تحریر: صائمہ بتول

سائبر کرائم یا کمپیوٹر کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پورے نیٹ ورک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، جس میںملزم، مدعی، مجرم اور ہدف بھی کمپیوٹر ہوتا ہے۔ سائبر کرائم ایسے مجرمانہ فعل کے ارتکاب کو کہا جاتا ہے جس کا ہدف فردِ واحد، ایک تنظیم، گروپ، کمپنی اور ملک ہو سکتا ہے جسے باقاعدہ طے شدہ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بناکر ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی طور پر بالواسطہ یا بلاواسطہ یا دونوں طرح سے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ سائبر کرائم کے وار سے کسی ملک کے حفاظتی اقدامات پر یا کسی قوم کی ثقافت پر وار کیا جاتا ہے۔ یا کسی بھی مذہب پر قدغن لگائی جاسکتی ہے۔ اس میں جدیدہتھیار ٹیلی کمیونیکیشن، نیٹ ورک، انٹر نیٹ، موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ، چیٹ روم،بلوٹوتھ، ایس ایم ایس، ایم ایم ایس، واٹس ایپ، ای میل، لنکڈان، انسٹا گرام اور سیٹلائٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اعلیٰ سطح کے جرائم میں ہیکنگ (دراندازی، توڑ پھوڑ) بڑے پیمانے پر غیر اخلاقی و غیر قانونی نگرانی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی،بچوںسے متعلقہ برہنگی جنسی جرائم، انسانوں کی تجارت، ممالک کی سائبر سرحدوں پر سائبراٹیک کے علاوہ کئی اور جرائم بھی شامل ہیں۔ ذاتی معلومات اور شخصی آزادی بھی اسی مد میں آتے ہیں۔ سائبر کرائم میں مجرم کوئی ایک حکومت بھی ہوسکتی ہے اور کئی کیسوں میں واحد شخص بھی اس کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ جاسوسی اور مالیاتی چوری یا ڈاکے کے علاوہ سرحدوں پر مشکوک سرگرمیاں سائبر وار فیرکہلاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سائبرکرائم کے ذریعے دنیا بھر میں سالانہ445 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ 2016 میں مائیکرو سافٹ کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے فراڈ پر1.5 بلین ڈالر کا نقصان ہوا جو آن لائن دھوکہ دہی میں آتا ہے۔ایک تحقیقاتی ٹیم کے مطابق سائبر کرائم روز بروز بڑھے گا اور2019 تک یہ مجموعی نقصان 2.1 ٹریلین ڈالر تک جاسکتا ہے۔ تاریخ کا بدترین ہیکنگ کمپیوٹر کرائم1970 سے1973 کے دورانیے میں نیویارک کے یونین ڈائم سیونگ بینک میں ہوا جس میں کئی سو اکائونٹس کو نشانہ بنا کر 1.5 ملین ڈالر اڑا لئے گئے۔1983 میں 19 سالہ طالب علم نے اپنے ذاتی کمپیوٹر کی مدد سے ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے کمپیوٹر سسٹم کو باقاعدہ ناکارہ بنا کر دنیا بھر سے اس کا رابطہ توڑ دیا تھا۔ اسی طرح2010 میں اسپین کے ایک تفتیشی افسر نے دو ساتھیوں سے مل کر دنیا بھر کے تقریباً 13ملین کمپیوٹرز کو وائرس سے تباہ کردیا۔ یاد رہے کہ دنیا کا پہلا وائرس(آئی بی ایم کی رپورٹ کے مطابق) 1986 میں لاہور پاکستان کے رہائشی فاروق علوی برادران نے برین کے نام سے بنایا جو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ بہر حال ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم کی درجہ بندی میں چند اور اضافے ہوئے جن کی تفصیل یہ ہے:

newcybercrime.jpg
سائبرٹیررازم، سائبر ایکسٹورشن، سائبر وار فیئر ؤ، کمپیوٹر بطور ٹارگٹ، کمپیوٹربطورٹول ، ای ہراسمنٹ اور ڈرگ ٹریفکنگ۔ یہ سلسلہ جاری ہے جس میں ذہنی، اعصابی، جذباتی اورروحانی طور پر بے راہ روی اور بیماری لاحق کردینے والا تحریری، تصویری اور صوتی آواز والا مواد شامل ہوتا ہے۔ رواں سال مئی 2017 میں 74 ممالک پر شدید نوعیت کا سائبر اٹیک ہوا جس کو
' 'Wanna Cry
'رونے کی خواہش'کانام دیا گیا۔ کمپیوٹر سے وابستہ مثبت اور منفی رجحانات کے ساتھ ساتھ فوائد و نقصانات کا حساب بھی ضروری ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک میں اس جرم کا تدارک، قانون سازی، ہنر، تعلیم و تربیت اور استعمال کا مفید طریقہ اور ادراک بھی ضروری ہے تاہم دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سائبر کرائم سے ہونے والے نقصان، مجرمانہ حرکات، نقل و حمل اور جرائم کی نشاندہی اور استغاثہ ابھی تک ایک مسئلہ ہی ہے جو یقینا بھرپور حل کا منتظر ہے۔ جین لوپ رچٹ
(Jean-Loup Richet)
کمپنی جو سائبر کرائم کے تدارک پر کام کررہی ہے، کے مطابق تکنیکی مہارت، سمجھ بوجھ اور پیچیدہ قسم کی فنی رسائی سائبر کرائم کو مزید مہلک اور گھمبیر ہونے سے روک سکتی ہے۔ ہیکنگ یعنی توڑ پھوڑ اور دراندازی وقت کے ساتھ ساتھ اتنی پیچیدہ اور خطرناک نہیں رہی جتنی ماضی قریب میں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ہیکرز اور اس شعبے سے متعلقہ مختلف لوگوں نے مختلف طریقوں سے واقفیت اورآگاہی سمیت ہوشیار اور چوکنا رہنے کی راہیں ہموارکرلی ہیں جس میں پرنٹ میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک کو استعمال میں لایاگیا۔ اس کے علاوہ کلائوڈ کمپیوٹنگ استعمال کرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے وہ ایک نجی مخصوص سرور کے ساتھ سرور مینجمنٹ نیٹ ورک کنفگریشن سمیت کمپیوٹر کے ماہرین، انٹرنیٹ فروش اور صارفین کا علم بھی رکھتے ہوں۔ کمپیوٹر کو استعمال کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ بہتر، محفوظ اور نسبتاً آسان کمپیوٹنگ کو فروغ دیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک ای میل کا حجم معلوم ہو تو سافٹ ویئر کا حجم ناپاجاسکتا ہے۔ کلائوڈکمپیوٹنگ بھی سائبر کرائم کے حملے سے بچائو کا ایک موثر طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی احتیاط مثلاً بروٹ فورسنگ اور الگورتھم یعنی علمِ ترکیب کے استعمال کے بغیر بھی حفاظتی بند یعنی پاس ورڈ کو تبدیل کرنے سے بھی وائرس یا کسی تخریبی حملے سے بچا جاسکتا ہے۔ اب جدید تفتیش میںکمپیوٹر گواہی، شہادت یا شواہد کے طور پر استعمال ہوتا ہے اورخصوصاً ڈیجیٹل فرانزک کے شعبے میں تو یقینا تفتیش کا سارا دارو مدار کمپیوٹر ہی پر ہوتا ہے۔ کمپیوٹر اگر براہِ راست مجرمانہ نقل و حرکت میں نہ شامل ہو پھر بھی ممکنہ حد تک کمپیوٹر یا فون سے مجرم یاجرم کا پتہ لگانا آسان ہو سکتا ہے۔ اسی لئے بہت سارے ممالک میں انٹرنیٹ کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ خاص وقت تک صارفین سے متعلقہ ضروری کوائف حاصل کرکے اُن کو باقاعدہ ریکارڈ کے طور پر محفوظ رکھیں تاکہ قانونی پہلوئوں اورموشگافیوں میں مدد مل سکے مثال کے طور پر سارے یورپی ممالک میں کم ازکم بارہ مہینے تمام ای میل کی آمد ورفت کا حساب رکھنا ضروری ہے۔


جس طرح سائبر کرائم کے انداز وقوع مختلف اور بے شمار ہیں اسی طرح تفتیش کے طریقے اور معیار بھی جُدا جُدا ہیں مگر سب سے زیادہ آئی پی ایڈریس (انٹرنیشنل پروٹوکول) مشہور اور نسبتاً مؤثر ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر تفتیشی ماہراسی لئے معیار کے ذریعے مقدمے کو حل کرے۔ بعض اوقات بڑے بڑے ہائی ٹیک جرائم میں بہت لوٹیک طریقے اپنائے جاتے ہیں جن کے ذریعے تفتیشی ماہرین جدید دنیا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔ دنیا بھر میں سائبر کرائم کو مزیدقابلِ رسا، لائقِ سمجھ اورقابلِ حل بنانے کے لئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں جس میں ایک چھوٹے سے چھوٹے علاقے سے لے کر بین الاقوامی امدادی اور مشاورتی ادارے سرگرمِ عمل ہیں۔ قانونی استحصال اور کم تعلیم کی وجہ سے مجرموں کا بہترین ہدف تیسری دنیا کے کم یا غیر ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ فلپائن میں سائبر کرائم کا قانون بہت ہی کمزور اور ناقابلِ عمل ہونے کے برابر ہے۔ اسی لئے سائبر کریمنل نہ صرف بین الاقوامی سرحدوں سے اسے نشانہ بنانے میں ناقابلِ شناخت رہتے ہیں بلکہ قانون کے شکنجوں میں بھی نہیں آتے اور اگر پکڑے جائیں تو ناقص قوانین کی وجہ سے قانونی استغاثہ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اسی تناظر میں امریکہ نے سائبر قوانین بنانے میں پہل کی پھر بھی ایف بی آئی کو بین الاقوامی مجرموں سے نبرد آزما ہونے میں مشکل پیش آئی۔ جس کی مثال دو روسی ہیکرز کی گرفتاری کا مشہور کیس ہے جس میں ایف بی آئی کو ایک جعلی کمپنی بنانی پڑی جو سیٹلائٹ کے ذریعے دوسری کئی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتی ہو۔ بڑی تگ و دو کے بعد دونوں روسی مجرموں کو واشنگٹن میں کام کی دعوت دی گئی۔ کافی دلچسپ اور جاذب دعوت سے مستفید ہونے کی نیت سے آنے والے دونوں مجرموں کو انٹرویو کے بعد دفتر کی عمارت کے باہر ہی دھر لیا گیا۔ مگر دوسری جانب کمزور، ناپختہ اور ادھورے قوانین جرائم کے راستے مزید ہموار کرتے ہیں۔ جس طرح میںنے عرض کی کہ پیش گوئی ہے کہ آنے والے سالوں میں کمپیوٹر کا استعمال زیادہ ہوگا اسی طرح متعلقہ جرائم اور سزائوں کا حلقۂ کار بھی وسیع ہوتا جائے گا۔ سائبر کرائم کے زمرے میں بغیر اجازت کے کمپیوٹر کے استعمال سے لے کر کمپیوٹر ٹیمپرنگ
(Tempring)
بھیشامل ہے۔ اسی طرح سزا بھی جرم کی نوعیت کے حساب سے ہے۔ کلاس اے سے لے کر کلاس 'سی' تک مختلف نوعیت کے واقعات شامل ہیں جن کی سزا معمولی حوالات سے بھاری فائن اور 15 سال کی جیل تک ممکن ہے۔ بعض مستند ہیکرز مخبری کرنے والے اداروں کے باقاعدہ ملازم ہیں جو اندر کے بھیدی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ممکنہ طریقہ بھی قانون سازی ہی ہے۔ سزا یافتہ مجرموں کو جیل سے رہائی کے بعد بھی کمپیوٹر خریدنے اور اس پر کام کرنے پر پابندی ہونی چاہئے اور یہ پابندی باقاعدہ عدالت کی طرف سے عائد کی جائے۔


جس طرح روزمرہ کی زندگی میںٹیکنالوجی کا استعمال ترقی کی گاڑی کا پہیہ بن چکا ہے اسی قدر سائبر کرائم کے اندیشے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ خصوصاً بینک اکائونٹ کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کے صارفین ہی اس کا ہدف نہیں بلکہ بڑے بڑے پاور پلانٹ، ایٹمی ہتھیاروں کے گودام، چھائونیاں، حساس ادارے، ہوٹل، دفاتر، خریدو فروخت کی منڈیاں، بڑے بڑے مال اور شہر کے شہر اور ملک کے ملک اس کا ہدف ہوسکتے ہیں۔ اس لئے نہایت ضروری ہے کہ اس موضوع (سائبر کرائم) کے بارے میں آگہی، تعلیم و تربیت، ہوشیار، اور چوکنا رہنے کی تدابیر کی جائیں، مؤثر قوانین بنائے جائیں، عدالت اور وکلاء مختص کئے جائیں تاکہ شہروں اور تعلیمی اداروں میں اس کے فوائد و نقصانات باور کروائے جائیں۔ شکایات کا ازالہ کیا جائے مجرموں کو سزا دی جائے۔ ایف بی آئی کے شکایات کے شعبہ میں2014 میں269,422 شکایات کا اندراج ہوا جس کا مجموعی نقصان073،422، 800ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ سال بھر میں1.5 ملین سائبر حملے ہوئے جس میں4000 مجرمانہ حملے روزانہ،170 حملے فی گھنٹہ اور3 حملے فی منٹ کی رفتار سے ہیں ۔ یہ حملے پر لگائے دنیا بھر کو نقصان پہنچانے کے لئے اڑ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کوئی شخص کہیں بھی اور کسی وجہ سے بھی اس'عفریت' کا نشانہ بن سکتا ہے زیادہ تر 'آن لائن' رہنے والے لوگوں کے لئے اس کی سمجھ بوجھ بہت ضروری ہے۔


پاکستان میں سائبر کرائم بل پاس ہو چکا ہے اور ایف بی آئی پچھلے 15 سال سے ملک کی بیشتر جگہوں پر کام کررہی ہے۔ اس سلسلے میں جدیدیت، سہولت اور ماہرین سمیت ججوں اور وکلاء کی مہارت میں بھی اضافہ ایک انتہائی ضروری امر ہے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

sbatool This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 245 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter