گوش بر آواز دوست

Published in Hilal Urdu

تحریر: عزخ


ارے یہ تو شہیدوں کے نا م ہیں جن کے لہو سے آزادی کے دیپ روشن ہیں۔ شمار کرنا شروع کئے تو تعداد 4570 سے تجاوز کر گئی ،ابھی مزید جگہ خالی ہے اور سلسلہ وصل ووفاہنوز جاری۔ جس قوم میں قطار در قطار خون کا نذرانہ پیش کرنے والے موجود ہوں وہ کیوں کر ایک ہجوم رہ سکتی ہے۔ یقینا یہ اعلانِ آمدِ بہارالرجال ہے اس مقدس و محترم ''قطارالرجال'' کو''قحط الرجال'' ہرگز نہیںکہا جاسکتا۔ دل کی گہرائی میں آواز گونجی، یہ تعداد تو صرف خیبرپختونخوا اور فاٹا کے شہداء کی ہے بقیہ ملک کا شمار کریں تو اندراج دگنا ہوگا۔ پاکستانی قوم کی تعمیر میں خشت کی جگہ ہڈیوں اور گارے کے بجائے گاڑھے لہوکا استعمال ہوا ہے اور یہ تعمیر سیسہ پلائی دیوار سے زیادہ مضبوط و پائیدار ہے۔ وہ پائیداری جس کا ضامن مینار پاکستان کی بنیاد میں موجود چاند تارے کا نشان ہے۔ وہ چاند تارا جو پاکستان کے عَلم کی زینت ہے۔ وہ عَلم جو شہداء کی اِس یادگار پر لہرا رہاہے۔

''اس بر عظیم میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا ہے وہ مینار قرارداد پاکستان ہے، یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں مگر ان کے درمیان یہ ذرا سی مسافت جس میں سکھوں کا گردوارہ اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ہیں تین صدیوں پر محیط ہے۔ میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان تین گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا،مسجد کے مینارنے جھک کرمیرے کان میں راز کی بات کہہ دی، جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں، جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے، ملک کے بجائے مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو، اورجب مسلمانوںکوموت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہوجائے، تو صدیاں یوں ہی گم ہو جاتی ہیں۔''
جناب مختار مسعود کی مشہور کتاب ''آواز دوست'' سے مندرجہ بالا اقتباس میںنے پہلی دفعہ حکیم سعید کے شائع کردہ بچوں کے لئے معیاری رسالے''ہمدرد نونہال'' میں پڑھا۔میں اس وقت شائد تیسری یا چوتھی جماعت کا طالبعلم تھا، الفاظ قلب و ذہن کی قبا پر ترتیب سے پروئے ہوئے نگینوں کی آب وتاب لئے آج تک نقش ہیں۔پھرایک روز میری آنکھ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں کھلی اورخود کو لائبریری میں موجود کتاب ''آواز دوست'' ہاتھ میں لئے پایا۔بعد ازاں اُن کی دیگر دوتصانیف ''سفر نصیب'' اور''لوح ایام'' پڑھیںاوربالآخر 1994ء میں مختار مسعود صاحب محترم کی خدمت میں باریابی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ لگ بھگ 75 سالہ چھریرے بد ن اور ر وشن چہرے کے ساتھ ُان کی توانا ،پُرحکمت اور قرینے سے کی گئی گفتگو کا ہر ایک لفظ آج بھی تازہ ہے۔ قیام پاکستان کی تحریک کا اپنے علی گڑھ یونیورسٹی میں واقع مکان سے اور بعد میںاسی جامعہ میںطالب علمی کے زمانے میں، قریبی مشاہد ہ کرنے والے اس نوجوان کا ولولہ ابھی تک صحت مند، توانا اور تابندہ تھا۔تاہم پاکستان بننے کے بعد قوم کی تشکیل کے مراحل میں ملنے والے دھچکوں، صدموںاور حوادث نے ان کے تجزئیے کو قدرے ضعیف اور خدشات میں مبتلا کر دیاتھا ۔ مختار مسعودصاحب کی رگوں میں موجزن کشمیری آبائی خون کو تکمیل پاکستان کے لئے منتظر، اپنی امید کی ممکنہ شکست اورخدشات کی ریخت کو یقین کے ستون سے سہارہ دئیے حالات کی طاری کردہ مایوسی کے بند سے نبردآزما پایا۔ مختار مسعود کی تحریریں در اصل دَہائیوں کی دُہائیاں دیتی گواہی اور ان کی بتدریج تصنیفات مستقبل کے اندیشیوں سے پُر ہیں۔ رخصت سے قبل جب ہمت کرکے نشاندہی کی تو ڈوبتے سورج کے ساتھ بزرگ مصنف نے یُوں گہری سانس کھینچی کہ کر ب کی سلوٹوں نے چاند پیشانی کو گہنادیا۔انتہائی تکلف سے گویا ہوئے، ''یہی وجہ ہے کہ اب میں ملاقات، میل جول سے کنارہ کش ہو گیا ہوں۔'' دکھ اور درد کے تازیانے تھے جو میری روح پر برس پڑے ۔دانا بزرگ کی بقیہ گفتگو قحط الرجال کا نوحہ تھی۔ گو کہ روایتاًاور مصلحتا ًہمار ی ملاقات کا اختتام نویدِ سحر کی ندا اور خیر کی دعا پر ہوا مگر خدشات کے جس آسیب نے اُس دن گھیرا، آنے والے وقت میں وہی آسیب 'دہشت گردی' کے بھیانک عفریت کی شکل میں نمودار ہوا جو آن کی آن میں پوری قوم کو اس طرح نگلنے کے لئے بے تاب تھا کہ ملک کی بنیادوں تک میں دراڑیں پڑ گئیں اور ملت کی چُولیںہلتے واضح طور محسوس ہونے لگیں ۔بدعنوانی کا عام چلن، تعلیم کی کمی، اخلاقی گراوٹ،صحت، افلاس اور بڑھتی آبادی جیسے دیگر مسائل ''دہشت گردی'' کے عفریت دیوکے آگے بونے دکھائی دینے لگے۔

goshbrawaz.jpg
چار دہائیوں کے سفر نصیب کے بعد، جن میںدس سے زائد سال دہشت گردی کے خلاف لوح ایام کی ڈھال لئے ڈھلے، میرا کاروانِ متاع بالآخر پشاور آن ٹھہرا۔ اب تک بال ورِیش سفید اور خدشات سیاہ تر ہوچلے تھے۔ حیدرآباد سے شروع ہونے والے حیات کے ِاس سفر نے کچھ ایسی تھکاوٹ طاری کی کہ فرصتِ دل کے چند لمحات میسر ہونے کی شدت سے طلب ہوئی تاکہ آوازدوست برگوش سماعت ہو سکے ۔ ''آواز دوست'' جوکبھی ایک نوجوان سی ایس پی افسر مختارمسعود نے سنی اورپھراپنے ''سفر نصیب''کو ''لوح ایام'' پر کندہ کیا۔ وہ آواز دوست جس کو'' پرِکاہ'' اور''پارئہ سنگ''سے منسوب کرنے بعد وہ خود اپریل 2017 میں خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔اِدھر پشاور،جوکبھی پھولوں کے شہر کے طور پر مشہور رہا ہے، کی امروز بوجھل فضا میںایک نونہالِ مکتب جب آواز دوست کا منتظر و مشتاق تھا توعیاں ہوا کہ دہشت گردی سے نبردآزمائی نے جہاں اس کے تن اور ذہن کو بوجھل کردیاہے وہیں بُوجھِ سماعت بھی شل ہو چکی ہے۔ پشاور منجمدلمحات کے ساتھ اب دو سال گزرنے کے بعد بھی، اسی17 دسمبر2014 ( سانحہ آرمی پبلک سکول کے ایک دن بعد) کی سی خون آشام سوگواریت میں سانسیں بھر رہاہے۔ گویا سانحے کے بعد اگلے دن کا سورج ابھی تک نہیں چڑھا، کرنوں نے برسنا بند کر دیا اور وقت گویا تھم سا گیا ہے۔نہ جانے یہ راہِ فرار تھی یا تازہ ہوا کے کسی جھونکے کی اشد ضرورت کہ پشاورچھاونی میں واقع GRCکی عجیب سی سرسبز کشش نے گھیر لیا۔ ہر روز شام کو جہاںچہل قد می اور ورزش کرتے نہ معلوم ایساکیا تھا جو حصار کی مانند دل و دماغ کو گھیرے رکھتا۔ پھر دھیرے دھیرے یہ اسرار خیال کے پردے پر نمودار اور رمُوزکے نقش سوچ پر نمایاں ہوتے چلے گئے۔چھائونی کے عین وسط میں
Complex) GRC (Garrison Recreational
دراصل، کرکٹ کے میدان، اسکواش کورٹ، لائبریری، گیسٹ روم،کافی کارنر، سوئمنگ پول اور کمیونٹی ہال پر مشتمل ہے۔ شمال کی سمت فورٹ روڈ پر واقع اس کے پائیں دروازے سے داخل ہوں تونظربے اختیار ایک کشادہ پویلین پر پڑتی ہے ۔ نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کا یہ خوبصورت پویلین سرخ کھپریلی چھت، سفید دیواروں، دروازوں اورکھڑکیوں کا مر قع ہے، جن کے چوخانے دارشفاف شیشوں سے اندر اور با ہر دو طرفہ نظارہ کیا جاسکتاہے۔ کھڑکیاں جو ہمارے ہاں مروج جدید طرز تعمیر میںاب جسامت اور تعداد میں گھٹتی جا رہی ہیں، دراصل جہاں کسی عمارت میں حبس کے رَد اور ہوا کے دخُول کی نظیر ہیںوہیں یہ کھڑکیاںکشادگی اور لا محدود امکانِ نظر کو وا کرنے کا بھی موجب ہیں۔جبھی تو کمپیوٹر کے ُاس سائنسدان نے نوتخلیق شدہ آپریٹنگ سسٹم کے لئے دَر یا ِدیوار کے بجائے کھڑکی
(window)
کے نام کا انتخاب کیا۔ اب اسے بد قسمتی ہی کہئے کہ معمارِجدید کی تعمیرنو میں کھڑکیاں تعداد میں کم،ان کی جسامت پست و کوتاہ اور تنفس مصنوعی ذرائع پر منحصر ہوچکا ہے۔


پویلین کاچبوترہ اپنے سامنے واقع گھاس کے میدان سے پانچ قدمچے بلند ہے۔ دالان میں رکھی کرسیوں پر درازہوکر میدان کے عرض پر نگاہ دوڑائی جائے تو پورے
GRC
کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔دالان کی عین پشت پرواقع لائبریری میں کتابوں کا ضخیم ذخیرہ ہے ،وہ کتابیں جو اب تک آباء کی میراث ہی ہیں، ترتیب و سلیقے سے الماریوں میں سجی ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ قرطاسِ علم کا ایک انبار ہے جوبے نقط کمر پر لدا ہے، روشنائی کا ایک سمندر ہے جو موجزن ہے مگر قلم ہاتھ میں لئے کنارے پر موجودطالب علم کی پیاس ہنوز تشنہ ہے۔ لائبریری کے دروازے سے لوگوں کی آمدورفت تلاشِ علم اوردریافت و طلب کی جستجوکا پتہ دے رہی ہے۔ اسمارٹ فو ن کے اس دور میں بھی جبکہ ہر شخص ایک مفصل لائبریری اپنے ہاتھ یا جیب میں لئے پھر رہا ہے، کتاب کی ورق گردانی کے لئے سیڑھیاں چڑھتے لوگ بالخصوص نونہالانِ وطن میرے کان میں اذانِ خوش گماں کی ندِا ہیں، قحط الرجال اور حبس آلودگی میں گویا بارش کے چند قطر ے ہوں۔ مگر یہ تو چند بوندوں کا سراب ہے اور مصیبت کا صحرا کہیں زیادہ بنجر اور دقت طلب۔ جس قحط الرجال کامختارمسعود جیسا دانا درویش نوحہ گرہے اس کی تباہ کاریاں چار ُسو اور ہر دانگ پھیلی ہوئی ہیں۔ آواز دوست کے انتساب میں موصوف کا ''پرکاہ''(اپنی والدہ مرحومہ کی قبر پر اگنے والی گھاس کی پہلی پتی) اوراس ''پارئہ سنگ''(جو ان کے والد کی لحد پر نصب ہے )کا انتخاب ہر گز اتفاقی نہیںبلکہ مصنف کی دور اندیشی اور مستقبل بینی کا غماز ہے جو ایک طرف سنگ ِلوحِ مزار پر کندہ سفاک تحریر کابیان ہے تو دوسری طرف نوزائیدہ گھاس کی پتی (پرکاہ) کی صورت آمد بہار کا اعلان۔ بہار و مزار کے درمیان ہچکولے کھاتی ڈولتی نائو کی مانند سوچ میں پیچاںمیری نظربائیں جانب مزین ''پار ئہ سنگ'' جو اس لائبریری کا سنگ بنیاد ہے، پر پڑتی ہے۔ لگ بھگ 5x4x4 فٹ ، ایک بھاری چٹانی پتھر کو مہارت سے سجا کر رکھا گیا جس کے درمیان ایک سپاٹ کی گئی تختی پر حسب روایت سینئر کمانڈ افسر کا نام اور تاریخِ تزئین آویزاں ہے۔ پارئہ سنگ صرف لوح مزار کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ لوح تعمیر'سنگ بنیاد' نام کی تختی اور سنگِ راہ کے طور پر بھی نصب کیا جاتاہے۔ گمان میں غلطاں اس متحیر طالب علم کا خیال ''سنگ وخشت''سے تحریر کردہ عبارت ''مینار پاکستان'' تک جا پہنچا۔ وہ مینارجو عظیم وفراز بھی ہے اور قحط الرجال کی نوحہ گری سے پہلے مختار مسعود کی آواز دوست کا اوّل مضمونِ دل گداز بھی،اور میں کہ عالمِ حیف میںغوطہ زن کہ صاحبِ کتاب نے مینارِ پاکستان پر مضمون مختصر اور قحطِ الرجال کا گریہ طویل کیا۔
1979 میں والد صاحب ہمیں حیدرآباد سے لاہور گھمانے لے کر آئے تو حسبِ روایت پہلے داتادربار پر حاضری دی، پھر پیدل ہی سرکلر روڈ سے بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان جا پہنچے۔پہلی دو جگہوں پر حاصل تجربہ وکیف کا ذکر پھرکسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں فی الوقت مینار پاکستان کے اس سحر اورسُرور کا تذکرہ ضروری ہے جو امروز حواس پرطاری ہے۔پتھر پر کندہ قرارداد لاہور کا متن تو پانچویں جماعت کے اس شاگرد کے سیاسی شعور سے کہیں افزوں تر تھا مگر قائداعظم کی کر سی کے پائے استقلال کا تخیل ضرور اس نونہال ذہن میں بہت صاف اور گہراتھا۔ معمار نصیرالدین مُراد نے مینار کی بنیاد چاند ستارے پررکھی اور اس پر دس پنکھڑیوں کا پھول خوب صورتی سے سجا یاہوا تھا۔ جب والد صاحب ہمیں ساتھ لئے مینار کی بالائی منزل کی طرف رواں دواں ہوئے تو شاید د لجمعی کی خاطر یا پھربرائے نصیحت تعمیر، ہمیں معمار کی نصب کردہ سیڑھیوں کی تعداد گننے پر مامور کیا۔ گول زینے پربچوںکے قدم بلندی کی طرف اٹھے اور 255 قدمچے گنے گئے۔ بالائی منزل پر پہنچ کر فاتحانہ اور واشگاف تعداد بتائی گئی تب بلندی سے نیچے دیکھتے ہوئے والد نے بچوں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا کہ عروج کی تدبیر کے فوری بعد لاحق اندیشہء زوال سے آگاہی اور بچنے کی ترکیب میسر ہو۔ 34سال قبل مینار کی بلندی سے پورے لاہور کا منظر اسی قدر صاف تھا جتنا آج لائبریری کے دالان سے
GRC
کاشفاف نظارہ۔ میں نے کر سی پر پہلو بدلا اور چشم تصور میں 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک میں صدر نشین قائداعظم کی وسیع النظری کو محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ قائد کی بصیرت افروز بینائی نے یقینا اپنی اسی کرسی سے زیرِتخلیق پاکستا ن کے طول وعرض،نشیب وفراز کا اندازہ کیاہوگا۔ سامنے موجو د لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتاجم ِغفیر قحط سالی کی تین صدیاں ختم ہونے کا عندیہ دے رہاتھا۔ ہجوم سے قوم کی تشکیل کے سفر کی سمت اب متعین تھی اور صرف7سات سال کی دُوری پر۔


میں واپس پشاور پلٹ آتا ہوں ،سامنے میدان کے بیضوی کناروں پر محیط راہ گزر پر لوگ چہل قدمی کر رہے ہیں، کچھ دوڑنے میں مشغول ہیں۔زیادہ تر مسلح افواج کے افسر یا ان کے اہل خانہ ہیں یعنی وہ لوگ جو ہجوم میں سے چنیدہ و منتخب ہیں۔ قوم کی تعمیر میں جن کا کردار مرکزی ہے۔ 450 میٹر محیط یہ مسافت منٹوں میں طے کر کے وہ دوبارہ میرے سامنے سے گزرتے ہیں ۔چکر پے چکر لگائے جارہے ہیں مگرطالبعلم کی وجدان ِ نظر میںتو منزل کا نشان اب تک عنقا ہے۔ بے منزل چکر نہ جانے کب تک قوم کو گرداب میںگرفتار رکھیں گے۔ ایک چکر پھر ایک اور چکر، پھر ایک کے بعد ایک اورچکر، ایک چکرپر چکر۔پارک کے گرد بنائی گئی راہ گزر پرطے کردہ مسافت کی خاطر سنگِ نشان بھی نصب ہیں۔ 100 میٹر، 200 میٹر، 300میٹر اور 400 میٹر۔مگر میری نونہال نظر قوم کے لئے منسوب و مخصوص اس ہمدرد سنگ میل کے لئے متجسس ہے جو نشان راہ یا پھر سنگِ نشانِ منزل ہو۔ قرار داد پاکستان کے بلند و ارفع مقاصد تک پہنچنے کے لئے کسی سنگِ آگہی کی ضرورت ہے،لہٰذا نظر مناسب پارئہ سنگ کی تلاش میں اٹھی تو دارلخلافہ پر جاٹھہری۔ شکرپڑیاں پر نو تعمیر شدہ ''نشانِ پاکستان
(Pakistan Monument)
'' ابھر آیا، مگرنہیں نہیں ۔کنول کے پھول کا یہ نشان اتنا متاثر کن تو نہیں کہ نظردم بھرنے سے زیادہ ٹھہرسکے۔کم از کم میرے لئے توبالکل نہیں۔ آن کی آن میں ملک کے عروس البلاد میں قائداعظم کا مقبرہ ہویدا ہوا کہ عظیم و پُرشکوہ بھی ہے اور خوبصورت تعمیر کا شاہکاربھی۔معمار یحییٰ مرچنٹ نے مزار کی آفاقیت مدِنظر رکھتے ہوئے اہرام مصر کے تکون کو قدرے مربع انداز کیا اورنو زائیدہ قوم کے اپنے اَمرقائد سے عشق کی نمائندگی کی خاطر تاج محل سے گنبد مستعارلے کر سرِ مزار سجا دیا۔ مگر میناروں کے بغیر شاید خوابِ تعمیرابھی اُدھورا اور اس کی تعبیر امروز نا آسودہ دکھائی دی۔ یاد آیا کہ بلندوبالا مینار تو فیصل مسجد کے بھی ہیں جو سرسبز مارگلہ کی بلندی کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سبزہ دار پہاڑیوں کے بیچ مر مریں پار ئہ سنگ سے ایک دفعہ نظر متوجہ تو ضرور ہوئی، مگر نوکدار وسط، ایں چہ است، عبث کہ نظر پلٹ آئی۔ مینارِ پاکستان کے بعد قابل ذکر قومی تعمیراتی نشان تو بس یہی ہیں ۔ سفر بوجھل اور خیال کا چکر بے مقصدو لا حاصل معلوم ہونے لگا تو دھیان سمٹا اور دوبارہ اسلامیہ کالج کے شہر پشاور لَوٹ آیا۔


طبیعت متلون اور نگاہ پیاسی پلٹی ہی تھی کہ یکبارگی، سنگ و خشت سے گل ورنگ پھوٹتے محسوس ہوئے۔ بھٹکتی،متلاشی اور متجسس نگاہ کا رخ پویلین کے دائیں جانب ہو ا اور وہ سیاہ سیلٹی پتھر کی دیواروں پر ٹھہر گئی۔ یہ پارہ ہائے سنگ جو ایک اونچے چبوترے پر نصب ہیں ،نگاہ جن سے ٹکرا کر پلٹنے کی تاب نہ لاپائی اور وہیں جم کر رہ گئی۔ میں بے اختیار پویلین سے اٹھ کر ان سنگ پاروں کی جانب کشاں کشاں کھنچتا چلا گیا ۔ یہ سنگ پارے قوم کی منزل کی تلاش کی راہ میں جان نچھاور کرنے والے شہداء کی یادگار کے طور پر ایک چبوترے پر نصب کئے گئے ہیں جن کے سامنے درئہ خیبر کے مشہور دروازے کی شبیہہ بھی تعمیر کی گئی ہے۔ وہ درّہ جہاں سے حملہ آور لشکر ہمیشہ ہم پر چڑھائی کرتے آئے ہیں اوردرّے کے ِاس طرف قربان سروں کے مینار بنائے جاتے رہے ہیں۔ شبیہہ درہ خیبر سے گزر کر سنگ پاروں کے چورس میناروں تک پہنچنے کے لئے سات سیڑھیاں چڑھنا تھیں۔ میں بلند ہوتے ہر قد م کو ایک نشانِ منزل سے منسوب کرتا جا رہا تھا جبکہ نظربدستور سنگ پاروں پرمرتکز تھی۔ پہلی سیڑھی ایمان اور دوسری اتحادسے منسوب کی ہی تھی کہ قدموں میںارتعاش محسوس ہوا۔ تیسری سیڑھی پر تنظیم کا سہارا لیا۔ یہاں تک پہنچ کر قد م باقاعدہ لڑکھڑائے، پیاس لگی اور بینائی سُوکھنے لگی۔العطشں!قحط الرجال کے خدشے نے آن دبوچا۔ چوتھی سیڑھی عزم کو مستحکم کر نے کے نام چڑھی۔ اب سامنے کندہ تحریر لکیروں کی صورت واضح ہونے لگی، چنانچہ پانچویں سیڑھی قربانی کے نام کی، چھٹی دُعائے استسقا یعنی ابرِرحمت کی دعا کے ساتھ۔ وہ بارش جو سبزہ و خوش حالی کی نویدلئے برستی ہو۔ یکایک زور سے بادل کڑکا اورآخری قدمچہ آن پہنچا۔ پھر ساتواں قدم امید بہار میںجو اٹھا تو بلند ہوتا چلا گیا۔ دُور سے سنہری آب لئے چمکتی لکیریںقریب آنے پرترتیب وار تحریر کی صورت کچھ یوں نمایاں ہونے لگیں گویا سلسلہ وار اوپر سے نازل ہوئی ہوں۔یکے از اسمائے غفیر، ایک کے بعد ایک، تواتر۔ ارے یہ تو شہیدوں کے نا م ہیں جن کے لہو سے آزادی کے دیپ روشن ہیں۔ شمار کرنا شروع کئے تو تعداد 4570 سے تجاوز کر گئی ،ابھی مزید جگہ خالی ہے اور سلسلہ وصل ووفاہنوز جاری۔ جس قوم میں قطار در قطار خون کا نذرانہ پیش کرنے والے موجود ہوں وہ کیوں کر ایک ہجوم رہ سکتی ہے۔ یقینا یہ اعلانِ آمدِ بہارالرجال ہے اس مقدس و محترم ''قطارالرجال'' کو''قحط الرجال'' ہرگز نہیںکہا جاسکتا۔ دل کی گہرائی میں آواز گونجی، یہ تعداد تو صرف خیبرپختونخوا اور فاٹا کے شہداء کی ہے بقیہ ملک کا شمار کریں تو اندراج دگنا ہوگا۔ پاکستانی قوم کی تعمیر میں خشت کی جگہ ہڈیوں اور گارے کے بجائے گاڑھے لہوکا استعمال ہوا ہے اور یہ تعمیر سیسہ پلائی دیوار سے زیادہ مضبوط و پائیدار ہے۔ وہ پائیداری جس کا ضامن مینار پاکستان کی بنیاد میں موجود چاند تارے کا نشان ہے۔ وہ چاند تارا جو پاکستان کے عَلم کی زینت ہے۔ وہ عَلم جو شہداء کی اِس یادگار پر لہرا رہاہے۔


متحیر نگاہ کچھ یوں خیرہ ہوئی کہ اسمائے شہداء سے ہٹتی ہی نہ تھی۔ فاتحہ کیوں پڑھتا کہ یہ تو زندوں کے نام ہیں۔ رزق ملنے کا جن سے الٰہی وعدہ ہے۔ پتھر کااس سے بہتر استعمال اور کیا ہوسکتا ہے۔ آج کی مصنوعی ذہانت ،کمپیوٹر، پلاسٹک، برق ْوبھاپ اور دھات کے زمانوں سے ہزار ہا سال پہلے انسان نے ''پتھر کا استعمال'' سیکھا۔ اسی دور میں پتھروں اور سروں کے مینار تخلیق ہوناشروع ہوئے اورشاید خیبر پارسے لشکر کشی کا سلسلہ اور دھرتی سے قربانیوں کا رشتہ بھی اسی دور سے وابستۂ سلاسل ہے ۔ قربانی کی داستان درہ خیبر کی گھا ٹیوں سے شروع اور سرخ لہو سے رقم ہوئی ہے۔ ترقی کے باوجود پتھر سے یہ جینیاتی رشتہ اب بھی درازو مستحکم ہے کہ انسان سنگ سے صنم تراشی اورجہانِ نو تخلیق کرتا آیاہے۔ بلندوبالا عمارات، عریض شہر، دریائوںپرپشتے، رہنمائوںکے مجسمے،بادشاہی مقبرے، سنگ بنیاد و تکمیل جن پر خوبصورت و مشہور نام ہوتے ہیں، بنگلوں اور شاندار مکانات کے باہراسمِ ملوکیت کی تختیاں اورجب ملکیت کے دعویدار وہی جسم لحد میں منتقل ہوتے ہیںتو اسی قسم کے ایک پتھر کولحد کی لوح قبر او ر تعویذ قبرکے صورت اوڑھے زیر خا ک جا سوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان تمام پتھروں میں سب سے حسین استعمال کون سا ہے۔ جو اب سامنے اِیستادہ تھا۔ شہدائے وطن کو اپنے بطن پر نقش کئے ہوئے۔ یہ پارئہ سنگ بہت جمیل و وجیہہ ہے ۔ یاد گارِ شہداء میں نصب ہونے سے پتھر بدرجہا محترم ہو جاتاہے۔ کوئی ہے جو مجھے بتلائے کہ کیا پتھر کا اس سے زیادہ حسین،دائمی استعمال بھی ممکن ہے۔ نظر اور خیال یکجا ہوئے تو قلب پر سکوت طاری ہوا اورگمان سے ہیبت رفع ہوئی۔ ان نام وروں میں سے ہر ایک کی اپنی دنیاوی زندگی ہو گی ۔ پتہ و خاندان، ولدیت ونسب، اہل و اعیال ۔ خواہش اور امنگ لئے ان دلیر دل سپاہیوں کے لئے مگر ان کا عزم اور جذبۂ قربانی مقدم ہوا۔ موت تو برحق ہے لیکن ان شجیع و تواناتن اجسام نے موت کو ورطۂ حیرت میں ڈبویا اور سکتے کو شکست دی اور اب وہ خود جنت کے باغوں میں سکون ورہیں۔ یہ وہ تن آور درخت تھے جنہوں نے اس قوم کو اپنی قربانی سے زندگی کا ثمر اورحیات کا ایندھن فراہم کیا۔ درخت جو زندگی کا نشان ہے، ایک سفر اور عزم مسلسل ہے۔ پرِکاہ سے تناور تن بننے کا عمل انسانی سعی وترقی کے فلسفے سے منطبق ہے۔


اچانک سایہ اور خوشبو کا جھونکا محسوس ہوا اور ہوا کے ساتھ پتوں کی سرسراہٹ نے مجھے چونکا کر اپنی جانب متوجہ کیا۔ راہ گزر کے کنارے قطار سے لگے درختوں کی شاخیں گویا مسکراتے ہوئے جھولا جھول رہی تھیں۔ یادگار شہد اء کے قریب ہی ''دیودار'' کا پیڑ اپنا سایہ اور سبز ہ یوں تقسیم کر رہاتھا،گویا گنگنا رہا ہو۔ دیودار ہمارا قومی درخت ہے ۔ یوں تو پورے
GRC
میں انواع واقسام کے پیڑ لگے ہیں جن میں برگد، بکائن، شیشم ، چیڑ،جامن ،سفیدہ ،سرو، پڑتل و دیگر آرائشی نباتات شامل ہیں مگر دیودار کا یہ پیڑ اس جگہ، یادگار شہداء کی تعمیر سے عرصہ قبل لگایا گیاتھا۔ کیا لگانے والے ذہن کو فہم اور ادراک تھا کہ آنے والے وقت میں اپنے خون سے قوم کی آبیاری کرنے والے شہداء کی یادگار کو صبح وشام اپنی جھولتی ، لہراتی اور گنگناتی شاخوں سے سلامی دینے قومی درخت ہر وقت تیار موجود ہو۔ اس میدان کے مغربی حصے میں تنومند اور قد آور برگدو پیپل کے بہت سار ے د رختوں کی قطار بھی اپنی تمام تر شوکت لئے نمایاں ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جہاں میں نے گزشتہ ا یک سال کے دوران کئی شہداء کے جنازے کی نماز ادا کی۔ جی ہا ں پچھلے کئی سالوں سے یہ میدان جناز گاہ کے طور پر بھی اپنا دامن وا کئے ہوئے ہے۔ شہداء کے جنازوں کے لئے جس تزک و احترام کی ضرورت ہے غالباًوہ ان گھنے اور برگزیدہ برگد کے درختوں کے سائے سے زیادہ کسی اوربہترصورت میسر نہیں۔ یوں یہ میدان ایک عجیب سی مساوات فراہم کرتا ہے۔ ایک ہی جگہ، جہاں قوم کے حال پر قربان ہونے والوں کا جنازہ پڑھا جاتاہے، وہیں تھوڑی دیر بعد عین اسی جگہ قوم کا مستقبل جسمانی تربیت کرتا نظر آتاہے۔ کم سن ونوعمر نونہال بچے غیر مسلح مقابلے کی تیاری یہیں کرتے ہیں۔ ان میں بہت سے کچھ دنوں بعد فوج کا حصہ بنیں گے۔ یہ ابھی نوخیز و ناتواں ہیں۔ کچی کلیاں اور َان پھوٹے شگوفے ہیں جن کے جسم بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوا ہی چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بچے اور بچیاںقوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں یہ اس ملت کا ''سفرِنصیب'' ہیں۔ شاید ان کی قیمت کا احساس وطن فروش اور ملک دشمنوں کو بھی ہے۔ تبھی تو مسلح دہشت گردوں نے ان نازک پتیوں کو مسلنے کے لئے پشاور''اے پی ایس'' کا انتخاب کیا۔قلم سے لیس نہتے بچوں پریوں تفنگ وتیر برسائے کہ لہو کی بارش نے سورج کی کرنوں کو بھی جلا کر بھسم کردیا ۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ قحط الرجال سے کہیں کاری نقصان اس قوم نے قہر الرجال کے سبب اٹھایا۔ یہ قہار کبھی دہشت کی تلوار کے وار کرتے حملہ آور ہوئے تو انہی میں وہ قاہرانِ قلم بھی شامل ہیں جنہوں نے ظالم لشکروں کی تزک سنہری الفاظ سے قلمبند کی یا اپنے عملداری اختیارات کاناجائز استعمال۔ تلوار سے گردنیں رگیدنے اور قلم سے ارضِ وطن کا سینہ چھیدنے والے دونوں ہی ''قہرالرجال'' کا باعث ہیں جو ''قحط الرجال'' سے کہیں زیادہ کاری ثابت ہوا۔

تاریخ گواہی دیتی ہے کہ قحط الرجال سے کہیں کاری نقصان اس قوم نے قہر الرجال کے سبب اٹھایا۔ یہ قہار کبھی دہشت کی تلوار کے وار کرتے حملہ آور ہوئے تو انہی میں وہ قاہرانِ قلم بھی شامل ہیں جنہوں نے ظالم لشکروں کی تزک سنہری الفاظ سے قلمبند کی یا اپنے عملداری اختیارات کاناجائز استعمال۔ تلوار سے گردنیں رگیدنے اور قلم سے ارضِ وطن کا سینہ چھیدنے والے دونوں ہی ''قہرالرجال'' کا باعث ہیں جو ''قحط الرجال'' سے کہیں زیادہ کاری

جی آر سی کے سر سبز گھاس والے میدان میں کھیلتے کودتے یہ بچے قوم کے لئے اگنے والی نئی امید ہیں۔ میں عالم تخیل میں مختار مسعود کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ جن کی''آواز دوست''پارئہ سنگ کے ساتھ پرِکاہ سے بھی منسوب ہے۔ پرِکاہ، یعنی چٹیل جگہ اگنے والی گھاس کی پہلی پتی۔ پار ۂ سنگ تو مجھے مل گیا تھا جس پر قریب پانچ ہزار شہداء کے اسماء کندہ ہوچکے ہیں۔ اب پرِکاہ بھی نظر میں واضح ہے۔ بچوں کی صورت میںاُ گتی یہ پرِکاہ عنقریب قومی درخت ''دیودار'' میں تبدیل ہو جائے گی۔پَوپھٹ چکی اور خزاںکی رخصت امرہے۔ یوں بہار کی خبر اور نویدِسحر ہے۔ جہاں بہارو سحر کی نوید وخبر ہو، قحط کا وہاںکیا کام؟ جہاں لو گ ہزار ہا جانوں کی قربانیوں کی خاطر قطار بنائے کھڑے ہوںاور مستقبل پرِکاہ کی کاشت سے مُزّین ہو، قحط کا وہا ں کیاکام؟۔ قریب ہے کہ لوح ایام پر سفرنصیب اب سنہرے حروف میںمُقّدر ہوگا۔ ہر چھاونی ہر شہر کے چوک میں شہداء کی یادگاریں حروف آغاز ہیں، متن جن کا عوام کے معصوم و قیمتی لہو سے تحریر ہے۔ وہ مقدس لہُو، جس کی چھینٹیں اس ارضِ وطن کی گلیوں، بازاروں، درس گاہوں، دفاتروعدالتوں، عبادت گاہوں، غرض یہ کہ چپے چپے کی آبیاری کر چکی ہیں۔ یقینا یہ لہُو رائیگاں نہیں۔خشک سالی کے گزشتہ تمام سال اس لہُونے ترکیۓ رکھے۔ شام کے سائے پھیلنے لگے تو منظر نے سرگوشی کی، اندیشہ ہزار درست! مگر قحط الرجا ل ختم، خوش حالی کا دور شروع ہوچکا۔ مجھے لگا عالم ارواح میں مختار صاحب نے یہ بات سن لی اور شاید ہمدرد نونہال کے مدیر حکیم سعید نے بھی۔ دونوں بزرگ حکیم و دانا مسکرا د ئیے اور ہمہ تن گوش و نظر مسرور ہیںکہ قحط الرجال ٹل چلا اور رس نچوڑنے کا وقت قریب آگیا۔ رہا قہر الرجال، توہر دو درویش نے اس کی خاطر قلم کی قرارداد تجویز کی ۔ پاکستان کا نصیب ،قرار داد کاوہ متن جومِینارِ پاکستان کے تناور ستون پر نصب پارئہ سنگ رقم پر تحریر کیا گیا،اب مقدرہے۔پروئے ہوئے نگینوں کی آب و تاب لئے منقش، دل آویز ،برحق وبرجستہ۔۔۔۔۔ پا ک نصب العین۔

ارضِ وطن کے لئے
اِک نظم لکھیں
اے ارضِ وطن، ہم تیرے لئے اک نظم لکھیں
تِتلی کے پَروں سے رنگ چُنیں
اُن سازوں سے آہنگ چُنیں
جو رُوح میں بجتے رہتے ہیں
اور خواب بُنیں اُن پُھولوں کے
جو تیری مہک سے وابستہ
ہر آنکھ میں سجتے رہتے ہیں
ہر عکس ہو جس میں لاثانی
ہم ایسا اِک ارژنگ چُنیں
تِتلی کے پَروں سے رنگ چُنیں
اور نظم لکھیں
وہ نظم کہ جس کے حرفوں جیسے حرف کسی ابجد میں نہیں
وہ رنگ اُتاریں لفظوں میں جو قوسِ قزح کی زد میں نہیں
اور جس کی ہر اک سطر میں خوشبو ایسے لہریں لیتی ہو
جو وہم و گماں کی حد میں نہیں
اور جب یہ سب اَنہونی باتیں، اَن دیکھی، اَن چُھوئی چیزیں
اِک دُوجے میں مِل جائیں تو نظم بنے
اے ارضِ وطن وہ نظم بنے جو اپنی بُنت میں کامل ہو
جو تیرے رُوپ کے شایاں ہو اور میرے ہُنر کا حاصل ہو
اے ارضِ اماں۔۔۔ اے ارضِ وطن
تُو شاد رہے آباد رہے
مَیں تیرا تھا، مَیں تیرا ہوں
بس اتنا تجھ کو یاد رہے!
اِس کشتِ ہُنر میں جو کچھ ہے
کب میرا ہے!
سب تجھ سے ہے، سب تیرا ہے
یہ حرف و سخن، یہ لوح و قلم
سب اُڑتی دُھول مُسافت کی
سب جوگی والا پھیرا ہے
سب تجھ سے ہے، سب تیرا ہے
سب تیرا ہے
امجد اسلام امجد

*****

 
Read 188 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter