دامِ لہوقسط پنجم

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ اقساط کا خلاصہ
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔


صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیں اور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔


صبا آرمی پبلک سکول میں ٹیچر ہے اور اس کا خاوند ارسلان ایک بنک میں نوکری کرتا ہے۔ دونوں کے بیچ محبت بھری نوک جھونک جاری رہتی ہے۔
مجاہد ایک مدرسے میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔بڑے مولانا صاحب کی ہدایات مدرسے میں کتنی اہمیت رکھتی ہیں،اس کا اندازہ اسے مولوی ثناء اﷲ سے ملنے پر ہوگیا تھا۔وہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔لیکن جلد ہی مجاہد کو بڑے مولانا صاحب کی حقیقت کا علم ہوگیا کہ وہ دین کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا سودا کرتے ہیں۔ اس بات کا ذکر وہ مدرسے میں موجود شکیل بھائی سے کرتا ہے جو اسے اپنی کہانی سنا کر چُپ رہنے کا مشورہ دیتا ہے ۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ یہاں ایسا کوئی نہیں جو اس کی مدد کرے ہر کوئی پیسے کے لئے کام کرتا ہے۔ 

جب فضل، رحمت کی انگلی تھامے مسجدمیں داخل ہوا تو بچے سبق ختم کرکے اٹھ چکے تھے۔ جب کہ قاری صاحب ادھرہی صحن میں چادربچھاکربیٹھے ہوئے تھے۔
''السلام علیکم قاری صاحب۔''فضلونے عقیدت سے سلام کیا۔
'' وعلیکم السلام فضل اللہ کیسے ہو۔آؤ بیٹھو۔'' قاری صاحب نے بچھی ہوئی چادرکے ایک طرف فضل کے لئے جگہ خالی کی۔
''کہواس وقت کیسے آناہوا۔۔۔''
'' قاری صاحب یہ میراچھوٹابیٹاہے رحمت اللہ۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ آپ کی طرح بنے۔ دنیا اور آخرت میں واقعی ہمارے لئے رحمت بن جائے۔۔۔'' فضل نے مدعابیان کیا۔
قا ری ادریس کے چہرے پرایک سایہ ساآکرگزر گیا۔چند لمحوں کے لئے انہوں نے آنکھیں موندھ لی لیں، جیسے کوئی تکلیف پہنچی ہوان کو۔۔۔ یاجیسے مراقبے میں چلے گئے ہوں، لیکن جلد ہی انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔
''فضل اللہ،اللہ اس بچے کوتمہارے اورخاندان کے لئے واقعی رحمت بنا دے لیکن میری طرح نہ بنائے۔'' فضلوکے کانوں میں قاری صاحب کی دکھ بھری آوازگونجی۔ وہ یکدم چونک گیا تھا۔
'' کیاہواقاری صاحب؟؟ میں نے کچھ غلط کہاکیا؟''
''نہیں نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔'' قاری صاحب کواندازاہوگیاتھا کہ فضل بری طرح چونکاہے اورکچھ کھوجناچاہتاہے۔اس لئے جلدی سے انہوں نے موضوع بدل دیا۔
''ا چھاٹھیک ہے فضل اللہ! تم جب چاہوبچے کوبھیج سکتے ہواورچاہوتوآج شام سے ہی۔'' قاری صاحب مسکرائے تھے۔ جیسے وہ ہمیشہ مسکراتے تھے۔ ان کی مسکراہٹ پرفرشتوں کاگمان ہوتا تھا۔
''اچھاٹھیک ہے قاری صاحب۔میں اس کوبھیج دوں گاآج یاکل میں۔ اب چلتاہوں۔اللہ حافظ!''
''اللہ حافظ۔'' قاری صاحب آہستہ سے بولے۔
وہ دونوں باپ بیٹاگھرآگئے تھے۔ لیکن فضلوکے دل میں پھانس سی چبھ گئی تھی۔ باربارقاری صاحب کاچہرہ نظروں کے سامنے آرہاتھا۔ جانے ایسی کیا بات تھی جس سے قاری صاحب کو اتنی تکلیف پہنچی تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات بھی فضلوکویادتھے لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔
لیکن بات زیادہ دیرتک اس کے ذہن میں نہ رہ سکی۔ شام تک وہ بھول ہی گیا۔ اس غریب کی زندگی میں تومسائل کے اوربھی انبارتھے ایسے میں وہ قاری ادریس کے دکھ کوکتنی دیریادرکھ پاتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رحمت اللہ نے قاری ادریس سے سبق پڑھناشروع کردیاتھا۔وہ روزصبح بھی جاتاتھااورشام کو بھی۔ قاری ادریس نے ایک بارکوشش کی کہ فضل رحمت اللہ کوسکول بھی بھیج دیا کرے۔ لیکن اس نے ایک ہی رٹ لگارکھی تھی۔ ''فضل تم اس بچے کوسکول بھی بھیج دیاکرو۔اوررہی پڑھانے کی بات تووہ میں شام کوباقی بچوں کے ساتھ پڑھادیاکروں گا۔شام کوبھی توبچے آتے ہیں نا۔'' اس دن قاری صاحب نے جمعے کی نمازاورخطبے کے بعد فضل کوبٹھاکرکہا۔ ''ارے نہیں قاری صاحب! میں غریب آدمی ہوں۔ میرے بچوں نے کون ساپڑھ کرافسربن جاناہے۔ جومیرے باقی بچے پڑھ رہے ہیں اس سے توبہترہے کہ کوئی نہ ہی پڑھے۔'' فضل کے لہجے میں د کھ تھالیکن سچائی تھی۔
'' کیامطلب؟؟؟''
'' اب دیکھیں ناقاری صاحب۔میرے بیٹے امان اللہ نے دس جماعتیں پڑھ لیں۔ اس سے آگے میری اوقات نہیں تھی۔آج وہ بھی مزدوری کررہاہے۔ اس کے بعدجوبچے پڑھ رہے ہیں ان کوبھی دس جماعتوں سے زیاہ پڑھانے کی ہمت نہیں ہے میری۔ دس جماعتیں پڑھ کروہ کیاکرلیںگے قاری صاحب؟؟؟ اورمیں اس کوبھی داخل کرا دو ں گالیکن ظفرنے پتاکیاہے ابھی داخل ہونے میں سات مہینے رہتے ہیں۔''
'' اچھا ٹھیک ہے لیکن وقت پر داخل کرا دینا اسے۔ایسانہ ہوکہ رہ جائے۔۔''
''جی قاری صاحب داخل کرا دوں گا۔'' اور وہ دونوں باپ بیٹا وہاں سے اٹھ کرآگئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ صبح کی نماز پڑھ کرسیرکے لئے اس میدان میں آگیاجہاں وہ روز آیا کرتا تھا لیکن آج اس کی ہمت گھومنے پھرنے کی نہیں تھی۔وہ جاکرکھلی فضامیں بیٹھ گیا۔ وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھالیکن آج کل ماضی خودہی اس کے پیچھے پڑاہواتھا۔یہاں بھی نہ چاہتے ہوئے ماضی نے ایک بارپھراس کے دماغ میں جھانکا۔
'' مجاہد جلدی آجانا،آج ناشتے کے بعددرس ہوگا۔''حیدرنے اسے نکلتے ہوئے یاددلایا۔
'' کون سادرس؟؟؟؟'' اس نے مڑکرپوچھا:
''جوہرجمعہ کو ہوتاہے اورجس میں ہم لوگ مدرسے کے نئے آنے والوں بچوں کواسلام کی تعلیمات دیتے ہیں؟؟؟''
'' لیکن میں کیسے دے سکتاہوں؟؟؟'' اس نے سرگوشی کی۔
'' جیسے ہرہفتے دیتے ہو۔ بس جلدی آجانا۔''حیدر نے دوبار ہ تنبیہہ کی۔
'' اچھا!''اوروہ نکل گیا۔
ا وراب اس وسیع میدان میں کھلے آسمان تلے، وہ سوچنے لگاکہ اس نے کس سے اورکہاں پر اسلامی تعلیمات لی تھیں؟؟؟اورکیا وہ اس قابل ہے کہ وہ کسی کوتعلیمات دے سکے؟ماضی ایک بارپھراپنی پوری شدت سے حملہ آورہوا۔۔

اب وہ صبح شام قاری ادریس کے پاس جایاکرتا۔ وہ بچہ تھا۔ قاری صاحب کوفکرتھی کہ پانچ سال کابچہ صبح شام کایادکروایاہواسبق یادنہیں رکھ پائے گا۔۔اس کاحل انھوں نے یہ نکالا کہ صبح اس کو باقی ترجمہ پڑھنے والے بچوں کے ساتھ بٹھاتے اورشام کواس کوسبق یاد کرواتے۔ ۔ قاری صاحب چاہتے تھے کہ ترجمہ بے شک وہ یادنہ کرے لیکن چلواسی بہانے کچھ سیکھ ہی جائے گا۔
''اے پروردگار!
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مددمانگتے ہیں،ہم کوسیدھے راستے پرچلا۔ ان لوگوں کے راستے پرجن پرتواپنافضل وکرم کرتارہا۔نہ کہ ان کے راستے پرجن پرتوغصے ہوتارہا۔ اورنہ گمراہوں کے راستے پر۔''
( الفاتحہ 3ـ7 )
''اے اللہ ہم پررحم کر۔ہمیں بخش دے۔ ہم پراپناکرم کر۔ ہم اس قابل نہیں ہیں۔ لیکن تیرافضل بے انتہاہے۔ ہم کم ظرف ہیں لیکن تیراظرف بہت بڑاہے۔ ہمیں ہمارے اعمال کے مطابق نہ دے، کیونکہ ہمارے اعمال تُو صرف عذاب کے قابل ہیں۔ لیکن اپنے رسولۖ کے صدقے ہمیں بخش دے۔ ہمیں قومِ عادکے انجام سے بچا لے۔ ہمیں قومِ ثمودبننے سے بچالے، ہماراحال قومِ لوط جیسانہ کر۔ ہمیں ایسے کاموں سے بچالے کہ ہماراانجام قومِ شعیب جیسا ہو۔ ہمارے اعمال کونہ دیکھ۔اپنی بادشاہی کے صدقے ہمیں آگ سے بچالے۔ اے میرے مالِک تیرے غصے کی تاب نہیں ہے ہم میں۔ہم پراپنی رحمت کی چادرڈال دے۔ وہ رحمت جس کا سایہ ہم پرہمیشہ رہے۔ ہم سب کوصراطِ مستقیم پر چلا۔ اس راستے پرجس پرتیرے برگزیدہ بندے چلے۔ وہ بندے جوتجھ سے محبت کرتے تھے۔ اور وہ بندے جن سے تومحبت کرتاہے اوروہ راستہ جوتیراراستہ ہے۔ وہ راستہ جس پر تیرانبیۖ چلا,جس پرصحابہ کرام چلے۔ یا اللہ! ہمارے بچوں کونیکی کی توفیق دے،ان کواچھا انسان بنادے۔ ان کواچھا مسلمان بنادے۔ یامیرے رب ہماری دعا قبول فرما۔۔
آمین ثم آمین۔۔۔۔۔۔''
سب نے بآوازِ بلند کہا۔
آج جمعے کا دن تھا۔ محلے کے سارے مردجمعہ پڑھنے آئے تھے۔ یہ قاری ادریس کے الفاظ تھے۔ جمعے کی نمازکے بعددعاکی تھی انھوں نے۔ ہمیشہ جمعے کی نمازکے بعدوہ دعاکرتے تھے۔ اور ہمیشہ یہی دعامانگتے تھے۔
'' قاری صاحب! صراطِ مستقیم کیاہے ؟؟''
قاری ادریس نے چونک کرعزیز کی طرف دیکھا۔ جوسوالیہ نظروں سے ان ہی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
یہ عصرکاوقت تھا۔سارے بچے قاری صاحب سے قرآن کاسبق پڑھنے آئے تھے۔ رحمت اللہ بھی باقی بچوں کے بیچ میں بیٹھ کرسبق یادکررہاتھا۔ وہ بھی رک کرقاری صاحب کے جواب کا انتظارکرنے لگا۔
''عزیزبیٹاصراطِ مستقیم کامطلب ہے سیدھاراستہ۔''
'' لیکن قاری صاحب سیدھے راستے کامطلب کیاہے ؟؟''
ا س تیرہ سال کے بچے کی طرف سے پھرسوال آیا۔ وہ بھی آج جمعے کی نمازمیں موجودتھا۔ اور قاری صاحب کاپوراخطبہ اوردعاسن چکاتھا۔
'' دیکھوبیٹا! تمہارے گھرکی طرف ایک راستہ جاتاہے۔ تم یہاں سے نکل کراسی راستے پرچلوگے توسیدھااپنے گھرپہنچوگے۔ لیکن اگراس راستے کوچھوڑدوگے تواپنے گھرکا راستہ نہیں پاسکو گے۔ بلکہ کہیں اورہی نکل جاؤگے۔ یہی حال صراطِ مستقیم کا بھی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جواللہ کوپسندہے اورجس پرچلنے کاہم مسلمانوں کو حکم دیاگیاہے۔ جس پراللہ کے رسولۖ اوربرگزیدہ بزرگ چلے ہیںاوراسی راستے پرچل کرہم اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔اب اگرہم ا س راستے کو چھوڑ دیں گے توجس طرح تم اپنے گھرنہیں پہنچ سکتے بالکل اسی طرح ہم اللہ کوخوش نہیں کر سکتے۔''
قاری صاحب نے بچوں کی سمجھ کے مطابق بہت آسان الفاظ میں جواب دیاتھا۔
'' توقاری صاحب ہم اس راستے پر نہیں چلتے کیا؟؟''
یہ سوال ارشاد کی طرف سے آیا تھا جوقاری صاحب کے بالکل پیچھے بیٹھاہواتھا۔
'' بیٹاکوشش توہم سب ہی کرتے ہیں۔لیکن اس کوشش میں اکثراوقات ہمیں ناکامی ہوجاتی ہے اورہم اللہ کے راستے کوچھوڑ دیتے ہیں۔''
'' ناکامی کیوں ہوتی ہے قاری صاحب؟؟''
''بیٹاصراطِ مستقیم پرچلنا اتناآسان نہیں ہے۔ اس راستے پرچلتے ہوئے انسان کے سامنے بہت مشکلات آتی ہیں۔وہ مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے۔ پھر اگروہ ان مشکلات سے صبرکے ساتھ گزرجائے اوراپنے رب کی رضا پر چلے تووہ اللہ کے نزدیک کامیاب کہلاتا ہے۔ لیکن ایسا بہت کم لوگ ہی کرپاتے ہیں۔ ہم جیسے کمزورایمان کے لوگ تومشکلات کے آغازپرہی ہمت ہار جاتے ہیں۔ پھر اللہ ہمیں آزمانابھی چھوڑدیتا ہے۔ رہی آپ کی بات کہ ہم ناکام کیوں ہوتے ہیں تو بیٹااس کاجواب یہ ہے کہ ہمارے اندرصدق اورمضبوطی نہیں ہوتی ورنہ ایساہوہی نہیں سکتاکہ کوئی مسلمان صراطِ مستقیم پرچلناچاہے اوراللہ اس کی مددنہ کرے۔ بس بیٹاارادے کی مضبوطی درکار ہوتی ہے۔ ''
''قاری صاحب ہم لوگ چھٹی کرلیں؟؟ ''کونے سے آوازآئی۔
''ہاں بیٹاچلوچھٹی کرلو۔ شام ہونے والی ہے۔'' اورسب بچوں نے سیپارے بندکرکے گھروں کی راہ لی۔
پانچ سالہ رحمت اللہ ساراراستہ یہ سوچتارہاکہ آخرصراطِ مستقیم پرکیسے چلاجاتا ہے ؟اور اگرکوئی چلتاہے تواللہ اسے آزماتاکیوں ہے ؟؟ اس کی معصوم سی سمجھ میں قاری ادریس کی باتیں نہیں آئی تھیں۔ لیکن اسے قاری ادریس کاساراخطبہ یادتھا۔ جیسے ہربچے کے سامنے دہرائے گئے الفاظ اسے یادہوجاتے تھے۔یا پھرشایداس لئے کہ وہ اس کی زندگی کاسب سے پہلے سناجانے والاخطبہ تھا۔ لیکن اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آیاتھا۔ وہ نہیں سمجھ پایاتھا کہ قومِ عادکون تھے۔ قومِ ثمود کا کیا قصور اور کیا اِنجام تھااوریہ کہ قاری صاحب نے قومِ لوط جیسانہ بننے کی دعاکیوں مانگی تھی۔بس پورے خطبے اورآج قاری صاحب کے درس میں اس کواتنی سی سمجھ آئی تھی کہ اللہ کے نبیۖ اورصحابہ ضرورکوئی بہت اچھے لوگ ہوں گے جو قاری صاحب نے ان جیسابننے کی دعاکی۔ یہ سوچتے سوچتے وہ گھرپہنچ چکاتھااورپھر وہ بچوں کے ساتھ کھیل کود میں لگ گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
'' طوبیٰ! آج جلدی سے ہوم ورک کرلو۔ پاپا آئیں گے تو گھومنے جائیں گے۔'' یہ عمران تھا۔
''بھائی کہاں جائیں گے ؟؟'' طوبیٰ حیران ہوئی۔
''پتہ نہیں۔ بس کہیں بھی چلیں گے۔ لیکن خوب مزے کریں گے۔'' وہ کافی خوش لگ رہا تھا۔
''لیکن پاپا نے تو کچھ بھی نہیں کہا بھائی۔''
'' ارے پاپا نے تم سے کچھ نہیں کہا لیکن انھوں نے مجھ سے کہا تھا نا۔''
''پاپا نے نہیں تم نے پاپا سے کہا ہوگا۔۔ورنہ پھر پاپا کل ضرور بتاتے ماما کو۔'' وہ بھی طوبیٰ تھی سید خاور حسین شاہ کی بیٹی۔ اپنے بھائی کی فطرت کو وہ بھی اچھی طرح جانتی تھی۔
'' ہاں میں نے پاپا سے کہا تھا اور وہ مان بھی گئے تھے۔''
''تو ماننا تو تھا نا۔ پاپا تمہاری بات ٹالتے ہی کب ہیں۔''
'' اچھا چلو اب جلو مت۔ جلدی سے ہوم ورک ختم کرو پھر پاپا آجائیں گے۔ ''
''رکو میں ماما کو بتا کے آتی ہوں۔''
'' ارے نہیں۔ پہلے ہوم ورک تو ختم کر لو۔ پھر بتا دینا۔ابھی اٹھ کرجاؤ گی تو ماما غصہ کریں گی۔''
''اچھا چلو ٹھیک ہے۔ میں جلدی جلدی کام ختم کرتی ہوں۔''وہ بھی طوبیٰ تھی۔اپنے بھائی کی کچھ نہ کچھ فطرت تو اس نے بھی لی تھی۔ عمی جتنی شوقین نہ سہی لیکن گھومنے پھرنے کاشوق اسے بھی تھا۔ اپنے بھائی کی زبانی اس پروگرام کا سن کراسے پہلے توحیرت ہوئی تھی لیکن اس کے بعد خوشی کی بھی ایک لہراس کے اندر اٹھ گئی تھی۔ وہ ماں کو خبر دینے سے زیادہ اس لئے ماں کے پاس بھاگنا چاہ رہی تھی کہ اس خبر کی سچائی جانچ سکے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمی نے اسے بیوقوف بنایا ہو۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج پھر جمعے کا دن تھا۔ قاری صاحب چاہتے تھے کہ محلہ جھنگی کے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایک درس کا اہتمام کیا جائے۔ جس میں گائوں کے غریب اور اَن پڑ ھ لوگوں کو اسلام کے بنیادی عقائد سے روشناس کروایا جائے۔ آج اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔ عصر کی نماز کے بعد آج محلے کے مرد مسجد میں جمع تھے۔ قاری صاحب نے بولنا شروع کیا۔
''شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوستو! آج ہم ارکانِ اسلام کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے۔ ''
''تو دوستو! سب سے پہلے آتی ہے توحید۔ ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ دل سے گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے سوا کسی کی پرستش یا عبادت نہیں کرنی چاہئے۔ یا پھر یوں کہ اس کی ذات کی صفت ہی واحد ہے۔ اب اگر کوئی ذات میں یا صفات میں شریک مانا جائے تو یہ شرک ہوگا۔ لیکن یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ صفات میں شرک کا تو سیدھا مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ غفور ہے رحیم ہے۔ سمیع ہے بصیر ہے۔ قہار ہے اور جبار ہے۔ تو اگر ہم کسی اور کو چاہے وہ انسان ہو یاحیوان۔ اگرہم اس میں یہی صفات تصور کریں گے تو ہم مشرک ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ آتی ہے۔ اس کے بعد آتا ہے۔ ذات میں شرک۔ اب اس میں ہم لوگ بہت غلطی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا رب نہیں مانا تو ہم اچھے مسلمان ہیں۔ ہم نے کسی دیوتا یا دیوی سے دعا نہیں کی تو ہم نیک ہیں۔ ہم نے کسی جانور کو اپنا خدا نہیں مانا تو ہم مشرک نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی نہ کسی موڑ پر ہم سب ہی شرک کرتے ہیں۔ہم اس کی ذات میں بھی شریک ٹھہراتے ہیں اورصفات میں بھی۔ دانستہ تو نہیں لیکن نادانستہ ہم دل کھول کر شرک کرتے ہیں۔ ہم دولت کو خدا مانتے ہیں۔ رشتوں سے وہ اُمیدیں لگائے رکھتے ہیں جن کوپورا کرنا صرف ہمارے رب کا خاصا ہے۔ انسانوں سے مانگتے ہیں۔ اپنی ضرورتوں کے لئے انسانوں کے آگے جھکتے ہیں۔ کیا ہوا اگر ہم بتوں کے آگے نہیں جھکتے تو۔۔ انسانوں کے آگے تو ہم جھکتے ہیں۔ اور پھر اُمیدیں پورا نہ ہونے پر گلہ اسی رب سے کرتے ہیں۔ یہ کھلا شرک نہیں تو کیا ہے ؟؟؟ اور رب فرماتا ہے۔' 'اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے۔اس کے سوا سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جس کو وہ معاف کرنا چاہئے۔ تو جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔''
(النسا:611)
اس کے بعد ہم آتے ہیں نماز پر۔ جو اسلام کا دوسرا رکن ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔
''صبر اورنماز کے ذریعے (اللہ تعالیٰ سے) مدد طلب کرو۔ یہ(نماز) بہت بھاری ہوتی ہے سوائے ان کے جواللہ سے ڈرنے والے ہیں۔''
(البقرہ: 45)
ہمارے نبیۖ کا ارشاد ہے کہ
''جو بھی بندہ مومن اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کے بدلے ایک گناہ مٹاتا ہے۔ اور اس کے درجے بلند کرتا ہے۔ پس زیادہ سجدے کیا کرو۔''
''ہم مسلمان دن میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں۔ پانچ بار اللہ کے دربار میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔اس سے راضی ہونے کی التجا کرتے ہیں۔ لیکن گناہ سے کنارہ نہیں کرتے۔ عجیب بات ہے نا۔ غور فرمایئے کہ ہم معافی تو مانگتے ہیں لیکن کنارہ کبھی نہیں کرتے۔ ہم جھوٹ بول لیتے ہیں۔غیبت کر لیتے ہیں۔ ملاوٹ کر لیتے ہیں۔ اور اس کے بعد اللہ کے دربار میں کھڑے ہو کر معافی مانگتے ہیں۔ تو ایسے میں ہمیں معافی کیسے ملے گی۔ اگرہم حقیقتاً معافی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا پڑے گا۔''
(.....جاری ہے)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 214 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter