دیس دیس کی سیر مگر اپنا پاکستان

تحریر: ڈاکٹر ہمامیر

جب تک ہم یورپ نہیں گئے تھے، بلکہ یوں کہئے جب تک ہم اٹلی کے شہر وینس نہیں گئے تھے ہمیں اندازہ نہیںتھا کہ فلموں میں اور حقیقی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اکثر فلمی گانوں میں وینس میں کشتی میں ہیرو ، ہیروئن بیٹھے رومانوی گیت گا رہے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ وینس کا شہر پانی میں گھرا ہوا ہے، یہاں عمارتیں، ہوٹل سب پانی کے اوپر ہیں اور گاڑیوں کے بجائے لوگ کشتی میں سفر کرتے ہیں۔ وینس118 جزیروں پر مشتمل شہر ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے بذریعہ پل ایک دوسرے سے جڑے ہیں اور ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔ہمیں بہت شوق تھا کہ وینس کی خوبصورتی دیکھیں، وہاں کی مشہور کشتی گنڈولا
(Gondola)
میں بیٹھیں، جس میں بیٹھ کر ہیروئن لہر ا لہرا کے گیت گاتی ہے۔2013 میں ہم پہلی بار یورپ کے دورے پر گئے اور بطور خاص وینس گئے جہاں دھوپ، گرمی اور حبس نے چودہ طبق روشن کردیئے، مگر ہم نے ہنسی خوشی یہ گرمی برداشت کی کہ گنڈولا میں بیٹھیں گے تو مزا آجائے گا۔ مگر صاحبو ! ہوا یوں کہ مہنگا ٹکٹ خرید کر جب اس گنڈولا میں بیٹھے تو ناخدا نے سختی سے تنبیہہ کی کہ کوئی کھڑا نہ ہو، سب آرام سے بیٹھ جائیں۔ ہم نے کئی بار کوشش کی کہ کم از کم ایک آدھ تصویر ذرا کھڑے ہوکر بنالیں مگر ہر بار ہمیں بٹھا دیاگیا۔ سارے موڈکا ستیاناس ہوگیا، ایک تو گرمی، پسینہ اوپر سے مہنگا ٹکٹ، پھر ہلنے جلنے پر پابندی۔ جانے فلموں میں کیسے شوٹنگ ہوتی ہوگی۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف رہا ہمارا سفرِوینس!!! یہ وینس کا ذکر ہم یوں کررہے ہیں کہ کینیڈاآنے سے قبل ہمیں سردیاں اور برفباری بہت اچھی لگتی تھی۔ کراچی میں تو بالکل ٹھنڈ نہیں پڑتی لہٰذا برفباری پسند ہونا قدرتی بات ہے۔ ایک تو فلموں کا ہمارے دل و دماغ پر بہت اثر ہوتا ہے، فلموں میں ہیرو، ہیروئن برف میں گانے گاتے ہیں، ہیرو تو خیر خوب گرم کپڑے مثلاً اوور کوٹ، مفلر، اونی دستانے وغیرہ پہنے ہوتا ہے، جبکہ ظالم ہدایتکار نے ہیروئن کو شیفون کی ساڑھی پہنا رکھی ہوتی ہے۔ وہ غریب برف میں ایسے آرام سے گھومتی ہے جیسے چاندنی رات میں ساحلِ سمندر پر چہل قدمی کررہی ہو۔
Snow man
بنانا، برف کے گولے ایک دوسرے پر اُچھالنا، برف میں لڑھکنا، یہ سب فلموں میں ہی اچھا لگتا ہے، جب سے ہم نے کینیڈا میں ڈیرہ ڈالا ہے برف اور سردی کے نام سے ہی دانت بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔

desdeskisair.jpg
ایک تو مصیبت یہ ہے کہ یہاں کی شہری حکومت، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت سب اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں لہٰذا نہ بارش کا پانی کہیں کھڑا ہوتا ہے نہ برف کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں۔
Heating System
بھی عمدہ ہوتا ہے، کمبخت بجلی بھی نہیں جاتی لہٰذا کوئی بہانہ نہیں چلتا اور دفتر ٹائم پہ ہی پہنچنا پڑتاہے۔ ٹرانسپورٹ والے بھی آرام سے ڈیوٹی کرتے ہیں، پہیہ جام یا ہڑتال بھی نہیں ہوتی، کچھ بھی ہوجائے،بندے کو ڈیوٹی پر ٹائم پہ ہی پہنچنا ہوتا ہے چاہے آندھی ہو یا طوفان، کاروبارِحیات چلتا رہتا ہے۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوجاتی ہیں، سورج صبح 8 بجے نکلتا ہے اور بادلوں میں ڈھکا رہتا ہے۔ ہمیں تو اب اس برفباری سے وحشت سی ہونے لگی ہے۔ کہیں بھی جانا ہو تو پہلے گھر کے باہر سے اور گاڑی پر سے برف صاف کرو۔ پھر گاڑی سٹارٹ کرکے پانچ دس منٹ کے لئے چھوڑ دو، جب انجن گرم ہو جائے پھر ہیٹر آن کرکے منزل مقصود پہ روانہ ہوجائو۔ بھلے ساری مشقت میں اپنی قلفی جم جائے لیکن کرنا یہی پڑتا ہے۔ پاکستان میں تو الگ ہی لائف اسٹائل ہوتا ہے، گاڑی صاف کرنا، چمکانا، آپ کو منزلِ مقصود پہ پہنچانا، یہ سب کام ڈرائیور کرلیتا ہے، گھر کی صفائی ستھرائی یا دیگر امور کے لئے بھی ملازمین بآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔ کینیڈا میں مشکل یہ ہے کہ سارا کام خود کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کوئی مالی، ماسی، چوکیدار یا ڈرائیور نہیں ہوتا۔ یہاں تو ٹوائلٹ بھی خود صاف کرنا ہوتا ہے۔ کھانا پکانا، گھر کی صفائی، لان کی دیکھ بھال، ملازمت، ہر وقت لگتا ہے کہ بس کام، کام اورکام۔ اسی باعث یہاں کے لوگ فارغ الذہن نہیں ہوتے اس لئے شیطان کا گھر نہیں بنتا۔ یہاں کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ دیکھے کہ فلاں نے کیا پہنا ہے، فلاں کے یہاں کیا پکا ، فلاں کی ساس بہو سے جھگڑ تو نہیں رہی؟ فلاں کیا کررہا ہے۔ کسی کو کسی کی پروا ہے نہ ٹوہ، ہر کوئی اپنے آپ میں مگن ہے۔ یہ مجبوری ہے کیونکہ یہاں وہ سسٹم تو نہیں کہ ایک کمائے دس کھائیں۔ اگر ایک گھر میں دس افراد ہیں تو دس کے دس کوکمانا ہوگا۔ سٹوڈنٹس بھی کام کرتے ہیں کیونکہ ہائی سکول تک تو تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے اور مفت ہے مگر یونیورسٹی کے لئے فیس دینی ہوتی ہے۔


یہاں کینیڈا میں والدین اپنے بچے کی یونیورسٹی کی فیس ادا نہیں کرتے لہٰذا بچے کو خود کما کے اپنے اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں۔ مقامی بچے بہت حیرت کرتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ دیسی والدین بچوں کی کفالت کرتے ہیں۔ پاکستان میںساری زندگی والدین بچوں کو پالتے ہیں جبکہ یہاں بچہ اٹھارہ برس کا ہوا اور اس نے الگ ٹھکانہ کرلیا۔ یہ آزادی عجیب ہے، بچہ سمجھتا ہے میں بڑا ہوگیا لہٰذا اب میں آزاد ہوں، اب کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی پابندی نہیں۔ اس قسم کی آزادی کے نتائج وہ نکلتے ہیں جو مشرقی اور اسلامی اقدار کے منافی ہیں۔ اکثر ہم یہ سوچتے ہیں کہ مشرق اور مغرب میں بہت فرق ہے، ہمیں اپنا پن اور مروّت بالکل نظر نہیں آتی۔ بس ایک مشینی زندگی ہے اور وہ بھی صرف اپنے لئے۔ جب ہم نئے نئے آئے تھے تو ایک مرتبہ بس میں کہیں جارہے تھے۔ وہاں ہم نے ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا جو بہت خوبصورت اور نوعمر تھی۔ اس نے اپنا ایک چوتھائی سر گنجاکر رکھا تھا اور باقی سر کے بالوں کو گہرا نیلا اور سبز رنگا تھا۔ اُس لڑکی نے جو ہمیں اپنی طرف بغور دیکھتے ہوئے دیکھا تو بھڑک گئی۔ اس نے وہ مغلظات بکیں کہ توبہ توبہ۔ ہم شرمندہ ہو کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
اب ایک اور واقعہ، یہ بھی بس میں پیش آیا۔ گرمیوں کے دن تھے، ہم رات کے وقت گھر واپس جارہے تھے۔ ہمیںبس کی عقبی حصے میں سیٹ خالی نظر آئی تو وہیں جاکر بیٹھ گئے۔ ہمارے سامنے ایک نوجوان سیاہ فام لڑکی بیٹھی تھی جس کے ہاتھ میں موبائل، کان میں ہیڈ فون اور پشت پہ بیک پیک تھا۔ وہ حلیے سے یقیناً کوئی طالبہ لگ رہی تھی۔ اس نے فون پر باتیں کرتے کرتے دھڑ سے اپنے پائوں ہماری جانب بڑھائے اور ساتھ والی نشست پر رکھ دیئے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ اُس کے جوتے بالکل ہماری سائیڈ پر تھے۔ ہم دنگ رہ گئے، پاکستان میں کوئی جاہل بھی ہوگا تو کبھی دوسرے کے منہ کے آگے جوتے کرکے نہیں بیٹھے گا۔ یہاں تعلیمی اداروں میں جو علم سکھایا جارہا ہے وہ اپنی جگہ لیکن اگر کسی نے یہ بھی نہ سیکھا کہ ادب، لحاظ، تمیز کس چڑیا کانام ہے تو کیا فائدہ ایسی ڈگریوں کا۔ ہم سے یہ بدتمیزی برداشت نہ ہوئی اور ہم نے اُس کو پیر ہٹانے کے لئے کہا، اُس لڑکی نے سُنی اَن سُنی کردی، مجبوراً ہمیںنشست تبدیل کرنی پڑی۔ یہ واقعات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین جان سکیں کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کتنی ضروری ہے۔ تربیت کا جو معیار ہمارے یہاں ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ اکثر ہمارے (پاکستانی فیملیز کے) بچے بھی بڑوں کو سلام نہیں کرتے۔ اگر آپ بچے کے دوست ہیں تو بچہ آپ کو ہیلو کہے گا، اگر آپ بچے کے والد یاوالدہ کے دوست ہیں توسلام کرنا تو دُور کی بات، بچہ آپ کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر پاکستانی اور مسلمان خاندان اپنے بچوں کی پرورش بہت عمدہ انداز سے کررہے ہیں۔ بچوں کو بنیادی ادب آداب کے علاوہ مذہب کی تعلیم بھی دے رہے ہیں۔ وطنِ عزیز میں بچے کو سنبھالنے والے بہت عزیز رشتہ دار ہوتے ہیں جبکہ کینیڈا میں ڈے کیئر سینٹرز اس ذمہ داری کو نبھارہے ہیں۔ چونکہ ماں جاب کرتی ہے اور باپ (اگر ساتھ ہو تو) بھی جاب کرتا ہے لہٰذا بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ڈے کیئرسینٹر ہی موزوں ہے۔ بیشتر پاکستانی اس منفعت بخش کاروبار سے منسلک ہیں۔
اب ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آگیا ہے کہ کیوں بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی اپنے بچوں کی شادیاں پاکستان میں ہی کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ یہاں کی نوجوان نسل مکمل گمراہی میں ڈوبی ہوئی ہے لیکن ایک بنیادی فرق جو نمایاں ہے وہ سوچ کا ہے۔ کینیڈا میں پلنے بڑھنے والے نوجوان شخص آزادی، فکری آزادی، دو ٹوک بات کرنے، اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں بزرگ اپنی مرضی بچوں یا نوجوانوں پر ہرگز مسلط نہیں کرسکتے۔ پاکستان میں ہر معاملے میں بزرگوں یا والدین کا فیصلہ ہی چلتا ہے کہ بچہ کیا پڑھے گا، کیا بنے گا، کہاں اور کس سے شادی کرے گا۔ جبکہ یہاں یہ رواج نہیں۔ کینیڈا میں بسنے والے زندگی تو یہاں بسر کررہے ہیں، مگر وہ لوگ جو عرصۂ دراز سے یہاں مقیم ہیں وہ ذہنی طور پر پاکستان کی ہی تہذیب و روایات کا پاس کر رہے ہیں، ایسے میں جب اُن کی اولاد مختلف سوچ کی حامی ہو تو دو تہذیبوں، دو افکار اور دو نسلوں کا ٹکرائو ہونا فطری سی بات ہے۔

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہُوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تُو

مری مثال کہ اک نخلِ خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخِ چمن کا طائر تُو

میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تُو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تُو

فضا اُداس ہے رُت مضمحل ہے میں چپ ہُوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تُو

فراز تُو نے اُسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تُو

ahmed_faraz.jpg
احمدفراز

*****

 
Read 250 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter