ایران۔ زلزلہ اور پاکستانی سی ون تھرٹی

تحریر: ڈاکٹرحمیرا شہباز

تسلیت کرمانشاہ!!! تسلیت ایران
یہ کیسے پیغامات اور تصاویر ہیں میرے موبائل میں؟؟؟ دورانِ سفر اپنے موبائل کی گیلری کو جنبشِ انگشت سے ٹٹولتے ہوئے میں نے سوچا۔ ایران کو تسلیت کے یہ پیغام کس نے بھیجے ہیں؟ کیا ہوا ہے ایران کو؟ ان دو دن پرانے پیغامات کی کھوج میں میں نے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کے گروپس کی دو روز پرانی گفتگو کو تیزی سے دیکھا۔اوہ!!! ایران میں زلزلہ! اور وہ بھی کرمانشاہ میں۔ مزید پیغامات پڑھتی گئی اور جانتی گئی کہ ایران اور عراق کی مشترک سرحد کے شہر اس زلزلے کی زد میں آگئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق


''12 نومبر کو ایران اور عراق کے سرحدی علاقے میں آنے والے سات اعشاریہ تین شدت کے شدید زلزلے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان عراق کی سرحد سے متصل ایرانی صوبے کرمانشاہ میں ہوا۔ ایک ایرانی امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے70 ہزار افراد کو فوری طور پر امداد اور پناہ گاہوں کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ائیر فورس کا سی 130 طیارہ خیمے، غذائی اور طبی امدادی سامان لے کر تہران پہنچا گیا ہے۔ ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر آصف درانی نے امدادی سامان ہلال احمر ایران کے سربراہ کے حوالے کیا۔ اس موقع پرسربراہ ہلال احمر ایران کا کہنا تھا کہ پاکستان امداد فراہم کرنے والا سب سے پہلا ملک ہے۔''(ہفتہ 18نومبر 2017)
صدر محترم اور جناب وزیر اعظم پاکستان نے ایرانی صدر عزت مآب حسن روحانی کو زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر تسلیت کا پیغام بھجوایا کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستانی قوم ان کے دکھ درد میں شریک ہے۔

eranizalzalaar.jpg
پاکستان کی ایران سے وابستگی مستقل بنیادوں پر ہے۔ دونوں ممالک مثالی ہمسائے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی ایسی کوئی مثال تلاش کی جا سکے جہاں دو ہمسایہ ممالک میں اتنی ثقافتی، لسانی، تاریخی، مذہبی اور ادبی مماثلت پائی جاتی ہو۔ سیاسی سطح پر دیکھا جائے تو اسلامی جمہوریہ ایران، اقوام عالم میں پہلا ملک تھا جس نے 14اگست 1947کو قیام اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سب سے پہلے رسمی طور پر تسلیم کیا تھا۔ شہنشاہ ایران پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت تھے۔ ان کوپاکستان کے استحکام کی اہمیت کا پورا ادراک تھا لہٰذا ایران نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا تاکہ جنوبی ایشیا عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ان باہمی روابط میں اور بھی پختگی آئی ہے۔ موجودہ دور میں بھی ایران کے پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں جس کا اظہار ایران کے موجودہ صدر عزت مآب حسن روحانی نے مارچ 2016 میں اپنے دورہ پاکستان میں بھی کیا ۔


پاکستان اور ایران کے تجارتی روابط بھی روز افزوں ہیں۔ تہران میں ایران اور پاکستان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 20 ویں اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان توانائی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں کثیرالجہتی تعلقات قائم ہیں اور پاکستان ان تعلقات کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ زاہدان اور کوئٹہ کے درمیان مال گاڑی کے ذریعے ایران، پاکستان کو سیمنٹ، تارکول، سلفر اور تیل برآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان چاول اور خام سلفر ایران کو برآمد کرتا ہے۔ اسلام آباد میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے ایران اور پاکستان میں پورٹ اور شپنگ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی چابہار اور پاکستان کی گوادر بندرگاہ ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ حلیف اور معاون بندرگاہیں ہیں۔
ایران اور پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ اسلامی دنیا کے اہم ممالک ہونے کے ناتے اپنے مضبوط رشتوں سے عالمی امن کے لئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس سلسلے میں پاکستان کی کاوشیں بھی نمایاں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور افغان مسئلے پرامریکہ سے کشیدہ تعلقات کے پیشِ نظر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے دورہ ایران کو بہت اہمیت حاصل ہے جو کہ کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کا پہلا رسمی دورۂ ایران تھا۔
ایران اور پاکستان کے عوام کی یکانگت او رمحبت کا اہم ستون ثقافتی روابط ہیں۔ مولانارومی کی مثنوی معنوی، دیوان حافظ ، گلستان و بوستان سعدی پاکستانیوں کے لئے اجنبی نگارشات نہیں اور ایرانیوں کے لئے بھی علامہ اقبال فقط مصور پاکستان ہی نہیں بلکہ انقلابِ اسلامی ایران کی پیش بینی کرنے والے شاعر فردا بھی ہیں۔ایرانی علامہ اقبال کے ان اشعار کو اقبال کی پیش گوئی قرار دیتے ہیں


چون چراغ لالہ سوزم در خیابان شما
ای جوانان عجم جان من و جان شما
میرسد مردی کہ زنجیر غلامان بشکند
دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما


ہمارے خطے میں دینِ اسلام کا فروغ فارسی گو صوفیائے کرام کا مرہون منت ہے۔ فارسی سیکڑوں سال تک برصغیر کی سرکاری زبان رہی ہے۔ ہمارے بیش بہا دینی، علمی اور ادبی ذخائر اس امر کی غمازی کرتے ہیں۔ خود علامہ اقبال کے شاعرانہ کلام کا کثیر حصہ فارسی زبان میں ہے اس لئے کہ محض ایک صدی قبل بھی فارسی زبان اس خطے میں رائج تھی۔ آج بھی ہمارے گھروں میں قرآن کریم کے ساتھ دیگر معتبر دینی اور اخلاقی کتب کی ردیف میں کشف المحجوب اور مثنوی معنوی جیسی معرکة الآرا کتب کا مقام تسلیم شدہ ہے۔


پاکستان میں فارسی زبان و ادب کی تدریس کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مستقل شعبے کی حیثیت رکھتی ہے۔ تہران یونیورسٹی میں بھی شعبۂ اردو کارفرما ہے۔ دونوں ممالک میں علمی و ادبی کانفرنسوں کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ چند روز قبل ہی پاکستان ایجوکیشن کمیشن اور اسلام آباد میں ایران کے قونصل خانہ کے باہمی تعاون سے فارسی زبان اور ادب کے شعبہ میں قابل قدر علمی و ادبی نگارشات کو اقبال اور سعدی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ نومبر2017 کے آغاز ہی میں پاکستان کے ہم مرز ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان کے شہر زاہدان کی سیستان بلوچستان یونیورسٹی میں علامہ اقبال کے 140ویں یوم ولادت کی مناسبت سے شایانِ شان بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا اتفاق ہوا، جس نے مجھے یہ یقین بخشا کہ شائد کبھی ایران پاکستان کے روابط کی کوئی اور وجہ باقی رہے نہ رہے، علامہ اقبال کی شاعری یقینا اس ربط باہمی کی دائمی وجہ رہے گی ۔


میں نے مختلف علمی مسافتوں میں ایران کے جس بھی شہر کا سفر کیا، وہ اصفہان نصف جہان ہو یا گیلانِ مازندران، زاہدان کی مانوس بلوچ فضا ہو یا بجنوردِ خراسان ، جو احترام ، استقبال ، پذیرائی اور اپنائیت ایرانی زمین میں پاکستانیوں کوحاصل ہے، وہ بے مثال ہے۔ اسی لئے ایران کے عوامی معاملات پر دھیان رہتا ہے۔ کرمانشاہ کے حالیہ زلزلے نے تو ہمیں یہاں بھی ہلا دیا۔ ا بھی دو ماہ قبل تو میں کرمانشاہ گئی تھی۔
گزشتہ سال گیلان کی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اعلان کردیا گیا تھا کہ اگلے برس انجمن ترویج فارسی کی کانفرنس کرمانشاہ میں منعقد ہوگی۔ وہیں پر کانفرنس کے شرکا میں سے ایک کرمانشاہی مہمان نے بتایا کہ اس کا شہر کتنا خوبصورت ہے، کئی دیدنی تاریخی مقامات ہیں وہاں۔ لیکن پھر بھی میرا کوئی ارادہ نہیں تھا اگلی کانفرنس میں شرکت کا ۔ یہ تو پتا نہیں کس نے میرے کان میں ڈال دیا کہ کوہ بیستوں ہے وہاں۔
بیستوں!!! شیریں فرہاد والا بیستوں ؟ میں نے تصدیق چاہی تو پتا چلا کہ ہاں وہی والا۔ اب شیریں کی خواہش اور فرہاد کی کوشش کو دیکھنا تو بنتا تھا۔


4 ستمبر کی شام کو میں اور کئی دیگر شرکائے کانفرنس ، ہماری میزبان رازی یونیورسٹی کی تہران کے علاقے شہر آرا میں موجود مہمان سرا میں پہنچ گئے تھے۔5ستمبر 2017کو کانفرنس کے مختلف ممالک اور شہروں سے آئے شرکا کو لئے بس2بج کر 30 منٹ پر کرمانشاہ کے لئے روانہ ہوئی تھی۔ تمام سفر صحرا میں سے تھا۔ بلند خشک پہاڑ اور وسیع ریگزار، خدا کی بزرگی کا نشاں تھے۔ ایک لا متناہی ساحل یا خشک ریتلا سمندر جس میں کہیں کہیں پانی کے جزیروں کا گمان باقی تھا۔ جگہ جگہ زمین کے سینے میں گڑے درشت اور سنگلاخ نشتر نما پہاڑوں سے دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ایک بڑا سا کینوس ہو جس پر فطرت نے نوک قلم سے دلکش خطاطی میں اس خطے کی قدیم تہذیب کا سفر رقم کیا ہو۔ ہر پہاڑ کو دیکھ کر سوچتی کہ بیستوں جانے کیسا ہو گا؟


وہی اک حسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں
یہ شیریں بھی ہے گویا، بیستوں بھی کوہکن بھی ہے
رات کوئی گیارہ بجے کے قریب ہم رازی یونیورسٹی کے ڈائننگ ہال کے آگے اترے۔ فرہادانِ شیریںِ صفت ہمارے پرتپاک استقبال کو منتظر تھے۔ لگتا تھا
زینتِ محفل ہیں فرہادانِ شیریں عطا
اس محل میں ہے رواں ہونے کو جوئے شیِر آج


رات میں بھی یونیورسٹی کے گرداگرد کھڑے پہاڑوں پر پورا دھیان تھا ہمارا۔ میں نے اور ایک دن پہلے بننے والی افغانستانی اسکالر سہیلی نے ہر پہاڑ کا تنقیدی جائزہ شروع کر دیا۔ شاید یہ بیستوں ہے! نہیں وہ والا ہو گا! ہر پر شکوہ کوہ کی رنگت اور بلندی میں ہم شیریں کا حسن اور فرہاد کا عزم تلاش کرتے رہے۔ اگلا پورا دن کانفرنس کی کارروائی میں گزرا۔ اپنی کم علمی سے شرمندہ کسی سے پوچھ بھی نہ سکے کہ ان میں سے شیریں فرہاد والا پہاڑ کون سا ہے؟ وہ تو ایک ایرانی نے ہمیں اس دھوکے سے نکالا او ریہ کہہ کر ان سارے پہاڑوں کو رائی برابر کردیا کہ یہاں نظر آنے والا کوئی بھی پہاڑ بیستوں نہیں۔ کانفرنس پروگرام میں سیروسیاحت والا کالم بھی اتنا واضح نہ تھا کہ ہم کہاں کی سیر کو جائیں گے۔ پہلے روز طاق بستان دکھایا گیا۔ دوسرے روز کو ہ بیستوں کا وعدہ تھا۔


اگلے روز شام میں ، مغرب سے تھوڑی ہی دیر پہلے ہم کرمانشاہ شہر سے کوئی تیس کلومیٹر دور کوہ بیستوں کے سامنے کھڑے تھے۔ انتہائی ظالم پہاڑ تھا۔ سخت، سیاہ، بنجر، بلند۔ دیومالائی پہاڑوں کی طرح تکونی شکل نہ تھی اس کی، بلکہ خود ہی دیو نما تھا۔ دل ٹوٹ گیا اس کو دیکھ کر اور احساس ہوا کہ واقعی کمال ہوگا اس کو تراشنا اور جوئے شیر لانا۔ شیریں نے بھی کیا امتحان لیا تھا عشق کا؟ ! اگر فرہاد شیریں کی موت کی جھوٹی خبر سن کر خود کو بھی تیشہ سے مار نہ ڈالتا تو اس پہاڑ کو تراشتے تراشتے ضرور ختم ہو جاتا۔اقبال نے اس کہسار کو دیکھا ہوتا تو ان کو یہ شعر کہنے میں کچھ تامل ضرور ہوتا


تیشہ اگر بہ سنگ زد ایں چہ مقام گفتگوست
عشق بہ دوش می کشد این ہمہ کہسار را


ہم تو میزبانوں سے ویسے ہی نالاں تھے کہ جس کے لئے اتنی دورآئے وہاں ہمیں وہ دن ڈھلے کیوں لائے ۔ اس پہاڑ میں ایک گہرا شگاف تھا۔ ہم نے میزبانوں سے پوچھا کہ کیا یہاں سے دودھ کی نہر کھودی گئی تھی؟ اردگرد شیریں کا محل بھی ڈھونڈنا چاہا۔ لیکن نداند۔ البتہ بیستوں پر ہخا منشی دور کا کتبہ کندہ تھا جس کا شمار دنیا کے چند قدیم ترین کتبوں میں ہوتا ہے۔
کوہ بیستوں پہنچنے میں دیر اس لئے ہوئی کہ اس سے قبل کرمانشاہ شہر سے کوئی گھنٹا بھر کی مسافت پر ہمارے میزبان ہمیں ''مرصاد'' نامی مقام پر لے گئے۔ یہ علاقہ ایران عراق کا سرحدی علاقہ تھا۔ مرصاد کے ایک میوزیم میں ایران عراق جنگ کی تاریخ پیش کی گئی تھی۔ نزدیک ہی اسلام آباد غربی صوبہ کرمانشاہ کا ایک سرحدی شہر تھا۔ یہ وہی علاقے ہیں جو چند روز قبل شدید زلزلے کی زد میں آگئے تھے۔ زلزلے کی خبر سن کر میں نے کانفرنس سیکریٹری ڈاکٹر بیگ زادہ کو تسلیت کا پیغام بھیجا۔ ان کا جواب آیا


''سلام خانم۔کرمانشاہ کا یہ زلزلہ جان و مال ہار دینے کی تاریخ کو دہرا رہا ہے، پہلے جنگ میں اور اب زلزلے میں۔ اسلام آباد کے ہسپتال جو ابھی کچھ عرصہ قبل جنگ کے زخمیوں سے بھرے ہوئے تھے، اب زلزلے کے زخمیوں سے پر ہیں۔آپ کی ہمدردی کا بہت شکریہ!''


اور پھر مزید لکھ بھیجا
''ابھی تک جنگ کے زخم بھرے نہ تھے۔ اس جنگ کی یاد اب بھی میرے شہر کے لوگوں کو بے چین کر دیتی ہے۔ اے میرے شیریں شہر!ہاں اے میرے بچپن کی یاد! آج رات زمیں نے کس بہانے سے پھر سے تیرے دل کو توڑا ہے؟ کہ تیرے فرزندوں پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا ہے۔ شیریں ! مجھے معاف کرنا۔ آج کی شب ہزار بار تیری یاد میں مروں گا اور تیرے قصر شیریں میں عزاداری کروں گا۔''
یقینا دوہری مصیبت نے کرمانشاہیوں کے حوصلوں کو مزید آزمایا ہوگا۔ مگر مجھے یقینِ کامل ہے کہ فرہاد کے ہم سخن یہ لوگ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں سے بھی بلندتر حوصلے کے مالک ہیں۔ پاکستان کے لوگوںکے دل ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں۔ زلزلوں کی شدت ہو یا دشمنوں کی چالوں کی حدت، دونوں ملکوں کی دوستی لازوال ہے اور رہے گی۔

مضمون نگار:ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 266 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter