پاکستان کا معاشی مستقبل۔۔۔امکانات اور چیلنجز

Published in Hilal Urdu

تحریر: خالد محمود رسول

کچھ سوالات بظاہر جتنے سادہ اور آسان ہوتے ہیں ان کے جواب اتنے ہی پیچیدہ اور مشکل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کا معاشی مستقبل کیا ہے ؟ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ۔ اس موضوع پر سوچتے ہوئے ہمیں یہ مشہور مقولہ بہت یاد آیا۔ کسی رجائیت پسند سے پوچھیں تو وہ اگر مگر کے لوازمات کے ساتھ تان امید پر توڑے گا، ہاں اگر کسی بیزار اور یاسیت پسند سے پوچھ بیٹھیں تو وہ اگر مگر کے تکلف کے بغیر آپ کو بتانے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گا کہ صبح گیا یا شام گیا والا معاملہ ہے۔


ہمیں خواہ مخواہ کی رجائیت سے لگائو ہے نہ نِری مایوسی سے دل بستگی ہے، ہمیں حقیقت کے دامن سے تعلق ہی میں عافیت سمجھ میں آتی ہے۔ زندگی کی دھوپ چھائوں اور دنیا کے بیشتر ممالک کو تین دہائیاں قریب سے دیکھنے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بہت سے معاملات نہ تو سراسر بلیک ہوتے ہیں نہ وائیٹ۔ حقیقت کہیں درمیان میں دھندلے گرے ایریا میں ہوتی ہے۔ پاکستان کا معاشی مستقبل کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب بھی امکانات اور چیلنجز کے گرے ایریا میں ہے۔ قدم درست سمت میں اٹھے تو امکانات پر پڑی دھند چھٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، اگر ڈگمگاتے قدم نہ سنبھلے تو چیلنجز کی دھند مزید گہری ہو سکتی ہے۔


آج کی معیشت کا ایک محتاط جائزہ لیں تو کچھ رجحانات مثبت ہیں اور کچھ منفی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مثبت اشاریوں میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ نو سالوں کے بعد پہلی بار گزشتہ سال شرح نمو پانچ فی صد سالانہ سے زائد رہی۔ رواں مالی سال میں ہدف چھ فی صد سے زائد رکھا گیا ہے لیکن گئے گزرے حالات میں بھی آئی ایم یف کے ماہرین تک اس سال کی شرح نمو کا تخمینہ گزشتہ سال سے زائد یعنی 5.7%تک لگا رہے ہیں۔ افراطِ زر کی شرح گزشتہ سال چار فی صد سے کچھ زائد تھی، اس سال بھی قدرے زیادہ لیکن کنٹرول میں متوقع ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں بھی گزشتہ سال کی نسبت بہتری ہے، جو توقع سے کم ہے لیکن مثبت سمت میں ضرور ہے۔ مالیاتی خسارہ 2013میں جی ڈی پی کا 8.8% تھا جو گزشتہ سال کم ہو کر 4.6%رہا۔
معیشت کا مجموعی حجم تین سو ارب ڈالر کے لگ بھگ پہنچ گیا ہے جو سال 2000میں 180ارب ڈالر تھا۔ قوت خرید کے پیمانے یعنی
Purchasing Power Parity
پر دیکھیں تو معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ فی کس آمدنی گزشتہ سال 1333ڈالر سے بڑھ کر اس سال 1629 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب جو 2013میں گر کر 8.7%ہو گیا تھا سال 2016-17 میں بڑھ کر 10.7% ہو گیا ( یہ الگ تلخ حقیقت ہے کہ یہ شرح خطے میں کم ترین تناسب میں سے ہے )۔
معیشت کے نمایاں منفی اور پریشان کن رجحانات کی فہرست بھی قابلِ غور ہے۔ پاکستان کی برآمدات میں معکوس ترقی ہو رہی ہے۔ سال 2013میں پاکستان کی کل برآمدات چوبیس ارب ڈالر تھیں جو سال 2016-17میں کم ہو کر بیس ارب ڈالر تک رہ گئیں۔ اس دوران میں درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال ریکارڈ درآمدات ہوئیں اور یوں یہ حجم باون ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ برآمدات اور درآمدات کا تباہ کن تفاوت جسے تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے، بڑھ کر بتیس ارب ڈالر ہو گیا یعنی تجارتی خسارہ کل برآمدات سے بھی زیادہ رہا۔ اس خطرناک رجحان نے زرِمبادلہ کے ذخائرپر مستقل دبائو رکھا۔

 

pakkamahashimustakbil.jpgپاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر اپنی بلند ترین سطح یعنی بائیس ارب ڈالر سے کم ہو کر بمشکل انیس ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ ان ذخائر میں ڈیٹ مارکیٹ سے حال میں حاصل کی گئی رقوم بھی شامل ہیں۔ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں بھی کمی کا رجحان ہے۔ یوں مسلسل بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے، معمول کی ادائیگیوں اور سکڑتی ہوئی ترسیلات زر کی وجہ سے زرِ مبادلہ پر دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسی دبائو کی وجہ سے حال ہی میں روپے اور ڈالر کی شرح میں چار فی صد تک کمی ہوئی ہے۔ آنے والے سالوں میں پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا اور درآمدات کی حوصلہ شکنی نہ ہوئی تو زرِمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی کی وجہ سے پاکستان کو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جانے کی مجبوری کا سامنا ہو گا۔


ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب خطرناک حد تک کم ہے۔ ماضی میں کی گئی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ ٹیکس نظام میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آسکی۔ بلیک اکانومی کا حجم بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ کچھ ماہرین بلیک اکانومی کو مجموعی اکانومی کے حجم کا ساٹھ فی صد سے بھی زائد بتاتے ہیں۔ معاشی ناہمواری اور علاقائی تفاوت بھی وقت کے ساتھ بڑھا ہے۔ آبادی کے نئے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ آبادی کا حجم توقع سے کہیں زیادہ نکلا۔ ہر سال چالیس لاکھ سے زائد افراد ملازمت کی حد کو پہنچتے ہیں لیکن روزگار کے امکانات اس رفتار سے نہیں بڑھ رہے۔


ملک میں کاروبار کرنا کس قدر آسان ہے، اس اشاریے کو جانچنے کے لئے ورلڈ بنک ہر سال ممبر ممالک کا ایک سروے کرتا ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان کاروبار کی آسانی کے اعتبار سے 190ممالک میں 144 ویں نمبر پر ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں کاروباری مسابقت کی سکت کیا ہے اور اس پیمانے پر پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟
Global Competitiveness Index 2017-18
کے مطابق پاکستان 137 ممالک میں 115 ویں نمبر پر ہے۔ عالمی ادارے اور ماہرین معیشت اداروں میں اصلاحات پر زور دیتے آئے ہیں لیکن مختلف ادوار کی حکومتوں کا اصلاحات کا ریکارڈ مایوس کن ہی رہا۔ پبلک سیکٹر کارپوریشنز اس کی ایک واضح مثال ہیں جن میں سالہا سال سے سیکڑوں ارب روپے کا خسارہ ہو جاتا ہے لیکن اس خسارے کو روکنے کی سبیل نظر نہیں آتی، حالانکہ اس خسارے کا جی ڈی پی پر سالانہ ڈیڑھ سے دو فی صدصرف ہو جاتا ہے ۔


الغرض معیشت میں کچھ مثبت رجحانات ہیں تو کئی خطرناک منفی رجحانات بھی موجود ہیں۔ معیشت میں بہتری لانے کے لئے مثبت رجحانات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے اور منفی رجحانات کو مثبت سمت میں لوٹانا ضروری ہے۔ جن مثبت رجحانات کو جاری رکھنے اور مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ان میںمعیشت کی سالانہ شرح نمو ہے۔ چین اور بھارت میں سالانہ شرح نمو آنے والے سالوں میںچھ سے سات فی صد کے درمیان متوقع ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کے حالیہ اعداوشمار کے مطابق آسیان5
(ASEAN5)
میں بھی سالانہ شرح نمو چھ کے لگ بھگ متوقع ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان اگر چھ فی صد سے زائد سالانہ شرح نمو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے تو پاکستان کی معیشت علاقے کی دیگر معیشتوں کے ہمقدم رہے گی ورنہ پیچھے رہ جائے گی۔


سالانہ شرح نمو چھ فی صد سے زائد کرنے کے لئے معیشت کے ان تمام عوامل پر توجہ اور ان میں نتیجہ خیز تبدیلی لانے کی ضرورت ہو گی جن کا ذکر اوپر کیاگیا ہے۔ ملکی معیشت میں زراعت کا اہم کردار ہے۔ زراعت میں فصلوں اور لائیو اسٹاک دونوں کے لئے الگ الگ ہنگامی پروگرام ترتیب دینے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جس سے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں دنیا کے عمومی معیار کے مطابق اضافہ حاصل کیا جائے۔ لائیو اسٹاک میں نمایاں مقام ہونے کے باوجود پاکستان کی لائیو اسٹاک برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پیداوار کے طریقوں اور فوڈ سیفٹی کے عالمی معیارات سے ہم بہت پیچھے ہیں۔ دنیا کے ساتھ اس واضح فرق کو پورا کرکے زراعت کی کایا پلٹی جا سکتی ہے۔


پاکستان کی اکانومی میں صنعت کا حصہ ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گیا ہے۔ صنعت کا بنیادی ڈھانچہ عمومی اعتبار سے
low technology
پر استوار ہے۔ اکانومی آف سکیل کے اعتبار سے دیکھیں تو معیشت کے زیادہ تر شعبے دنیا کی رینکنگ میں کہیں آخری نمبروں پر پائے جاتے ہیں۔ عالمی تجارتی سمجھوتوں اور ورلڈ ٹرید آرگنائزیشن کے قیام کے بعد ہمارے ہاں درآمدی ٹیرف غیر ضروری عجلت میں بہت کم کئے گئے جس کی وجہ سے صنعت کے زیادہ تر شعبے اپنے آپ کو ان تبدیلیوں کے لئے بروقت تیار نہ کر سکے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ آسان امپورٹ اور پر کشش کم درآمدی ٹیرف کی وجہ سے گزشتہ بیس بائیس سالوں کے دوران مقامی مارکیٹوں میں غیر ملکی سامان کی بہتات ہو گئی ۔ دوسری طرف انڈسٹری پر دستاویزی انتظام میں آنے اور مختلف النوع ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ درآمدات کی یلغار نے نہایت منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ دو سال قبل لاہور کی ایک یونیورسٹی میں ایک کانفرنس میں اعدادوشمار کی مدد سے ایک معاشی ماہر نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان میں اب معکوس صنعتی ترقی ہے یعنی
De-industrialization
۔پاکستان میں صنعتی اداروں کی تعداد میں سمال اور میڈیم انڈسٹری کا حصہ سمیڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق 97% سے بھی زائد ہے لیکن اس کے باوجود قومی پیداوار میں سمال اور میڈیم انڈسٹری کا حصہ زیادہ نمایاں نہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان میں انڈسٹری کے ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جس سے بڑی انڈسٹری کے ساتھ ساتھ درمیانی اور چھوٹی انڈسٹری میں بہتر اور برتر ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جائے۔ پیداوار کے اعتبار سے
value added
مصنوعات تیار کی جائیں۔ انڈسٹری کے لئے عالمی معیار کے ہنر مند افراد کی تعلیم اور تربیت کے لئے تعلیمی نظام کو ڈگری بانٹنے والے زیاں کار رجحان سے بدل کر ٹیکنالوجی اور سائنسی میدان کا شہسوار بنائے بغیر چارہ نہیں۔ زراعت اور صنعت کو جدید اور بہتر ٹیکنالوجی پر ترتیب دینے سے لامحالہ سروسز سیکٹر خود بخود نئے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ ہو سکے گا۔
فری ٹریڈ ایگریمنٹ
Free Trade Agreement
یعنی نئے عالمی تجارتی نظام کا خاصہ ہیں۔ سیکڑوں ایف ٹی ایز ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں رجسٹرڈ ہیں لیکن ان میں سے چند درجن نہایت کامیاب ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان کا آزادانہ تجارت کے معاہدوں کا تجربہ قطعاً سود مند نہیں رہا۔ ا س میں ناتجربہ کاری کا بھی دخل ہے اور کچھ نامناسب ترجیحات کا بھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان معاہدوں کی بدولت پاکستان کی مارکیٹوں میں غیر ملکی سامان کی بھرمار ہے جبکہ ملکی انڈسٹری گوناگوں مسائل کی وجہ سے نمو پانے سے قا صر دکھائی دے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادانہ تجارت کے معاہدوں کا از سرِ نو جا ئزہ لیا جائے اور ان میں موجود خامیوں کو درست کرکے انہیں فریقین کے لئے برابری کے امکانات کے قابل بنا یا جائے۔
پاکستان کی معیشت میں موجود مثبت رجحانات کی بناء پر دنیا کی معروف مالیاتی فرم
Pricewaterhouse Coopers
نے 2017 میں اپنی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کو 2050 میں دنیا کی 16 ویں بڑی معیشت بن سکنے کی پیشگوئی کی۔ اس طرح بلوم برگ نے بھی پاکستان کی معیشت میںحوصلہ افزا رائے کا اظہار کیا ۔ سی پیک کی ذریعے ساٹھ ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری نے پاکستان کی معیشت کے وسط مدتی اور طویل مدتی امکانات کو بہت سہارا دیا ہے۔بجلی، انفراسٹرکچر منصوبوں، پورٹس اور انڈسٹریل پارکس کے ذریعے پاکستانی معیشت پر گہرے اور سود مند اثرات ہونے کی توقع ہے۔ اس جائزے کا حاصل یہ کہ ویلیو ایڈڈ برآمدات میں اضافے، درآمدات کی کچھ حد تک حوصلہ شکنی، ٹیکس جی ڈی پی تناسب بڑھانے، معیشت میں دستاویزی انتظام کے فروغ ، کرپشن کی حوصلہ شکنی سمیت ایسے اقدامات سے پاکستان کی معیشت دنیا میں ایک مضبوط اور فروغ پذیر معیشت بن کر ابھرنے کے تمام امکانات رکھتی ہے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی 

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 106 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter