کرنل صاحب کی موجیں

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل میربازخان

''سر کچھ ہی دنوں کی ہی بات ہے آپ بھی موجیں کریںگے بس ایک دفعہ آپ کرنیل بن جائیں۔'' سپاہی اقرار کے ان الفاظ کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے، تو دل ٹھنڈی آہیں بھرنا شروع کرتا ہے اور خیالات ماضی کے دریچوں کو کریدنا شروع کر دیتے ہیں جب ایسے ہی الفاظ عسکری زندگی کے ہر موڑ پر سننے کو ملتے تھے۔
سر! بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اور پھرفقط سترہ برس بعد وہ ''کچھ ہی'' دن گزر گئے اور ہماری' موجیں' شروع ہو گئیں جب کمانڈ لینے کے پہلے دن ہی جنرل صاحب نے ایک ماٹھی پریزینٹیشن دینے پر جھاڑ پلادی اور پھر 'موجوں' کا نہ ختم ہونے والا ایک ایسا طویل سلسلہ شروع ہوا جو 21اکتوبر 2000، پی ایم اے سے پاسنگ آئوٹ والے دن سے لے کر آج تک ہماری عسکری زندگی کا خاصہ رہا۔ ان 'موجوں' کا سلسلہ تو تب ہی شروع ہو گیا تھا جب پلٹن میں پہلے دن کی فا لِن پر لیفٹیننٹ عثمان طاہر نے کمپنی سے الگ کھڑے رہنے پر ''عزت افزائی'' کی تھی اور کیپٹن نعمان الدین حیدر نے'سر آئی تھنک' کہنے پر ہماری سوچنے سمجھنے کی 'غیراخلاقی' جسارت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کوارٹر گارڈ کے سیل میں قید کر دیا تھا۔ پھر ہمیں کمپنی لائنز میں جوانوں کے ساتھ ابتدائی عسکری تربیت کے لئے بھیجا گیا تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم پی ایم اے سے آفیسر پاس آئوٹ ہو کر پاک فوج کی ایک مایہ ناز پلٹن میں کوارٹر گارڈ کا حصہ بنیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ سی کمپنی کی آٹھ نمبر پلاٹون میں بیتے وہ تیس دن ہماری پیشہ ورانہ زندگی کے یادگار ترین دنوں میں سے تھے جس کے دوران سپاہی ناصر، اقرار، شمعون بہادر اور حوالدار لطیف جیسے سادہ لوح اور مخلص انسانوں کی صحبت ملی۔ ایسے ہی ایک موقعے پر جب رات کے تین بجے حکم ملا کہ نئے لیفٹین صاحبان نے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کہیں جانا ہے تو سپاہی اقرار نے وہ تاریخی الفاظ صادر کئے تھے۔۔۔۔۔
''کیا مصیبت ہے !!!!! چلو سر کوئی بات نہیں ۔۔۔ بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔''

colsabkimojain.jpg


وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ ہم کرنیل صاحب کی 'موجوں' کا تصور لئے افسری کے موڈ میں آ گئے۔ کندھے بھاری ہوئے تو ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا اور پلٹن کے ابتدائی ایام میں دی گئی تربیت کی بدولت ہر اس پوسٹ پر تعینات ہوئے جو ہمیں کرنیل صاحب کی 'موجوں' کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔ سٹاف کالج کی اپر فوائر کے تابڑ توڑ حملوں سے ہم بچ کر نکلے تو آسماں سے گرا اور کھجور میں اٹکا کے مصداق بالتوروگلیشئر کو 'حفظ'کرکے 'مسرور' ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بہرکیف 'موجوں' کے حصول کی خاطر قراقرم کے سُرور سے نکل کر پہلے مارگلہ کی آغوش میں نمل اور پھر سلطنت عمان کے صحرائوں کے سحر میں کھو گئے۔ سلطنت عمان سے واپسی پر ابھی وادیٔ ہنزہ کے دلفریب مناظر دیکھ ہی رہے تھے کہ کرنیل صاحب کا پروانہ آگیا کہ خدائی رینج پر رپورٹ کرکے ایکسرسائز کی تیاری شروع کریں۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ پی آئی اے کا خیال ترک کرکے شاہراہ قراقرم پر رختِ سفر باندھ لیا۔ پھر کہیں سے آواز آئی چلو کوئی بات نہیں ایک ہی سال کی تو بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سال گزر گیا اور وہ دن آہی گیا۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب کے فوراً بعد ہماری 'موجیں' شروع ہوگئیں۔ سب سٹینڈرڈ پریزنٹیشن کا ذکر پہلے ہوچکا، جیسے ہی بڑے گھر سے دفتر پہنچا تو ایس ایم صاحب نے دفتر میں داخل ہو کر پہلے سب اچھا سنا دیا


''سر راجن پور میں ڈیزل اور راشن ختم ہو گیا ہے لیکن مسئلے کی بات نہیں شام کا کھانا بن جائے گا۔
رکھ عربی پر صوبیدار امجد صاحب کو بخار ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں ہم نے
replacement
بھجوا دی ہے۔
سپاہی تنویر اور عبدالرحمن چھٹی سے واپس ابھی تک نہیں آئے، پرسوں حاضری تھی۔
سپاہی کلرک چھوٹے خان کی کل چھٹی سے حاضری تھی ابھی تک رابطہ نہیں ہو رہا، موبائل بھی بند ہے۔
کمانڈر صاحب کا آج ایم بی ایم کا وزٹ پلان ہے ۔ صوبیدار خیر بہادر صاحب تو ایڈمٹ ہیں کسی اور جے سی او کو بھیجنا پڑے گا۔
کل پے ڈےہے لیکن پچھلے سی او صاحب سے تنخواہ کا چیک سائن کرانا ہوگا کیونکہ ابھی تک اکاؤنٹ ان کے نام پر ہے۔
بینڈ پلاٹون کے لئے جو نئے بندے آپ نے چنے تھے، وہ انکاری ہیں۔
باقی سب اچھا ہے سر !''
ابھی ایس ایم صاحب کا سب اچھا ختم ہوا ہی تھا کہ کیپٹن بلال (ایڈجوٹنٹ) داخل ہوئے اور یوں گویا ہوئے:
''سر
!there is a minor issue
ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے سی سی آر میں ایک ڈیوٹی آفیسر نے جانا تھا نہیں گیا، بریگیڈ نے
explanation

مانگی ہے۔
کور کے مقابلوں میں سی ٹی ٹی ایس اور ایس پی ایس ٹیم کی غیر معیاری کارکردگی پر ڈیو ہیڈکوارٹر کمنٹس مانگ رہا ہے۔
سر! آپ نے چار اگست سے سات اگست تک ریکی پر جانا ہے۔ نو سے گیارہ اگست پفرز کانفرنس ہے۔
14 اگست کو آزادی فنکشن ہے اس کی ذمہ داری ہماری ہے۔ پرسوں کمانڈر کو اس پر بریفنگ دینی ہے اور سکیورٹی بھی ہماری ہے۔
ہم نے فائرنگ کے لئے جو دوبارہ اجازت مانگی تھی، اس پر ڈیو کمنٹس مانگ رہا ہے۔
چار بندوں نے کوارٹر کا عرصہ بڑھانے کی درخواست دی ہے۔ دینے میں مسئلہ کوئی نہیں لیکن پندرہ بندے ویٹنگ لسٹ پر بھی ہیں۔
رکھ عربی سے گارڈ واپس آنی تھی، اس کا عرصہ بڑھ گیا ہے اور اگلا مہینہ بھی ہماری گارڈ وہیں پر رہے گی۔''
اتنے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے اور بی ایم صاحب کی دوستانہ مگربارعب آواز گونجتی ہے۔ ''سر! ٹیک اوور کر لیا مبارک ہو۔ اچھا سر کمانڈر کہہ رہے ہیں کہ جیلوں کی سکیورٹی کے بارے میں جو
presentation
ڈیو میں دینی تھی کل کمانڈر سے آپ ڈسکس کریںگے۔''
اسی اثنا میں ہیڈ کلرک صاحب وارد ہوتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں:
سر! آڈٹ ٹیم آرہی ہے، میں نے ان سے بات کر لی ہے معاملہ ٹھیک رہے گا۔ (پندرہ دن بعد پتہ چلا کہ اٹھانوے پرانے پوائنٹس کے ساتھ سینتالیس نئے پوائنٹس بھی لکھ لئے ہیں۔)
سر! بریگیڈ میں راجن پور کے بارے میں جو کمنٹس بھیجنے تھے اس کا پانچواں ریمائنڈر آگیا ہے اور بھی چھ سات ریمائنڈر ہیں۔
کل دس بجے آپ نے کمانڈر صاحب کو سٹڈی پیریئڈ کے بارے میں بریف کرنا ہے۔ پرسوں کور میں ایک آئی ایچ ڈی ہے جس میں آپ سنڈیکیٹ ممبر ہیں۔
آج دو بجے گل حسن ہال میں حفظ و قرأت کا مقابلہ ہے آپ نے بھی جانا ہے۔
ہمارے پاس تین اے کیٹیگری کلرک تھے ان میں سے دو کی پوسٹنگ آگئی ہے۔،،


کسی نہ کسی طرح کچھ کام نمٹا کر جیسے ہی گھر پہنچا، بچوں نے خواہش ظاہر کردی کہ باہر جانا ہے ۔ اسی اثنا میں بیگم نے نوید سنا دی کہ اے سی کام نہیں کر رہا، کل سے صفائی والا گھر پر نہیں آیا، واش روم کا شاور کام نہیں کر رہا، کوکنگ رینج کیا تبدیل ہو سکتا ہے؟ آج مہینے کا سامان بھی لانا ہے۔ بچوں کے سکول میں کوئی فنکشن ہے اس کے لئے نئے کپڑے لانے ہیں۔ اچھا آج شام گیم مس نہیں کرسکتے؟ میں نے لیڈیز کلب جانا ہے وہاں ہماری ریہرسل ہے۔


کچھ لمحوں بعد احساس ہوا کہ موبائل کی گھنٹی کافی دیر سے بج رہی ہے۔ کمانڈر اور بی ایم کے نمبروں سے مس کالز کی تعداد دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ کمانڈر کے بجائے ہم نے پہلے بی ایم کو فون کیا تاکہ پہلے حالات کی نزاکت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ پتہ چلا کہ ٹی وی پر راجن پور کے بارے میں کوئی خبر چل رہی تھی ۔ کسی نہ کسی طرح کینال ریسٹ ہائوس راجن پور کے باسیوں کو جگا کر حالات و واقعات کا پتہ لگوایا اور کمانڈر کو رپورٹ دی۔ حسب معمول کمانڈر صاحب ہم سے کچھ زیادہ ہی باخبر تھے، بہر حال انہوں نے کمپنی کمانڈر کو ذرا آنکھیں کھول کر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فون بند کیا۔ دن کو قیلولہ کرنے کی خواہش تو برسوں سے تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ احساس پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ شاید یہ سہولتیں صرف ''الفا، برائو،چارلی''اور ''سنہرے دن''کے فوجیوں کو نصیب تھیں۔ گیم کے بعد ہم نے کمانڈر کے لئے بنائی گئی پریزینٹیشن دیکھنے کی ٹھانی تو پتہ چلا کہ ایڈجوٹنٹ صاحب نے ابھی اس پر کام ہی شروع نہیں کیا اور وہ بھی اس کام کے لئے رات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم نے بھی ان کو جھاڑ پلا کر اپنی نئی کمانڈ کا احساس دلایا کہ اب ایسے نہیں چلے گا۔ ہر کام وقت پر تیار ہونا چاہئے۔ ایڈجوٹنٹ صاحب دفتر سے نکلے اور اپنے دفتر میں دوسرے لیفٹین صاحبان سے ملکر ہماری ''اچھائیاں'' کرنا شروع ہوگئے۔ ''ابھی نیا نیا پروموٹ ہوا ہے اس کو پتہ تب چلے گا جب ایک ہی دن میں تین تین بریفنگ تیار کرنی پڑیں گی۔'' ستم ظریفی یہ کہ ہم اس وقت ان کے دفتر کے سامنے سے گزر رہے تھے، ہم نے عزت اسی میں جانی کہ برداشت کیا جائے، اس لئے بات نہ سننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ گھر پہنچنے سے پہلے ہی ایڈجوٹنٹ صاحب نے موبائل پر رات کے روٹ مارچ کی نوید سنادی۔ ''کاکولیات'' کے مصنف کے مداح تو ہم پہلے سے تھے، دل توبہت چاہا کہ ہسپتال جا کر کسی غیرمرئی مرض سے مستفید ہوں مگر نئی نئی کمانڈ کا ولولہ آڑے آگیا اور پورا روٹ مارچ کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ روٹ مارچ کے راستے پر ہم نے غور کیا اور نقشے کے اسرارورموز میں سے ہم نے بار بار کوئی شارٹ کٹ ڈھونڈنے کی بے سود کوشش تو ضرور کی مگر نقشے پر کسی کولمبس کے ہاتھ سے مارک ہوا، بارہ کلومیٹرکا راستہ زمین پر لگ بھگ اٹھارہ کلومیٹر کے برابر نکلا۔ خدا خدا کرکے واپس پہنچے اور معمول کے مطابق حلوے اور پکوڑوں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا گیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے مرغان سحر کے بیدار ہونے کا وقت ہوا چاہتا تھا مگر ٹیلیفون کالوں کا تانتا پھر بھی بندھا رہا۔ آخری کال تقریباً صبح پانچ بجے آئی کہ سر صبح جو پارٹی خانیوال جا رہی ہے ڈیو سے اس کی
(move sanction)
ابھی تک نہیں پہنچی۔ کچھ پتہ نہیں چلا کب ہم بستر پر پہنچے اور کب آنکھ لگی، ہوش اس وقت آیا جب موبائل پر صبح کا الارم بج رہا تھا اور اس کے ٹیون میں دور کہیں سے وہی سریلی آواز سنائی دے رہی تھی:
''بس سر!آپ ایک دفعہ کرنیل بن جائیں پھر آپ کی 'موجیں ہی موجیں' ہیں۔''

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 1875 times

1 comment

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter