خوابوں کی تعبیر

Published in Hilal Urdu

تحریر: حسینہ معین


ممتاز ادیب، ڈرامہ نویس محترمہ حسینہ معین کی مردان گرلز کیڈٹ کالج کے حوالے سے ایک خصوصی تحریر

میری زندگی کے راستے میں بے شمار موڑ آتے رہے ہیں۔ اچانک ہی راستہ بدل جاتا ہے۔ منظر تبدیل ہوتا ہے۔ کبھی کچھ بہت اچھا لگتا ہے۔ کبھی دل بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے اچانک مردان سے ایک فون کال آئی۔ وائس پرنسپل مردان گرلز کیڈٹ کالج سے شمع جاوید بول رہی تھیں۔ انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو مجھے یاد آ گیا کہ ہم تین چار سال پہلے ان سے مل چکے تھے۔ جب وہ رسالپور کالج گھوڑاگلی میں جونیئر سکول کی پرنسپل تھیں اور ہم لوگ ڈرامے کی شوٹنگ کے لئے گئے تھے۔ شمع اب گرلز کیڈٹ کالج مردان کی وائس پرنسپل ہیں۔ انہوں نے بریگیڈیئر جاوید سے بات کروائی جو وہاں پرنسپل ہیں۔ بریگیڈیئر جاوید نے مجھے گرلز کیڈٹ کالج میں مدعو کیا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ بچیوں کو بہادر، خود اعتماد، ذہین اور جسمانی طور پر بہت مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں جس کے لئے آپ کے ڈرامے ہمیں یاد ہیں۔ یہ ڈرامے ہمارے کالج کی کیڈٹس نے بھی دیکھے ہیں اور اب وہ آپ کے ساتھ ایک شام منانا چاہتی ہیں۔ انہیں مایوس مت کیجئے گا۔ میں انہیں مایوس کیسے کر سکتی تھی۔ میں نے فوراً ہامی بھر لی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ہماری فوج میں ہماری بچیوں کا بھی ایک باقاعدہ دستہ تیار ہو رہا ہے جو ملک اور قوم کی حفاظت اپنے اپنے طور پر کریں گی۔

khawabookitabeer.jpg
ویسے تو ملک کے بہت سے خوبصورت مقامات دیکھ چکی ہوں لیکن پہلے کبھی مردان نہیں گئی تھی۔ پاکستانی افواج کے توسط سے بھی کئی جگہ گئی ہوں۔ تبھی سے اپنی افواج کی محبت دل میں چراغ کی طرح روشن ہے اور میرا خیال ہے کہ اس ملک کے ہر باہوش انسان کو ان سے محبت ہو گی جو ہمارے لئے سختیاں جھیلتے ہیں۔ بیرونی دشمنوں اور اندرونی غداروں سے نپٹتے رہتے ہیں۔ ہرروز کی خبروں میں کبھی سرحدوں پر کبھی ملک کے اندر ملک پر اپنی جان نچھاور کرتے رہتے ہیں۔ ان کے گھر والوں کے دل سے پوچھئے جن کی دنیا میں اندھیرا ہو جاتا ہے۔ پھر بھی وہ ماں باپ اپنے دوسرے بیٹے کو ملک کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔ مگر اب کچھ باشعور لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر بیٹے ملک کی حفاظت کر سکتے ہیں تو بیٹیاں بھی کر سکتی ہیں۔ اس ملک کی بیٹیاں بزدل نہیں مگر انہیں مواقع نہیں ملتے۔


ہمارا استقبال اسلام آباد ایئرپورٹ پر وائس پرنسپل شمع جاوید نے کیا۔ مردان تک کا راستہ بڑا خوبصورت ہے۔ راستے میں مسز شمع مجھے ان 71بچیوں کے بارے میں بتاتی رہیں جو کیڈٹ کالج کا پہلا بیچ ہے۔ میں حیران تھی کہ ان علاقوں میں تو لوگ بچیوں کو سکول کالج بھیجنے سے گھبراتے ہیں کُجاکہ کیڈٹ کالج، ملٹری ٹریننگ۔ مگر مسز شمع نے بتایا کہ ماں باپ خود آ کر بڑے شوق سے ان بچیوں کو داخل کروا کے گئے ہیں۔ کئی سو لڑکیاں آئی تھیں جن میں سے 71طالبات کا انتخاب کیا گیا۔ کوئی سفارش نہیں کوئی قرابت نہیں۔ کاش ملک بھر میں یہ طریقہ رائج ہو جائے تو کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی۔


ہم کوئی تین گھنٹے کا سفر کر کے مردان گرلز کیڈٹ کالج میں داخل ہوئے۔ پورچ میں گاڑی رکی تو پرنسپل بریگیڈیئر جاوید اپنے پورے عملے کے ساتھ استقبال کے لئے موجود تھے۔ کچھ کیڈٹ بچیاں فل یونیفارم میں پھول پیش کرنے آگے بڑھیں۔ اس لمحے میں نے محسوس کیا کہ مجھے میرے خوابوں کی تعبیر مل گئی۔ میں نے یہی خواب دیکھے تھے کہ اس ملک کی لڑکیوں کو ان کے وجود کی گواہی مل جائے۔ یہ مان لیا جائے کہ وہ کمزور نہیں، بہت مضبوط ہوتی ہیں۔ ان میں بے انتہا قوت برداشت ہوتی ہے اور اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ سب کچھ کر سکتی ہیں۔ ایک ہاتھ میں قلم اور کتاب سنبھال سکتی ہیں تو دوسرے ہاتھ میں بندوق بھی اٹھا سکتی ہیں۔ دشمن سے نپٹنے کے لئے دونوں بازوئوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستانی افواج نے اس بات پر یقین کرتے ہوئے بچیوں کو اپنے حلقے میں لے لیا۔ پرنسپل بریگیڈیئر جاوید مجھے ساتھ لے کر کالج کے اندر گئے۔ پہلے ہم آفس میں گئے۔ اساتذہ سے ملاقات کی۔ جوش اور جذبے سے بھرپور خواتین اور حضرات تھے۔ چائے بہت سے لوازمات کے ساتھ پیش کی گئی۔ یہ سن کر تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی کہ بچیاں 12سے 14سال کی عمر کی ہیں اور اس حساب سے انہیں مختلف کلاسز میں رکھا گیا ہے۔

ویسے تو ملک کے بہت سے خوبصورت مقامات دیکھ چکی ہوں لیکن پہلے کبھی مردان نہیں گئی تھی۔ پاکستانی افواج کے توسط سے بھی کئی جگہ گئی ہوں۔ تبھی سے اپنی افواج کی محبت دل میں چراغ کی طرح روشن ہے اور میرا خیال ہے کہ اس ملک کے ہر باہوش انسان کو ان سے محبت ہو گی جو ہمارے لئے سختیاں جھیلتے ہیں۔ بیرونی دشمنوں اور اندرونی غداروں سے نپٹتے رہتے ہیں۔ ہرروز کی خبروں میں کبھی سرحدوں پر کبھی ملک کے اندر ملک پر اپنی جان نچھاور کرتے رہتے ہیں۔

چائے کے بعد پرنسپل اور وائس پرنسپل مجھے مختلف کلاسز دکھانے کے لئے لے گئے۔ بریگیڈیئر جاوید نے کو ریڈور میں ہی چلتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ٹیچنگ اسٹاف بہترین ہے۔ مختلف مضامین پڑھانے کے لئے ٹیچرز کا انتخاب بے حد محنت سے کیا گیا ہے۔ مضامین کے ساتھ ساتھ انہیں مذہبی تعلیم اور تربیت بھی دی جاتی ہے۔


ہم انہیں جدید ترین ٹیکنالوجی پڑھا رہے ہیں۔ آپ ہماری لیبارٹریز دیکھئے ان میں جدید ترین آلات مہیا کئے گئے ہیں۔ بچیوں کو تعلیم ڈائیلاگ کی صورت میں دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم مختلف موضوعات کے لئے گیسٹ اسپیکرز بھی بلاتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبات کو

Excursions

پر بھی لے جاتے ہیں۔ باقاعدگی سے ایجوکیشنل ٹرپس ہوتے ہیں۔ہم کلاسز کے اندر گئے جہاں ٹیچرز پڑھا رہی تھیں۔ سوال و جواب ہو رہے ہیں۔ ہم داخل ہوتے تو بچیاں سلیوٹ کرتیں، پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتیں۔ کچھ دیر ہم کلاس روم کی پشت کی طرف کھڑے ہو کر جائزہ لیتے رہے۔ ہر کلاس روم میں پشت کی طرف دو کرسیاں دیوار کے ساتھ رکھی تھیں جہاں میرا خیال ہے کہ وقتاً فوقتاً پرنسپل یا وائس پرنسپل جائزہ لینے کو رُکتے ہوں گے۔
کلاسز دیکھنے کے بعد ہم بچیوں کے ہاسٹل میں گئے۔ کمرے بے حد اچھے لگ رہے تھے۔ فرنیچرگو کہ سادگی سے بنایا گیا تھا۔ لیکن ساخت اور رنگوں کی آمیزش سے کمرے بہت نفیس لگ رہے تھے۔ ہرکمرے میں چار بچیوں کے رہنے کا انتظام تھا۔ بیڈ اوپر نیچے دو بچیوں کے لئے بنائے گئے تھے۔ ہر بچی کے لئے ایک الماری اور ایک ڈیسک کتابوں کے لئے۔ پرنسپل صاحب نے بتایا کہ یہ سب اس مقصد کے تحت تیار کئے گئے ہیں کہ جب بچیاں کلاسز اور ٹریننگ سے فارغ ہو کر واپس آئیں تو انہیں ذہنی سکون اور خوشی محسوس ہو۔ میرا خیال ہے کہ بچیاں خود ہی صبح بیڈ بنا کر ناشتے کے لئے نکلتی ہوں گی۔


اس کے بعد شمع مجھے ہاسٹل کی عمارت کے پیچھے بنے ہوئے وائس پرنسپل اور پرنسپل کے گھروں کی طرف لے گئیں۔ مجھے پرنسپل صاحب کے گھر کے گیسٹ روم میں ٹھہرایا گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے لئے ہم نے پرنسپل آفس میں بیٹھ کر میڈیا سے آئے ہوئے حضرات کو انٹرویو دیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ اس کیڈٹ کالج کو دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے۔ چالیس سال سے یہی کوشش کرتی آئی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بھی آزادی سے سانس لینے کا موقع ملے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کے حساب سے جو بننا چاہتی ہیں، بنیں۔ ان کے راستے میں زبردستی کی رکاوٹوں کو ہٹا دیا جائے۔ انہیں حوصلہ مند بنایا جائے تاکہ وہ نہ صرف خود اپنی حفاظت کر سکیں بلکہ اگر ملک پر کوئی پریشانی آئے تو وہ بھی آگے بڑھ کر اس کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ میرے خواب تھے اور آج مجھے لگ رہا ہے کہ خدا نے میری سن لی ہے۔ یہ پہلا بیچ ہے۔ کل دوسرا آئے گا پھر تیسرا۔ قوم کو کتنا سہارا ملے گا۔ انٹرویو دینے کے بعد مجھے پرنسپل صاحب کی بیگم اپنے گھر لے گئی۔میرا کمرہ مجھے دکھایا جو بے حد خوبصورتی سے سجا ہوا تھا۔ بیگم جاوید بے حد مہمان نواز ہیں اور ان کی تینوں بیٹیاں بلکہ ایک بھانجی بھی بہت پیار کرنے والی ہیں۔ بیٹیوں نے شام کے لئے میرے کپڑے استری کر کے لٹکا دیئے۔ پھر مجھے آرام کرنے کو کہہ کر چلی گئیں۔ میں جو زندگی میںمشکل سے ہی صبح چار بجے اٹھتی ہوں گی۔ آج مجھے اٹھنا پڑا تھا کیونکہ فلائٹ 7بجے کی تھی۔ 6بجے ایئرپورٹ پہنچنا تھا اور ایئرپورٹ تک کا راستہ بھی 45منٹ کا تھا۔ ان لوگوں کو محسوس ہو رہا ہو گا کہ میں چلتے چلتے ہی سو جائوں گی۔ اس لئے مسز جاوید مجھے آرام کرنے کا کہہ کر چلی گئی اور میں لیٹتے ہی سو گئی۔ دو گھنٹے بعد ایک بچی نے آ کر جگایا۔ جلدی جلدی تیار ہوئی حالانکہ آڈیٹوریم کی عمارت سامنے ہی تھی لیکن مجھے گاڑی میں لے جایا گیا۔ جہاں کیڈٹس نے باقاعدہ پھول پیش کر کے استقبال کیا۔ پرنسپل ، وائس پرنسپل سب موجود تھے۔ ہم سب آڈیٹوریم میں داخل ہوئے۔ درمیانی راستے سے چلتے ہوئے اسٹیج کے سامنے پہنچے۔ اسٹیج پر تین کرسیاں رکھی گئی تھیں۔پشت پر لکھا ہوا تھا۔ ''حسینہ معین کے ساتھ ایک شام''


میں اسٹیج پر گئی۔ درمیانی کرسی پر مجھے بٹھایا گیا۔ انٹرویو لینے کے لئے دو گرل کیڈٹس اوپر آئیں۔ سلیوٹ کیا اور میرے دائیں بائیں بیٹھ گئیں۔ کیڈٹ مریم میرے دائیں جانب تھیں اور کیڈٹ عرورا شکیل بائیں جانب تھیں۔ تعارفی تقریر پرنسپل اور وائس پرنسپل نے کی۔ ایک کیڈٹ نے پھول پیش کئے، اس کے بعد انٹرویو شروع ہوا۔اس سے پہلے ایک ٹیچر نے میرا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان بچیوں نے آپ کے ڈرامے دیکھ لئے ہیں اور یہ بچیاں آپ کے ڈراموں کی لڑکیوں کی طرح بننا چاہتی ہیں۔ تالیوں کی گونج میں نے اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے میرا مان رکھ لیا۔ جو میں چاہتی تھی، آج میں وہ سامنے دیکھ رہی ہوں۔ یونیفارم میں ملبوس چمکتے چہروں اور چمکتی آنکھوں والی بچیاں جو اتنے وقار سے چلتی ہوئی میرے پاس آتیں سلیوٹ کرتیں پھر بیٹھ کر سوال کرتیں۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ بارہ چودہ سال کی بچیاں ہیں ۔سوال جواب کا سیشن ایک گھنٹے کا تھا۔
میری خواہش ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز کے اینکر پرسن اس طرح کے سنجیدہ اور معلوماتی سوالات کیا کریں۔ اس کے بعد میری تقریر تھی۔ خوش بھی تھی، جذباتی بھی ہو رہی تھی۔ اس لئے بہت کچھ کہہ دیا۔ بلکہ جو پیغام آج تک ڈراموں میں دیتی رہی ہوں آج ان بچیوں کو دے دیا اور مجھے یقین ہے کہ یہ بچیاں ثابت کریں گی کہ عورت کمزور نہیں ہوتی، کمزور بنائی جاتی ہے۔ تالیوں کی گونج میں یہ شام اختتام کو پہنچی۔


اس کے بعد ڈنر کا اہتمام تھا۔ بچیاں اپنے ڈنرکے لئے چلی گئیں، ہم لوگ اس میز پر آ گئے جہاں پرنسپل، وائس پرنسپل، اسٹاف ممبر اور میں ان کے ہمراہ موجود تھی۔ مزے دار کھانا تھا۔ کھانے کے دوران پرنسپل نے بتایا کہ کیڈٹس آپ سے آٹوگراف لینا چاہ رہی ہیں۔ ہنسنے لگے کہ چونکہ یہاں موبائل رکھنا منع ہے اس لئے وہ سیلفی تو نہیں لے سکتیں۔ انہوں نے فوٹو گرافر سے کہہ کر میرے ساتھ کچھ تصویریں بنوا لی تھیں۔ اب وہ کل صبح کے سیشن میں آپ سے آٹو گراف لیں گی۔ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ اس طرح تو میں ذاتی طور پر ان مستقبل کے نگہبانوں سے مل سکوں گی۔ بات چیت کر سکوں گی۔


کھانے کے بعد ہم اپنے کمرے میں آ گئے۔ یہاں ہمارا سیشن بریگیڈیئر جاوید کی بیٹیوں کے ساتھ تھا۔ شمع بھی آ گئیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں کی زندگی کیسی ہے۔ یہ جگہ بالکل الگ ہے جیسے سمندر میں کوئی جزیرہ۔ بچیاں ہوسٹل کی زندگی سے اداس تو نہیں ہو جاتیں۔ انہوں نے بتایا کہ شروع میں چند دن تو شائد اجنبی جگہ کا اثر ہوا ہو گا، مگر اب تو سب بہت خوش رہتی ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہات سے آئی ہیں مگر اب آپس میں اتنی گھل مل گئی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کوئی کراچی کی بچی ہے تو کوئی لاہور کی۔ کوئی بلوچستان کے کسی شہر کی تو کوئی پشاور کی۔ ہر علاقے کی بچیاں ہیںـ چلیں کہیں تو اتفاق ہوا۔ ایک جگہ تو ایسی ہے جہاں یہ نہیں کہا جاتا کہ ہم یہ ہیں اور تم وہ ہو۔ حال کی تربیت ہو گی، مستقبل میں سارا نفاق دور ہو جائے گا۔


اس رات میں بہت جلدی سو گئی۔ صبح جب ناشتے کی میز پر پہنچی تو شائد مسز جاوید نے برنچ کا انتظام کیا تھا۔ بے شمار چیزیں بنائی ہوئی تھیں۔ اگرچہ ہم ہیں تو دیسی مگر ناشتہ ہمیشہ انگریزی کرتے ہیں۔ اس لئے ہم نے آملیٹ اور ٹوسٹ لینا چاہے۔ بریگیڈیئر صاحب نے کہا یہ نہیں ہو گا آپ پراٹھے تو کھا کر دیکھیں اور تھوڑے پائے بھی چکھیں۔ میں نے پراٹھے اور آملیٹ کا ناشتہ کیا۔ ان لوگوں کا دل رکھنے کو پائے بھی چکھے اور جو کچھ سامنے تھاکوشش کی کہ سب کو تھوڑا تھوڑا موقع دوں۔ کیا مزے دار ناشتہ تھا۔ ناشتے کے بعد پرنسپل صاحب، بیگم جاوید اور شمع مجھے لے کر پھر کالج کی بلڈنگ میں اپنے آفس میں آ گئے۔ کوریڈورمیں کیڈٹس لائن سے کھڑی تھیں۔ میں نے پوچھا بچیاں اس طرح کیوں کھڑی ہیں پتہ چلا کہ آٹوگراف لینا ہے۔

khawabookitabeer1.jpg
71بچیوں کو آٹو گراف دینا اور وہ بھی تفصیل سے بڑا کام تھا۔ ایک گھنٹہ لگ گیا۔ ساتھ ساتھ پرنسپل صاحب اس ادارے کے بارے میں بتاتے جا رہے تھے۔ یہ گرلز کیڈٹ کالج اپنی طرز کا منفرد ادارہ ہے۔ جو مردان میں قائم کیا گیا ہے۔ بہت شاندار منصوبہ ہے جو آنے والے وقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت پرنسپل میں ان بچیوں کو مستقبل کے پاکستان کو سنبھالنے والی لیڈرز بنانا چاہتا ہوں۔ ہماری کوشش ہے کہ ان کی زندگی کو آنے والے وقت کے مطابق تشکیل کریں۔ یہ اکیسویں صدی کے بچے ہیں۔ یہ ملک و قوم اور وہ پاکستان بنائیں گی جو قائداعظم کا تصور تھا۔ علامہ اقبال کا خواب تھا۔ یہی بچیاں اس ملک کو اتنا مضبوط اور کامیاب بنائیں گی کہ اس کا شمار دنیا کے بہترین ممالک میں ہو گا۔ اس لئے ہم انہیں ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کی تربیت دے رہے ہیں ۔ اسپورٹس ہمارے یہاں لازمی ہے۔ ہر بچی کو کھیلوں میں حصہ لینا ہوتا ہے۔ ہمیں ان کی کردارسازی کرنا ہے۔ شخصیت کو نکھارنا ہے۔ اساتذہ انہیں ہر وقت گائیڈ کرتے رہتے ہیں۔ چاہے یہ کلاس میں ہوں، گرائونڈ میں ہوں یا ہوسٹل میں۔ کیسی مضبوط دیوار تعمیر ہو رہی ہے ہمارے ملک میں۔ آٹوگراف سے فارغ ہو کر میں بچیوں سے ملی۔ رخصت کی اجازت لی، بچیاں اسی طرح لائن میں واپس چلی گئیں۔ پرنسپل صاحب نے وزیٹرز بک میرے سامنے رکھ دی۔ میں بہت جذباتی ہو رہی تھی۔ کیا کچھ لکھا پتہ نہیں۔
اب مجھے واپس جانا تھا۔ ایک دو دن اپنی بھانجی کے پاس راولپنڈی میں رہنا تھا۔ وائس پرنسپل شمع مصر تھیں کہ وہ مجھے وہاں تک چھوڑ کر آئیں گی۔ میں نے بہت کہا کہ اتنا تکلف کیوں کر رہی ہیں۔ واپسی پر آپ کو اکیلے آنا ہو گا مگر وہ نہیں مانیں۔ سب سے رخصت ہو کر میں گاڑی میں شمع کے ساتھ بیٹھ گئی۔ سوچ رہی تھی کہ کاش کسی نے ہمارے زمانے میں ایسا سوچا ہوتا تو ہم بھی بریگیڈیئر وغیرہ ہوتے۔ جب ہزاروں خواتین پتھر کی دیوار بن کر کھڑی ہوتیں تو کسی کی مجال تھی کہ اس ملک پر بری نظر ڈالے ؟یا اندرونی خلفشار کیسے ممکن ہوتا! کیونکہ عورت امن چاہتی ہے، خوشحالی، سکون اور پیار چاہتی ہے۔


چلتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ اس جگہ کو، یہاں کے لوگوں کو، پرنسپل صاحب، وائس پرنسپل، بچیوں کو کبھی نہیں بھول سکوں گی۔ شائد میں نے کوئی نیک کام کیاتھا جو مجھے یہ موقع ملا۔
راستے میں شمع نے اس علاقے کی مشہور مٹھائی خرید کر مجھے تحفے میں دی۔ مردان سے تو نکل آئے مگر اسلام آباد کے دھرنے کا ہمیں پتہ نہیں تھا۔ ہم بری طرح پھنس گئے۔ کبھی اس راستے پر کبھی دوسرے راستے پر۔ سارا ڈسپلن کیڈٹ کالج کے گیٹ پر چھوڑ آئے تھے۔ پورے سات گھنٹے میں بحریہ ٹائون پہنچے۔ تھکن سے برا حال تھا حالانکہ راستے بھر مَیں اور شمع مزیدار باتیں کرتے ہوئے آئے تھے۔بھانجی کے گھر پر میں نے شمع کو چائے کے لئے روک لیا۔ ڈرائیور بھی تھک گیا ہو گا۔ سب نے چائے پی، کچھ کھایا۔ اس کے بعد میں نے شمع کو رخصت کیا۔ مگر ان دو دنوں کی یادیں آج بھی میری آنکھوں میں چراغوں کی طرح روشن ہیں۔

مضمون نگار: کی ممتاز ڈرامہ نگار ہیں۔ آپ نے ٹی وی اور ریڈیو کے لئے بہت سے کھیل لکھے جن میں سے بعض نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔
 
Read 131 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter