بیت المقدس : سلامتی کونسل کا فیصلہ؟

تحریر: ڈاکٹرشائستہ تبسّم

امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو، جہاں بیت المقدس واقع ہے، اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا اور امریکی سفارت خانہ کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کا بھی اعلان کردیا۔ اس اعلان نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اسرائیل کے سوا شائد ہی کوئی ملک ہو جس نے امریکی صدر اور انتظامیہ کے اس فیصلے کی مخالفت یا مذمت نہ کی ہو۔ یہ فیصلہ نہ ہی کوئی انجانے میں کی گئی غلطی ہے اور نہ ہی جلد بازی کا کوئی نتیجہ، بلکہ انتہائی سوچا سمجھا اور پوری تیاری کے بعد کیا جانے والا فیصلہ ہے۔ موجودہ امریکی صدر نے اپنی الیکشن مہم کے دوران اس طرف واضح اشارہ کیا تھا لیکن اس وقت انتخابی پنڈتوں نے اس مسئلہ کو زیادہ اہمیت نہ دی تھی اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کر دکھائے گا جو اس کے پیش رو نہ کرسکے اور وہ حقیقت میں کر گزرا۔
بیت المقدس اس وقت دنیا کی سیاست کا اہم علاقہ اور موضوع ہے۔ اور اگر یہ بھی کہا جائے کہ افرادکی سب سے بڑی تعداد کا مذہبی مرکز ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اسلام، یہودیت اور عیسائی مذاہب کے افراد اس علاقے کو مقدس مانتے ہیں۔ مسلمان اس کو قبلہ اول، عیسائی اس جگہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور باقی زندگی اسی علاقے میں بسر کرنے کی وجہ سے اور یہودی اپنے پیغمبران اور تبرکات کی وابستگی کی وجہ سے بیت المقدس کو مقدس ترین مقام گردانتے ہیں۔ لہٰذا عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی رسومات بھی اسی شہر سے وابستہ ہیں۔

baitulmaqdas.jpg
1948 میں اسرائیل کا قیام ایک غیرقانونی طریقے سے عمل میں لایاگیا کیونکہ ایک باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے تحت فلسطینی باشندوں کوان کے وطن سے بے دخل کرکے یہاں دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر بسایاگیا۔ اسرائیل کو مقدس سرزمین پر بحیثیت ریاست قائم کرنے والا برطانیہ بذریعہ
Balfour Declaration
اور قیام کے صرف گیارہ منٹ بعد تسلیم کرنے والا امریکہ تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ تقریباً پوری مغربی دُنیانے اسرائیل کے قیام کی حمایت کی تھی ۔ اسرائیل بحیثیت مملکت تسلیم کرلیاگیا لیکن مظلوم فلسطینیوں نے جدوجہد جاری رکھی اور اسرائیل کے قیام سے اب تک چار جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر جنگ کے بعد اسرائیل کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے اور فلسطین سکڑتا چلا گیا۔1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے بیت المقدس پر مکمل قبضہ کرلیاتھا، حالانکہ اس سے قبل مشرقی حصہ اُردن کے پاس تھا۔ یہی نہیں شام کا گولان کی پہاڑیوں سے معرکہ سینائی اور اردن کا مغرب اُردن کے قبضے سے نکل گیا۔ یہ علاقے بعد میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ 1978 اور دوسرے معاہدوں سے ان عرب ممالک کو واپس مل گئے لیکن اسرائیل نے بیت المقدس اپنے قبضے میں رکھا۔حالانکہ متعدد ممالک نے کبھی بھی اسرائیل کے قبضے کو قانونی طور پر تسلیم نہ کیاتھا۔
اقوامِ عالم نے اقوامِ متحدہ میں کئی قرار دادیں پاس کرائیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہے۔ مثلاً قرارداد 21)181نومبر(1947، جنرل اسمبلی11)194دسمبر(1948 اور9)303دسمبر(1949،سلامتی کونسل 21)252مئی(1968 اور جنرل اسمبلی28) 32/5 اکتوبر (1977 اس کے ساتھ سلامتی کونسل قرارداد 20)453جولائی (1979 اور465 (یکم مارچ(1980 اور 30)476جون(1980 بہت اہم ہیں جن کے مطابق اسرائیِل ایک قابض ملک ہے جس نے ارضِ فلسطین پر فوجی قبضہ کیا ہے اور بین الاقوامی قانون کا ایک مستند اصول یہ بھی کہتا ہے کہ قابض طاقت کسی بھی صورت میں معزول حکومت کا نظام خود مختاری نہیں بدل سکتی۔ اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قرار داد478 اہم ہے جس میں یہ واضح کہا گیا تھا کہ اسرائیلی اقدامات مشرقِ وسطیٰ کے امن میں ایک شدید رکاوٹ ہیں اور ممبر ممالک اپنے سفارتی مشن کو یروشلم سے واپس بلا لیں۔ یہاں امریکہ اسرائیل کے تعلقات کی ایک اور حقیقت یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگی کہ 1972 سے2011 کے درمیان امریکہنے39مرتبہ اسرائیل کو بچانے کے لئے سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کیا ہے۔


جہاں تک یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا سوال ہے امریکن انتظامیہ نے1995 میں ایک ایکٹ (قانون) منظور کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اور ساتھ ہی امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی کی منظوری بھی دی تھی لیکن مختلف امریکی صدور اس فیصلے پرعملدرآمد نہ کرسکے۔ بلکہ امریکہ، اسرائیل فلسطین امن مذاکراتی عمل میں پیش پیش رہا اور کچھ مراحل پر اس کی طرف سے ضمانت داراور غیر جانبدار فریق کا تاثر بھی دیا گیا۔ اس سارے عمل سے کسی صورت یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ تمام امریکی صدور اور تمام امن مذاکرات صرف ایک ظاہری عمل تھا جن کی حقیقت میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ دوئم امن مذاکرات میں مجموعی طور پر تقریباً تمام معاملات میں کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو رہی تھی سوائے بیت المقدس کے مستقبل پرجس کا معاہدہ نہیں ہو پا رہا تھا کیونکہ فلسطین اور اسرائیل دونوں ہی بیت المقدس کو اپنے حصے میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ حالانکہ مختلف منصوبوں میں اس بندش کو حل کرنے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں مثلاً فہد منصوبہ(شاہ فہد سے منسوب) قابلِ ذکر ہے۔ جس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت یروشلم ہو اور 1967 میں قبضہ ہونے والے علاقوں کی بازیابی کے ساتھ مشروط کیاگیا تھا۔ غرض تمام تجاویز اور امن منصوبوں کی تکمیل اور کامیابی کا دار و مدار یروشلم اور بیت المقدس سے منسلک تھا۔ ایسے میں امریکی صدر کے اعلان نے نہ صرف پوری دنیا میں تہلکہ مچادیا بلکہ مسلم امہ کو اذیت میںبھی مبتلا کردیا ہے۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کے کیا مقاصد ہیں؟ کیا واقعی یہ فیصلہ جلدبازی میں کیاگیا یا امریکی انتظامیہ بالکل امید نہیں کررہی تھی کہ اس کا کیا ردِ عمل آئے گا؟
امریکی صدرکا یہ اعلان انتہائی حساب کتاب کے بعد اور ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اس سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہوں۔ امریکہ اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے۔ یہ اس کاسپرپاور و جودہی ہے جس کے بَل پر صرف امریکہ ہی نے جاپان پردوبار ایٹم بم گرایا۔ مختلف ممالک کے پاس ایٹم بم موجود ہیں لیکن استعمال صرف امریکہ نے کیا۔ یہ طاقت کا غرور ہی ہے کہ ایک ایسے مسئلے پر جو پہلے 70 سالوں سے بندشوں کا شکار تھا ، امریکہ نے اعلان کردیا اور اپنی واضح پالیسی بنا دی۔ امریکی مندوب نے سلامتی کونسل میں14 مخالف ووٹ ڈالے جانے پر جو بیان دیا وہ امریکی غرور کی واضح دلیل ہے۔ انہوںنے کہا یہ امریکہ کی بے عزتی ہے جس کو بھولا نہیں جائے گا۔ شاید اسی لئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ ایساکام ہے جو پہلے کوئی نہ کرسکا۔


اس فیصلے کے اندرونی اور سیاسی عوامل بھی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے خاندان میں یہودیوں کی بھرمار ہے۔ خاص کر ان کا داماد ایک متعصب یہودی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہودیوں نے امریکہ کے معاشی، دفاعی اور سیاسی معاملات کو بہت حد تک قابو کیا ہوا ہے۔ یہودی سرمایہ کار اس وقت امیر ترین اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک ہیں۔ دفاعی معاملات بھی اس سے مختلف نہیں ہیں اور یہی سرمایہ کاری سیاسی دھارے کا تعین بھی کرتی ہے۔ امریکہ نے 1984 سے آج تک اسرائیل کو 127.4 بلین ڈالر کی فوجی امداد دی ہے۔ امریکہ ہی کی مدد سے اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کی ایک فوجی قوت بن گیا ہے۔ یہودی لابی امریکی سیاست میں ایک انتہائی اہم کردار رکھتی ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی بنیاد، قدامت پسندلوگ تھے خاص کرانجیل مسیحی جو کہ مذہبی اور جذباتی طور پر اسرائیل سے وابستہ ہیں۔ یہاں یہ خاص امر ہے کہ ایسے لوگ سیاسی پارٹی سے بالاتر مذہبی طور پر سوچتے ہیں۔ یعنی اگر دیکھا جائے تو اس وقت امریکیوں کی بڑی تعداد ٹرمپ کے فیصلے پر خوش ہے۔


ناخوش تو صرف مسلم ممالک کے افراد ہیں۔ تقریباً تمام مسلم ممالک میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی پالیسیوں کی مذمت کی۔ ترکی نے بھی
OIC
کا ہنگامی اجلاس استنبول میں طلب کیا، جس میں مذمتی قرار دادیں منظور کی گئیں۔
وقت کے لحاظ سے یہ اعلان اس وقت آیا ہے جب تقریباً تمام مشرقِ وسطیٰ شدید بحران میں ہے۔کوئی بھی عرب ملک عسکری طور پر اور اندرونی خلفشار کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف لڑنے یا کسی قسم کا اتحاد بنانے کے قابل نہیں ہے۔ عراق پر امریکہ قابض ہے۔ شام میں خانہ جنگی جاری ہے۔ مصرمیں امریکہ نوازجنرل سیسی کی حکومت ہے۔ لیبیا کی حالت بھی شام سے مختلف نہیں ہے۔ لبنان میںموجودہ حزب اﷲ نے اسرائیل کو مزاحمت دے رکھی ہے لیکن ساتھ ہی حزب اﷲ شام میں ایک شیعہ طاقت کے طور پر حکومت، مخالف گروہوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے جبکہ حماس ایک منظم گروپ ہونے کے باوجود مصر کی سخت پالیسیوں اور سعودی عرب کی طرف سے امداد کی بندش کی وجہ سے شاید اسرائیل کے لئے اتنی مشکلات نہ پیدا کرسکے۔ اس سارے پس منظر کے ساتھ اگر دیکھا جائے تو امریکی فیصلہ اسرائیل کے حق میں جاتا ہے۔ اسرائیل کے لئے اتنا اچھا موقع نہیں ہو سکتا جب اس کے تمام پڑوسی (عرب) ممالک اندرونی مسائل میں گھرے ہونے کی وجہ سے اجتماعی لائحہ عمل نہ بنا سکیں۔


امریکہ کے اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات پر پڑیں گے بلکہ مسلم دنیا پر بھی نظر آئیں گے۔ ایک لمبے عرصے کے بعد سلامتی کونسل میں امریکہ تنہا نظر آیا جب انتہائی قریبی اتحادی برطانیہ، فرانس اور جاپان نے امریکہ کے خلاف ووٹ دیا جس کوامریکہ نے اپنی بے عزتی جانا۔ یہ معاملات اتنی آسانی سے حل نہیں ہوں گے۔ ممکن ہے اس کی دونوں طرف سے کچھ قیمت ادا کرنی پڑے۔ ایک پیغام تو واضح ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ اس حمایت کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
دنیا میں جاری آزادی کی تحریکیں اور خاص کر فلسطین کی آزادی کی تحریک کو یقینا دوام ملے گا لیکن اسرائیل بھی مزید سختی سے انہیں کچلنے کی کوشش کرے گا اور جب بھی اسرائیل بیت المقدس کے مسلم کنٹرولڈ حصے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے گا مزید خون بہے گا۔ جس کے لئے فلسطین کے لوگ یقینا تیار ہوں گے لیکن دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک کو بھی اس مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالنا چاہئے۔ شاید اسی خون خرابے اور جدو جہد سے فلسطین میںآزاد ریاست کی کرن پھوٹ نکلے۔


سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ جو کہ اس وقت ایک بڑی طاقت ہے اور ایک جمہوری ملک بلکہ جمہوریت کا چیمپیئن ہے، وہ اگر مظلوم اقوام، خاص کر فلسطینی عوام اس خاص کیس میں اور کشمیری بھی، ان پہ ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھائے گا بلکہ آواز دبانے والا ہوگا تو اس کے اتحادی یا غیر اتحادی جہاں پر ایسی تحریکیں اٹھ رہی ہیں، وہ بھی امریکہ کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آواز ہے یہ ایک دنیا کی اکثریتی اقوام کی آواز ہے کہ امریکہ کا فیصلہ غلط ہے۔ اسے نظر انداز کرنا کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں۔ چاہے وہ امریکہ جیسی سُپر پاور ہی کیوںنہ ہو۔ اس امریکی فیصلے کے اثرات اندرونی طور پر زیادہ مہلک ہو سکتے ہیں۔ امریکہ تنہائی کی طرف جارہا ہے۔ جیسا کہ 18 دسمبر کی سلامتی کونسل کی قرار داد سے واضح ہے کہ14 مخالف ووٹ امریکہ اپنی خود مختاری پر ضرب گردان رہا ہے۔بعدازاں جنرل اسمبلی میں قرارداد پر ووٹنگ نے امریکہ کے اس اقدام کی بین الاقوامی برادری کی جانب سے مخالفت پر مہر ثبت کردی ہے۔ چہ جائیکہ امریکہ اپنے اقدام پر نظر ثانی کرتا، وہ دھمکیوں پر اُترآیا۔ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے تقریباً دنیا کے تمام ممالک کو دھمکی دینے کا اچھوتا کام شاید امریکہ یا صدر ٹرمپ ہی کرسکتے ہیں۔ اس طرز کی جارحانہ پالیسز اور سیاست دنیا کی تاریخ میں نئی نہیں ہے، مگر ہر بار ایسے اقدامات دُنیا کی تباہی کا باعث ہی بنے ہیں۔ لہٰذا بیت المقدس صرف مذہب اسلام کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی امن سے بھی جُڑا ہوا ہے۔ دنیا کے تماممالک کو امریکہ کے اس طرزِ عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا اور مناسب اقدام اٹھانے ہوں گے تاکہ دنیا کو اکیسویں صدی میں کسی بڑی جنگ کی تباہی سے بچایا جاسکے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئر پرسن ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 452 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter