لٹل اینجلز ہوم

Published in Hilal Urdu

تحریر: محمد امجد چوہدری

آرمی سپیشل چلڈرن سکول اینڈ کالج

سیالکوٹ کینٹ میں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور بحالی میں پیش پیش ایسا ادارہ جس کے طالب علموں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار اور پرچم بلند کیا

انسان ہونا سب سے بڑی نعمت ہے اور جو جسمانی و ذہنی لحاظ سے نارمل ہے اسے اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہونا چاہئے۔ ہمارے اردگرد ایسے انسان بھی بستے ہیں جو ''عام'' نہیں ہوتے۔ انہیں قدرت کچھ ہٹ کر پیدا کرتی ہے یا پھر اوائل زندگی میں ہی کوئی حادثہ انہیں عام لوگوں سے ''الگ'' کر دیتا ہے۔ انہیں قدرت آزمائش کے لئے چن لیتی ہے۔ یہ خصوصی افراد ہماری خصوصی توجہ اور برتائو کے مرہون ہوتے ہیں۔ تاہم عمومی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ معاشرے میں انہیں قدم قدم پر عدم مساوات ، بے حسی، منفی سوچ اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں تعلیم، صحت، عزتِ نفس، روزگار، معیار زندگی، سماجی تحفظ،سیاسی و سماجی سرگرمیوں، ثقافتی زندگی اور فرصت کے لمحات پُر لطف طریقے سے گزارنے کی سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جوں جوں وقت کا پہیہ آگے بڑھتا ہے، ان کی مشکلات اور مصیبتوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دوسروں کی تو خیر، بعض اوقات انہیں اپنوں کی توجہ بھی میسر نہیں ہوتی۔ بے حسی کے اس عالم اور خود غرضی کی اس دنیا میں کچھ افراد اور ادارے ایسے بھی ہیں جو اِن ''خصوصی'' افراد کے لئے امید کی کرن اور ان کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کا ذریعہ ہیں، وہ عمر بھر معذوری کا اسیر ہونے کے بجائے انہیں متحرک، باوقار اور مفید زندگی گزارنے کا سلیقہ اور ہنر سکھاتے ہیں۔

littleangelhome.jpg
سیالکوٹ کینٹ میں پاک فوج کے زیر انتظام آرمی سپیشل چلڈرن سکول اینڈ کالج (لٹل اینجلز ہوم) ایسا ہی ایک ادارہ ہے جو گزشتہ سترہ سال سے ذہنی و جسمانی طور پر معذور بچوں اور ان کے والدین کے لئے امید کا چراغ بنا ہوا ہے۔ 2001ء میں صرف چار طلباء سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے ''لٹل اینجلز ہوم'' میں اس وقت تقریباً ڈیڑھ سو خصوصی بچے تعلیم و تربیت اور خصوصی مہارتوں سے آراستہ ہورہے ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک 1300 سے زائد خصوصی بچے یہاں سے امید، اعتماد اورمختلف شعبہ ہائے زندگی میں پیشہ ورانہ مہارتوں سے مزیّن ہو کر معاشرے کے کارآمد اور مفید شہری بن چکے ہیں۔ خاص طور پر کھیل کے میدان میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی ہمت اور عزم سے کسی معذوری کو آڑے نہیں آنے دیا۔ وہ مختلف کھیلوں کے قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں فتح کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں۔ نومبر 2017ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی 17 ویں پنجاب سپیشل اولمپکس گیمز میں سونے کے 38، چاندی کے 23 اور کانسی کے 13 میڈلز کے ساتھ مجموعی طور پر پہلی پوزیشن ''لٹل اینجلز ہوم'' کی تازہ کامیابی ہے۔ اس سے قبل بھی 2015ء میں وہ یہ اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ لاہور، کراچی، بہاولپور ، پشاور، سیالکوٹ میں منعقد ہونے والے مختلف مقابلوں میں آرمی سپیشل چلڈرن سکول کے طلباء اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ لاس اینجلس امریکہ میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل سپیشل اولمپکس 2015ء میں 50 میٹر بیک سٹروک سوئمنگ اور 50 میٹر فری اسٹائل میں بالترتیب گولڈ اور سلور میڈل حاصل کرکے دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے والی اقصیٰ جنجوعہ کا تعلق بھی اسی ادارے سے ہے۔ یہیں سے اس نے تیراکی کے جواہر اور دائو پیچ سیکھے اور ثابت کیا کہ خصوصی بچے کسی سے کم نہیں ہوتے۔ اگر انہیں حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ سازگار ماحول فراہم کردیا جائے تو وہ کسی بھی میدان میں کامیابیوں کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔


''لٹل اینجلز ہوم'' کی پرنسپل محترمہ ثوبیہ عدنان 2012ء سے اس ادارے سے وابستہ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر سپیچ تھراپسٹ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے۔ جسمانی و ذہنی طور پر معذور افراد کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی خاص خوبی سے نوازا ہوتا ہے جسے ہم تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دفعہ اس ''خوبی یا صلاحیت'' کی شناخت ہوجائے تو پھر اسے نکھارنا، سنوارنا مشکل نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ سپورٹس ایک ایسا شعبہ ہے جسے تمام بچے بلا امتیاز صنف بہت پسند کرتے ہیں۔ ہمارے سکول کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہاں نہ صرف سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے بلکہ یہاں کے ٹیچرز اور سٹاف خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں میں بھی باقاعدہ قابلیت کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ادارے کے بچے کھیلوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں۔ وہ اپنی کمزوریوں کو فراموش کرکے نئے خیالات اور منزلوں سے روشناس ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لئے نہ صرف تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں بلکہ عملی طور پر حصہ لینے کے لئے اِن ڈور اور آئوٹ ڈور سرگرمیاں مسلسل جاری رہتی ہیں۔ فوٹو گرافی، پینٹنگز اور دوسری تعمیری اور تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں میں بھرپور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے عملی زندگی میں قدم رکھنے کے طریقے سیکھتے ہیں۔

littleangelhome1.jpg
خصوصی بچے جہاں والدین کی آزمائش ہوتے ہیں وہیں اس شعبے کے اساتذہ کے لیے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ایسے پھول ہیں کہ پیار، توجہ اور ہمدردی کے جذبات سے کھل اٹھتے ہیں۔ ذرا سی بے توجہی انہیں مرجھا دیتی ہے۔ یہ نازک صورتحال والدین اور اساتذہ کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتی۔ ''لٹل اینجلز ہوم'' کے اساتذہ اور سٹاف اس سلسلے میں انتہائی حساس ہیں۔ انہیں اپنے شعبے میں مہارت کے ساتھ ساتھ خصوصی بچوں سے برتائو، حسن اخلاق اور ان کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوتا ہے۔ وہ بچے کی معذوری یا کمزوری کے مطابق مختلف حکمت عملیاں ترتیب دے کر انہیں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی تربیت دیتے ہیں۔ وہ ان کی قدم قدم پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر سازگار، ہمدردانہ، حوصلہ افزاء ماحول میں ان کے اعتماد میں بے حد اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کی صلاحیتیں اجاگر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔چونکہ ہر بچے کی معذوری مختلف نوعیت کی ہوتی ہے اور اس کے اپنے مختلف تقاضے ہوتے ہیں اس لئے اساتذہ کے لئے ہر بچے پر انفرادی توجہ دینا از حد ضروری ہے۔


''لٹل اینجلز ہوم'' میں اس وقت 147 بچے زیر تربیت ہیں جن میں گونگے بہرے، نابینا، ذہنی و جسمانی معذور شامل ہیں۔ ہر بچے کی معذوری کے لحاظ سے ماہر اساتذہ اور سٹاف موجود ہے جو انہیں کمزوری پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ان میں چھپی قدرتی صلاحیتوں کو جاننے اورانہیں سکھانے پر توجہ مرکوز کئے رکھتے ہیں۔والدین اور اساتذہ کی مسلسل کوشش اور توجہ ہی کامیابی کا زینہ ہیں۔ پرنسپل ثوبیہ عدنان اس حوالے سے بتاتی ہیں کہ ''لٹل اینجلز ہوم'' مختلف شعبوں میں ماہر اساتذہ کے ساتھ ساتھ متعلقہ تجربہ کار سٹاف اور سہولیات سے مزین ہے یہی وجہ ہے کہ خصوصی بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے ضمن میں ہماری کامیابیاں نمایاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کامیابی کا ایک راز یہ بھی کہ ہم اپنے اساتذہ اور سٹاف کے لئے تجدیدی ورکشاپس کا بھی انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ جن میں وہ جدید مہارتوں اور نت نئے طریقوں سے لیس ہو کر بہتر طور پر خصوصی بچوں کی نگہداشت اور ذہنی نشوونما میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ جدید سہولیات اور آلات کا استعمال بھی اہم ہے۔ دنیا میں خصوصی بچوں کی ضروریات کے مطابق بہت سے جدید آلات منظر عام پر آرہے ہیں جن کے استعمال سے بہت سے بچے نارمل زندگی بسر کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ بس ضرورت مسلسل توجہ اور سازگار ماحول کی فراہمی کی ہے۔ اس سلسلے میں پاک فوج کے 8 ڈویژن کی ترجیحات واضح اور نمایاں رہی ہیں۔ انہوں نے اس ادارے کی ضروریات اور تقاضوں کو ہمیشہ اہمیت دی ہے یہی وجہ ہے کہ اساتذہ اور سٹاف مکمل اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔


''لٹل اینجلز ہوم''، کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کے علاوہ خصوصی بچوں کے لئے مختلف تاریخی مقامات کی سیر اور سوشل تقریبات کا اہتمام بھی کرتا رہتا ہے تاکہ وہ عام سماجی ماحول میں رہنے کا ہنر سیکھ سکیں۔ اس حوالے سے محترمہ ثوبیہ عدنان نے بتایا کہ بچوں کو مستقبل میں پیش آنے والی ممکنہ مشکلات اورمختلف حالات سے نبردآزماہونے کے لئے ایسی سرگرمیاں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ ہم اس میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ آج بہت سے خصوصی بچے معذوری کے باوجود عام سماجی زندگی بسر کررہے ہیں۔ وہ مختلف حالات کابآسانی مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ متعدد بچے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر عملی شعبوں میں باقاعدہ کام کررہے ہیں۔ سیالکوٹ چونکہ ایک صنعتی شہر ہے، یہاں کے بچے مقامی ہنر بھی سیکھ رہے ہیں۔ خصوصی بچے ان میں کافی دلچسپی لیتے ہیں۔ دستکاری کے ذریعے نہ صرف ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ وہ معاشرے کے کارآمد افراد بھی بنتے ہیں۔


عالمی فلاحی ادارہ ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچاس لاکھ سے زائد معذور افرادموجود ہیں۔ ان اعدادوشمار کے تناظر میں ''لٹل اینجلزہوم'' جیسے اداروں کی اشد ضرورت ہے۔ آرمی سپیشل چلڈرن سکول اینڈ کالج کو بھی اسی تناظر میں وسعت دینے کے منصوبے پر عمل جاری ہے تاکہ مزید خصوصی بچے یہاں موجود سہولیات سے مستفیدہوسکیں۔ اس سلسلے میں 32 کنال پر محیط ایک جدید ترین عمارت تعمیر کی جارہی ہے جس پر 64 ملین روپے لاگت آئے گی۔ خصوصی بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے 8 ڈویژن کے یہ اقدامات قابل تحسین اور قابل تقلید ہیں۔ خصوصی افراد کو ہماری خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہیں معاشرے میں مساوی سلوک اور یکساں سہولیات فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری میں شامل ہے۔اگر کوئی معاشرہ اس حوالے سے بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ بھی ''معذور'' ہی کہلاتا ہے کیونکہ بے حسی سب سے بڑی معذوری ہے۔

 
Read 74 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter