نیپال کی بھارتی استعمار سے مزاحمت

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر رشید احمدخان

کسی ملک کی خارجہ پالیسی پر اُس ملک کے اندرونی حالات کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ بلکہ خارجہ پالیسی دراصل اس ملک کے داخلی حالات کا عکس ہوتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جغرافیائی محلِ وقوع یا بیرونی سٹریٹجک ماحول بھی ملکوں کے اندرونی سیاسی حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔


نیپال ہمالیائی سلسلے کے ساتھ ساتھ متعدد وادیوں، بے شمار آبشاروں، ہزاروں ندیوں اور بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں پر مشتمل ایسا ہی ایک ملک ہے۔ اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دُنیا کی دو بڑی طاقتوں یعنی چین اور بھارت کے درمیان ایک سینڈوچ کی مانند واقع ہے۔ چین کی جانب ہمالیہ کے بلند و بالا سلسلے اور دُشوار گزار گھاٹیاں ہیں جو تمام سال برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ صرف جنوب میں بھارت کے ساتھ 800 کلو میٹر لمبی سرحد کے ساتھ ساتھ ہموار زمین ہے۔ ہمالیہ پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے چین کے ساتھ آمدورفت اور تجارت بہت محدود ہے۔ اس لئے نیپال کی دو تہائی سے زائد درآمدی تجارت بھارت کے راستے ہوتی ہے۔ اب تک بھارت نے نیپال کی اس مجبوری کا خوب فائدہ اٹھایا ہے اور نہ صرف داخلی سیاست بلکہ نیپال کی خارجہ پالسیی کو بھی کنٹرول کرتا رہا ہے۔ چین کے ساتھ مسابقت کی بناء پر بھارت نیپال کو اپنے حلقۂ اثر میں رکھنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے بھارت نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے ساتھ بھی نیپال کے قریبی تعلقات کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں نیپال کی اندرونی سیاست میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں اب بھارت کے لئے نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ذریعے اس کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس نوع کی ایک اہم تبدیلی نیپال کے حال ہی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ ان انتخابات میں بھارت کی حامی سیاسی جماعت یعنی نیپالی کانگرس کو شکست ہوئی اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یو۔ ایم۔ ایل) اور مائوسٹ کمیونسٹ پارٹی کے اتحاد کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ نیپال کی آئندہ حکومت ان ہی دوپارٹیوں اور ان کے اتحادیوں پر مشتمل ایک مخلوط حکومت ہوگی۔بیشتر مبصرین کی رائے ہے کہ ان انتخابات کے نتائج نے ثابت کردیا ہے کہ نیپال کے عوام آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کے تحت تمام ہمسایہ ملکوں، بشمول چین اور پاکستان، کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں اور انہوںنے نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ذریعے نیپال کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرنے کی بھارتی پالیسی کو مسترد کردیا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکرکرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ نیپال کی 80 فیصد سے زائد آبادی ہندو ہے اور بھارت کے بعد نیپال واحد ہندوریاست ہے۔ نیپال صرف اپنی تجارت اور روزمرہ ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے لئے ہی بھارت پر انحصار نہیںکرتا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان نہایت گہرے ثقافتی، لسانی بلکہ خونی رشتے قائم ہیں۔ نیپالی طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد بھارتی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہے اور نیپال کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت دورِ ابتلاء میں بھارت کی مہمان نوازی کا لطف اُٹھا چکی ہے۔ خودکمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے قیام کا اعلان1949 میں کلکتہ کے مقام پر کیاگیا تھا۔ کیونکہ اُن دنوں نیپال میں سیاسی سرگرمیوں پرپابندی تھی۔ اسی طرح1960 میں جب سابق شاہ مہندرا نے پارلیمانی جمہوریت کی بساط لپیٹ کر نیپال میں آمرانہ راج قائم کیا تھا، تو نیپالی سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں اور کارکنوں نے ملک سے بھاگ کر بھارت ہی میں پناہ لی تھی۔ لیکن اس کے باوجود نیپال کے عوام بھارت کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور چین اور پاکستان کو اپنا مخلص دوست سمجھتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ نیپال کے درمیان انحصار اور بالادستی کا رشتہ ہے اور مختلف مواقع پر اسی تعلق کو نیپال پر دبائو ڈالنے کے لئے بھارت نے جس طرح استعمال کیا ہے، اُس کی وجہ سے ہم مذہب اور ثقافتی طور پر انتہائی قریب ہونے کے باوجود ، نیپالی عوام بھارت سے کھنچے کھنچے رہتے ہیں اس کی طرف سے دوستی اور تعاون کے ہاتھ کو پلٹ کر نہیں دیکھتے لیکن چین، جسے بھارت ایشیا میں اپنا حریف سمجھتا ہے، کے ساتھ نہ صرف تجارتی بلکہ دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

nepalkibharti.jpg
نیپال کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کو ملک کے جمہوری سفر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ نیپال میں سیاسی استحکام کے دور کا آغاز ہوگا اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ کے دوران نیپال سخت انتشار اور سیاسی عدمِ استحکام کا شکار رہا ہے۔ 1996 سے2006 تک نیپال میں مائو پرست باغیوں کی طرف سے لڑی جانے والی گوریلا جنگ جاری رہی۔ اس جنگ میں نہ صرف ہزاروں نیپالیوں کی جانیں ضائع ہوگئیں بلکہ ملک کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ یعنی سیاحت کا شعبہ بھی بہت بُری طرح متاثر ہوا۔ اس سے نیپال میں غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا۔ نیپال میں بادشاہت ختم کرکے ایک وفاقی پارلیمانی نظام رائج کیاگیا۔ سیاسی عدمِ استحکام اور حکومت کی بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے نیپال کے اندرونی مسائل خصوصاً معاشی مشکلات میں کئی گنااضافہ ہوچکا ہے۔ اس لئے موجودہ انتخابات، جنہیں نیپال میں ایک مستحکم حکومت اور جمہوری استحکام کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے، کے بعد اُمید کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت نیپال کو ایک مستحکم انتظامیہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی اور اس کے لئے نیپال کو ہمسایہ ملک کی طرف سے امداد اور تعاون کی ضرورت ہوگی۔


ویسے تو نیپال ، بھارت سمیت خطے کے تمام ممالک کی جانب سے امداد اور تعاون کا خواہش مند ہوگا۔ لیکن توقع کی جارہی ہے کہ اس مقصد کے لئے نیپال کی نئی حکومت چین اور پاکستان کی طرف خصوصی طور پر رجوع کرے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین نیپال کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعاون پر مبنی روابط کو فروغ دینے کے لئے متعدد اقدامات کر رہا ہے۔ چین اور نیپال میں سڑک کے ذریعے پہلے ہی رابطہ قائم ہے۔ اب یہ دونوں ممالک ریل کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہورہے ہیں۔ چین کی مالی امداد سے نیپال میں دوسرا بڑا ہوائی اڈہ تعمیر ہو رہا ہے۔ 2015 میں جب بھارت کے ساتھ ملنے والی سرحد سے منسلک ترائی کے علاقے میں رہنے والے ''مادھیسی'' باشندوں نے نیپال کے لئے وفاقی سیٹ اپ پر اپنے تحفْظات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کر رکھی تھی، اور بھارت نے اسے بہانہ بنا کر نیپال کو روزمرہ ضروریات ِ زندگی، جن میں تیل بھی شامل تھا، کی سپلائی روک دی تھی تو چین نے اس موقعے پر آگے بڑھ کر نیپال کو ہزاروں لیٹر پٹرول اور ڈیزل فراہم کیا تھا۔ نیپال نے ایندھن کی سپلائی میں بھارت کی ہمیشہ ہمیشہ کی محتاجی ختم کرنے کے لئے اکتوبر2015 میں چین کے ساتھ پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کے لئے ایک دوطرفہ معاہدے پر بھی دستخط کئے ہیں۔ اسی طرح نیپال اپنے ہاں چین کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے اس کے وَن بیلٹ وَن روڈ منصوبے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کرچکا ہے۔ جبکہ بھارت نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ نیپال جنوبی ایشیا کی تنظیم برائے علاقائی تعاون ''سارک'' کا بھی رُکن ہے۔ اس تنظیم کے تحت سماجی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں جتنے بھی منصوبے شروع کئے گئے ہیں، نیپال اُن میں برابر کا شریک ہے۔ لیکن باہمی تجارت اور علاقائی تعاون برائے ترقی کی سُست رفتاری کی وجہ سے ''سارک'' کے دیگر رُکن ممالک کی طرح نیپال بھی خطے سے باہر علاقائی تعاون کی تنظیموں اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ مثلاً نیپال کو شنگھائی تعاون تنظیم میں ایسوسی ایٹ رُکن ملک کی حیثیت حاصل ہے جبکہ پاکستان اور بھارت نے حال ہی میں مستقل اراکین کی حیثیت سے شنگھائی تعاون تنظیممیں شمولیت اختیار کی ہے۔ گزشتہ 70برس کی بھارت اور نیپال کے تعلقات کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کٹھمنڈو کی طرف سے ایک آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کی کوشش کو بھارت نے نہ صرف ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے، بلکہ دہلی کی ہر حکومت نے اس سے باز رکھنے کی کوشش تھی کی ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے2014میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جن ممالک کا سب سے پہلے دورہ کیا، اُن میں نیپال بھی شامل ہے۔ وزیراعظم کے علاوہ بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج بھی متعدد بار نیپال کا دورہ کر چکی ہیں۔ ان سب ملاقاتوں کا مقصد بھارت اور نیپال کے دوطرفہ خصوصاً سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ چونکہ غربت اور پس ماندگی پر قابو پانے کے لئے نیپال کو اپنے وسائل خصوصاً ہائیڈروالیکٹرک صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے، اس لئے اُس نے ہر جانب بشمول بھارت سے بھی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے دوروں کے دوران ہی بھارت اور نیپال کے درمیان سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لئے متعدد معاہدات پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔ لیکن ''مادھیسی'' باشندوں کی حمایت میں بھارت نے جس طرح نیپال میں آئین سازی کے عمل میں مداخلت کی کوشش کی اُس سے دونوں ملکوں میں پہلے موجود شکوک و شبہات کی جڑیں مزیدگہری ہوئیں، بلکہ ایک نئی کشیدگی نے جنم لیا۔ کیونکہ ترائی کے علاقے میں شورش کا بہانہ بنا کر بھارت نے نیپال کو ضروری اشیاء کی فراہمی روک دی تھی۔ حالیہ انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیپال کی نئی حکومت ملک کو بھارت کی اس دائمی محتاجی سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

مضمون نگار معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 179 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter