟ شیری نے پوچھا۔''


''کچھ نہیں ہوا بس ایک روبو ٹ تیار ہو گیا، جس کی سلیٹ پر جو عبارت لکھی تھی اس نے اس کے ذہن اور سوچوں پر قبضہ کر لیا اور کرامت اٹھارہ انیس سال کی عمر میں پیر کا جانثار مرید ہو گیا۔'' ولی بھائی نے کیٹل کا بٹن دبایا اور ہاتھ کے اشارے سے سب کو اپنا اپنا کپ لانے کو کہا اور خود چائے بناتے ہوئے بولے ''ایک روز کرامت کسی سڑک پر اپنے پیر کے لئے مرید بھرتی کر رہا تھا، اس روز کرامت کا چاچا سلیم جو ایک دوکان میں ڈلیوری کا کام کرتا تھا کچھ دیر آرام کے لئے اپنے ٹرک میں آ کر لیٹ گیا۔ اسے کسی مانوس سی آواز نے جگایا، اس نے ایک مدت بعد کرامت کو دیکھا تو اس کی آنکھیں جیسے پھٹ کر باہر آ گئیں۔ اس نے دیکھا کہ ہمیشہ خوش لباس رہنے والا کیری عجیب حُلیے میں تھا۔ اس نے بال بڑھا لئے تھے اور اس کا حلیہ ایسا تھا کہ اس سے خوف آتا تھا۔ سلیم ٹرک سے نکلا، اس نے کرامت کو بازو سے پکڑا اور سیدھا اپنے بھائی یعنی نیک محمد کے گھر پہنچا اور اس نے کرامت سے سختی سے پوچھا کہ وہ کن کاموںمیں پڑ گیا ہے۔ کرامت نے اپنے چا چا کو غصے سے دیکھا اور بولا 'چا چا مجھے نہ سمجھا! کیا اچھا ہے اور کیا نہیں، میں بالغ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ میرا انتخاب اچھا ہی ہو گا، یہ دنیا دھوکا ہے اور میں نے، تو نے اور میرے باپ نے بس اپنا وقت برباد کیا ہے۔ چلو میں تمہیں دکھاتا ہوں اصل دنیا کیا ہے چلو میرے پیر کے گھر میں تم سب کو جنت دلوانے کی گارنٹی دیتا ہوں، نیک محمد صوفے پر لیٹا ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا،لگتا تھا وہ پہلے ہی کشتیاں جلا چکا تھا۔


''دیکھ کرامتے پتہ نہیں تجھے کون سا بخار ہوا ہے جو تو ایسی جھلی باتیں کر رہا ہے۔ بیوقوفا! یہ لمبی لمبی کاروں والے پیر نہیں ڈھونگی ہیں۔ یہ اللہ کے چور ہیں، یہ ایمان بھی لوٹتے ہیں اور مال بھی، کون سا ولی ورلڈ ٹور کرتا ہے، اللہ کے کس فقیر نے کبھی دنیا کی خواہش کی ہے، کیا یہ سب کچھ سیرت کے منافی نہیں جو یہ ڈھونگی لوگ کرتے ہیں، یاد رکھ بیٹا عامل اور فقیر میں فرق ہے۔'' سلیم نے کرامت کو سمجھا نے کی کوشش کی۔


کرامت بھڑک اٹھا اور بولا، ''چچا میں اندھا نہیں ہوں مجھے لگتا ہے تمھاری روحانی تربیت نہیں ہو پائی اس لئے تم ایسے کہہ رہے ہو، ور نہ کیا تمہیں سب کچھ نظر نہیں آ رہا۔ مرشد کی کرامتیں کیا کسی سے پوشیدہ ہیں؟ وہ میرا دوست ظفر حاجی صاحب کا بیٹا، وہ سید ہیں۔ ظفر ایک نیک لڑکا ہے، کہتا تھا ہمیں کسی کے در سے کیا ملے گا ہم تو خود سید ہیں اور پھر جب اس پر پولیس کیس بنا تویہ میرے مرشد کا کمال ہے کہ تحقیقات کرنے والے ہی اندھے ہو گئے۔ کسی پولیس، تھانے، کورٹ کو اس کے خلاف کچھ نہ ملا بلکہ خلیفہ ٹیری نے پیر صاحب کے کہنے پر شہر کا سب سے بڑا وکیل بھی کیا اور آج ظفر کی سب مرادیں اسی آستانے سے پوری ہوتی ہیں۔ پچھلے ماہ ماسی بلقیس کی بیٹی کی شادی بھی مرشد کی نظر کرم کی بدولت ہوئی۔ حمید کی بیوی کو ڈاکٹروں نے بانجھ قرار دیا اور پھر وہ بھی مرشد تک پہنچا تجھے پتہ ہے اس کے گھر پچھلے ہفتے ہی بیٹا ہوا ہے، یہ میرے مرشد کے تعویذ کا کمال ہے۔ کیا یہ کافی نہیں کہ شہر کے امیر ترین لوگ مرشد کے آستانے سے جڑے ہیں۔ مرشد کا ایک اشارہ ان سب کے لئے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ مرشد ورلڈ ٹور پر جاتے ہیں تو مقصد سیر و سیاحت نہیں ترویج دین ہوتا ہے۔ مرشد کا خطاب ٹی وی پہ چلتا ہے، مرشد تین چار زبانیں بولتے ہیں، کیا یہ فقیری کی سند نہیں کہ ہزاروں مریدوں کا ظاہر باطن روشن ہو گیا ہے۔ یا خدایا تیرا کتنا کرم ہے کہ مجھے میرا مرشد مل گیا۔''


سلیم نے کرامت کو انگلی کے اشارے سے خاموش کروایا اور بولا ''بکواس نہ کر کرامتے، تو میرے ہاتھوں میں پلا ہے، تیرے کان میں میں نے بانگ دی تھی، مجھے نہ سمجھا بیٹا فقیری کیا ہوتی ہے، یہ سب تیرے باپ کا قصور ہے، نیک محمد تم کچھ کیوں نہیں بولتے ؟ نیک محمد تم بھول گئے اصل فقیر، اصل ولی کون ہوتا ہے ؟اور ہاں اولاد، رزق اور اسباب کی امید صرف اﷲکے در سے ہونی چاہئے، کچھ بول نیک محمد ۔۔۔''
نیک محمد نے ہاتھ کے اشارے سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا جبکہ کرامت نے اپنے باپ کی لاچاری کو اپنے مرشد کا کمال بتایا اور بولا۔ ''ایک روز بابا بھی مرشد کے خلاف بولا تھا آج دیکھ لو کیسی چپ لگی ہے۔ چچا اب مرشد کے خلاف کچھ نہ کہنا یہ نہ ہو تیری بھی زبان بند ہو جائے۔ میرے مرشد نے پانچ سال ٹوٹی ہوئی قبر میں چلا کاٹا ہے، وہ قبرستان جاتا ہے تو مردے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ مرشد کے خلیفے کہتے ہیں کہ مرشد کا دیدار ہو جائے تو حج کا ثواب ہوتا ہے اور اگر مرشد کسی کا ہاتھ پکڑ لیں تو سمجھیں رب نے خود اس شخص پر کرم کیا ہے۔۔۔۔''


جیسے ہی کرامت نے یہ کہا سلیم نے با آواز بلند استغفار پڑھی اور کرامت کو پیٹنا شروع کر دیا، کرامت لہولہان ہو گیا مگر اپنے پیر کے حق میں بولتا رہا اور سلیم استغفار پڑھتے پڑھتے زار و قطار رونے لگ گیا اور بولا۔ ''او ظالم تو یہ کیا کہہ رہا ہے، کہاں مکہ مدینہ اور کہاں یہ تیرا ڈھونگی پیر جس کی قوت عملیات کی بدولت ہے یہ دنیا کا طالب کسی کو معرفت اور حقیقت کی روشنی سے منور کیسے کر سکتا ہے ؟ ا ﷲ تجھے ہدایت دے ورنہ موت دے دے، تو وہاں پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہے۔''


کرامت نیک محمد کے قابو میں پہلے ہی نہیں تھا اور اسے اس کے واپس لوٹنے کی امید بھی نہیں تھی۔ آج سلیم نے کرامت کی جو درگت بنائی اس کے بعد کرامت کی طرف سے کسی بھی قسم کے ردعمل کی امید کی جا سکتی تھی مگر رو بو ٹ کیا کر سکتا ہے۔ اس رات کرامت گھر سے بھاگ گیا اور اپنے پیر کے آستانے پر جا پہنچا۔ اس نے خلیفہ جیمز کو ساری داستان سنائی۔ خلیفہ کرامت کو پیر کے پاس لے گیا۔ پیر نے کرامت کو گلے لگایا اور مشورہ دیا کہ اسے اپنے چچا اور باپ کے خلاف پولیس کو شکایت کرنی چاہئے۔ کرامت نے پیر کے مشورے کو حکم کا درجہ دیا اور خلیفہ جیمز کے ساتھ پولیس اسٹیشن جا پہنچا۔ پولیس اسٹیشن پہنچنے تک کرامت کا غصہ کم ہو چکا تھا اور بار بار وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے پیر نے اسے اس کے والد اور چچا کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروانے کو کیوں کہا ؟ کرامت نے رپورٹ درج کروائی اور واپس آستانے پر آ گیا۔ دوسرے دن اسے لگا کہ اسے اپنے باپ اور چچا کے خلاف شکایت واپس لے لینی چاہئے لہٰذا وہ واپس پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور اس نے شکایت واپس لے لی۔


ولی بھائی اٹھے اور ایک بار پھر سے کیٹل میں پانی ڈالنے لگے تو موسیٰ بولا ''کہانی ختم ؟ میں ابھی بھی کنفیوز ہوں، اس ساری کہانی میں ہم سب کہاں فٹ ہوتے ہیں اور سوال عالمی جنگوں کا تھا اس میں کیری کی کہانی، اس کے گھریلو معاملات اور اس کی پیر پرستی کا کیا تعلق ہے ؟'' ولی بھائی بولے، ''تعلق ہے موسیٰ اور کس نے کہا کہانی ختم ہو گئی ہے، ابھی تو کہانی کا آغازہوا ہے۔''


ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا جب کرامت نے شکایت واپس لی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، پولیس اس کے چچا اور والد کو آٹھ گھنٹے تک حوالات میں بند رکھنے کے بعد ان کا انٹرویو لے چکی تھی مگر جب کرامت نے اپنا بیان واپس لے لیا تو پولیس کے پاس ان دونوں کو حوالات میں بند رکھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ کرامت نے واپس گھر جانے کا سوچا مگر اسے اس کے والد کی طرف سے پیغام موصول ہوا جس میں اس نے کرامت کو اپنے گھر میںواپس قبول نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ اب کرامت کا ایک ہی ٹھکانہ تھا اور وہ پیر کا آستانہ تھا۔ کرامت ان دنوں بے روزگار تھا اور پیر کے آستانے پر بھی کچھ دنوں تک سر چھپانے کے علاوہ اس کا نہ کوئی دوست تھا اور نہ ہی کوئی رشتہ دار جو اس کی مدد کرتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عرب سپرنگ کا آغاز ہوا۔


''آپ کا مطلب ہے تیونس سے اُٹھنے والی تحریک جس نے پوری عرب دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا ؟'' شین نے پوچھا۔
''ہاں ہاں! میں اسی تحریک کی بات کر رہا ہوں، دیکھو دنیا میں نظام کیسے بدلتے ہیں، تیونس میں عرب بہار شروع ہوئی اور اس کا آغاز ایک شخصی قربانی سے ہوا۔ 26 سالہ محمد بوزیزی کو ایک پولیس والے نے تذلیل کا نشانہ بنایا وہ ایک پھل فروش تھا مگر غیرت والا تھا۔ اس غیرت مند نے اس تذلیل کے ساتھ زندہ رہنے کے بجائے خود کو ایک سرکاری عمارت کے سامنے احتجاج میں آگ لگا لی اور اس آگ کے شعلوں میں پورا مشرقِ وسطیٰ اور عرب دنیا جھلس کر رہ گئی۔ تیونس، مصر، لیبیا، شام، یمن کے ساتھ ساتھ عراق اور دیگر ملکوں میں وہ تبدیلیاں آئیں کہ عرب دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔پہلے یہ تحریک تھی مگر پھر یہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی نرسری بن گئی۔''
''وہ کیسے؟'' شیری نے پوچھا ۔


''جہاں بادشاہت ہوتی ہے، جہاں حکمران ظالم ہوتے ہیں، جہاں عوام یا جمہور کو تذلیل کا سامنا ہوتا ہے، جہاں کچھ لوگ ریاست کے تمام وسائل پر قابض ہوتے ہیں اور جہاں نا انصافی اور مطلق العنانیت ریاست کا مزاج ہوتا ہے وہاں ایسے ہی انقلاب ابھرتے ہیں اور اپنے انجام پر دہشت گرد تحریکوں کا روپ اپنا لیتے ہیں۔ بس شام اور عراق ایسے دو ممالک ہیں جہاں دنیا کے پاور بروکرز نے شدت پسندی کے کاروبار کو ایک کارپوریٹ کی شکل دے دی اور ان بروکرز کے ایجنٹوں نے یورپ میں ریکروٹمنٹ کا کام شروع کر دیا۔ ان کا نشانہ ایسے پس منظر رکھنے والے نوجوان مرد اور عورتیں تھیں جو آئی ڈینٹٹی کرائسس کا شکار اور گمراہ تھے۔ یورپ میں ایک المیہ یہ ہے کہ کچے ذہنوں کو ماہر اور چرب زبان انتہا پسند نفرت کا بُت بنا دیتے ہیں اور یہ تب سے ہو رہا ہے کہ جب سے ہالی وڈ نے ویتنام کی ہاری ہوئی جنگ کو افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کا لحاف اوڑھانے کی کوشش میں بہت سے جان ریمبو اور راکی بلبو پیدا کئے۔ '' ولی بھائی نے بات جاری رکھی ''کچھ روز اپنے پیر کے آستانے پر رہنے کے بعد کرامت کو احساس ہوا کہ وہ اب پیر کی آنکھ کا تارا نہیں رہا، کوئی پیر ہو یا سیاستدان، مفت کوئی کسی کو کچھ نہیں دیتا اور خاص کر جب کسی کو روٹی، چھت اور تحفظ دینا پڑ جائے تو عقیدت بوجھ بن جاتی ہے اور پھر کون کسی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ خلیفے پیر کے لئے مرید گھیر گھیر کر لاتے اور مرید پیر کا بینک بیلنس تھے۔ پیر کی سب سے بڑی کمائی ان کارو باری لوگوں سے ہوتی تھی جو ایک دوسرے پر تعویذ کرواتے یا کسی نہ کسی اسکینڈل کو سلجھانے میں مدد لیتے۔ ان امیر لوگوں کی دو زندگیاں تھیں اور ان کی بیگمات کا بھی یہی حال تھا۔ بس کچھ ہی دنوں میں کرامت پر بہت سے راز کھل گئے اسے پیر اور خلیفوں کی ذاتی زندگیوں کو جب قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو اس نے یہاں سے بھی راہِ فرار اختیار کی اور پھر سے ایک نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑا.......۔''


جیسے ہی شام میں انتہا پسندی عروج پر پہنچی تو انتہا پسند تنظیموں نے یورپ میں اپنی بھرتی کا عمل تیز کر دیا مگر بھرتی کا طریقہ بدل دیا۔ اب بھرتی کرنے والے باریش مرد نہیں بلکہ خوبرو حسینائیں تھیں جنہوں نے مایوس اور پہلے سے باغی ذہنیت رکھنے والے نوجوانوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسایا اور جہاد کے لئے عراق اور شام لے گئیں۔ یہ ماڈرن ریکروٹمنٹ کا طریقہ کارپوریٹ شدت پسندی کا ایک نیا ہتھیار تھا جو کچھ عرصے کے لئے بہت کارگر ثابت ہوا اور مختلف راستوں سے یہ نوجوان ایک ایسی جنگ کا حصہ بننے شام اورعراق پہنچے جس کا خاتمہ خیر پر نہیں ہوناتھا ۔اس جنگ میں ہمیں پتہ ہے کہ 400,000 شام کے شہری لقمۂ اجل بنے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، اسی طرح عراق میں مرنے والے شہریوں کی تعداد 260,000 سے زیادہ ہے۔ ان میں غیر ملکی جنگجو کتنے تھے اس کا شائد کبھی کسی کو مکمل علم نہ ہو سکے۔ یورپ کی حکومتوں کے لئے یہ جنگجو ایک بہت بڑا چیلنج ہیں، اب تو یورپ کی بہت سی حکومتیں اس بات کو مان چکی ہیں کہ ان کے اپنے نظام میں کہیں نہ کہیں کوئی شگاف ہے یا خرابی کہ وہ ان نوجوانوں کو سمجھنے میں ناکام ہوئے۔


کرامت جب پیر کے آستانے سے مایوس باہر کی دنیا میں اپنے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے نکلا تو اس کی ملاقات سیمی سے ہوئی، سیمی کا اصل نام کسی کو بھی معلوم نہیں، مختلف شہروں اور علاقوںمیں یہ مختلف ناموں سے جانی جاتی تھی۔ سیمی کرامت کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی اور اسے لگا کہ اسے ایک سچا دوست مل گیا۔ کچھ ہی ملاقاتوں میں سیمی نے کرامت کو اپنی زلفوں کا اسیر کر لیا۔ وہ اکثر ایک پارک میں ملتے اور یہاں کچھ فاصلے پر دو مرد ان پر نظر رکھتے۔یہ کارپوریٹ بغیر چیک اینڈ بیلینس کے نہیں چل سکتی تھی اور یہاں بھی جب سیمی یا کوئی بھی خاتون نئے شکار کی تلاش میں نکلتی تو ان کی نگرانی کی جاتی۔ کارپوریٹ کا جال اب دنیا میں پھیل رہا ہے، ایشیا سے افریقہ اور یورپ سے امریکہ تک جہاں جہاں ممکن ہے کارپوریٹ اپنے کام میں لگی ہے۔ اس کے مقاصد اور اہداف دونوں ہی غیر انسانی اور غیر جمہوری ہیں۔


ایک روز سیمی نے کرامت کی ملاقات جیزی سے کروائی، لمبے قد اور مضبوط جسم والا جیزی کارپوریٹ کا دوسرے درجے کا ریکروٹمنٹ اہلکار تھا۔ سیمی کا کام زمین ہموار کرنا تھا جبکہ جیزی کا کام اس ہموار زمین میں نفرت کے بیج بونا تھا۔ سیمی نے اپنا کام کر دیا تھا اب جیزی کو زیادہ وقت نہ لگا اور اس نے کرامت کو ایک عالمی جنگ میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ اس نے دن رات اس پر کام کیا، اس کے ذہن سے سوچ اور جسم سے روح نکال کر نفرت کا ٹائم بم فٹ کر دیا۔ افسوس کرامت انتہا پسندی کا ٹائم بم بن گیا جس نے کبھی نہ کبھی پھٹنا تھا ، ولی بھائی خاموش ہوگئے۔


شین اٹھی اور ولی بھائی کے پاس آ گئی، اسے ولی بھائی کی آنکھوں میں آنسو نظر آئے اور وہ بولی ''سر! آپ آبدیدہ ہو گئے، کیا کرامت آپ کا کوئی رشتہ دار تھا؟''
''ہاں یہ ساری امت بلکہ یہ ساری انسانیت میری رشتہ دار ہے، کسی کو حق نہیں کہ میرے رب کی انسانیت کے خلاف کوئی منصوبہ بنائے، کسی کو اختیار نہیں کہ کسی کا بھی قتل کرے، یہ میرا نہیں، میرے رب کا حکم ہے، ایک انسان کا قاتل پوری انسانیت کا قاتل ہے اور کارپوریٹ والے اگر کسی کو بھی گمراہ کر کے کسی بھی انسان کا قتل دین امن کے نام پر کرتے ہیں تو آنکھ نہیں روح بھی تڑپ اٹھتی ہے۔'' ولی بھائی نے جواب دیا۔
''کرامت کا کیا ہوا سر؟'' موسیٰ نے پوچھا۔


''کچھ نہیں، وہ کچھ ہی دنوں میں ترکی کے راستے سے شام پہنچا، کارپوریٹ نے اس کا تمام خرچ اٹھایا اور اس کو باقاعدہ تربیت دی گئی، اس کو ہتھیار استعمال کرنا سکھائے، اس کے ہاتھ خون میں ایسے رنگے کہ قتل اس کا مشغلہ بن گیا اور وہ کارپوریٹ کی میڈیا کمپین کا حصہ بھی بنا۔ کارپوریٹ کی ہر ویڈیو میں کرامت اور کچھ اور انگریزی، جرمن، اسپینش اور فرینچ بولنے والے نوجوان ہتھیار لہراتے اوروں کو کارپوریٹ کا حصہ بننے کی دعوت دیتے۔ یہی کارپوریٹ کا ہدف تھا اور ان کے کاروبار کی حکمت عملی مگر کرامت اور اس جیسے نوجوان اس امر سے ناواقف تھے کہ ان سب کا متبادل مارکیٹ میں موجود تھا۔ لہٰذا جب کبھی کوئی کارپوریٹ کے لئے بوجھ بنتا تو اسے مار دیا جاتا یا اس کا حتمی استعمال کیا جاتا اور خرچ کی ہوئی رقم سود سمیت واپس لے لی جاتی ''ولی بھائی تھوڑے خاموش ہوئے تو شیری نے پوچھا ۔''کرامت زندہ ہے ؟ اور سیمی کا کیا ہوا؟''


''ہاں کرامت زندہ ہے اور پچھلے ہفتے اس کے ماں باپ کو مطلع کیا گیا ہے کہ کارپوریٹ نے اسے اب اپنا قیدی بنا لیا ہے اور کبھی وہ اسے انسانی شیلڈ کے طوراستعمال کرتے ہیں اور کبھی اس کی رہائی کے لئے اس کے آبائی ملک سے تاوان طلب کرتے ہیں جبکہ سیمی آج بھی کسی نئے شکار کی تلاش میں مصروف ہو گی........یہ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے، یہ ہم سب کی جنگ ہے، اس جنگ کی بھٹی کا ایندھن ہمارے بچے ہیں اور ان کے تحفظ کے لئے ہمیں لڑنا ہے، اپنی اپنی سرحد کے دفاع کے لئے لڑنا ہے، ہمیں ہتھیار سے نہیںعلم کے ذریعے اپنے دین اور دنیا کے دشمنوں سے لڑنا ہے اور اپنے بچوں کو تنہا نہیں چھوڑنا ورنہ کوئی جعلی عامل یا کوئی انتہا پسند انہیں اپنے عزائم کے لئے استعمال کرے گا اور ہم آہستہ آہستہ سب کھو دیں گے۔'' ولی بھائی اٹھے اور کمرے سے باہر چلے گئے اور مجھے میری جنگ کا محاذ دکھا گئے ۔
(وضاحت : اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں ،کرداروں اور کرداروں کے ناموں کا کسی شخص یا اشخاص سے مماثلت رکھنا محض اتفاق ہو گا )

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 60 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter