ہم سب کا پاکستان اداریہ

Published in Hilal Urdu

وطن سے محبت کے انداز منفردہوا کرتے ہیں۔ مختلف طبقات اور عوام اپنی دھرتی کے ساتھ اپنے اپنے انداز سے جُڑے ہوئے ہوتے ہیں اور ملکی ترقی و وقار کے لئے سرگرم عمل رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ افواجِ پاکستان ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتی ہیں تو عوام اُن کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے ان کے حوصلے بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح جب عوام اور ملک کو اندرونی محاذ پر افواج کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی کے منصوبوں اور امنِ عامہ کی بحالی کی ضرورتوں کو بھی کما حقہ' پورا کرتی ہیں۔ یہی اتحاد اور مضبوطی ہماری قوم اور دھرتی کا خاصہ ہے اور آج ہم وہ مضبوط قوم ہیں جو دہشت گردی کے عفریت سمیت دیگر چیلنجز پر کافی حد تک قابو پا چکی ہے اور سراٹھا کر 2018 کی صبحِ نو کا استقبال کر رہی ہے۔ بلاشبہ اس کے لئے پوری قوم اور اس کی افواج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور آج یہ قوم دیکھ رہی ہے کہ ملک میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے اور الحمدﷲ آج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ گزشتہ دنوں فاٹا سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کے جرگوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے ان کے عزم کو سراہا جس کا اظہار انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کا مربوط ساتھ دے کر کیا۔ انہوں نے فاٹا کے بہادر قبائل کی پائیدار امن اور استحکام کے لئے پیش کی گئی قربانیوں کو سراہا۔ اسی طرح چند روز قبل کوئٹہ میں منعقدہ ایک سیمینار کے موقع پر انہوں نے کہا کہ مستقبل کا بلوچستان قومی ترقی کا انجن ثابت ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں آرمی چیف نے خوشحالی بلوچستان کے پروگرام کا خاکہ پیش کیا جس کا مقصد بلوچستان میں سماجی و معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔


بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947کو دستور ساز اسمبلی میں اپنے خطاب میں واضح انداز میں کہا تھا۔ ''پاکستان کی عظیم ریاست کو اگر ہم آسودہ، خوشحال اور ثروت مند بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام کی فلاح پر تمام تر توجہ مرکوز کرنی پڑے گی اور ان میں بھی عام لوگوں، بالخصوص نادار آبادی، کی فلاح مقدم ہے۔ اگر آپ نے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے اور ناگواریوں کو دفن کر کے باہم تعاون سے کام کیا تو آپ کی کامیابی یقینی ہے۔ اگر آپ نے ماضی کی روش بدل دی اور آپس میں مل جل کر اس جذبہ کے ساتھ کام کیا کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ کسی بھی فرقہ سے ہو، خواہ ماضی میں آپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کچھ بھی رہی ہو، اس کا رنگ، ذات یا مسلک خواہ کچھ بھی ہو، وہ شخص اول و آخر اس ریاست کا شہری ہے اور اس کے حقوق، مراعات اور فرائض برابر ہیں، تو یاد رکھئے کہ آپ کی ترقی کی کوئی حدوانتہاء نہ ہو گی۔''


یقینا کوئی بھی مملکت اُس وقت تک عظیم مملکت نہیں بن سکتی جب تک اس کا ایک ایک فرد اور ہر ہر ادارہ اپنا بھرپور اور مؤثر کردار ادا نہیں کرتا۔ تمام طبقات کو اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے پاکستان کی ترقی میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اُسی تندہی سے حصہ لیتے رہنا ہے کہ یہ پاکستان ہمارا پاکستان ہے اور اسے خوشحال اور مضبوط بنانے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔

Read 100 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter