ورزش او ر ا نسا نی صحت

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

انسانی جسم ایک ایسی مشین کی مانند ہے جس کی بہتر کارکردگی کے لئے اس کا حرکت میں رہنا بے حد ضروری ہے۔ غیر فعال طرززندگی گزارنے والے افراد مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں تقریباً 150 منٹ کے لئے اعتدال کے ساتھ جسمانی ورزش کرنی چاہئے۔ ورزش کا بنیادی مقصد چاق چوبندرہنا اور ذہنی تنائو میں کمی ہے۔


پیدل چلنے اور متوازن قسم کی ورزش سے انسان بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق ورزش نہ کرنے والے افراد کی بہ نسبت ورزش کرنے یا پیدل چلنے والے افراد بلڈپریشر اور شوگر کے مرض کا شکار کم ہوتے ہیں جبکہ جسمانی ورزش وزن میں بھی کمی کا باعث ہوتی ہے۔جو افراد ورزش نہیں کرتے وہ جلد تھک جاتے ہیں۔ ان کے جسم کا گوشت نرم ہو جاتا ہے اور اعصاب کمزور پڑجاتے ہیں۔ پیٹ بڑھ جاتا ہے اور معمولی کام اور محنت کرنے سے بھی سانس پھولنے لگتا ہے۔ کھانا بھی ٹھیک طریقے سے ہضم نہیں ہوتا۔جس کی وجہ سے خون میں کمی بھی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش کے معمول کو نہ اپنا نے کی وجہ سے بلند فشارِ خون، مُٹاپا، جوڑوں کا درد، دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی، بے خوابی، بدہضمی وغیرہ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ تمام مسائل اور بیماریاں بظاہر الگ الگ نظر آتی ہیں مگر یہ سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔جن میں فشار خون کا دل کی بے قاعدہ حرکت سے، جوڑوں کے درد کا مٹاپے سے، اور بدہضمی کا تعلق بے خوابی سے ہے جو ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جو افراد ایک ہفتے میں دس کلو میٹر تک پیدل چلتے ہیں،ان کا ذہن تروتازہ اور یاداشت برقرار رہتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجنگ
(National Institute of Aging)
کی ایک تحقیق کے مطابق پیدل چلنے والے افراد کے دماغ بھی صحت مند رہتے ہیں جبکہ پیدل نہ چلنے والے یا سست افراد کے دماغ جلدی کمزور پڑجاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق باقاعدگی سے ورزش اور جسمانی سرگرمیاں خون میں شوگر کو درست سطح پر رکھنے کے لئے بھی کارآمدہیں۔ ورزش نہ صرف دل اور خون کی نالیوں کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور مُٹاپے سے بچاتی ہے بلکہ پٹھوں، جوڑوں اور ہڈیوں کی صحت کے لئے بھی بے حد ضروری ہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے 'ٹائپ 2' ذیابیطیس کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش میں اضافے کے سبب
HbA1c
یعنی طویل عرصے کی بلڈ شوگر کی ویلیو بھی کم ہوسکتی ہے۔مسلسل جسمانی سرگرمیوں اور ورزش سے بلڈ پریشر کو بھی کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور خون کی چکنائی کا صحت بخش توازن قائم رہتاہے اور انسولین کو استعمال کرنے کے لئے جسم کی صلاحیت بہتر ہوجاتی ہے۔

 

warzishkinsani.jpgسڈنی یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جوا فراد پش اپ اور سِٹ اپ جیسی ورزش کو اپنے روزمرہ معمول میں شامل کرتے ہیں ان میں کینسر سے موت کا خطرہ 31 فیصد جبکہ کسی بھی مرض سے قبل ازوقت موت کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی تنظیم نیشنل سلِیپ فائونڈیشن
(National Sleep Foundation)
کے ایک جائزے کے مطابق ورزش نیند کے لئے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے اور جو افراد بھرپور ورزش کرتے ہیں ان کی نیند کا معیار بہترین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی سرگرمی یا ورزش جسم کے درجہ حرارت، نظام انہضام اور دل کی دھڑکنوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔


مختلف تحقیقات کے مطابق باقاعدگی سے ورزش، زکام اور فلو کے امکانات کو بھی کم کرتی ہے، کیونکہ ورزش سے انسانی جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور جسمانی سرگرمی پیدا کرنے والے ہارمونز کو رٹیسول اور ایڈرینالین کو اپنی حدود میں برقرار رکھتی ہے، جس سے مدافعتی نظام کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی سرگرمیوں اور ورزش سے نظر کی کمزوری کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ ورزش اور بہترقوت سماعت کابھی ایک گہرا تعلق ہے جس میں مختلف تحقیقات کے مطابق اچھی صحت کے حامل افراد میں سماعت کی خرابی کا مسئلہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں سے کان کے اندرونی حصوں میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے جو قوت سماعت کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس کے علاوہ ورزش سے ذیابیطس اور دل کے امراض میں بھی خاطرخواہ کمی واقع ہوتی ہے جو قوت سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مناسب اور متوازن ورزش سے غیرارادی طورپر پیشاب نکلنے کے مسئلے پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق
Nocturia
، جس میں پیشاب کی حاجت رات بھر رہتی ہے، کی حالت ورزش کرنے سے کم ہو جاتی ہے۔


ورزش سے جسم میں ایک خاص لچک پیدا ہوتی ہے جو جسم کو زیادہ فعال، متحرک اور طاقتور بناتی ہے۔ اس کے علاوہ ورزش شریانوں میں خون کی صفائی کے ساتھ ساتھ بلارکاوٹ روانی، دل اور پھیپھڑوں کی صحت بخش کارکردگی، ہڈیوں کی مضبوطی اور نظام ہضم کی فعالیت اور جسمانی نشو و نما میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ورزش ہر عمر کے افراد کے لئے موزوں ہے مگر ورزش ہمیشہ جسم کی قوت برداشت کے مطابق کرنی چاہئے جو جسم پر بارنہ بنے۔ کیونکہ اس سے دل اور پھیپھڑوں پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ادھیڑ عمر اور بڑی عمر کے افراد کے لئے بہترین ورزش پیدل چلنا، باغبانی اور سائیکل چلانا ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے وہ افراد جو مُٹاپے کاشکار ہوتے ہیں وہ اگر باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں تو ان پر مُٹاپے کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں اور وہ افراد ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی بیماریوں سے محفو ظ رہ سکتے ہیں۔ مُٹاپے کے حامل افراد اگر ورزش کے ساتھ ساتھ اپنی خوراک پر بھی توجہ دیں تو مزید بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کی وائلڈلائف ٹرسٹ اور
University of Essex
کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ورزش اور چہل قدمی کے لئے کسی سرسبز مقام (جہاں پر ہر یا لی، گھاس، پیڑ اور پودے موجود ہوں) کا انتخاب کریں تو ان کے جسم اور دماغ پر اس کے بے حد مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کیونکہ کسی سرسبز مقام پر ورزش شروع کرتے ہی موڈخوشگوار ہو جاتاہے۔ نفسیاتی طور پر انسان خود کو زیادہ پر اعتماد اور فعال محسوس کرنے لگتا ہے جو دماغی صحت کے لئے ایک اچھی کیفیت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سرسبز مقامات پر موجود درختوں، پودوں اور گھاس سے دن کے اوقات میں تازہ آکسیجن کا اخراج ہوتا ہے جو سانس لینے کے راستے انسانی خون میں جذب ہو کر تمام اعضاء میں، جن میں دماغ بھی شامل ہے، آکسیجن کی فراہمی کو بہتر بناتی ہے جس کے جسمانی اور ذہنی طور پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


کچھ افراد کو گھر سے باہر چہل قدمی یا ورزش کی سہولت میسر نہیں ہوتی ہے یا ان کے گھر کے قریب چہل قدمی کے لئے کوئی جگہ میسر نہیں ہوتی وہ افراد اپنے گھروں میں رہتے ہوئے بھی کسی نہ کسی کھلی جگہ پر چہل قدمی کر سکتے ہیں۔اپنے گھر کے صحن ، چھت یا پھر اپنے بیڈ روم میں بھی با آسانی واک کی جا سکتی ہے۔ گھر میں اگر سیٹرھیاں موجود ہیں تو سیٹرھیاں چڑھنا اور اترنا بھی ایک بہت اچھی اور آسان جسمانی ورزش یا سرگرمی ہے جس سے وزن میں نمایا ں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔


ایک اور ورزش جو ہم گھر میں اپنے بیڈ روم میں بھی با آسانی کر سکتے ہیں کہ فرش پر لیٹ کر ٹانگوں کو سائیکل کی طرح چلایا جائے یا پھر شام کے اوقات میں بچوں کے ساتھ گھر کے باغ یا صحن میں مختلف جسمانی کھیل کود کرنے سے بھی صحت میں تندرستی آتی ہے اور جسم فعال رہتا ہے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

باورچی کو کہا گیا تھا کہ وہ ننھے کا خیال رکھے۔ چنانچہ وہ ہر دس پندرہ منٹ کے بعد باورچی خانے کی کھڑکی سے سر نکال کر ننھے کی طرف دیکھے بغیر چلاتا تھا۔ ''ننھے یوں مت کرو'' ''خبردار ننھے جو یہ کیا تو!''
پھر یکایک ننھے کے رونے کی آواز آئی۔ ہم بھاگے بھاگے پہنچے۔ ننھے کو چوٹ کیونکر لگی؟'' ہم نے باورچی سے پوچھا۔
''وہ سامنے سیڑھیاں دیکھیں آپ نے؟''
''ہاں''
''بس وہ ننھے نے نہیں دیکھیں''
(شفیق الرحمن کی کتاب ''حماقتیں ''سے اقتباس)

*****

 
Read 227 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter