قوم کا گمشدہ ہیرو

Published in Hilal Urdu

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر معین الدین

ایک ناتواں کمزور اور لاغر بوڑھا 52سال کی قید بامشقت دشمن کے ملک میں گزار کر واپس اپنے ہیڈکوارٹر آتا ہے، وہاں موجود فوجی افسر کو فولادی استقلال کے ساتھ سلیوٹ کرتا ہے۔ اس کی کٹی ہوئی زبان کچھ کہنے سے قاصر ہوتی ہے۔ مگر عقابی چمک دار آنکھیں کہتی ہیں کہ سپاہی مقبول حسین اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہے سر! سپاہی مقبول حسین ایک گمشدہ قوم کا سپاہی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں سندھی، مہاجر، پنجابی، بنگالی اور بلوچ جیسی نسلیں آباد نہ تھیں صرف اور صرف پاکستانی قوم بستی تھی۔ اس ملک کا نام دنیا میں روشن تھا۔ پاکستان تعلیم، صنعت، زراعت میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ ملک کی بیورکریسی میں تعلیم یافتہ نوجوان جو پبلک کمیشن کا کڑا امتحان پاس کر سکتے تھے، موجود تھے۔ سفارش، اقرباء پروری، لسانیت اور رشوت ستانی میں کم لوگ مبتلا تھے مگر یہ بھی شرمائے شرمائے اور سہمے سہمے سے رہتے تھے کہ کسی محلہ دار کو رشتہ دار کو اور عام لوگوں کی اس کی بھنک نہ پڑ جائے۔ لوگ عزت کے لئے مرتے تھے، پیسے کو ہاتھ کا میل سمجھتے تھے۔ شرمساروں کے لئے چلو بھر پانی کافی ہوتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور پاکستانیوں کی عزت سمندر پار بھی کی جاتی تھی۔ پاکستان یورپ کے اکثر ممالک سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔ جرمنی جیسا ملک تک پاکستانی امداد کا شکر گزار تھا۔

gumshudahero.jpg


کشمیر کی آزادی کے لئے پاکستان کشمیریوں کی بھرپور مدد کرنے کی پوزیشن میں تھا اور کر بھی رہا تھا۔ ایسے میں نام نہاد اقوام متحدہ کی مسلسل کوتاہیوں، نظر انداز کرنے اور کشمیریوں پر ظلم کے خلاف لائن آف کنٹرول پر جنگ چھڑ گئی۔ اس موقع پر پاکستان کے چند عیار دوستوں نے پاکستان کو یقین دلایا کہ جنگ صرف متنازعہ علاقے تک محدود رہے گی اور انڈیا بین الاقوامی سرحد ہر گز پار نہ کرے گا اور بدقسمتی سے ہم نے یقین بھی کر لیا۔ پاکستان نے پیش قدمی شروع کی، دریائے توی ایک جھٹکے میں پار ہو گیا۔ چھمب جوڑیاں فتح ہوا اور پٹھان کوٹ پر قبضہ ہوا ہی چاہتا تھا کہ 5گنا بڑے دشمن نے جب اپنی دال کشمیر میں نہ گلتی دیکھی تو لاہور پر اچانک حملہ کر دیا۔ انہیں اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ شام کو انہوں نے لاہورپر قبضے کی فتح کا جشن لاہور جم خانہ میں شراب پی کر منانے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ دشمن کی ایک جیپ بی آر بی نہر کو کراس کر کے شالامار باغ تک پہنچ گئی کہ اﷲتعالیٰ نے پاکستان کی مدد کی۔ اس جیپ کے افسر نے سوچا کہ ہمیں کہیں بھی پاکستانی فوج کی حرکت نظر نہیں آئی کہیں یہ اس کی چال نہ ہو اور وہ ہم کو گھیر کر مارنا چاہتا ہو۔ لہٰذا انڈین فوج کو بی آر بی نہر کراس نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ بس اس دوران پاکستانی فوج کشمیر کے محاذ سے وہاں پہنچ گئی اور شام کو لاہور جم خانہ میں فتح کا جشن منانے والے 17روز تک بی آر بی نہر کا پانی پیتے رہے اور دھول چاٹتے رہے۔ بی آر بی نہر پاکستان کا اسٹالن گراڈ بن گئی جہاں سے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی افواج کی شکست کا آغاز ہوا تھا۔ ایسے ہی بی آر بی سے دشمن کی شکست کا آغاز ہوا۔


پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔ لاہور کے باسی ہاتھوں میں ڈنڈے لئے سرحدوں کی طرف نکل پڑے۔ بڑی مشکل سے ان کو واپس کیا گیا کہ ان کی فوج دشمن کے لئے کافی ہے۔ سیالکوٹ کے محاذ پر دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی۔ جس میں 450انڈین ٹینک کا مقابلہ 150پاکستانی ٹینکوں نے کیا۔ نوجوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھے اور ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے اور چونڈہ کے میدان کو دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔ ہوائی فوج نے دشمن کے ہوائی اڈوں اور بحری فوج نے دوارکا کے قلعہ کو قبرستان میں تبدیل کر دیا۔ نوجوان جوق در جوق فوج میں شامل ہونے لگے۔ بیٹیوں نے اپنا تمام زیور اور جہیز دفاعی فنڈز کو دے دیا اور بچوں نے اپنا جیب خرچ۔ پیر صاحب پگاڑا کے بہادر ''حر'' ہاتھ میں بیلچہ لے کر فوج کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ شاعروں نے ایسی شاعری کی اور گُلو کاروں نے ایسی گُلوکاری کی جو امر ہو گئی اور آج تک ایسی شاعری اور گلوکاری پھر نہ سنی گئی۔ ہماری فوج کے افسران نے سپاہیوں کے ساتھ اگلے مورچوں پر جام شہادت نوش کیا۔ آج بی آر بی نہر کے کنارے کنارے میلوں تک شہیدوں کے مزارات اس کی گواہی دیتے ہیں کہ جنگیں اسلحے کی بنیاد پر نہیں شہادت کے جذبے سے لڑی جاتی ہیں۔ ہماری فتح یہ کیا کم تھی کہ ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیئے تھے اور اس کو منہ کی کھانے پر مجبور کر دیا تھا۔


سپاہی مقبول حسین بھی اسی دور کا سپاہی تھا جو دشمن کے ہتھے چڑھ گیا۔ بزدل دشمن نے اس کی زندگی موت سے بدتر کر دی۔ تمام اخلاقی اور جنگی قوانین کو نظر انداز کر کے اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے اور اپنی جھوٹی تسکین کے لئے اس کی زبان سے پاکستان مخالف نعرہ لگوانے کی ناکام کوشش کی مگر یہ مردآہن اقبال کا سپاہی تھا، زبان کٹوا لی مگر اپنی زبان کو پاکستان کی مخالفت میں استعمال نہ کیا۔


جب ظلم کی انتہا ہو گئی تو بادل نخواستہ اس کو پاکستان بھجوا دیا گیا۔ پاکستان کا ہیرو گمشدہ قوم کا ہیرو اور بہادر سپوت جس کو عیار اور بزدل دشمن نے غیرقانونی طور پر 52سال جنگی قیدی بنائے رکھا، واپس آ گیا۔ فوج کا بندہ تھا فوج نے اس کو ستارۂ جرأت سے نوازا۔ مگر وہ جس دور میں واپس آیا وہ تو کوئی نئی دنیا ہے۔ لہٰذا کسی اخبار کے اولین صفحہ پر اس کی تصویر کو جگہ نہ ملی۔ نہ اس کی زندگی پر کسی نے لکھا نہ شاعری کی نہ کسی گلوکار نے کوئی نغمہ گایا نہ کسی ٹی وی پروگرام کی زینت بنایا گیا۔ نہ کسی ٹاک شوز کا حصہ ہوا نہ رمضان کے کسی پروگرام میں وہ بلایا گیا۔ کیونکہ وہ تو صرف ایک سپاہی ہے اور اپنے وطن کی عزت اور محبت میں مر مٹنے والے ایسے انسان سے کسی ٹی وی کی ریٹنگ کہاں بڑھ سکتی ہے۔ کسی نے اس کی خاموش زبان مگر باتیں کرتی آنکھوں کا تعارف نہیں کروایا۔ کوئی اور ملک ہوتا تو ہفتوں اس کے تذکرے ہوتے۔ اس کی جرأت بہادری کے قصے بچے بچے کی زبان پر آتے، اس پر ڈرامے بنتے، فلم بنتی، دشمن کے ظلم کے چرچے ہوتے۔ عیار دشمن کے بزدلانہ رویے سے دنیا کو رُوشناس کروایا جاتا۔ پوچھا جاتا کس قانون کے تحت جنگی قیدی کی زبان کاٹی گئی، اور 52سال تک قید رکھا گیا۔ ظالموں سے حساب مانگا جاتا۔ مگر افسوس صد افسوس یہ ہو نہ سکا۔ سپاہی مقبول حسین اس گمشدہ دور کا انسان ہے کہ جب ایک بیٹے نے فوج کی نوکری چھو ڑ کر تجارت کی ٹھانی اور اپنے باپ کے منصب سے فائدہ اٹھایا تو قوم یہ برداشت نہ کر پائی اور اٹھ کھڑی ہوئی اور وہ باپ جس نے جب اپنے بارے میں عوام کو گالی دیتے سنا تو اس کی غیرت نے صدارت کی کرسی پر بیٹھنا گوارا نہ کیا اور الگ ہو گیا۔ آج کے دور سے اس گمشدہ دور کا موازنہ ناممکن ہے۔ آج وہ قوم کہیں گم ہو چکی ہے اب تو صرف لسانیت، ناانصافی، بے شرمی، ظلم، رشوت ستانی اور جھوٹ کا راج ہے۔ آج کے دور میں غیرت آنی جانی چیز ہے۔ سپاہی مقبول حسین ایک غلط دور میں آ گیا۔ میں ڈرتا ہوں کہیں اس کی آنکھیں یہ سوال نہ کر لیں کہ کیا اس نے اور ہزاروں شہیدوں نے یہ قربانی آج کے دورکے پاکستان اور ان بکھرے تنکوں کے لئے دی تھی۔


لیکن ذرا توقف کیجئے۔ فضا گھمبیر ہے مگر مکمل تاریک نہیں۔ دیکھئے تو سپاہی مقبول کے قبیلے کے لوگ اب بھی اپنے جنوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وطن کی محبت سے سرشار ہیں۔ سرکٹانے کو کل بھی تیار تھے اور آج بھی جوشِ جنوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔پاکستان کی محبت میں پاک افواج کے افسراور جوان آج بھی شہادت درشہادت کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کشمیر کا محاذ ہو ، بین الاقوامی سرحد ہو یا اندرونی صفوں میں پوشیدہ دہشت گرد۔ پاک افواج کے بہادر افسران اور جوان تمام محاذوں پر چومُکھی لڑائی نہایت کامیابی سے لڑ رہے ہیں۔ یہ سرفروش پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے ضامن ہیں۔ پوری پاکستانی قوم بھی اپنی افواج کے ساتھ ہے۔ ذرا غور سے دیکھئے تو مایوسی، بے جاتنقید، انتشار اور نفاق کے بیج بونا چند لوگوں کا ایجنڈا ہے۔ کچھ کو تو بیرونی عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے اورکچھ بزعمِ خود انصاف اور امن کے علمبردار بن بیٹھے ہیں۔ ان نادان دوستوں کو دنیا میں اسلحہ کے ڈھیر لگانے والے ممالک، دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنے والی افواج، فلسطین اور کشمیر کے بے بس عوام اور دنیا میں کروڑوں انسانوں کا معاشی استحصال نظر نہیں آتا۔ نظر جا کر ٹھہرتی ہے تو صرف اور صرف پاکستانی افواج اور انٹیلی جنس کے اداروں پر کہ اُن پر تنقید صاحبِ علم ہونے کی سند جو ٹھہری۔


سپاہی مقبول کی گمشدہ قوم آج بھی پوری توانائی اور طاقت سے موجود ہے۔ وطن کی محبت سے آج بھی سرشار ہے۔ اُسے اپنی پاک افواج پر آج بھی ناز ہے۔ بس دیکھنے والی آنکھ چاہئے۔ ایک عرفان چاہئے۔ یقین اور ایمان کی دولت چاہئے کہ بقول قائداعظم ''دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو پاکستان کو مٹا سکے۔''

پروفیسر ڈاکٹر معین الدین احمد عرصہ دراز سے تعلیم اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ 7کتابوں کے مصنف اور تقریباً 200تحقیقی پرچے بین الاقوامی اور قومی سائنسی جرنلز میں چھپوا چکے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی میں فارن پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
 
Read 67 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter