وہ جو خاک میں سو گئے

Published in Hilal Urdu

تحریر: ازکیٰ کاظمی

''ماں میں نے وہاں پرخون کا انگوٹھا لگایا ہوا ہے'' میں جب بھی اسے مزیدگھر رُکنے کو کہتی وہ ہمیشہ یہی کہا کرتا، کیپٹن جنید شہیدکی والدہ کی آنکھوں میں آنسو جبکہ چہرے پر ضبط کی طمانیت تھی ۔ وہ بات کرتے کرتے باربار اپنی آنکھوں کو جھپکتیں کہ کہیں ضبط نہ ٹوٹ جائے۔ تبھی مجھے یہ محسوس ہوا کہ وطن سے محبت کا جذبہ کسی طبیب یا مفکر کے مشوروں یا مصلحتوں سے نہیں بلکہ مائوں کے شِیر میںگھل کر سینوں میں اترتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو باپ اپنے بچوں کو کہانیوں میں اور ماں لوریوں میں سناتی ہے۔ کیپٹن جنید( شہید) جو ماں باپ کی آنکھوں کا تارا اور ان کی امیدوں کا واحد سہارا تھا۔ ایک ایسا جوان جو ملک کی سالمیت کے لئے اپنے والدین کی محبت کو بھول کر دل و جان سے اپنی جان وطن کی محبت میں لٹا گیا اور گھر لوٹا تواس شان سے اس سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہواکہ جس پرچم میں لپٹنا صرف قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔

wojokhakmainso.jpg
جب اُس کالونی ،جہاں کیپٹن جنید( شہید )کے والدین رہائش پذیر ہیں، میں داخل ہوئے تو جلد ہی احساس ہوا کہ یہاںتو ان لوگوں کو سب جانتے ہیں حالانکہ اُنہیں اس کالونی میں آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ ہم نے ایک راہگیر سے ان کے گھرکا راستہ پوچھا تو وہ ہمارے ساتھ ہی ان کے گھر تک چلا آیا۔ کیپٹن جنید شہید کے گھر میں اب ان کے والد، والدہ ، ایک بہن اور ایک چھوٹا بھائی جو ذہنی طور پر معذور ہے، رہتے ہیں۔ سب نے ہمیں نہایت عزت اور احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ کسی شہید کے گھر جانے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کس طرح سے بات شروع کروں۔ جنید کی والدہ نے خود ہی جنید کے بارے میں بتانا شروع کیا کہ کیپٹن جنید 21ستمبر 1993کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم فضائیہ کے سکول سے حاصل کی۔ بہتر کارکردگی کی وجہ سے ہمیشہ تمام اساتذہ کا منظور نظررہا۔ ہر طرح کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا چاہے وہ تلاوتِ قرآن ہو یا تقریری مقابلہ۔ تعلیمی قابلیت کو برقرار رکھتے ہوئے غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہا۔ بچپن سے ہی ہاکی، فٹ بال اور سنوکر کا بے حد شوقین تھا۔ جنید کوماں کے ہاتھ کی بریانی بے حد پسند تھی،جب بھی چھٹی پر آتا تو کھانے میں یہی ایک فرمائش کرتا اور بدلے میں ماں جب گھر پر مزید رُکنے کی خواہش کا اظہار کرتی تو یہ کہہ دیتا کہ''ماں میں نے وہاں پر خون کا انگوٹھا لگایا ہوا ہے۔''


باتوں کے دوران جنید شہید کی بہن اریج حفیظ نے بتایا کہ ان دونوں میں بہت دوستی تھی۔ وہ بچپن سے اکٹھے پڑھتے اور کھیلتے تھے۔ اریج جو کہ

F.Sc
کر چکی ہے اور میڈیکل میں ایڈمشن کی تیاری کررہی ہے، بھائی کے بے حد قریب تھی۔ جنید کا بھی ہربھائی کی طرح یہی خواب تھا کہ وہ اپنی بہن کو ڈاکٹر بنائے، اس سلسلے میں اُس نے اپنی بہن کا ساتھ دیا۔ اریج نے جنید کے بارے میں مزید بتایا کہ بھائی بچپن سے ہی ہنس مکھ اور شرارتی تھے۔ میرے ساتھ ہاکی کھیلتے تھے۔ آرمی جوائن کرنے کا شوق جنید کو اپنے تعلیمی دور سے ہی تھا لہٰذا بہتر کارکردگی اور لائق سٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے اپنے وائس wojokhakmainso1.jpgپرنسپل کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے جنید نے پاک فوج میںجانے کا ارادہ کیا اور پہلی ہی دفعہ آئی ایس ایس بی کا امتحان پاس کر لیا اور آغاز کیا اس سفر کا جو ہر انسان کو نصیب نہیں ہوتا۔
جنید نے پی ایم اے کاکول میں
TOP-10
میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھا اور کراس بیلٹ حاصل کی۔ پہلے پہل جنید کی والدہ جنید کے فوج میں جانے کے فیصلے پر متذبذب تھیں لیکن جب بیٹے جنید جیسے ہوں تو مائیں خود ہی فخر کرنے لگتی ہیں۔ پاس آئوٹ ہونے کے بعد جنید شہید کی پہلی پوسٹنگ 20 پنجاب رجمنٹ میں ہوئی اور وہ بہاولپور چلے گئے۔ جہاں انہوں نے کھیلوں کے مقابلوں میں اپنی یونٹ کے لئے پہلی ٹرافی جیتی۔ فوج میں بھرتی ہونے کے ساتھ ہی ہر ماں باپ کی طرح جنید کے والدین نے بھی اس کے سرپر شادی کا سہرا سجانے کا خواب دیکھا لیکن قدرت کوکچھ اور ہی منظور تھا۔ کیونکہ جنید کو کمانڈوبننے اور ایس ایس جی میں جانے کا بے حد شوق تھا چنانچہ دوسری پوسٹنگ کشمیر میں جب آئی تو جنید نے یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ ایس ایس جی میں جانے کے لئے
Selection Test
میں شامل1800افسروں اور جوانوں میں سے پہلے چار میں اس کا نام آیا۔ ایس ایس جی جوائن کرنے کے بعد جنید نے آپریشن ردالفساد اور ضربِ عضب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
پاک آرمی کے کامیاب آپریشنز کے بعد باجوڑ ایجنسی سمیت فاٹا کے باقی علاقوں سے بھی شرپسندوں اور دہشت گردوں کو بھاگتے ہی بنی۔ امریکی اتحاد اور افغان افواج، پاک افغان بین الاقوامی بارڈر کی دوسری جانب اِن دہشت گردوں کو بوجوہ روکنے اور ختم کرنے میں ناکام رہیں اور ان دہشت گردوں نے افغانستان کی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے بنا لئے جہاں سے وہ وقتاً فوقتاً پاکستانی علاقوں پر حملہ آور ہوتے تھے۔ ان حالات میں کیپٹن جنید کی کمپنی کو افغان سرحد سے ملحقہ چند پہاڑی چوٹیوں کوکلیئر کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔


اپنے کمانڈنگ آفیسر کی جانب سے یہ ٹاسک ملنے کے بعد کیپٹن جنید نے اپنی کمپنی کے جونیئر کمیشنڈ آفیسرز اور نان کمیشنڈ آفسیرز کو اکٹھا کیا اور ایک منجھے ہوئے جنگجو لیڈر کی طرح بہت باریک بینی اور ٹھنڈے دماغ سے حملے کی پلاننگ کی۔ تمام جزئیات سے فارغ ہونے کے بعد یہ نوجوان آفیسر جب اپنے جوانوں سے خطاب کے لئے کھڑا ہوا تو اس کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ اس کا لہجہ فولادی تھا اور آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ وہ اپنے جوانوں کو زندگی اور موت کے معرکے کے لئے تیار کر رہا تھا۔ مشن پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنا تھا اور کیپٹن جنید کے لئے یہ ایک مقدس فریضہ تھا۔ ہر فوجی کے لئے پاکستان کی عزت و ناموس اور حفاظت سے بڑھ کر کوئی فریضہ نہیں ہوتا سو جنید اور اس کے ساتھیوں نے بھی جان پر کھیل کر دشمن کو شکست دینے کی ٹھانی۔


کیپٹن جنید اور اس کے ساتھیوں نے مختلف ٹولیوں میں پہاڑی کی چوٹی کی جانب اپنا ایڈوانس شروع کیا۔ افغان علاقے سے آئے ہوئے شرپسند پہاڑ کی چوٹی پر موجود تھے۔ جب پاک فوج کے جوان فائر کی زد میں آ گئے تو دہشت گردوں نے پوری شدت سے فائر کھول دیا۔ جنید نے فوری طور پر اپنے ساتھیوں کو ڈیپلائے کیا۔ صورت حال کا جائزہ لیا اور پھر فائر اور موو کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کا فائر شدید اور مؤثر تھا۔ بے شک یہ پاک فوج کے جوانوں کا یہی حوصلہ ہے کہ وہ گولیوں کی بارش میں بھی آگے بڑھتے ہیں۔ اسی دوران کیپٹن جنید نے اپنی سپاہ کا مورال بلند کرنے کے لئے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ آج اس کی آواز میں ایک نئی طرح کا جوش و ولولہ تھا۔ جب کیپٹن جنید اور ان کے ساتھی دشمن سے چند گز کے فاصلے پر رہ گئے تو اچانک ایک گولی ہوا میں تیرتی ہوئی آئی اور جنید کے جسم کے آر پار ہو گئی۔ وہ شدید زخمی ہو گیا مگر حوصلہ نہیں ہارا۔ جوانوں کی ہمت اپنے لیڈر کے زخمی ہونے پر کم نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک نئے جوش سے آگے بڑھتے گئے اور کئی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ بہت جلد پہاڑ کی چوٹی پاک فوج کے قبضے میں تھی۔ دشمن کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا۔ کیپٹن جنید کا مشن مکمل ہو چکا تھا۔ اب اس غازی کے جانے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔ دشمن کے ساتھ دوبدو مقابلے میںوہ زخمی ہو کر شہادت کے منصب پر فائز ہو گیا جو بچپن سے اس کی خواہش تھی۔ شہادت افضل لوگوں کا مقدر ہوتی ہے۔ شہادت کی موت جنید کا مقدر تھی۔ موت نے اسے چن لیا تھا۔ سو جنید نے اپنی جان، جانِ آفریں کو سپرد کی مگر اس تفاخر کے ساتھ کہ وہ اپنا مشن مکمل کر چکا تھا۔ پاکستان کا بیٹا وطن کی ناموس پر قربان ہو گیا اور آئندہ آنے والوں کے لئے مثال چھوڑ گیا۔ بہن کا پیار، ماں کی وفا اور والد کی شفقت کچھ بھی جنید کی اپنے پرچم سے محبت کے آڑے نہ آسکی۔ والدین کا اکلوتا سہارا جب سبز پرچم میں لپٹا گھر آیا تو گھر والوں کی آنکھوں میں آنسوئوں کے ساتھ ماتھے پر ایک غرور بھی تھا جو اس احساس کی علامت ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے اس فرض سے آشنا تھے اور اس کے ہر قدم پر اس کے ساتھ تھے۔
جس ارض پاک پر مائیں ایسے جوان پیدا کرتی ہیں اس کا مقدر تابندہ ہی ہوتاہے۔
ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام
روح ہے جس کی دم پرواز سر تاپانظر

 
Read 142 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter