ماضی،بے معنی مباحث اور مستقبل

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

گزشتہ سات دہائیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا تصور پاکستان کیا تھا اور اگر وہ زندہ رہتے تو پاکستان کا آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی نقشہ کن خطوط پر استوار ہوتا۔ جہاں تک قائداعظم کے تصور پاکستان کا تعلق ہے ان نکات پر تقریباً سارے دانشور، لکھاری اور محقق متفق ہیں کہ وہ پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی ، انسانی مساوات اور سماجی و معاشی انصاف کا بول بالا ہو۔ قائداعظم جاگیرداری نظام کا خاتمہ چاہتے تھے اور انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ انہیں ایسا پاکستان نہیں چاہئے جو جاگیرداروں کی جاگیر ہو بلکہ وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جو عوام کی ملکیت ہو، مطلب یہ کہ جہاںعوام کی حاکمیت ہو نہ کہ جاگیرادروں کی۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جہاں تک قانون کی حکمرانی، انسانی برابری ،سماجی اور معاشی انصاف کا تعلق ہے دراصل یہ سب اسلامی نظام کے درخشاں اصول ہیں جن کی نبی کریمۖ کے دور سے لے کر خلافت راشدہ کے دور تک بے شمار مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ سیکولر حضرات انہیں سیکولر ازم قرار دیتے ہیں جبکہ ہم انہیں اسلام کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں۔ گویا ان نکات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ذرا رک کر پہلے اتنا سا فیصلہ کر لیجئے کہ کیا ہم نے قائداعظم کے بتائے ہوئے اُن اصولوں کو اپنایا اور عمل کیا جن پر کوئی اختلاف رائے نہیں؟ قائداعظم نے 11اگست 1947کی اپنی تقریر میں زور دے کر کرپشن، سفارش، اسمگلنگ، اقرباء پروری اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کا وعدہ کیا اور واضح کیا کہ وہ پاکستان میں ان خرابیوں کو برداشت نہیں کریںگے۔کیا ہم نے ان موذی امراض پر قابو پا لیا ہے؟ کیا ان بیماریوں کے کینسر نے گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے باطنی وجود کو چاٹ چاٹ کر کمزور نہیں کر دیا؟ میری بات یاد رکھئے کہ کسی بھی قوم یا ملک کو باطنی طور پر مضبوط کرنے کے لئے عوام کو ملکی ڈھانچے میں احساس شرکت دینا ضروری ہوتا ہے اور احساس شرکت اس وقت پروان چڑھتا ہے جب معاشرے میں انسانی مساوات اور سماجی و معاشی انصاف کا راج ہو۔ کرپشن، سفارش اور اقرباء پروری کا خاتمہ ہو چکا ہو اور ہر شخص کو جینے کے برابر مواقع مہیاہوں کیونکہ جہاں کرپشن، سفارش اور اقرباء پروری سکہ رائج الوقت ہوں وہاں عوام کا وہ طبقہ مستقل طور پر احساس محرومی کا شکار ہو کر ریاست سے بدظن ہو جاتا ہے جو سفارش، اثر ورسوخ اور سماجی و معاشی انصاف سے محروم ہو۔ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔ یہی قائداعظم کا خواب تھا اور یہی اصول اسلامی نظام کی بنیاد ہیں۔ اسی لئے قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 101 مرتبہ اور قیام پاکستان کے بعد چودہ بار یہ وضاحت کی کہ پاکستان کے آئین اور ریاستی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ بھی کر دیا کہ آئین کیسا ہو گا؟ اس کا فیصلہ منتخب دستور ساز اسمبلی اور عوام کریں گے۔ یہ بیان ایک طرح سے اُن کے جمہوری طرز فکر کی غمازی کرتا ہے۔ جب فیصلہ عوام کو کرنا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھئے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان بھی سیکولر ذہن کے مالک تھے۔ انگریز کی فوجی زندگی کے حوالے سے ان کی زندگی سیکولرازم کے مطابق پروان چڑھی تھی وہ مطلق العنان بھی تھے اور ریاستی طاقت بھی ان کے پاس تھی لیکن جب انہوں نے اپنے تشکیل کردہ آئین میں پاکستان کو صرف جمہوری قرار دیا تو اتنا دبائو پڑا کہ طوعاً و کرہاً پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینا پڑا۔ یہ عوامی امنگوں کی ترجمانی تھی ورنہ پاکستانی عوام نے کبھی بھی مذہبی جماعتوں کو اقتدارنہیں سونپا اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ دراصل تھیوکریسی کا اسلام میں تصور ہی موجود نہیں اسی لئے قائداعظم بھی بار بار وضاحت کرتے رہے کہ پاکستان ہر گز ملائیت کی حامل مذہبی ریاست نہیں ہو گی۔ کچھ سیکولر حضرات کا کہنا ہے کہ اگر قائداعظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کرتے تو جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی طاقتیں ان کی مخالفت نہ کرتیں۔ یہ دلیل انتہائی سطحی ہے کیونکہ مولانا مودودی کی تحریریں گواہ ہیں کہ انہیں اعتراض اس بات پر تھا کہ مسلم لیگ اور قائداعظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن مسلم لیگی قیادت اسلام نافذ نہیں کر سکے گی۔ مولانا اشرف علی تھانوی جیسی ملک گیر مذہبی روحانی شخصیت نے کھل کر قائداعظم کا ساتھ دیا۔ رہی جمعیت علماء ہند تو وہ سرے سے ہی وطنیت اور تصور پاکستان کی مخالف تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد ان کے ممتاز رہنما مولانا حسین احمد مدنی نے پاکستان کے حوالے سے واضح طور پر کہا تھا کہ مسجد کی جگہ پر تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو پھر اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی ۔ گویا انہوں نے پاکستان کو مسجد سے تشبیہہ دی تھی۔ کچھ عرصہ قبل ایک معزز سابق جج نے فرمایا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کی حمایت سے بنا اور یہ کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔

 

mazibmanimbais.jpgسوال یہ ہے کہ کیا 1945-46کے انتخابات میں مسلم اقلیتی صوبوں اور مسلمان عوام نے سیکولر پاکستان کے لئے ووٹ دیئے تھے؟ اگر سیکولر پاکستان کے لئے ہی اتنی قربانیاں دینی تھیں تو پھر سیکولر ہندوستان میں کیا تکلیف تھی؟ نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور حج کرنے پر تو سیکولر ہندوستان میں بھی کوئی پابندی نہیں تھی۔ مسلم اقلیتی صوبے ہوں یا ہندوستان کے مسلمان۔ انہوں نے اس لئے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی تھی کہ قائداعظم کے وعدے کے مطابق پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جانی تھی۔ اسے ایک اسلامی جمہوری فلاحی مملکت ہونا تھا نہ کہ مذہبی ریاست۔ اس حوالے سے سیکولر دانشوروں کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے کبھی اسلامی ریاست کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ سوال یہ ہے کہ اُن کے منہ سے کبھی سیکولر کا لفظ بھی تو نہیں نکلا۔ دوم آپ یہ تو انکار نہیں کر سکتے کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے پہلے بار بار کہا کہ پاکستان کی ریاست کے ڈھانچے کی بنیاد اسلام پر استوار کی جائے گی۔ بھلا اس میں اور اسلامی ریاست میں کیا فرق ہے؟ ویسے عرض ہے کہ قائداعظم نے فروری 1948کو بھی وضاحت کی کہ'' میرے ذہن میں ہمیشہ ایک اصول رہا ہے وہ اصول ہے جمہوریت کا۔ میرا ایمان ہے کہ ہماری کامیابی اور نجات کا راز نبی کریمۖ کے دیئے گئے اصولوں کی پیروی میں ہے۔ آئیے! ہم اسلامی آئیڈیلز اور اصولوں کی بنیاد پرجمہوریت کی عمارت تعمیر کریں۔'' گویا قائداعظم نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ وہ ایسی جمہوریت کے حامی ہیں جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہو۔ انہیں اصولوں کے مطابق قائداعظم نے ان گنت بار اقلیتوں کو برابر کے حقوق کی یقین دہانی کرائی اور بار بار وضاحت کی کہ اسلام نے جو فراخدلانہ سلوک اقلیتوں سے کیا ہے اس کی مثال دوسرے مذاہب میں نہیں ملتی۔


قائداعظم پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے کہ جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہو لیکن وہ ہرگز مذہبی ریاست نہ ہو کیونکہ مذہبی ریاست شہریوں پر مذہب نافذ کرتی ہے جبکہ اسلامی ریاست میں لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق آزادانہ زندگی گزارتے ہیں اور بحیثیت شہری سب کوبرابر کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ سیکولر حضرات اسے سیکولر ازم کہتے ہیں جبکہ ہم اسے اسلامی نظام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بقول ڈاکٹر حمید اﷲ (پیرس والے) میثاق مدینہ میں مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیئے گئے تھے۔ یہی بات جب قائداعظم نے 11اگست 1947 کو کہی تو سیکولر حضرات نے اُن کی سیکڑوں دوسری تقاریر کو پس پشت ڈال کر اُن پر سیکولر ازم کا ٹھپہ لگا دیا جو دراصل اُن کی اپنی خواہش ہے نہ کہ قائداعظم کی منشائ!!


1956 کا دستور بنانے والی دستورساز اسمبلی کے اراکین کی اکثریت 1945-46کے انتخابات میں منتخب ہو کر آئی تھی۔ 1973کے آئین کے بنیادی اصول پالیسی کے رہنما اصول وغیرہ تقریباً وہی ہیں جو 1956کے آئین کے تھے۔ گویا اگر قائداعظم بھی زندہ ہوتے تو تقریباً اسی قسم کا دستور بننا تھا۔ اس دستور کے مطابق پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اسے سیکولر حضرات صرف جمہوریہ نہیں بنا سکتے۔ اس دستور میں قانون کی حکمرانی، انسانی مساوات، مذہبی آزادی، سماجی و معاشی انصاف، تمام شہریوں کے لئے یکساں مواقع اور مسلمانانِ پاکستان کی زندگیوں کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کی ضمانت دی گئی ہے۔ انہی اصولوں کا ذکر قائداعظم زندگی بھر کرتے رہے۔ لیکن سیکولر حضرات انہیں سیکولر کہہ کر اپنا پلہ بھاری کرتے ہیں۔ جبکہ انہی اصولوں پر بننے والا دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور کہلاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا ہم نے ان اصولوں کو عملی جامہ پہنایا ہے؟ افسوس! ہم عمل کی طرف تو آتے نہیں اور کتابی بحثوں میں الجھے رہتے ہیں۔ فرق صاف ظاہر ہے قائداعظم زندہ ہوتے تو ان پر عمل بھی کرواتے جبکہ ان کے جانشین عام طور پر قول و فعل کے تضاد کا شکار رہے۔


اگر آپ ذرا سا غور کریں تو آپ کو احساس ہو گا کہ قائداعظم پر سیکولر ازم کا بہتان لگانے والے تین قسم کے حضرات ہیں۔ اول وہ لوگ جو دین سے بیگانہ ہیں۔ دو م وہ جو دین سے بدظن ہیں اور سوم وہ جو دین سے برگشتہ ہیں۔ اس گروہ کا قائد ان کا وہ پسندیدہ مورخ ہے جو ببانگ دہل ٹیلی ویژن پر کہتا رہتا ہے کہ ہمیں قرآن و حدیث سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان قرآن سے بالاتر ہو کر سوچ سکتا ہے؟ اس کے فرمودات سن کر مجھے یوں لگا جیسے وہ شخص اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ قائداعظم کی ذاتی زندگی پر اسلام کی چھاپ نظر نہیں آتی اس لئے وہ سیکولر نظام کے حامی تھے۔ ظاہر ہے کہ قائداعظم کوئی مولوی یا صوفی منش انسان نہیں تھے۔ نہ ہی وہ کوئی مذہبی شخصیت تھے لیکن وہ عقیدے کے حوالے سے ایک پکے سچے مسلمان تھے۔ ان کی سچائی، حق گوئی اور دیانت کی گواہی اُن کے شدید ترین مخالف بھی دیتے تھے۔ نبی کریمۖ کا اسم گرامی دنیا کے عظیم ترین قانون دینے والی شخصیات میں پڑھ کر لنکنز اِن میں داخلہ،مسلم وقف الاولاد بل
(Muslim Wakf- al- Aulad Bill)
محترمہ رتی سے شادی کرنے سے قبل اُسے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد صدیقی کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام کروانا اور اپنی اکلوتی بیٹی دینا سے غیرمسلمان نوجوان سے شادی کے باعث لاتعلق ہو جانا ایسے اقدامات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے باطن میں ایک مسلمان بستا تھا۔ یاد رہے کہ مولانا نذیر صدیقی مرحوم مولانا شاہ احمد نورانی کے تایا تھے۔ ایک لکھاری نے دعویٰ کیا کہ قائداعظم کبھی کسی مذہبی تقریب میں نہیں گئے۔ یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ انگلستان سے واپس آ کر بمبئی میں انہوں نے جس پہلے جلسے میں شرکت کی وہ عید میلاد النبیۖ کا جلسہ تھا جس میں راجہ صاحب محمود آباد نے سیرت نبویۖ پر ایمان افروز تقریر کی، نعتیں پڑھی گئیں اور حضورۖ کی خدمت میں ہدیہ عقیدت پیش کیا گیا۔ گورنر جنرل بننے کے بعد اور وفات سے آٹھ ماہ قبل بھی انہوں نے عیدمیلاد النبیۖ کے موقع پر 25جنوری 1948کو کراچی لاء بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا اور پاکستان میں شریعت کی بنیاد پر قانون سازی کا اعلان کیا۔ کیا قائداعظم کو سستی شہرت یا ووٹوں کی ضرورت تھی کہ وہ اسلامی جمہوریت، شریعت کے نفاذ یا پاکستان کے آئین کی اسلامی اصولوں پر بنیاد کا اعلان کر رہے تھے اور بار بار کر رہے تھے۔ ان کی صداقت، اصول پرستی اور سچائی مسلمہ حقیقتیں ہیں۔ اسی لئے میں محسوس کرتا ہوں کہ جو دانشور قائداعظم پر سیکولر ازم کا بہتان لگاتے ہیں وہ خود تضاد بیانی کا شکار ہیں کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ قائداعظم ایک سچے کھرے انسان تھے۔ وہ ہر گز منافق نہیں تھے۔ لیکن یہ تسلیم کرنے کے باوجود ان کی نیت پر شبہ کرتے ہیں اور ان کے الفاظ پہ اعتبار نہیں کرتے۔ قائداعظم نے آزادی سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد ایک سو بار سے زیادہ یہ کہا کہ پاکستان کے نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی ہم نے جمہوریت تیرہ سو برس پہلے سیکھ لی تھی ہماری تعلیمات اور قوانین کا منبع قرآن مجید اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام دوسرے مذاہب کی مانند مذہبی عبادات کا مجموعہ نہیں۔ اگر آپ قائداعظم کی تقریریں پڑھیں تو آپ کو ان میں مسلسل ان باتوں کی تکرار ملتی ہے اس لئے جب ہمارے سیکولر حضرات قائداعظم کے تصور پاکستان پر سیکولر ازم کا بہتان لگاتے ہیں تو گویا تضاد بیانی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ وہ قائداعظم کو سچا اور کھرا انسان بھی مانتے ہیں اور ان کے اعلانات کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔دراصل مذہب سے خوفزدہ یہ حضرات قائداعظم کے سیدھے سادے الفاظ سے اپنا من پسند مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اُن کی اِن کاوشوں کا شاہکار 11اگست 1947کی تقریر ہے۔ اول تو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا قائداعظم نے زندگی بھر ایک ہی تقریر کی؟ آپ حضرات اُن کی سیکڑوں تقریروں کو کیوں درخوراعتنا نہیں سمجھتے؟ گورنر جنرل کا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے 14اگست 1948 کو اسمبلی میں جو تقریر کی آپ اسے کیوں توجہ کے قابل نہیں سمجھتے۔ اس لئے کہ اس تقریر میں قائداعظم نے حضور نبی کریمۖ کو اپنا رول ماڈل اور نمونہ یا اسوہ حسنہ قرار دیا اور یہی وہ بات ہے جو ان آزاد خیال اور مذہب بیزار لوگوں کو پسند نہیں۔ 11اگست کو قائداعظم نے فقط یہ کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور یہ بات میثاقِ مدینہ کا حصہ ہے۔ دوم انہوں نے کہا کہ تمام شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ یعنی کسی پر مذہبی جبر کیا جائے گا نہ مذہب تھوپا جائے گا۔ تو اس میں سیکولر ازم کہاں سے آ گیا۔ کیونکہ یہ اسلامی نظام کے بنیادی اصول ہیں۔ جب قائداعظم ''ہماری جمہوریت کی بنیاد اسلام پر ہو گی'' کی تکرار کرتے تھے تو اس میں اُس شخصی آزادی کا تصور موجود ہے جس کی ضمانت جمہوریت دیتی ہے۔ جب وہ قانون کی حکمرانی انسانی مساوات، سماجی و معاشی انصاف اور عدل کی بات کرتے تھے، جاگیرداری، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، اقرباء پروری اور سفارش کے خاتمے کا وعدہ کرتے تھے تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ یہ ہمارے دین اور مذہب کے سنہری اصول ہیں۔ جبکہ سیکولر حضرات انہیں سیکولر ازم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ انہیں ہر اچھی چیز سیکولر ازم میں اور ہر خطرہ مذہب میں نظر آتا ہے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہمارا مذہب انتہا پسندوں، فرقہ واریت کے علمبرداروں اور مذہبی سوداگروں کی جولان گاہ بن گیا ہے۔ جبکہ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ انتہاپسندی اور فرقہ واریت مذہب نہیں بلکہ سیاست کا شاخسانہ ہے۔ ورنہ مذہب تو ان تمام عوامل کی نفی کرتا ہے۔


تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم نے مسلمانان پاک و ہند سے اسلامی جمہوری ریاست کے قیام کا مینڈیٹ لیا تھا اور اسی منشور پر 1945-46کے انتخابات جیتے تھے۔ اسلام ہی کے نام پر مسلمانوں نے اَن گنت قربانیاں دی تھیں اور عالمی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی تھی۔ قائداعظم جیسا دیانت دار لیڈر اس مینڈیٹ سے کبھی بھی انحراف نہیں کر سکتا تھا۔ وہ مؤرخین جن کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے اسلام کا نعرہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے لگایا اور دراصل قائداعظم پر بہتان لگاتے ہیں اور اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ اگر قائداعظم ایسا نہیں چاہتے تھے تو پھر قیام پاکستان کے بعد انہوں نے بارہ ماہ کی زندگی میں چودہ بار اسلام کو پاکستان کے نظام کی بنیاد کیوں قرار دیا؟ قیام پاکستان کے بعد زندگی کے آخری سال میں انہیں ایسی کون سی مجبوری تھی کہ انہوںنے شریعت کے نفاذ کا وعدہ کیا؟ ہمارے سیکولر دانشور شوشے چھوڑتے رہتے ہیں اور کنفیوژن پھیلاتے رہتے ہیں۔یہ حضرات قرار دادِمقاصد سے نہایت الرجک ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مذہبی انتہاپسندی پیدا ہوئی ہے۔ پھر وہ اس صدمے سے بھی نڈھال ہیں کہ قراردادِ مقاصد سے ڈر کر وفاقی ہندو وزیر منڈل ہندوستان بھاگ گیا تھا۔ ان کو قراردادِ مقاصد اس لئے ناپسند ہے کہ یہ اﷲتعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کا اعلان کرکے یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلام، قرآن اور سنت سے اخذ کردہ اصولوں کے مطابق گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ اگرچہ اس قرارداد میں اقلیتوں کو مذہبی و شہری حقوق کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ لیکن کیا کیجئے کہ سیکولر دانشوروں کو اسلام سے خوف آتا ہے اور وہ اس افسانے پر آنسو بہاتے ہیں کہ اس قرارداد کی وجہ سے منڈل ہندوستان چلا گیا۔ اس دور میں دونوں ملکوں کے شہریوں کو آنے جانے اور پسند کے مطابق سکونت اختیار کرنے کی آزادی تھی اس لئے منڈل اپنے پسندیدہ معاشرے میں چلا گیا جو اس کا حق تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ یہ قرارداد وزیراعظم لیاقت علی خان نے 7مارچ 1949 کو پیش کی جب منڈل وفاقی کابینہ میں وزیر تھے۔اگر انہیں اعتراض تھا تو وہ استعفیٰ دے دیتے لیکن وہ ستمبر 1950 تک وفاقی کابینہ کے رکن رہے؟ ان حضرات کو اس شق سے خوف آتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلامی تقاضوں، قرآن اور سنت کے مطابق گزارنے کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں گے لیکن اس سے فرار کیسے ممکن ہے کیونکہ پاکستان کے مسلم عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے یہ شق 1956 کے آئین میں بھی موجود تھی اور 1973کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہے۔ بلکہ ایک قدم آگے جا کر موجودہ آئین کے پالیسی کے اصول نمبر ایک میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ مسلمانان پاکستان کی زندگیوں کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ ان دانشوروںکی یہ تحقیق بھی لاجواب ہے کہ قرارداد مقاصد نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو جنم دیا ہے جبکہ اس وقت ہندوستان میں اکیس مذہبی انتہاپسند تنظیمیں ہندوازم کے احیاء اور مسلمانوں کو ہندومت میں واپس لانے کے لئے سرگرم ہیں۔


امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو سب سے بڑا خطرہ مذہبی انتہاپسندی سے ہے۔ کیا ہندوستانی پارلیمنٹ نے قرارداد مقاصد پاس کی ہے؟ دانشوروں کے اسی گروہ نے یہ شوشہ بھی چھوڑا ہے کہ قائداعظم نے جگن ناتھ آزاد سے پاکستان کا ترانہ لکھوایا ۔ میں نے تحقیق سے ثابت کیا کہ یہ اس دہائی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ قائداعظم نہ ہی جگن ناتھ آزاد کو جانتے تھے نہ انہوں نے نہ کبھی اس سے ملے اور نہ اس سے ترانہ لکھوایا ۔


کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نہ میرا ذاتی مسئلہ ہے نہ میرا کوئی ایجنڈا ہے لیکن قائداعظم کے احترام کا تقاضا ہے کہ اُن کے نظریات کو مسخ نہ کیا جائے اور جو بات انہوں نے سیکڑوں بار کہی اس پر اپنی خواہشات کا خول نہ چڑھایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اسی منشور پر عوامی حمایت حاصل کی اور حصول پاکستان کی جنگ لڑی۔ لیکن دین سے خوف زدہ طبقہ قائداعظم کے نام پر سیکولر پاکستان کا نعرہ لگا کر اپنی خواہشات کے گھوڑے دوڑا رہا ہے اور بابائے قوم پر بہتان لگا رہا ہے۔ اﷲ انہیں ہدایت دے۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سیوہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 310 times

6 comments

  • Comment Link shabaz shabaz 16 February 2018

    I couldn't resist commenting. Very well written!

  • Comment Link Nadeem Nadeem 16 February 2018

    Amanzing Artical

  • Comment Link abbass abbass 16 February 2018

    Woww, Fabulous. Kee it up & Fecilitations to u!

  • Comment Link ali nawaz ali nawaz 16 February 2018

    thanks for sharing very informative article

  • Comment Link زیشان زیشان 02 January 2018

    سر آپکا آرٹیکل بہت اعلی ہے امید کرتا ہوں ایسے اور بھی آرٹیکل پڑہنے کو ملیں گے شکریہ

  • Comment Link Ali  Nawaz Ali Nawaz 02 January 2018

    very well written article please keep it up you articles give's the reader very useful information. thank you.

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter