صدر ٹرمپ کا طویل دورہ ئِ ایشیا اور زمینی حقائق

تحریر: فرخنداقبال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایشیا کے پانچ ممالک(جاپان، چین، جنوبی کوریا، ویت نام اور فلپائن) پر مشتمل 12روزہ طویل دورہ کیا،جس کے دو بڑے مقاصد تھے:(1)شمالی کوریا کے ایٹمی بحران پر قابو پانا(2)خطّے میں امریکی تجارت کا توازن درست کرنا۔لیکن اس دورے کا جائزہ لیتے وقت بہت سے دیگر نکتے بھی ذہن میں آتے ہیں،جن پر ذیل میں مختصراً بحث کی گئی ہے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سیاسی نظام چلانے میں چین کی شراکتی حیثیت باضابطہ طور پر تسلیم کرلی ہے

اپنی صدارتی مہم کے دوران چین پر کرنسی کا ہیر پھیر کرنے اور امریکی معیشت کو تباہ کرنے کے الزامات لگانے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورے میں چین اور اس کے صدر شی جن پنگ کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔ انھوں نے بیجنگ میں کاروباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ''میں چین پر الزام عائد نہیں کروں گا۔ کون کسی ملک پر اپنے شہریوں کے فائدے کے لئے دوسرے ملک سے نفع اٹھانے میں کامیابی حاصل کرنے پر کوئی الزام عائد کرسکتا ہے؟ میں چین کو بڑا کریڈٹ دوں گا۔''شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل میں چین سے مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ''میں آپ کے صدر کے بارے میں ایک چیز جانتا ہوں ،وہ یہ ہے کہ اگر وہ اس معاملے پر محنت سے کام کریں تو یہ بحران حل ہوجائے گا،اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔''انھوں نے شی جن پنگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''آپ ایک بہت خاص شخص ہیں۔''مستحکم معیشت، ایک پٹّی ایک شاہراہ اورایشیائی ترقیاتی انفراسٹرکچر بینک جیسی کئی کامیاب پالیسیوں کے ساتھ عالمی سیاست میں تیزی سے جگہ بنانے والا چین افغانستان اور مشرق وسطی میں راہنما کردار (مذاکرات اور جنگ بندی سرگرمیاں) ادا کرنے کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل میں مرکزی کردار ادا کرنے کی اہلےّت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابھرتے ہوئے چین سے مقابلے کے لئے اپنے پیش رو باراک اوبامہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صدر ٹرمپ بھی اس سے مدد مانگ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین اس مطالبے کا مثبت جواب دے گا؟دیکھا جائے تو چین 1950-53کے جزیرہ نما جنگ

trupdoraasia.jpg
(Peninsular War)
سے لے کر آج تک شمالی کوریا کا قریبی دوست رہا ہے۔ اس جنگ میں اس نے شمالی کوریا کے دفاع کے لئے اپنی فوجیں باقاعدہ طور پر میدان میں اتاری تھیں۔ جنگ کے بعد بھی چین نے اس کے تینوںرہنمائوں
Kim II Sung (1948-94)، Kim Jong-il (1994-2011)
اور
Kim Jong-un
2011سے تاحال سے ہر طرح کا سیاسی، سفارتی اور اقتصادی تعاون کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت 6.86بلین ڈالر سے زائد مالےّت کی سالانہ تجارت ہورہی ہے جس میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔2017کے پہلے نصف میں 2.6بلین ڈالرکی دوطرفہ تجارت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے اس عرصے کی نسبت 10فیصد زیادہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ چین شمالی کوریا پر بہت اثرورسوخ رکھتا ہے اور وہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک سکتا ہے لیکن اس بارے میں چین کی اپنی حدود اور الگ سوچ ہے۔ شمالی کوریا جنوبی کوریا کا دشمن ہے جس کے ساتھ چین کے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے۔چین کو جنوبی کوریا اور امریکہ کی سالانہ مشترکہ بڑی فوجی مشقوں پر شدید تشویش ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کے حل کے لئے چین پر زور ڈالتے ہیں تو چین جواب دیتا ہے کہ اس عمل کا آغاز تب ہی ہوگا جب امریکہ اور جنوبی کوریا یہ مشترکہ فوجی مشقیں روک دیں، جس کے لئے امریکہ تیار نہیں ہے۔ ایک ایٹمی شمالی کوریا، چین اور اس کے دشمن ملک جنوبی کوریا کے درمیان ایک بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے اور جتنی اس کی طاقت بڑھتی ہے اتناہی یہ جنوبی کوریا کو چین کی سرحدوں سے دور رکھ سکتا ہے جہاں بڑی تعداد میں امریکی فوج موجود ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کا مرکز چین سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس ملک میں کسی بھی قسم کا انتشار چین کے لئے فوری خطرہ ہے اور اس کی پہلی اور آخری کوشش اس کی حکومت کو مستحکم رکھنا ہے اور وہ کم جونگ پر بہت زیادہ دبائو ڈال کر اسے مکمل طور پر تنہا نہیں کرنا چاہتا۔امریکہ کے ساتھ مخالفت میں لیبیا کے معمر قذافی اور عراق کے صدام حسین کی حکومتوں کے گرنے کے اثرات سے کون واقف نہیں ہے۔ شمالی کوریا میں اس قسم کی صورتحال سے شدید انتشار اور ایٹمی ہتھیاروں کا چین کے دشمن ہاتھوں میں جانے کا بہت امکان ہوگا ۔اور چین یہ بھی جانتا ہے کہ امریکہ ایٹمی طاقت کے حامل ملک شمالی کوریا پر حملے کی جرأت نہیں کرے گا ،کہ اس صورت میں اس کے اتحادی جنوبی کوریا، جاپان اور گوام میں امریکی فوجی تنصیبات کے علاوہ امریکی سرزمین بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائلوں کے نشانے پر آسکتے ہیں۔ ان سب فیکٹرز کو دیکھتے ہوئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ چین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کا زیادہ مثبت جواب دے سکتا ہے۔


ٹرمپ کی چین اور خطّے کے دیگر ممالک کے ساتھ امریکی تجارت متوازن کرنے کی کوشش او ر یہاں امریکہ کی اسٹریٹجک حیثیت 
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورے کے اختتام پر کہا کہ اس دورے کے نتیجے میں 300بلین ڈالر کی امریکی مصنوعات فروخت ہورہی ہیں ،اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حجم میںبہت جلد چار گنا اضافہ ہوجائے گااور یہ معاہدے ایک ٹریلین ڈالر سے بھی بڑھ جائیں گے۔دیکھا جائے تو اس وقت امریکہ کو چین کے ساتھ تجارت میں تقریباً 347بلین ڈالر ، جاپان کے ساتھ 69بلین ڈالراور جنوبی کوریا کے ساتھ 27.7بلین ڈالر خسارہ ہورہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے 250بلین ڈالر کے اقتصادی معاہدے کئے لیکن اقتصادی ماہرین سمجھتے ہیںکہ ان معاہدوں سے امریکہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ بلکہ ان میں سے کچھ تجزیہ کاران معاہدوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے اور اسٹریٹجک معاملات سے توجہ ہٹانے کی ایک چینی چال بھی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ نے اپنے دورے میںجاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبے
(Shinzo Abe)
کو بتایا کہ ''اگر جاپان امریکہ سے اسلحہ خریدتا ہے تو وہ شمالی کوریا کے میزائلوں سے بھی محفوظ ہوجائے گا اور مجھے بھی خوش کردے گا۔''جس پر شنزو ایبے نے رضامندی کا اظہار کیا۔ اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی روز جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایشیا بحرالکاہل خطّے کے 11ممالک کے ساتھ امریکی معاہدے

Trans-Pacific Partnership

سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت ہی امریکہ نے دوطر فہ انداز کے اقتصادی تعلقات کا آغاز کرلیا تھا لیکن اس کے ساتھ سب سے بڑا خدشہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ اس معاہدے سے نکلنے کے بعد ا س خطّے میں اس کے اسٹریٹجک مقاصد متاثر ہوسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ باراک اوبامہ دور کے اس معاہدے کا بڑا مقصد چین کے گرد حصار باندھناتھا۔ لیکن اب امریکہ نے جب دو طرفہ انداز کی تجارت اختیار کرلی ہے تو اس کے ساتھ اس کی یہاں خارجہ پالیسی بھی بڑی حد تک دوطرفہ ہوگئی ہے۔ جو کہ خطّے میں تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت چین کے لئے ایک سرپرائز کامیابی ہے۔ اس فیصلے سے چین کو خطّے کی قیادت سنبھالنے کا زبردست موقع ملا ہے۔ وہ اس وقت ون بیلٹ ون روڈ ، ایشیائی ترقیاتی انفراسٹرکچر بینک اور اس قسم کے دیگر علاقائی اور عالمگیر پالیسیوں کے تحت اپنی طاقت
integrated
انداز سے بڑھا رہا ہے۔


ٹرمپ کا دورہ اورشمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر جنوبی کوریا اور جاپان کی پریشانی
شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے خطّے میں سب سے زیادہ پریشانی جنوبی کوریا اور جاپان کو ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر اگرچہ ان دونوں ممالک میں ان کی خوب آئو بھگت ہوئی اور شمالی کوریا کے بارے میں مسلسل بیانات بھی دئیے گئے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 12روزہ طویل اس دورے میں ان کے خدشات ختم یا کم کرنے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کچھ کیا گیا؟ کیا ان دونوں ممالک کے رہنما ٹرمپ کے دورے کے بعد شمالی کوریا کے خطرے میں کوئی کمی محسوس کر رہے ہیں ؟ ایسے کوئی آثار یا اشارے کم از کم ابھی تک ان کے رہنمائوں مون جائے ان اور شنزو ایبے کے بیانات میں سامنے نہیں آئے ہیں۔ اگرچہ چینی صدر شی جن پنگ نے اپنا ایک خصوصی نمائندہ شمالی کوریا بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ۔میڈیا میں یہ خبر آنے کے بعد یہ تبصرے شروع ہوگئے کہ چین نے یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کے بعد اٹھایا ہے اور وہ اب سنجیدگی سے شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے تنازعے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی
Xinhua
نے فوری طور پر اس سلسلے میں وضاحت جاری کردی اور کہا کہ چینی صدر کے نمائندے کے دورے کا مقصد برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کے حالیہ اجلاس پر گفت و شنید کرنا ہے ، اور اس کا شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سلسلے میں اگلے چند ماہ نہایت اہم ہیں جس میں یہ واضح ہوجائے گا کہ جنوبی کوریا اور جاپان کا شمالی کوریا کے خطرے کے سدباب کے لئے امریکہ پر اعتماد کا گراف کیا ہے؟
جارج بش کا دورہ۔۔ٹرمپ کا دورہ۔۔26برسوں میں بہت کچھ بدل گیا۔


ایشیا کابالکل اسی قسم کا ایک طویل دورہ 1991-92میں سابق امریکی صدر جارج بش سینئرنے کیا تھا ،جس کا مقصد سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی واحد سپر پاور کی حیثےّت کا پیغام دینا اور اس کی قیادت میں ایک نئے عالمی نظام کا خاکہ کھینچنا تھا۔ اب جب 26سال بعد ایک امریکی صدر نے اس خطّے کو ایک طویل دورے کے لئے چنا تو اس خطّے میں ایک نئی سپر پاور (چین) پنپ رہی ہے اور یہ صدر
Protectionist
قسم کے خیالات رکھتے ہیں۔ جن کی عالمی حیثیت یہ ہے کہ وہ جب بھی اپنے سب سے بڑے حریف شمالی کوریا کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے تو وہ جواباً پہلے سے بڑے اور خطرناک ایٹمی ہتھیار کا تجربہ کرتا ہے۔ اور اس صدر کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ شمالی کوریا کو رام کرنے کے لئے چین کی منّت کریں۔ اس وقت کئی دیگر ممالک بھی امریکہ کو کھلم کھلا طور پر چیلنج کر رہے ہیں۔ آج سے 26برس پہلے اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

 

مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 372 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter