کیوں زیاں کار بنوں

تحریر: جبار مرزا

پاکستان کو دو لخت ہوئے 46برس بیت گئے۔ وہ بیسویں صدی کا اکہترواں سال تھا اور آج ہم اکیسویں صدی کے سترھویں سال کو وداع کر رہے ہیں۔ علم الاعداد کی روشنی میں اکہتر اور سترہ دونوں کا سنگل عدد آٹھ بنتا ہے۔ گویا تاریخ کا نہیں یہ اقلیدس کا کھیل ہے۔ ہندسوں کی شکست ہے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ چھیالیس برس بیت گئے مگر وہی دن کی گردش وہی رات کی، نہ تب غور ہوا اور نہ آج توجہ فرمائی جا رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں 1971 کے حوالے سے اگر فوجی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو مارچ 1971 سے دسمبر1971 تک ہماری افواج لگاتار 8ماہ تک سرکش اور باغی عناصر اور مکار دشمن بھارت کی روزافزوں جنگی کارروائیوں کے خلاف نبردآزما رہیں۔ اس سارے عرصے میں انہیں بالکل بھی سستانے کا موقع نہ ملا۔ سرحد پر ہر جگہ اُن پر حملے جاری رہے۔ اندرونِ ملک تخریب کاری کا نشانہ بنتے رہے۔ کہیں سے کوئی مدد نہیں پہنچ پائی۔ چھٹیاں بند تھیں۔ بیوی، بچے ،ماں، باپ، بہن، بھائی اور دیگر عزیز واقارب ہزاروں میل دور بیٹھے ان کے لئے صرف سلامتی کی دعائیں ہی کرتے رہ گئے۔ رسد کا سلسلہ اطمینان بخش نہ تھا ہر طرف (بلکہ وہاں کی حکومت کے ہر شعبے میں) دشمن کے جاسوس چھپے بیٹھے تھے۔ عدم تحفظ کا یہ عالم تھا کہ محصور ہونے کا احساس دامن گیر رہنے لگا تھا۔ فوجیوں کی جسمانی حالت ابتر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا ذہنی دبائو بھی بڑھتا چلا گیا تھا۔ دنیا کی بڑی بڑی جنگوں میں بھی شاید کسی فوج کو اس قسم کے حالات کا سامنا نہ ہوا ہو گا جس طرح کے ناسازگار ماحول اور ناموافق حالات میں افواج پاکستان کو اپنے سے تعداد میں کئی گنا زیادہ اور جنگی طاقت سے لیس مشرقی پاکستان میں بھارت سے پنجہ آزمائی کے وقت ہوا۔ پانیوں پر سوویت یونین کا قبضہ تھا فضائی راستے میں بھارت گھات لگائے بیٹھا تھا۔ مشرقی پاکستان کے ہر شعبۂ زندگی میں فوجی تربیت یافتہ مکتی باہنی موجود تھے۔ ساڑھے پانچ لاکھ بھارتی فوج اور ڈیڑھ لاکھ مکتی باہنی گوریلوں کے مقابلے میں 34ہزار پاکستانی فوج تھی۔ جن میں پیشہ ورانہ فوجیوں کو نکال کر خالص لڑاکا فوجی محض 24ہزار تھے۔ اس سے پہلے جولائی 1970 میں مشرقی پاکستان میں زبردست سیلاب آئے پھر 12-13 نومبر کو ایسا ہولناک طوفان آیا اور مشرقی پاکستان کے ساحلی علاقوں پر اس قدر تباہی ہوئی کہ کم و بیش دو لاکھ افراد ہلاک ہو گئے ایسے میں افواج پاکستان نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر دن رات امدادی کارروائیاں کیں۔ اس کے باجود بنگالی سیاستدانوں اور بھارتی میڈیا نے پاکستانی فوجیوں کے خلاف نازیبا پروپیگنڈا جاری رکھا۔ 7دسمبر 1970کو عام انتخابات ہوئے۔ پی پی پی نے مغربی پاکستان کی 138نشستوں میں سے 81 پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے 162نشستوں میں سے 160 پر کامیابی سمیٹی۔ یہاں یہ بات واضح ہو کہ الیکشن میں یہ کامیابی عوامی لیگ اور اس کے مسلح غنڈوں کی ہر طرح کی دھونس، دھاندلی اور تشدد کی بھی مرہونِ منت تھی۔ یوں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پی پی پی بڑی سیاسی پارٹیاں بن کر ابھریں۔ مگر اُن دونوں جماعتوں نے قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر مفاہمت کے بجائے ٹکرائو کا راستہ اپنایا اور یوں سیاسی طور سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی راہ ہموار ہونے میں مشکل درپیش نہ ہوئی۔ بھارت اس سارے منظر نامے کی گھات میں تھا۔ اس کی پروپیگنڈا مہم جوئوں نے ہر طرح کی مخالفت کو ہوا دینے کے سارے حربے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بھارتی فوجیوں نے پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہن کر بنگالی خواتین کوہراساں کرکے اور اغواء کرکے افواج پاکستان کے خلاف نفرت آمیز ماحول بنانے کا گھنائونا کھیل کھیلا۔ دشمن ملک سے بھلائی کی توقع تو نہیں ہو سکتی مگر المیہ یہ تھا کہ سیاسی بصیرت کے دعویداروں کو بھی متوقع اقتدار کی دھند میں کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔


اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو قائداعظم محمد علی جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے بعد ہماری ملکی سیاست بہت تیزی سے زوال پذیر ہوئی۔ ملک پر سیاسی گرفت کمزور پڑی تو ایک خطرناک خلاء پیدا ہو گیا، اور 1953 سے 1958 کے درمیان 6برسوں میں 7وزیراعظم تبدیل ہوئے جو محلاتی سازشوں کے ذریعے بدلے جاتے رہے۔ وہ اسمبلی جو خود عوام کا اعتماد کھو چکی تھی وہ فوراً نئے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیتی چلی جا رہی تھی الغرض پاکستان کا سیاسی میدان کبھی بھی جمہوری اعتبار سے قابلِ رشک نہیں رہا۔


بہرطور عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی قیادت کے عدم اخلاص کے سبب حالات کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے میں ناکامی نے شیخ مجیب کی شاطرانہ چالوں کو اور بھی مبہم کر دیا تھا اور یوں پاکستان دولخت ہو گیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کا المیہ کوئی ناگہانی حادثہ نہ تھا۔ دسمبر 1971 میں جس غارت گری نے اور خانہ بربادی نے ملک کو دو ٹکڑے کیا وہ دراصل ان غلطیوں اورعاقبت نااندیشیوں کا نقطہئِ عروج تھا جن کا آغاز لیاقت علی خان کی شہادت کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ جنرل کے ایم عارف نے اپنی یادداشتوں ''ورکنگ وِد ضیائ'' میں ایک جگہ اس قسم کے جذبات کا اظہار افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یحییٰ حکومت کے خاتمے اور بھٹو حکومت کے آغاز سے بھی مارشل لاء ختم نہ ہوا بلکہ ایک جمہوریت کا دعویدار سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گیا اور جب بھٹو کا دور ختم ہوا تو تمام سیاسی اور جمہوری پارٹیاں مارشل لاء کے ساتھ کھڑی تھیں۔ کے ایم عارف نے یہ بھی لکھا کہ 1970کے انتخابات پر اس کا کوئی مخالف بھی انگلی نہ اٹھا سکا اور 1977کے انتخابات کو پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے قبول نہ کیا۔ سیاسی اور جمہوری دور کی ناپائیداری کی اس سے واضح مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔


گزشتہ ستر برسوں میں جوبے یقینی چلی آرہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ قیادت کا فقدان تھا۔ ہم آج بھی ناپائیداری کے دور سے گزر رہے ہیں۔ جو یقینا کسی بھی قوم او رملک کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ لہٰذا آج اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ تمام ادارے اپنے اپنے تئیں خود کو مضبوط کریں اور شفافیت کے ساتھ اپنے معاملات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ بلاشبہ وہی قومیں بین الاقوامی سطح پر باوقار اقوام کی صف میں کھڑی ہونے کی اہل قرار پاتی ہیں جو اپنے ماضی سے سیکھتی ہیں اور مستقبل کی راہیں انصاف، دیانتداری اور صادق جذبوں کے ساتھ سنوارتی ہیں۔ لہٰذا پاکستانی قوم کو ماضی کے غم میں ڈوبے رہنے کے بجائے ملک کے بہترین مستقبل کے لئے شب و روز محنت اور مسلسل جدوجہد کرنا ہو گی۔ تب ہی جا کر ہم دہشت گردوں کے عفریت کی طرح دیگر مشکلات اور چیلنجز پر قابو پانے کے قابل ہو پائیں گے۔ حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا:


کیوں زیاں کار بنوں، سودِ فراموش رہوں
فکرِفردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بلبل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا! میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں؟

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں پر
(سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں لکھی گئی۔)
پچھتائے ہیں سر کا بوجھ گرا کر بھی
حیراں ہیں آنکھیں دیوار ہٹا کر بھی
لوگوں کے گھیرائو سے ڈر کر بھاگے تھے
کانپ گئے ہیں اپنے سامنے آ کر بھی
انگلی تھام کے چلنا بھی منظور نہ تھا
کھو گئے بھیڑ میں آگے آگے جا کر بھی
اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں پر
گونگے ہو گئے شہر کے سارے ہاکر بھی
عالی سب انصاف ترازو ٹوٹ چکے
کیا پائو گے اب زنجیر ہلا کر بھی


جلیل عالی

*****

 
Read 338 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter