خاندان ِشہداء کا عظیم سپوت

Published in Hilal Urdu

تحریر: انور شمیم

حوالدار شیر دراز خان شہید کے حوالے سے ان کے بھائی انور شمیم کی خصوصی تحریر


مملکتِ خداداد پاکستان کا قیام ہمارے آباء واجداد کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ اسی تسلسل میں استحکام وطن کے لئے ہمارے جانباز ہمیشہ اپنا آج قوم کے کل کے لئے قربان کرتے چلے آئے ہیں۔ دشمن چاہے کھل کر سامنے آئے یا دہشت گردی کے پردے میں چھپ کر وار کرے، افواج پاکستان کے جری جوانوں نے ہر محاذ پر سیسہ پلائی دیوار بن کر اس کے مذموم عزائم کو ہمیشہ ناکام بنایا ہے۔ وطن عزیز کی سلامتی کے لئے قوم کے ان بہادر سپوتوں نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کیں اور اپنے جیتے جی وطن کی حرمت پر آنچ تک نہ آنے دی۔ آج کل اسی جذبے کے حامل، شوقِ شہادت سے سرشار ہمارے بہادر جوان قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے میں مصروف ہیں۔
قوم کے اِن نڈر سپوتوں میں شامل ایک عظیم نام حوالدار شیر دراز خان شہید کا بھی ہے جنہوں نے وادٔ شوال کے مشکل ترین محاذ پر یکم دسمبر 2017کو جام شہادت نوش کر کے اپنی خاندانی روایت کی پاسداری کی۔ حوالدار شیردراز خان (شہید) کا خاندان شہادت کی تابندہ روایت کا امین ہے۔ اس سے قبل ان کے دو بھائی اور دو بھانجے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان کے بھائی سپاہی محمد خورشید خان طوفان نومبر 1994 میں 2 ونگ مہمند رائفلز کی جانب سے سوات میں شدت پسندوں کے خلاف مہم میں حصہ لیتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ ان کے دوسرے بھائی نائب صوبیدار عمردراز خان شہید کا تعلق مہمند رائفلز کے 3 ونگ سے تھا۔ وہ اکتوبر 2012 میں محمد خوزئی مومن پوسٹ پر دہشت گردوں کے خلاف بے جگری سے لڑتے ہوئے شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔ ان کے ایک بھانجے، سپاہی حضرت علی(12 فرنٹئیر فورس رجمنٹ) اور دوسرے بھانجے، سپاہی لال مرجان (14فرنٹئیر فورس رجمنٹ )نے 2012 میں وادٔ شوال میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں یکے بعد دیگرے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس سے قبل ان کے دو اور کزن بھی پاک فوج کی جانب سے مختلف معرکوں میں شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کر چکے ہیں۔

khandanshudaka.jpg
شہداء کی اس درخشندہ روایت کے امین، حوالدار شیر دراز خان نے ضلع کرک کے گائوں غرکلے کے ایک معزز گھرانے میں20 جنوری 1979 کو آنکھ کھولی۔ ان کے والد ملک محمد علی خان برسوں سے بحیثیت نمبردار اور کسان کونسلر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ حوالدار شیر دراز خان8بھائیوں اور5بہنوں میں پانچویں نمبر پر تھے۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول میٹھا خیل سے حاصل کی اور اس کے بعد شوق شہادت انہیں پاکستان آرمی میں کھینچ لایا۔ انہوں نے 10 فروری 1998 کو پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور فرنٹئیر فورس سینٹرایبٹ آباد میں بنیادی عسکری تربیت کی تکمیل کے بعد 14فرنٹئیر فورس رجمنٹ (نو بارہ بٹالین) میں مستقل طور پر تعینات کئے گئے۔


حوالدار شیردراز خان شہید نے انیس سالوں پر محیط عسکری کیرئیر کے دوران ہر میدان میں مثالی کارکردگی کے جھنڈے گاڑ کر اپنے افسروں اور جوانوں کے دل جیتے۔ یونٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد وہ مختلف تربیتی مقابلوں میں نہایت دلچسپی سے شریک ہوا کرتے تھے ۔ وہ ابتدا ہی سے یونٹ کی نشانہ باز ٹیم کا مستقل حصہ تھے اور فائرنگ کے سالانہ مقابلوں میں یونٹ کے لئے ٹرافی کا حصول ہمیشہ ان کا مطمع نظر ہوا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ یونٹ کی کبڈی، ہینڈ بال اور کشتی کی ٹیموں میں بھی وقتاً فوقتاً اعلیٰ کارکردگی کے جوہر دکھاkhandanshudaka1.jpg کر تمغوں اور انعامات کے حقدار ٹھہرتے رہے ۔ اپنے تابناک کیرئیر کے دوران انہوں نے تمام تربیتی امتحانات بھی امتیازی حیثیت میں پاس کئے۔ ان کی اسی بہترین کارکردگی کے پیش نظر انہیں دس سال کی قلیل سروس میں حوالدار کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ انہوں نے انتہائی جانفشانی سے فرائض سرانجام دے کر خود کو اس منصب کا اہل ثابت کیا اور ہمیشہ اپنے افسران کے اعتماد پر پورا اترے۔ حوالدار شیردراز خان شہید نے 2014 میں یونٹ کے ہمراہ اقوام متحدہ کے امن مشن لائبیریا میں بھی خدمات سرانجام دیں جہاں ان کی کارکردگی کو بے حد سراہا گیا۔


حوالدار شیردراز خان دہشت گردی کے معاملے میں شروع ہی سے انتہائی حساس واقع ہوئے تھے۔وہ جب بھی کسی شدت پسندانہ کارروائی کے بارے میں سنتے تو ان کا خون کھول اٹھتا تھا۔ وہ دہشت گردی کو فساد فی الارض اور معاشرے کے ناسور سے تشبیہہ دیتے اور اپنے رفقائے کار کو ہمیشہ اس کے خلاف ثابت قدم رہنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ ان کی یونٹ شوال آپریشن کے لئے منتخب ہوئی تو وہ بخوشی اس کے ہراول دستے کا حصہ بنے۔ دو سال کے عرصے میں انہوں نے اپنے رفقاء کے شانہ بشانہ دس ہزار فٹ بلند برفانی چوٹیوں کو دہشت گردوں کے چنگل سے وا گزار کروانے کے لئے خون پسینہ ایک کردیا اور فقید المثال کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور اس دوران یونٹ میں ان کی فرض شناسی، بے خوفی اور ایثار و قربانی ایک ضرب المثل کی سی حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔


حال ہی میں ان کی یونٹ شمالی وزیرستان میں اپنا مشن کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد واپسی کے مراحل سے گزر رہی تھی۔ حوالدار شیردراز خان حسب معمول افغان سرحد پر واقع اگلے مورچوں میں عسکری فرائض سرانجام دے رہے تھے کہ یکم دسمبر 2017 کو سوا بارہ بجے کے قریب دشمن کا ایک مسلح جتھا ان کی پوسٹ پر حملہ آور ہوا۔ ان کی جانب سے دشمن کی کارروائی کا دلیرانہ انداز میں جواب دیا گیا اور کچھ ہی دیر میں اسے پسپائی پر مجبور کر دیا گیا تاہم فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک گولہ ان کے بالکل نزدیک آ کر پھٹا جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ پہنچایا گیا لیکن انہوں نے راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ افواج پاکستان کا یہ تابندہ ستارہ 12 ربیع الاول کو جمعة المبارک کی مبارک گھڑی میں شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوا۔ بقول شاعر ''یہ رتبہء بلند ملا جس کو مل گیا'' انہیں 2 دسمبر 2017 کوغرکلے گائوں میں واقع ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں افواج پاکستان سے تعلق رکھنے والے بے شمار حاضر سروس اور ریٹائرڈ افراد کے ہمراہ اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت فرما کر شہید کی پاک روح کو جنت الفردوس کی طرف الوداع کیا۔


حوالدار شیردراز خان شہید تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کے شفیق باپ تھے۔ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ ان کے بچے انہی کی مانند فوج میں شامل ہو کر ملک کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔ حوالدار شیر دراز خان شہید کے اہل خانہ کو ان کی شہادت پر فخر ہے اور ان کا عزم ہے کہ وہ ہر قیمت پر ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیں گے۔


بلاشبہ آج ہماری آزادی حوالدار شیردراز خان شہید اور ان جیسے ہزاروں مخلص اور بے لوث شہداء ہی کی مرہون منت ہے جو اپنا آج ہمارے کل کے لئے قربان کر کے آئندہ نسلوں کے محفوظ اور تابناک مستقبل کے ضامن ٹھہرے ہیں۔ دفاع وطن کی خاطر ہر خطرے کا بے دھڑک سامنا کرنے والے یہ بے لوث مجاہد بلا شبہ پاک فوج کا سرمایہ اور جرأتوں کے تابندہ نشان ہیں۔ حوالدار شیردراز خان شہید اور ان کے ساتھیوں نے اپنے پاکیزہ لہو سے جو مقدس شمع روشن کی ہے اس کی روشنی تا ابد افواج پاکستان کے جوانوں کے لئے نشان منزل کا کام دیتی رہے گی۔
صلہ شہید کیا ہے، تب و تاب جاودانہ۔


 

 
Read 135 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter