تحریر: صبا زیب


برطانیہ میں منعقد ہ بین الاقوامی کیمبرین پیٹرول میں پاکستان آرمی نے چار مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کیا۔ رواں برس گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ٹیم کے ساتھ ایک ملاقات

 

ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا نام سنتے ہی ویلز کا یخ بستہ موسم، سنگلاخ پہاڑ اور دنیا کے سخت جان فوجی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ انہی فوجیوں میں پاکستانی فوج کے جوان بھی شامل ہیں جو ملک کے اندر تو دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہیں ہی۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک سے باہربھی بین الاقوامی سطح پر دنیا کی بڑی فوجوں کے ساتھ مقابلے میں اپنی ہمت اور دلیری کا سکہ بٹھا رہے ہیں۔ مسلسل تیسری بار ایکسرسائزکیمبرین پیڑول میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پاکستانی فوجی عام فوجی تو نہیں ہو سکتے کیونکہ اس ایکسرسائز میں ایک ہزار سے زائد برطانیہ کے فوجی اور 28بین الاقوامی فوجی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔برطانوی فوج کی 160بریگیڈ ہر سال اس مقابلے کومنعقد کرواتی ہے۔
ایکسرسائزکیمبرین پیڑول کا ایونٹ اپنے انداز کا ایک منفرد اور دنیا کا سب سے بڑا فوجی ایونٹ ہے۔ یہ ایک
Long Range
پیٹرول مشق ہے جس کا دورانیہ 48گھنٹے ہوتا ہے۔ اس میں تقریباً 50میل تک کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس میں حصہ لینے والوں میں
Navigation
کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ جسمانی برداشت کو بھی جانچا جاتا ہے۔ اس
Patrol
کا آغازبرطانوی فوج نے 1960میں کیا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان نے 2005 سے اس میں حصہ لینا شروع کیا اور اب تک گیارہ بار اس
Patrol
میں حصہ لے چکا ہے۔

jbjazbayhun_jawan.jpg
پاکستانی فوج کی 59پنجاب رجمنٹ نے کیمبرین پیٹرول میں دوسری بار حصہ لیا اور دونوں بار گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے لئے ٹیم کے انتخاب کا معیار یہ ہے کہ پہلے پاکستان میں مختلف ٹیموں کے مابین لوکل سطح پر مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں جنہیں پاس کرنے کے بعد آرمی کی سطح پر ایک مقابلہ رکھا جاتا ہے جو ٹیم اس مقابلے میں جیتتی ہے وہ کیمبرین پیٹرول میں حصہ لیتی ہے۔ انگلینڈ جانے سے پہلے اس ٹیم کی ٹریننگ ایسے علاقوں میں کی جاتی ہے جو ویلز کے علاقے سے ملتے جلتے ہوں تاکہ وہاں جا کر ٹیم موسم کی سختی کو برداشت کر سکے۔ ایکسرسائز کیمبرین پیٹرول میں 59 پنجاب رجمنٹ کی گیارہ رکنی ٹیم نے حصہ لیا۔ جن میں میجر جواد جمیل، کیپٹن محمدعثمان افضل، لیفٹیننٹ عبدالرحیم، حوالدار بابر عدیل، حوالدار غلام مصطفی، نائیک محمدآصف، لانس نائیک قیصر عباس، لانس نائیک ناصر علی، لانس نائیک محمداشفاق، سپاہی وقاص احمد اورسپاہی محمدنذیر شامل ہیں۔ اس ٹیم کی ٹریننگ جونیئر لیڈرز اکیڈمی شنکیاری میں کی گئی۔ میجر جواد جو کہ اس ٹیم کے انتظامی انچارج تھے، نے بتایا کہ ہم مقابلہ شروع ہونے سے تقریباً 10-15 دن پہلے وہاں چلے جاتے ہیں۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم ویلز کے موسم کے عادی ہو جاتے ہیں۔ پھر مشترکہ ٹریننگ شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ ایسے ہتھیار استعمال کرنا ہوتے ہیں جو ہمارے لئے نئے ہوتے ہیں کیونکہ مقابلے میں ہتھیار ہمیں
U. K. Army
کے استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ کچھ
Drills
بھی ہمیں ان کے ساتھ کرنی ہوتی ہیں۔ ان سے کچھ سیکھتے اور
Adopt
کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی ٹیم
U. K.
جاتی ہے تو اس کی میزبانی کوئی برطانوی رجمنٹ کرتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کی میزبانی پچھلے تین سالوں سے 32انجینئرز کر رہی ہے۔


ٹیم کپتان ،کیپٹن محمد عثمان افضل نے بتایا کہ ان کے لئے ویلز میں سب سے بڑا چیلنج وہاں کا شدید سرد موسم تھا۔ اس لئے وہاں کچھ بھی آسان نہیں تھا۔ کچھ اہداف ایسے تھے کہ جن تک پہنچنے کے لئے پانی سے بھی گزرنا پڑتا تھا بلکہ وہاں جگہ جگہ پانی تھا۔ راستوں میں پانی اتنا تھا کہ پائوں پورے کا پورا اندر دھنس جاتا اور چاریا پانچ کلومیٹر چلنے کے بعد جرابیں تبدیل کرنی پڑتی تھیں۔ وہاں اچانک بارش شروع ہو جاتی یا اچانک دھوپ نکل آتی۔ موسم کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔کیپٹن عثمان کا کہنا تھا کہ شائد ہی کوئی ایسا ملک ہو جس نے مسلسل تین بار
Cambrian Patrol
میں گولڈ میڈل جیتا ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان آرمی کتنی پروفیشنل ہے۔
Cambrian Patrol
میں جب
Task
دیا جاتا ہے تو بہترین نتائج حاصل کرنے کے لئے ایک ماڈل بنایا جاتا ہے۔ اس ماڈل کو دیکھ کر ہی ٹیم کیپٹن اپنے ساتھیوں کو احکامات دیتا ہے۔ ہمارا اس بار بنایا گیا ماڈل بھی بہت پسند کیا گیا اور اسے بیسٹ ماڈل کہا گیا۔
کیپٹن عثمان نے بتایا کہ ہر ٹیم میں 8افراد حصہ لیتے ہیں جبکہ 2افراد ایسے ہوتے ہیں جو ایمرجنسی کی صورت میں ٹیم میں شامل کئے جاتے ہیں۔ کچھ ٹیمیں دس بارہ گھنٹوں میں ہی
disqualify
ہو جاتی ہیں بہت لوگ زخمی ہو جاتے ہیں اگر ایک ٹیم میں دو سے زیادہ لوگ زخمی ہو جائیں تو وہ ٹیم مقابلے سے نکل جاتی ہے۔ ہر سال نئی چیزیں شامل کی جاتی ہیں اس کے لئے ہم ایک
Broad Training
کرتے ہیں۔ جس میں ہم زیادہ سے زیادہ چیزیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مستقبل میں نئی ٹیم کے گولڈ میڈل لینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میجر جواد نے کہا کہ
Cambrian Patrol
پر جانے والی ٹیم کو چاہئے کہ وہ اپنی ٹریننگ کو بہت اچھی طرح پورا کریں اور جونیئر لیڈرز اکیڈمی جو کہ اس ٹریننگ کی ذمہ دار ہے کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ تجربہ کار اور کوالیفائیڈ سٹاف کے ساتھ ساتھ پہلے سے جیتی ہوئی ٹیموں کو بھی اس ٹریننگ کا حصہ بنائیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ وسائل کو بروئے کار لانا چاہئے کیونکہ اس
Patrol
میں صرف جسمانی فٹنس ہی نہیں بلکہ ذہنی تندرستی اور استعداد بھی دکھانی ہوتی ہے۔ کیپٹن عثمان کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ ہماری اکیڈمی کا ٹریننگ لیول بہت اچھا ہے۔ اسے ایسے ہی کام کرنا چاہئے اور ساتھ ساتھ تجربہ کار لوگوں کو بھی لازمی شامل کرنا چاہئے۔ ٹیم کو بھی چاہئے کہ پوری ایمانداری کے ساتھ ٹریننگ حاصل کرے اور ملک و قوم کے لئے فخر کا باعث بنیں۔

sipwaqas.jpg
سپاہی وقاص احمد
ہمارے لئے یہ بہت ہی فخر کی بات تھی کہ ہماری یونٹ دوسری بار اس مقابلے کے لئے جا رہی تھی اور جب ہم نے دوسری بار بھی گولڈ میڈل حاصل کر لیا تو یہ فخر دوگنا بڑھ گیا کہ یہ نہ صرف ہماری یونٹ بلکہ ہمارے ملک کے لئے بھی اعزاز تھا۔

naikmasif.jpg
نائیک محمد آصف
ہمارے لئے یہ اس لئے بھی قابل فخر ہے کہ ہم نے نہ صرف اس سال گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ پچھلے سال کے گولڈ میڈل کا دفاع بھی کیا اور اس کے لئے ہم اﷲتعالیٰ کے جتنے بھی شکرگزار ہوں کم ہے۔

naiknabar.jpg

حوالدار بابر عدیل
2005سے ہم اس
Cambrian Patrol
میں حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک پاک فوج کے جوان چار مرتبہ گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ اس میں ہماری محنت کے ساتھ ساتھ قوم کی دعائوں کا حصہ بھی ہے۔ خاص طور پر انگلینڈ میں مقیم پاکستانیوں نے ہمارے لئے بہت دعائیں کیں۔

 
Read 567 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter