ٹارگٹ، ٹارگٹ، ٹارگٹ

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

شالا مسافر کوئی نہ تھیوے
پوسٹنگ کے ضمن میں اللہ میاں نے ایم ایس برانچ کو خصوصی طور پر فری ہینڈ سے نواز رکھا ہے۔ ہم تو اپنے اور بیشمار ساتھیوں کے تجر بے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افسر کی پوسٹنگ کبھی بھی اس شہر میں نہیں آتی جس کے لئے دل و جان سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ افسر کو چارو ناچار اسی پوسٹنگ پر آمنا و صدّقنا کہنا ہوتا ہے جو اس کے اور فیملی سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ بقول غالب پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق۔۔۔ آدمی ہمارا کوئی دم تحریر بھی تھا؟۔ پوسٹنگ موصول ہوتے ہی پرانا سٹیشن اجنبی سا محسوس ہونے لگتا ہے اور ''چل اڑ جا رے پنچھی'' والی فیلنگ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ دریں اثنا چار کاموں کا فی الفور آغاز ہوجاتا ہے یعنی رونا دھونا، کلئیرنس ،پیکنگ اور ٹرک کی تلاش۔ نئی پوسٹنگ پر بیگم کا رونا دھونا اپنی جگہ ایک مصمم حقیقت ہے۔ رونے دھونے کی مقدار نئے سٹیشن کے میکے سے فاصلے سے براہ راست اور سسرال سے فاصلے سے معکوس متناسب ہوا کرتی ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دیرتو زور و شور سے جاری رہتا ہے پھر دھیرے دھیرے بیمار کو'بے وجہ قرار' آ ہی جاتا ہے۔ اس کی وجہ عموماً نئے شہر میں موجود شاپنگ کی معلومات ہوتی ہیں جو لیڈیز کلب کے توسط سے بیگم تک پہنچتی ہیں۔
یہ بات بھی تجربے سے ثابت ہے کہ حکومت سے پیسہ وصول کرنا تو ناکوں چنے چبانے کے برابر ہے ہی لیکن سرکاری واجبات کی ادائیگی بھی جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ کلئیرنس کروانے کے لئے ایسے ایسے محکموں کے چکر لگانے پڑتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ جس دفتر کا آپ کو نام بھی معلوم نہیں ہوتا، پتہ چلتا ہے کہ آپ کی طرف ان کے بھی ہزار دو ہزار نکلتے ہیں۔ چلتے چلتے جوتیاں گھس جاتی ہیں لیکن گوہر مقصود ہاتھ نہیں آتا۔ جس دفتر میں بھی کلئیرنس فارم روانہ کیا جاتا ہے وہاں سے جواب ملتا ہے کہ ہم تو سب سے آخر میں دستخط کریں گے۔ یہ نکتہ ہماری سمجھ میں آج تک نہیں آیا کہ جب سب ہی آخر میں دستخط کریں گے تو پہلے کون کرے گا؟ جو افسران اس صحرا میں خود سے آبلہ پائی کرنے نکل پڑتے ہیں وہ ایک آدھ دن میں ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے توبہ توبہ کر اٹھتے ہیں اور یہ کام اپنے کسی 'سیانے' حوالدار کو سونپ دیتے ہیں جو چند 'آزمودہ' نسخے آزمانے کے بعد یہ مرحلہ طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس دوران افسر کی جیب خاطر خواہ حد تک ہلکی ہو چکی ہوتی ہے۔
سامان کی پیکنگ ایک انتہائی ٹیکنیکل قسم کا کام ہے اور ہم سے قسم لے لیجئے کہ یہ آئی ایس ایس بی پاس کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ سو سو طرح کے تجربات سے گزر کر ہی بندہ اس کام میں مہارت حاصل کرپاتا ہے۔ ہرپوسٹنگ پر سامان کے لئے نئی پیکنگ بنوانا پڑتی ہے کیونکہ پرانی پیکنگ دو سال کے عرصے میں سٹور میں پڑی پڑی یا تو گل سڑ جاتی ہے یا'نادیدہ قوتوں' کے ہاتھ لگ کر غائب ہو جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے آرڈیننس والوں سے جان پہچان نکال کر پرانے کمبل بھی بہم پہنچائے جاتے ہیں اور کارپینٹر سے کریٹ بنوانے کا فریضہ بھی سر انجام دیا جاتا ہے۔ سامان کو لاکھ حفاظتی پردوں میں بھی پیک کر دیا جائے تب بھی اس کے بحفاظت منزل مقصود تک پہنچنے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ واقفان حال شاہد ہیں کہ جہیز کی کسی چیز کو معمولی خراش بھی پہنچ جائے تو بیگمات کے لئے وہ صدمہ ابدی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان تمام خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیکنگ کے لئے خصوصی ٹیم کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے گھر کی چیزیں کمبلوں میں لپٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس گھر کو آپ نے دو تین سال تک ارمانوں سے سجایا ہوتا ہے اسے یوں ویران ہوتے دیکھ کر سینے پر سانپ لوٹتے ہیں لیکن بادل نخواستہ یہ عمل جاری رکھا جاتا ہے۔


سامان کی پرانے سٹیشن سے نئے سٹیشن تک ترسیل کے لئے مناسب سواری کا بندوبست کرنا بھی گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ یہ عمل لگ بھگ قربانی کا بکرا ڈھونڈنے جیسا ہی ہوتا ہے۔ افسر کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی کم خرچ بالا نشین قسم کا ٹرک اس مقصد کے لئے حاصل ہو جائے چنانچہ تمام دوستوں یاروں اور دور نزدیک کے جاننے والوں کو ٹرک والوں سے گفت و شنید کا ٹاسک دے دیا جاتا ہے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد ۔ نئے شہر کا نام سنتے ہی ٹرک والے جس رقم کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اس سے بہترتو یہ لگتا ہے کہ بندہ تمام سامان فقیروں میں تقسیم کر کے خالی ہاتھ نئے ڈیوٹی سٹیشن پر پہنچ جائے اور وہاں جا کر پورے کا پورا سامان دوبارہ خرید لے۔ لیکن کیا کریں ایسا چاہتے ہوئے بھی ممکن نہیں ہوتا کیوں کہ اس سامان میں وافر حصہ بیگم کے جہیز کا ہوتا ہے جس سے جدائی انہیں کسی طور گوارا نہیں ہوتی۔ کافی ردو کد کے بعد بجٹ کے ڈیڑھ گنا حد میں ایک عدد ٹرک مہیا ہو ہی جاتا ہے۔ خدا خدا کر کے وہ دن بھی آ ہی جاتا ہے جب ٹرک گھر کے دروازے پر آن موجود ہوتا ہے۔ اب سامان کو ٹرک میں لوڈ کرنے کا آغاز ہوتا ہے جو کہ نہایت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ سامان کو ایک خاص ترتیب سے مرحلہ وار ٹرک میں لوڈ کرایا جاتا ہے۔ صوفے کی جگہ بنانے کی کوشش میں فرج سوار ہونے سے رہ جاتا ہے اور جہیز کی پیٹی کو ترجیح دیں تو ڈائئنگ ٹیبل کو نیچے اتارنا پڑتا ہے۔ اس مرحلے پر بیگم ہمارے کتابوں والے ٹرنک کو سو سو صلواتیں سناتی ہیں اور اسے ٹرک بدر کروا کے ہی دم لیتی ہیں۔ تمام تر کوشش کے باوجود آخر میں بہت سا سامان بچ جاتا ہے جسے موقع پر ہی مستحقین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
بالآخر ٹرک روانہ ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے افسر بمع فیملی پرانے سٹیشن کو خدا حافظ کر کے اپنی ذاتی گاڑی میں نئے سٹیشن کے لئے روانہ ہوجاتا ہے۔ نئے سٹیشن پر پہنچ کر سامان کسی سٹور میں رکھوایا جاتا ہے۔ اگر گھر الاٹ ہونے میں کچھ دیر ہو تو تب تک کا وقت میس کے ایک کمرے والے گیسٹ روم میں گزارا جاتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی سٹیشن پر آپ کو چار بیڈ روم کا گھر مل جائے جبکہ دوسرے سٹیشن پر آپ دو کمروں کے فلیٹ میں ڈیرہ جمانے پر مجبور ہوں۔ ایسے میں ہر بار پردے اور قالین گھر کے سائز کے حساب سے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔ نئے گھر کو نئے سرے سے رنگ و روغن کروا کر بڑے چائو سے تیار کیا جاتا ہے۔ تمام اشیاء کی پیکنگ کھولی جاتی ہے۔ ٹوٹی ہوئی اشیاء پر آنسو بہائے جاتے ہیں اور بچ جانے والی چیزوں پر شکرانے کے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ گھر کو نئے شہر کی مناسبت سے خوب سجایا سنوارا جاتا ہے، فون، کیبل، بجلی، گیس کے کنکشن لگوائے جاتے ہیں اور بچوں کے داخلے کرائے جاتے ہیں۔ زندگی نئے سرے سے شروع ہوتی ہے، پرانے دوستوں کو بھلا کرنئے دوست بنائے جاتے ہیں اور نت نئی دلچسپیاں اختیار کی جاتی ہیں۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہتا ہے، دو سال گویا پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں اور پھر اچانک ایک دن بیٹھے بٹھائے۔۔۔۔۔۔ نئی پوسٹنگ آ جاتی ہے۔


ہینڈنگ ٹیکنگ
فوج میں ایک بار داخلہ ہی اپنی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد اپنی مرضی چلانے کا موقع شاذو نادر ہی مل پاتا ہے۔ پوسٹنگ ، ٹرانسفر ایک معمول کی بات ہوتی ہے جس میں سٹیشن اور وقت کا انتخاب افسر کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ ہر پوسٹنگ اور ٹرانسفر سے ایک چیزلازماً جڑی ہوتی ہے اور وہ ہے جانے والے کا نئے آنے والے کو چارج سونپنا جسے عرف عام میں ہینڈنگ ٹیکنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس دو الفاظ کے مجموعے میں کتنے حشر پوشیدہ ہیں وہ تو واقفانِ حال ہی بہتر جانتے ہیں۔ہینڈنگ ٹیکنگ انفرادی بھی ہوتی ہے اورپوری یونٹ کی بھی۔اب دو تین سال کی پوسٹنگ کے دوران ایک سٹیشن پر رہتے ہوئے بہت سی چیزیں ایشو کروائی جاتی ہیں جن کو مکمل چلتی حالت میں نئے آنے والے فرد یا یونٹ کے حوالے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہینڈنگ ٹیکنگ میں چارج پر موجود تمام منقولہ و غیر منقولہ اشیاء کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔اگر کوئی چیز ناموجود ہو یا اس کا کوئی کل پرزہ ڈھیلا ہو تو جان نہیں چھٹتی بلکہ اکثر اوقات بات اوپر تک پہنچ جاتی ہے چنانچہ اس تمام عمل کے دوران عزت سادات دائو پر لگی رہتی ہے۔دینے والے چیزیں پوری کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ لینے والے بھلی چنگی چیزوں میں نقص نکال کر ایک طرف رکھتے چلے جاتے ہیں۔ خیر یہ سلسلہ کچھ دیر جاری رہ کر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے اور کچھ لو کچھ دو کے اصول کو اپنا کر درمیانہ راستہ نکال ہی لیا جاتا ہے۔
سیاچن میں ہم ایک مرتبہ پوسٹ پر پہنچے تو ہمیں وہاں پہلے سے موجود کیپٹن امین کے ساتھ ہینڈنگ ٹیکنگ کرنا پڑی۔ کیپٹن امین اگلی صبح ہمیں اگلو سے باہر لے گئے اور فرمانے لگے کہ اس پوسٹ پر صرف اگلو ہی برف سے باہر ہے باقی ہر چیز برف کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ میں تمہیں جگہوں کی نشاندہی کر دیتا ہوں اگر تم چاہو تو کھود کر نکال لو اور گن کر اپنی تسلی کر لو۔اب بھلا 19 ہزار فٹ کی بلندی پر کون ہو گا جو برف کھود کر راشن کے تھیلے دریافت کرے اور کولمبس ثانی کہلائے۔چنانچہ ہم نے اچھے فرمانبردار جونئیر کی طرح سر تسلیم خم کر دیا کیوں کہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا اور یوں عسکری تاریخ کی یہ مختصر ترین ہینڈنگ ٹیکنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ پوسٹ پر ہم نے تین مہینے جوں توں کر کے گزارے اورادھر ادھر کھود کھود کر ضرورت کے مطابق راشن دریافت کرتے رہے۔ ہوتا کچھ یوں کہ جہاں دال برآمد کرنے کے لئے کھدائی کرتے وہاں پکی پکائی سبزی کے ڈبے ہمارا منہ چڑاتے نظر آتے اور جس جگہ کیپٹن امین نے گھی کے ڈبوں کا بتایا تھا وہاں سے انرجائل کے ڈبے نکل آتے۔ خیریونہی کرتے کراتے ہمارا وقت مکمل ہوا اور ہماری ریلیف کے طور پر کیپٹن ارسلان تشریف لے آئے۔ ہم نے بھی پرانے طریقے کے مطابق ان کو راشن وغیرہ کی نشاندہی کی اور ہنستے کھیلتے پوسٹ کو خداحافظ کہا۔ ہماری کیپٹن ارسلان سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی کہ ان سے پوچھتے کہ برف کے اس موئن جوداڑو سے انہوں نے مزید کیا کچھ برآمد کیا۔

جاری ہے۔۔۔۔

 
Read 526 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter