ہندوستان میں مسلمانوں کا بدترین استحصال

Published in Hilal Urdu

تحریر: عبد الستار اعوان


اب تک گئو رکھشکوں کے حملوں کے جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز ایسے نکتے سے کیاجاتا ہے جس سے ملزموں کے بچ نکلنے کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔کسی مسلمان کے قتل کو جنونی ہندوئوں کی کارستانی قرار دینے کے بجائے اسے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کا نام دیاجاتا ہے اور ظاہر ہے ہجوم کے نام پر اس طرح کی کارروائی سے کسی کو بھی سزا دلانے میں مدد نہیں مل سکتی ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس ریاستی آشیر باد سے قاتل صاف بچ نکلتے ہیں ۔

بین الاقومی شہرت یافتہ ہندوستانی صحافی اور ادیب خوشونت سنگھ کی کتاب 'دی اینڈ آف انڈیا
(The End of India)
کو ہندوستان میں متنازعہ قرار دیاجاچکاہے کیونکہ انہوں نے اس کتاب میںہندوستانی حکمرانوں ،اداروں اور جنونی ہندوئوں کی تنگ نظری ، تعصب اورپُرتشدد رویوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ انہوںنے بی جے پی کے متعلق لکھا کہ یہ اپنی ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ اپنا فسطائی ایجنڈ ا چھپانے کے لئے جمہوریت کو استعمال کر تی ہے اور اس کے راہنمائوں کے ہاتھ انسانی خون سے آلود ہ ہیں۔خوشونت سنگھ نے ان خیالات کا اظہار بہت عرصہ پہلے کیا تھا اورآج ان کے اس نظریے کی تصدیق ایک بار پھر ہو رہی ہے کہ ہندوستان کی معروف سیاسی جماعت کانگریس کے راہنما راہول گاندھی نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کے سامنے ہندوستانی حکمرانوں کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ 12ستمبر2017ء کو یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور نریندر مودی انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں ،ہندوستان میں 'گئو رکھشا'کے نام پر مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں مودی حکومت کی سرپرستی میں کہیں دلتوں کو مارا پیٹا جاتا ہے تو کہیں مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، یہ مودی حکومت کی طرف سے ہندوستان میں نئی چیز ہے جس سے ملک مسلسل خطرات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نفرت اورگروہ بندی کی سیاست میں لاکھوں لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب ہندوستان میں ان کا کوئی مستقبل نہیں۔


اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں پرجن مختلف حیلے بہانوں سے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان میں ایک اہم ترین 'گئو رکھشا'کاایشو ہے جس کی وجہ سے ہندوستانی مسلمان طویل عرصے سے خوف ،تشدد اور دہشت کی فضا میں زندگی بسر کرنے پر مجبورہیں ۔'گئورکھشا 'کے نام پر مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کا اندازہ صرف اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کانگریس کے راہول گاندھی بھی اس پر خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے ۔' گئو رکھشا' کے نام پر ہندوستان میں جس انداز سے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اس کا تصورہی لرزا دیتا ہے ۔ ہندی زبان میں ''گئو''گائے کو کہتے ہیں اور ''رکھشا''کے معنی ہیں تحفظ 'یعنی گائے کا 'تحفظ' ہے ۔ ہندو عقیدے کے مطابق کرشن جی''خدا کا اوتار ''گائے چراتے اور پالتے تھے لہٰذا ہندو گائے کو مقدس مان کر اس کی حفاظت کرتے ہیںاور اسے ذبح کرنے سے روکتے ہیں۔ہندوستان کی تمام ریاستوں میں گئو رکھشا جیسی متشدد مہم جار ی ہے اور مسلمانوں پر ہونے والے یہ مظالم ہندوستانی میڈیا میں بھی جگہ نہیں لے پاتے کیونکہ انہیں حکومت سے جڑے اپنے کاروباری مفادات زیادہ عزیز ہیں۔
گزشتہ چند ماہ سے گئو رکھشا مہم میں تیزی آئی ہے، تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں اورہندوستانی مسلمانوں میں شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو ا ہے ۔ گئو رکھشا کے حوالے سے ایک ہندوستانی صحافی نے بتایا کہ یہ مظالم کسی مخصوص خطے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں سالہاسال جاری رہتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک سیکڑوں مسلمان ان واقعات میں شہید یا زخمی ہو چکے ہیں لیکن ریاستی اداروں نے ہندو انتہاپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ بجرنگ دَل، وشوا ہندو پریشد،ا ر ایس ایس اور اسی طرح کی دیگر انتہا پسند تنظیمیں ان واقعات میںملوث ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ان واقعات میں کمی بھی آجاتی ہے لیکن کچھ وقفے سے یہ پورا سال ہی جاری رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں تقریبا ً دو درجن کے قریب ایسے واقعات رونماہو چکے ہیں،ایک تازہ واقعے میں دو نوجوانوںکو گائو کشی کے الزام میں ہندوشرپسندوں نے اس وقت حملہ کر کے قتل کر ڈالاجب وہ گائے کی کھال اتار رہے تھے 'بعد میں پتہ چلا کہ مقتولین نے گائے کو ذبح نہیں کیا تھا بلکہ مردہ گائے کی کھال اتار رہے تھے اور وہ بے گناہ تھے۔


گزشتہ دنوں ہندوستانی شہر اورنگ آباد میں اس ظلم کے خلاف ہزار وں مسلمان سڑکوں پر آگئے جن کی قیادت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اوررکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کر رہے تھے ۔ میڈیا کے مطابق اس احتجاج میں پچاس ہزار سے زائد افراد شامل تھے جنہوں نے گائو رکھشا مہم کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔اس موقع پر اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ آئے روز گئو رکھشا کا ڈھونگ رچا کر مسلمانوںکو قتل کیا جاتا ہے اور ان واقعات کی ویڈیو ز گھر گھر پہنچتی ہیں لیکن نریندرمودی پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گئو رکھشا کے نام پر جتنی بھی شدت پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں ان کے خلاف مودی عملی اقدامات نہیں اٹھاتے۔ دوسری جانب مہاراشٹرا ،جھاڑکھنڈ، ہریانہ میںگائے ذبح کرنے کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے ہیں تو اس سے مودی اور ان کی حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر کسی کی ماں قتل ہوتی ہے تو اسے ایک سال کی بھی سزا نہیں ہوتی لیکن اگر کہیں گائے ذبح ہو جاتی ہے تو اس پر سات سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی بین الاقوامی میڈیا میں بہت زیادہ رپورٹنگ ہورہی ہے اورا س طرح ہم دنیا کوکوئی اچھا پیغام نہیں دے رہے ۔

hindustanmainmuslim1.jpg


روزنامہ نئی دنیا ہندوستان کا مؤقر قومی جریدہ ہے ، اس نے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا کہ ہر سال عید الاضحی کے موقع پر ملک بھر میں یہ اعلانات ہوتے ہیں کہ مسلمان عید احتیاط کے ساتھ منائیں اور گائے کی قربانی سے پرہیز کریں۔ذبیحہ کے حوالے سے سب سے زیادہ وہ ریاستیں متاثر ہیں جن میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ دوسری طرف اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے وزرات کا منصب سنبھالتے ہی مسلمانوں پر مختلف قسم کی قد غنیں لگانا شروع کر رکھی ہیں۔ہندوستان میں درجن بھر ریاستیں ایسی ہیں جہاں گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی ہے اور سخت قوانین بنائے گئے ہیں،ان میں ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ ، اترکھنڈ ، اتر پردیش، راجھستان ، گجرات ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اور مقبوضہ جموں و کشمیر وغیرہ سرفہرست ہیںجبکہ آٹھ کے قریب ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر جزوی پابندی ہے ۔ گئو رکھشکوں کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے پیش نظر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت
(AIMMM)
نے علامیہ جاری کیا ہے کہ جن علاقوں میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے وہاں مسلمان گائے ذبح نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے لئے مسائل پید ا ہو ں گے اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں لیکن دوسری جانب حالت یہ ہے کہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ گائے کی قربانی اور ذبیحہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں بلکہ کسی بھی جانور کے گوشت کو گائے کا گوشت ثابت کر کے بھی مسلمانوں کو پھنسایا جاسکتا ہے اور ایسے لاتعداد و اقعات رونما ہو چکے ہیں۔ بعض ریاستوں میں جانور وں کی خریدو فروخت کے حوالے سے بھی مسلمان ریاستی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ بالخصوص عید کے دنوں میں جانوروں کی خریدو فروخت کے معاملے میں مسلمانوں پر زیادہ پابندیاں لگا دی جاتی ہیںاور انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مختلف پا بندیوں کاسامنا رہتا ہے۔


ہندوستانی حکمرانوں اور اداروں کی ہٹ دھرمی دیکھئے کہ جب مسلمان گائے ذبیحہ پر پابند ی کے قانون پر پوری طرح عمل کرتے ہیںتو پھر بھی انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیاجاتا ۔ جیسا کہ حال ہی میں عیدالاضحی کے موقع پر ہندوستانی ریاست جھاڑ کھنڈ سے خبر آئی کہ انتظامیہ نے پچاس کے قریب ایسے اونٹ اپنے قبضے میں لے لئے جو مقامی مسلمان قربانی کی غرض سے لائے تھے ۔ایسے واقعات کے بعد مسلمانوں میں غم وغصہ اور اشتعال پھیلنافطری امر ہے ۔ اسی طرح لکھنؤ میں بھی مقامی حکومت نے فیصلہ کیا کہ گائے اور اونٹ کی قربانی بھی نہیں کر نے دی جائے گی اور سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی گئی کہ اونٹ کی خریدو فروخت کرنے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے ،ممبئی میں بھی اعلان کیا گیا کہ حکومتی اجازت نامے کے بغیر کسی بھی جانور کو ذبح نہیں کیا جا سکتا ، اگر کوئی مسلمان بکرے اور دبنے کو بھی ذبح کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے مقامی انتظامیہ سے این او سی لینا ہوگا ۔


اس ضمن میں معروف ہندوستانی صحافی غضنفر علی خاں کہتے ہیں کہ نریندر مودی نے گزشتہ دنوں تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی ، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ گئو رکھشا کے نام پر ہونے والے مظالم کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ریاستی حکومتوں کا اختیاری مسئلہ ہے ، یعنی انہوں نے مرکزی حکومت کو اس ضمن میں کلی طور پر بری الذمہ قرار دیا ہے ۔ مودی کا یہ کہناکہ گئو رکھشکوں کی زیادتیوں پر قابو پانا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی مرکزی حکومت کو ان واقعات کے لئے ذمہ دار قرار نہیں دیتے۔ یہ صحیح ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ریاستوں کا مسئلہ ہے لیکن حیرت ا س پربھی ہے کہ یہ واقعات ایسی ریاستوں میں ہو رہے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ دوسرے لفظوں میں مودی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گئو رکھشکوں کے خلاف اگر ریاستیں کارروائی نہیں کرتیں تو اس کی ذمہ داری ان پر ہرگزعائد نہیں ہوگی۔ اس موقع پر مودی نے یہ بھی کہا کہ ''گائو ہندو دھرم میں ایک مقدس چیز ہے'' تو کیااس سے وہ مسلمانوںکو کوئی واضح پیغام دینا چاہتے ہیں اور وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی گائے کو اسی طرح مقدس سمجھیں ...؟مودی کی یہ بات دراصل ان کے دل کی بات ہے اور ایسا کہہ کر وہ قتل و غارت گری اور متشدد عناصر کی کھلے لفظوں میں حمایت کر رہے ہیں ۔ گئو رکھشکوں کو اپنی من مانی کرنے کے لئے واضح پیغام دینے کے بجائے مودی نے مصلحت سے کام لیا اور ان کی ساری گفتگو کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ وہ گئو رکھشکوں کے لئے انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔


پاکستان کے ایک مؤقرقومی جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں عدم برداشت کے بڑھتے واقعات اور گئو رکھشا کے نام پر بے قصو ر و معصوم مسلمانوں کے قتل کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مودی حکومت نے گئو رکھشکوں کے بھیس میں موجود دہشت گردوں کومسلمانوں کو قتل کرنے کا لائسنس دے رکھا ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کسی بھی واقعے کے بعد مجرموں کے خلاف کارروائی اور حفاظتی اقدامات کے بجائے حکومت اور بی جے پی کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات جاری کئے جاتے ہیں تاکہ شرپسندعناصر کی حوصلہ افزائی ہو ۔ دستور اور قانون کی آڑ میں آر ایس ایس نے پورے ہندوستان میں اپنے کارندوں کا جال بچھا دیا ہے جہاں
Self Defence
کے نام پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے ۔ اب تک گئو رکھشکوں کے حملوں کے جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز ایسے نکتے سے کیاجاتا ہے جس سے ملزموں کے بچ نکلنے کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔کسی مسلمان کے قتل کو جنونی ہندوئوں کی کارستانی قرار دینے کے بجائے اسے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کا نام دیاجاتا ہے اور ظاہر ہے ہجوم کے نام پر اس طرح کی کارروائی سے کسی کو بھی سزا دلانے میں مدد نہیں مل سکتی ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس ریاستی آشیر باد سے قاتل صاف بچ نکلتے ہیں ۔
کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ہندوستان دنیا بھر میں یہ واویلا کرتا ہے کہ وہ ایک سیکولر ریاست ہے لیکن اس ملک میں بی جے پی جیسی جماعتیںانتہائی متعصبانہ انداز سے مذہب کی سیاست کررہی ہیں اور آر ایس ایس ، وشوا ہندو پریشد اور شیو سینا جیسے متشدد گروہ اور مسلح جتھے اس''سیکولر سٹیٹ''کا سب سے بڑا تعارف ہیں۔

مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت
درباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے
آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پر جو بشارت
تمہیدِ مسَّرت ہے کہ طُولِ شبِ غم ہے
جس دھجّی کو گلیوں میں لئے پھرتے ہیں طفلاں
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا عَلم ہے
جس نور سے ہے شہر کی دیوار دَرخشاں
یہ خونِ شہیداں ہے کہ زرخانۂ جم ہے
حلقہ کئے بیٹھے رہو اِک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے

faiz_ahmed.jpg

فیض احمد فیض۔ غُبارِ ایام

*****

 
Read 137 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter