تحریر: مجاہد بریلوی

منفرد لہجے اور من موہنی شخصیت کے رومانوی شاعر منیر نیازی کا ذکر کرنے کے لئے مجھے خاصا پیچھے جانا پڑے گا۔ پچاس کی دہائی میں فراق، جوش، فیض اور جگر کے بعد جو نئی نمائندہ شاعروں کی فصل سامنے آئی اُن میں حبیب جالب، منیر نیازی، احمد فراز، احمد مشتاق، مصطفیٰ زیدی، ناصر کاظمی، ظہیر کاشمیری اور پھر ذرا بعد میں ظفر اقبال، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور افتخار عارف تک آتے آتے معذرت کے ساتھ چند اہم نام ذہن پر زور ڈالنے پر بھی یاد نہیں آ رہے۔ ان تمام محترم و مکرم شعراء میں ہمارا زیادہ تعلق شاعرِ عوام حبیب جالب سے تھا اور اُس کا اولین سبب نظریاتی تھا مگر بعد میں اُس پر ذاتی تعلق اس حد تک غالب آگیا کہ جو اُن کی زندگی کے آخری دنوں تک رہا۔ آشنائی تو خیر احمد فراز اور منیر نیازی سے بھی تھی مگر جیسا کہ پہلے کہا اس میں اتنی قربت اور گرمجوشی نہ تھی۔ ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ جب 1981 میں پریس کلب کے پہلے جوائنٹ سیکریٹری اور اگلے تین سال سیکریٹری رہے تو سال میں کم از کم دو' تین مشاعرے ضرور کروانے ہوتے۔ اب ایک ''جالب صاحب'' سے تو مشاعرہ ہو نہیں سکتا تھا۔ غالباً مارچ 1981 کے لگ بھگ کی بات ہو گی، جالب صاحب جیل میں تھے۔ باقی شعراء کو تو راضی کر لیا مگر منیر نیازی نے لاہور کے کافی ہائوس میں کھڑے ہو کر اپنے غصیلے لہجے میں کہا ''اوئے تو تو ''جالب'' کے علاوہ کسی کو شاعر نہیں مانتا، اب میرے بغیر کراچی میں مشاعرہ کر کے دکھا''۔ ساتھ میں کھڑے ہمارے دوست شاعر یوسف کامران ہماری مدد کو آئے اور سمجھانے کے انداز میں منیر نیازی سے کہا ''یہ لاہور اور کافی ہائوس کی روایت نہیں۔۔ ابھی یہ نوجوان ہے کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ کی عظمت کا اسیر ہو جائے گا''۔ اس پر منیر نیازی کے سُرخ تپتے چہرے پر روایتی مسکراہٹ بکھرنے لگی۔ گلے لگایا اور یوسف کامران کی ڈیوٹی لگائی کہ ''شامیں ایہنوں نال بٹھانا اے''۔ منیر نیازی کراچی آئے۔ مشاعرے سے پہلے جو پریس کلب کے کمیٹی روم میں محفل جمی تو پھر جنہیں منیر نیازی کی محفلوں میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ ''اُن کے سامنے کسی اور کا چراغ نہیں جلتا''۔ منیر نیازی جاہ و جمال کا خوبصورت پیکر تھے۔ ہما شما تو کیا مرزا غالب کو بھی شاعر نہیں مانتے تھے۔ ٹیلی وژن کے ایک انٹرویو میں منیر احمد شیخ نے منیر نیازی سے کہا کہ ''منّو بھائی کا کہنا ہے کہ اگر منیر نیازی کے سامنے مرزا غالب کی شاعری کی بھی تعریف کر دی جائے تو وہ بُرا مانتے ہیں''۔ منیر نیازی نے فرمایا ''وہ صحیح کہتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو خبیث روحوں سے بچانے کے لئے اپنی ذات کے گرد خود پسندی کی فصیلیں کھڑی کر رکھی ہیں''۔ منّو بھائی منیر نیازی کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ ایک روز بڑی سنجیدگی سے منیر نیازی نے پوچھا ''یہ بات کس حد تک درست ہے کہ پاکستان کا خواب علامہّ اقبال نے دیکھا تھا؟'' عرض کیا کہ ''میں نے بھی یہی سُنا ہے''۔ کہنے لگے ''اگر یہ صحیح ہے تو کل سے اس ملک کا سارا نظام مجھے سنبھالنا پڑے گا کیونکہ ایک شاعر کے خواب کو کوئی دوسرا شاعر ہی پورا کر سکتا ہے''۔ جن شعرائِ کرام سے ہمارا قریبی تعلق اور شب و روز کی تفصیلی صحبتیں رہیں اُن میں بیشتر کو دیکھا کہ عمر کے پچاس کے پیٹے تک قابلِ برداشت ہوتے مگر ساٹھ یعنی سٹھیانے کی عمر کو پہنچنے کے بعد اُن کے ساتھ وضع داری کے باوجود ایک گھنٹہ گزارنا مشکل ہو جاتا۔ جہاں تک منیر نیازی کا تعلق تھا کہ جنہیں اُن کے قریبی احباب ''خان صاحب'' کہتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بزلہ سنج اور گریس فُل ہوتے گئے۔ بلکہ اُن کی شاعری کا سفر بھی آگے بڑھتا گیا۔ فیض صاحب جب لینن پیس پرائز لے کر واپس لوٹے تو لاہور کے ادیبوں، شاعروں کی ایک بڑی تعداد اُن کے استقبال کے لئے ریلوے اسٹیشن پر موجود تھی جن میں منیر نیازی بھی تھے۔ اُن کے ایک قریبی رفیق اطہر ندیم نے ان کے بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قدرے افسوس سے کہا ''خان صاحب! آپ کے تقریباً سارے بال سفید ہو گئے ہیں''۔ جس پر خان صاحب نے اپنے کرارے لہجے میں کہا کہ ''ہاں کچھ خواتین کا خیال ہے کہ میں پہلے سے زیادہ گریس فُل ہو گیا ہوں''۔ مگر چند دن بعد ہی یہی سوال پاک ٹی ہائوس کے باہر کسی اور شخص نے کیا تو خان صاحب تقریباً برس پڑے اور کہا ''تم مجھے ایک نا پُختہ، لااُبالی لڑکے کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہو؟ تم مجھ میں میچورٹی نہیں دیکھنا چاہتے؟'' سوال کرنے والا سہم کر رہ گیا۔ منیر نیازی کی ذاتی باتوں کے حوالے سے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جسے بیان کرتے ہوئے میں اُن کی شاعری کو تو پیچھے ہی چھوڑ آیا۔ ہئے ہئے کیا غزل۔۔ کیا نظم۔۔
میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عمر میری تھی مگر اُس کو بسر اُس نے کیا
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اُس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا
khansab.jpgچاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو
منیر نیازی محفلوں کے نہیں مشاعروں کے شاعر تھے۔ اپنے اشعار سُناتے ہوئے ایک عجیب وارفتگی اُن پر چھا جاتی۔ خان صاحب کی ایک خامی جو بعد میں خوبی بن گئی کہ اُنہیں اشعار خود یاد نہیں رہتے یا پھر وہ شعر بھولنے کی عادت اُن کا ایک ایسا تُرپ کا پتہ بن گئی کہ جس سے وہ مشاعرہ لوٹ لیتے۔ اب اِدھر منیر نیازی اُٹھ کر ایک خاص ادا سے مائیک کے سامنے آئے۔۔ خاموشی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔۔ فرمائشی آوازیں لگ رہی ہیں اور خان صاحب ہیں کہ توڑ توڑ کر ایک ایک مصرعہ پڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر اِس نظم کے بغیر تو اُنہیں اُٹھنے ہی نہیں دیا جاتا کہ جسے منیر نیازی نہیں سامعین کورس کی صورت میں پڑھا کرتے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کیا نظم ہے اُس پر منیر نیازی کا ایک ایک مصرعہ کے ایک ایک لفظ کو اٹک اٹک کر پڑھنا:۔
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو
اُسے آواز دینی ہو، اُسے واپس بُلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اُس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ، اُس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

مرزا غالب سے لے کر منیر نیازی تک، ساری زندگی اُن کا سب سے بڑا مسئلہ روزی روزگار ہی رہا۔ مرزا کو انگریز سرکار سے وظیفہ تو ملتا تھا مگر اس کے لئے کیسے کیسے انہوں نے مصائب اُٹھائے۔ ایک بار جب یہ وظیفہ مہینوں بند رہا تو اس کے لئے کلکتہ میں مہینوں پڑے رہے۔ اپنی وظیفہ خواری پر مرزا نے کیا مضمون باندھا ہے۔
غالب وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
منیر نیازی نے بھی کبھی کوئی باقاعدہ نوکری نہیں کی۔ واحد ذریعہِ آمدنی مشاعرے ہی تھے۔ پاکستانی فلموں کا یہ اچھا دور تھا۔ قتیل شفائی، حبیب جالب، احمد راہی اور منیر نیازی کی نظمیں، غزلیں معقول معاوضے میں لی جاتیں جس سے بہرحال وقتی طور پر انہیں خوشحالی میسر آتی۔ فلم شہید کا گیت
اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
تو آج بھی مقبولِ عام گیت ہے۔ چلتے چلتے منیر نیازی کی سادگی اور معصومیت کا ایک واقعہ سُن لیں۔ 60 کی دہائی میں نیا نیا ٹی وی آیا تھا۔ اُن دنوں خاص طور پر لاہور میں انڈین ٹی وی ''دور درشن'' بڑے شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک دن ہمارے بھولے بھالے منیر نیازی نے دوستوں کو شام کو دعوت دی کہ آج پنجابی کی مشہور شاعرہ، پنجابی شعراء پر ایک پروگرام کر رہی ہیں۔ منیر نیازی بہرحال اردو کے ساتھ پنجابی کے بھی مستند شاعر تھے۔ شام کو صحن میں چھڑکائو ہوا۔ میز پر ٹی وی سیٹ رکھا گیا ساتھ میں دیگر لوازمات کا بھی اہتمام تھا۔ امرتا پریتم پنجابی کی بڑی شاعرہ تو تھیں ہی مگر خوبصورتی میں بھی کم نہ تھیں۔ بلھّے شاہ سے پروگرام شروع ہوا۔ منیر نیازی ساتھ بیٹھے دوستوں سے کہنے لگے ''کیا خوبصورت شاعرہ ہے''۔ بلھّے شاہ کے بعد وارث شاہ کا ذکر آیا حتیٰ کہ اُستاد دامن اور احمد راہی تک کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ امرتا جی نے کہا ''یوں تو اور بھی پنجابی کے پاکستان میں قابلِ ذکر شاعر ہیں مگر پروگرام میں اتنا وقت نہیں کہ اُن کا ذکر کیا جائے''۔ اس پر خان صاحب نے انتہائی غصے سے گلاس دیوار پر مارتے ہوئے کہا ''اوئے کتنی بد صورت عورت ہے''۔
خان صاحب آپ جیسے شاعر جب اسّی کی پیڑھی میں بھی جائیں تو لگتا یہی ہے کہ ''آپ جلدی چلے گئے'' کہ آپ کے بعد ''آپ جیسا'' کوئی دوسرا نہ آیا اور شاید آئے گا بھی نہیں کہ شاعر تو ہیں مگر اُن کے نام تو انگلیوں پر ہی آتے ہیں۔ میر، غالب، اقبال، فیض، فراق، جوش، جالب اور منیر نیازی۔

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ککھ چوریہ کہانی ہم سب کی ہے

attaulhaq.jpg

گزشتہ روز ہم دونوں دوست آوارہ گردی کے موڈ میں تھے۔ سارا دن بلامقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے رہے۔ میرا یہ دوست مال و منال، شہرت اور معاشرے میں اعلیٰ مقام کے باوجود ابھی تک عوامی مزاج کا حامل ہے چنانچہ آوارہ گردی کے لئے ہم نے لکشمی چوک میں جا کر چانپیں کھائیں، کشمیری چائے پی اور پھر گاڑی ایک طرف پارک کرکے پیدل چل پڑے۔ اس روز ہمیں پیدل چلنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ شاید اس لئے کہ بہت عرصے بعد اس کا موقع ملا تھا۔ لکشمی چوک میں بے پناہ رونق تھی۔ مالشئے، تماش بین، کھابہ گیر، فقیر، نشئی، بے فکرے ہر قسم کے لوگ ریکارڈنگ کے شور شرابے میں اپنے اپنے دھیان میں مگن تھے۔ میں اورمیرا دوست مالٹوں کی ایک ریڑھی کے پاس رک گئے۔
کیا خیال ہے مالٹے نہ کھائے جائیں؟
نیکی اور پوچھ پوچھ میں نے کہا اور پھر ہم دونوںں مالٹوں پر پل پڑے۔ ریڑھی والا مالٹے چھیل چھیل کر اور کاٹ کاٹ کر پلیٹ میں رکھتا چلاجاتا تھا اور ہم کھاتے چلے جاتے تھے۔ ہم اس روز عجیب طرح کی جنونی کیفیت میں مبتلا تھے بالآخر ہم نے ہاتھ کھینچ لئے۔ میں مالٹے گنتا جارہا تھا ہم نے بیس مالٹے کھائے تھے!
میرے دوست نے ریڑھی والے سے پوچھا: کتنے پیسے؟
ریڑھی والے نے کہا: کتنے مالٹے بنے؟
میرے دوست نے ایک لمحے کے توقف کے بعد جواب دیا: بارہ
ریڑھی والے کے چہرے پرشک کی ایک لکیر سی پھیلی لیکن اس نے بغیر کسی تکرار کے بارہ مالٹوں کے پیسے وصول کئے اوراپنی ریڑھی پر بچھی بوری کے نیچے رکھ دیئے۔
میں نے اپنے دوست کی طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھا مگر اس نے آنکھیں جھکادیں۔ ہم دونوں خاموشی سے کار تک آئے۔ رستے میں ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی۔ بس دونوں ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے رہے!
یہ میرے دوست کی کہانی ہے۔ یہ میری کہانی ہے۔ یہ آپ سب کی کہانی ہے اورشاید ہر بشر کی کہانی ہے کبھی وہ لکھ کی چوری نہیں کرتا اور کبھی ککھ کی چوری پر راغب ہوجاتا ہے۔ انسان کو اپنی پارسائی پر غرور نہیں کرناچاہئے بلکہ ہر لمحہ شیطان الرجیم کے حملوں سے پناہ مانگتے رہنا چاہئے۔۔
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
(عطا الحق قاسمی کی ایک تحریر سے اقتباس)

*****

 
Read 287 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter