امریکی پالیسی کے بدلتے رویے

Published in Hilal Urdu

تحریر: جاوید حفیظ


ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ افغانستان میں مکمل امن سے وہاں سپر پاور کے عسکری وجود کا جواز ختم ہو جائے گالہٰذا اصل ہدف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تھوڑی بہت بدامنی بھی چلتی رہے مگر غیرملکی افواج کا جانی نقصان نہ ہو۔ بظاہر یہ دونوں متضاد ہدف لگتے ہیں تو پھر افغانستان میں سپر پاور لمبے عرصے تک کیوں رہنا چاہتی ہے۔ بظاہر جو اب یہ ہے کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کا یکدم انخلاء وہاں طاقت کی رسہ کشی اور سول وار کو جنم دے سکتا ہے۔ مگر اصل ہدف سی پیک کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے ایٹمی پروگرام اور اثاثوں پر کڑی نظر بھی ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیردفاع جیمز میٹس نے دسمبر کے آغاز میں پاکستان کا دورہ کیا اور اہم شخصیات سے ملے۔ اس اہم دورے پر تبصرہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ سیاق و سباق کو سمجھا جائے۔ قارئین کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اگست 2017کی تقریر یقینا یاد ہو گی جس میں من جملہ دیگر امور کے اصل تخاطب پاکستان سے تھا اور صریحاً ہم پر الزام تھا کہ اربوں ڈالرز وصول کرنے کے باوجود ہم مغربی سرحد کے آس پاس ایسے نان سٹیٹ ایکٹرز کو پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں جو افغانستان جا کر امریکی فوجیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس تقریر میں امریکی صدر نے پاکستان کو وارننگ بھی دی تھی کہ اپنی پالیسی درست کرے ورنہ امریکہ اپنی پالیسی بدلنے میں حق بجانب ہو گا۔

amrikipolicy.jpg
آپ کو یاد ہو گا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوجیں نکالنے کے عزم کا برملا اظہار کیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وائٹ ہائوس میں آنے کے بعد انہیں یوٹرن کیوں لینا پڑا اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ افغانستان کے حالات میں مزید بگاڑ آ رہا تھا۔ ملک کا تقریباً نصف حصہ طالبان کے زیراثر آ چکا تھا۔ افغان نیشنل آرمی اور دیگر سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے بڑھ رہے تھے۔ امریکن ملٹری کے انخلاء کے بعد عین ممکن تھا کہ اشرف غنی حکومت دھڑام سے گر جاتی اور ویسے بھی ایک سپر پاور کے لئے کوئی بھی قابل ذکر ہدف حاصل کئے بغیر اس طویل ترین جنگ سے پسپائی بڑی ندامت والی بات ہوتی لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان میں امریکن فوج کی تعداد قدرے بڑھا دی جائے اور دوست ممالک سے بھی فوجی بھیجنے کی اپیل کی جائے۔ تقریر کا ایک نقطہ یہ بھی تھا کہ اب فوجی انخلاء کے لئے کسی ٹائم لائن کا اعلان نہیں ہو گا اور فیلڈ کمانڈرز کو بروقت اور فوری فیصلہ کرنے اور ایکشن لینے کا اختیار دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کی اس اہم تقریر کے بعد پاکستان پر دبائو بڑھنا قدرتی امر تھا۔


گزشتہ دو تین ماہ میں امریکہ کی جانب سے کئی اہم شخصیات نے پاکستان کے دورے کئے ہیں۔ ان کے خیال میں افغانستان میں امریکہ کے اہداف حاصل نہ کر سکنے کی بڑی وجہ پاکستان کی نیم دلانہ مدد ہے مگر امریکی لیڈر شپ کا یہ تجزیہ حقائق کے برعکس ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ضرب عضب کی کامیابی کے بعد مغربی سرحد کے قریب نان سٹیٹ ایکٹرز کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اب پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ مناسب نہیں لگتا۔


صدر ٹرمپ کی تقریر پر پاکستانی لیڈر شپ کا ری ایکشن ظاہر ہے ناراضگی والا تھا۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنا مؤقف سمجھانے کے لئے سفارت کار بھیجنے کا عندیہ دیا تو پاکستان نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ فی الحال آنے کی زحمت نہ کریں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہمیں آپ کے اعتماد کی ضرورت ہے مالی امداد کی نہیں۔


امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اپنی سیمابی شخصیت کے لئے مشہور ہیں۔ کبھی بھی یقین سے ان کے اگلے قدم کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح سے جنرل جیمز میٹس اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جب انہیں وزیردفاع لگایا تو بہت سے لوگوں نے اس بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ میں انہیں کئی عجیب قسم کے القاب دیئے گئے ہیں جو انٹرنیٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ 2003میں عراق پر حملے کے وقت جنرل میٹس نے امریکی فوجیوں کو حکم دیا تھا کہ بظاہر نرم خوئی کا مظاہرہ کریں۔ پروفیشنل سولجر کی طرح کام کریں اور جو بھی عراقی ملے اسے مار دیں۔ یہ ایک غیرمعمولی اور عجیب قسم کی کمانڈ تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ محفوظ پناہ گاہ کی تعریف کیا ہے۔ پاکستان میں اب بھی دوملین کے قریب افغان مہاجرین ہیں، کیا ان کے گھر یا کیمپ محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ اگر فرض کریں ایسا ہے تو پاکستان تو کئی سالوں سے مہاجرین کی باعزت واپسی کے لئے کوشاں ہے لیکن افغانستان میں بدامنی یا انٹرنیشنل کمیونٹی کی عدم دلچسپی آڑے آتی رہی ہیں۔ یہ عمل کئی مرتبہ شروع ہوا ہے مگر پھر رک جاتا ہے، یا سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اسی طرح سے بارڈر کنٹرول کا مسئلہ ہے۔ پاکستان عرصے سے کوشاں ہے کہ بارڈرز پر خاردار تاریں لگا کر آنے جانے کے راستوں کو محدود کر دیا جائے۔ روزانہ ہزاروں لوگ اس بارڈر کو کراس کرتے ہیں۔ اگر سب کے ڈاکومنٹ چیک کئے جائیں اور آنے جانے کے لئے ویزہ لازمی ہو تو دہشت گرد آسانی سے بارڈر کراس نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان کی اس بارڈر فینسنگ کی تجویز پر مزاحمت ہمیشہ کابل کی طرف سے آئی۔ امریکہ اور نیٹو ممالک نے بھی اس تجویز میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ بارڈر کنٹرول کے بغیر دونوں جانب سکیورٹی خدشات رہیں گے۔ پاکستان نے اب یہ کام خود شروع کر دیا ہے۔ مگر ڈھائی ہزار کلومیٹر پر دھاتی باڑ لگانا یا خندقیں بنانا ایک طویل کام ہے۔
اِس حقیقت سے کون صرفِ نظر کر سکتا ہے کہ جب افغانستان کا نصف حصہ طالبان کے زیراثر ہے تو انہیں پاکستان میں پناہ گاہوں کی کیا ضرورت ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی عددی قوت دو تین ہزار سے زائد نہیں۔ وہ لوگ اب پاکستان میں نہیں ہیں تو ساڑھے تین لاکھ افراد پر مشتمل افغان آرمی اور دس ہزار غیرملکی افواج اُن پر غلبہ کیوں نہیں پا سکتے۔

amrikipolicy1.jpg
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ افغانستان میں مکمل امن سے وہاں سپر پاور کے عسکری وجود کا جواز ختم ہو جائے گالہٰذا اصل ہدف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تھوڑی بہت بدامنی بھی چلتی رہے مگر غیرملکی افواج کا جانی نقصان نہ ہو۔ بظاہر یہ دونوں متضاد ہدف لگتے ہیں تو پھر افغانستان میں سپر پاور لمبے عرصے تک کیوں رہنا چاہتی ہے۔ بظاہر جو اب یہ ہے کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کا یکدم انخلاء وہاں طاقت کی رسہ کشی اور سول وار کو جنم دے سکتا ہے۔ مگر اصل ہدف

CPEC

کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے ایٹمی پروگرام اور اثاثوں پر کڑی نظر بھی ہو سکتا ہے۔ سی پیک پر امریکہ اور انڈیا دونوں کے تحفظات ہیں۔ ان کے نزدیک یہ اقتصادی سے زیادہ سکیورٹی منصوبہ ہے۔ انڈیا نے کہہ دیا ہے کہ وہ افغانستان میں فوج نہیں بھیجے گا۔ انڈیا بخوبی واقف ہے کہ کوئی بھی غیرملکی فوج کبھی بھی افغانستان کو لمبے عرصے کے لئے کنٹرول نہیں کر سکی لہٰذا انڈیا کا رول اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے ذریعے خیرسگالی پیدا کرنا اور پھر اس افغان خیرسگالی کو پاکستان کے اندر اپنے مذموم عزائم کے لئے استعمال کرتا رہے گا۔

 

امریکہ کی نئی سکیورٹی سٹریٹجی کا حال ہی میں اعلان ہوا ہے اور یہ بڑی حد تک صدر ٹرمپ کی سوچ کی عکاس ہے۔ ''امریکافرسٹ'' اس پالیسی کا موٹو ہے۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ قوت کے ذریعے امن قائم ہو سکتا ہے۔ اس پالیسی میں انڈیا کا رول اہم ہے۔ انڈیا کے علاوہ جاپان اور آسٹریلیا نیلے سمندروں میں امریکہ کے مرکزی حلیف ہوں گے۔ یعنی چین کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ اس سے سی پیک کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ اس پالیسی میں پاکستان سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا گیا ہے کہ نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کارروائی کرے۔


پاکستان 1950کی دہائی سے امریکہ کا قریبی حلیف رہا ہے۔ ہمارے ہاں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ امریکہ اپنا کام نکلوا کے نظریں پھیر لیتا ہے جیسا کہ سوویت افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد ہوا۔ یہ بات درست ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں اتارچڑھائو آتے رہے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے گلے شکوے رہتے ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے کے لئے اہم ہیں۔ پاکستانی برآمدات کے لئے امریکہ سرفہرست ہے۔ آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے مدد درکار ہو تو وہاں بھی امریکہ کا اثر رسوخ ہے۔ بہت بڑی پاکستانی کمیونٹی امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔


امریکی تعلیمی ادارے اور ریسرچ اب بھی دنیا میں ٹاپ پر ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمایاں پوزیشن ہے۔ امریکہ اور یورپ کا تعاون دونوں کا قد کاٹھ بڑھاتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں موجود امریکی فوجی دستوں کے لئے مختصر ترین سپلائی روٹ پاکستان ہی ہے۔ افغانستان میں امن کی تلاش میں بھی پاکستان کا رول رہے گا اور ہمیں مدد کے لئے پھر کہا جائے گا۔


پاکستان اور امریکہ کے درمیان شکوک و شبہات کی خلیج موجود ہے۔ دونوں طرف سے کوشش ہونی چاہئے کہ یہ خلیج وسیع تر نہ ہونے پائے۔ امریکہ سے پچھلے دنوں دو تین اہم بیان آئے ہیں۔ وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ہمارے لئے بہت اہم ہے مگر میں پاکستان کے ساتھ بات چیت انجوائے نہیں کرتا۔ ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ نان سٹیٹ ایکٹرز پاکستان کے کسی قطعہ اراضی پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ ایسا آج کے حالات میں ممکن ہی نہیں جب تک نان سٹیٹ ایکٹرز کو سپرپاور کی پوری مدد حاصل نہ ہو۔ میری نظر میں یہ بیان پاکستان کے لئے بالواسطہ وارننگ ہے اور صدرٹرمپ کی اگست والی تقریر کا تسلسل ہے۔


امریکی وزیردفاع نے پاکستان میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں میں ''ڈومور'' کا مطالبہ ضرور ہوا ہو گا۔ یہ قطعاً ضروری نہیں کہ پاکستان امریکہ کے الزامات سر جھکا کر تسلیم کر لے۔ ہمیں اپنے خدشات انڈیا کے رول کے حوالے سے بیان کرنا چاہئیں اور اس وزٹ میں ایسا ضرور ہوا ہو گا۔ اگر انڈین انٹیلی جنس کا تخریبی رول پاکستان میں افغانستان کے راستے جاری رہتا ہے تو سی پیک سکیورٹی پراجیکٹ بن سکتا ہے۔ دونوں ممالک کو کھل کر بات کرنا ہو گی دوطرفہ تعلقات میں بہتری دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 185 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter