تحریر : میجر عابد مسعود


ممتاز استاد، محقق اور صاحبِ طرز شخصیت پروفیسر سعید راشد مرحوم کے حوالے سیمیجر عابد مسعودکی ایک تحریر

 

انسان کے بچپن کا دور اس کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ ماں باپ کے بعد جو ہستی انسان کی شخصیت کی تراش خراش کرتی ہے اور اسے کامیابی یا ناکامی کے سانچے میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ استاد ہے۔ استاد ایک جوہری کی مانند ہے جو پتھر میں چھپے ہیرے کی تراش خراش کرتا ہے۔ اگر ہم عظیم لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور جلا بخشنے میں ان کے کسی استاد کا ہاتھ تھا۔


سکندر اعظم کو ارسطو کی شاگردی نصیب ہوئی۔ اپنے شہرہ آفاق استاد کے بارے میں سکندر نے کہا تھا کہ میرے استاد کا درجہ میرے باپ سے بہت بڑھ کر ہے۔ باپ تو مجھے آسمان سے زمین پر لایا تھا لیکن میرے استاد نے مجھے زمین سے علم و آگہی کے آسمان تک پہنچایا ہے۔


اسی طرح ایک واقعہ ہے کہ عباسی خلیفہ مامون الرشید جب بچہ تھا تو اس کے استاد نے کسی بات پر ناراض ہو کر اس کو دو تین تھپڑ جڑ دیئے۔ مامون رونے لگا اتنی دیر میں سلطنت کا وزیر اعظم وہاں آگیا۔ مامون نے آنسو پونچھے اور ایسے ظاہر کیا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بعد میں استاد نے پوچھا کہ شہزادے میں ڈر رہا تھا کہ آپ شکایت لگائیںگے۔ تو مامون بولا: استاد محترم!'' آپ نے مجھے میری اصلاح کے لئے مارا میں آپ کا ادب نہیں کروں گا تو علم کیسے حاصل ہوگا۔'' تاریخ گواہ ہے کہ اچھے استاد پارس کی طرح ہوتے ہیں کہ جن کو جو چیز بھی چھوئے وہ سونا بن جاتی ہے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل، اس کی ترقی کا دارومدار اس کے استادوں اور مدارس پر ہوتا ہے۔
ایک ایسے ہی استادپروفیسر سعید راشد تھے جنھوں نے ہزاروں طالب علموں کی زندگی بدلی۔ سعید راشد 1927 میں بریلی میں پیدا ہوئے ۔ اُن کے نانا عظمت اللہ صدیقی فجر کی نماز پڑھا کر واپس آئے تو نانی نے کہا مبارک ہو۔ اللہ نے نواسہ دیا ہے۔ نا نا نے الحمداللہ کہا۔ نومولود کے کان میں اذان دی۔ ہاتھ اٹھا کر دعا دی ''یااللہ ! اس بچے کو سعید بنانا''۔

qoumkmehmar.jpg


ان کے خاندان میں علم و فضل کے علاوہ مذہب سے خصوصی لگا ئو تھا۔ سورۂ رحمن کثرت سے پڑھی جاتی تھی۔ طہارت و پاکیزگی کا یہ حال تھا کہ مائیں اپنے بچوں کو وضو کرکے دودھ پلاتی تھیں اور دودھ پلاتے وقت سورہ رحمن کا دم کرتی جاتی تھیں۔
تھوڑے سے بڑے ہوئے تو نانا کو اکثر یہ کہتے سنا کہ میرا یہ بیٹا سعید بنے گا۔ گویا ایک ننھے ذہن کا
self image
بنایا جا رہا تھا کہ اس نے بڑے ہو کر اچھے اور نیک کام کرنے ہیں۔
تعلیم کی ابتداء اس زمانے کے دستور کے مطابق قاعدہ بغدادی، ناظرہ قرآن اور اخلاقیات کی کتاب راہ نجات کی تدریس سے کی۔ بریلی اس زمانے میں سیاسی سرگرمیوں اور تحریک آزادی کا ایک اہم مرکز تھا۔چناچہ طالب علم سعید راشد کو قائداعظم، عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ظفر علی خان، جواہر لال نہرو اور گاندھی کی تقاریر سننے اور انھیں دیکھنے کا موقع ملا۔


سعید راشد نے 1949 میںایم اے اردو کیا اور پھر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ٹیچر ٹریننگ کالج میں داخلے لیا۔ یہاں ان کو ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر ہادی حسن، خواجہ غلام الدین، پروفیسر رشید احمد صدیقی جیسے مشہور اساتذہ سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ یہ سب لوگ علم و فن کا سمندر تھے۔ امریکہ میں ڈاکٹریٹ کے لئے اسکالر شپ ملنے کا قوی امکان تھا مگر ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنے ہونہار شاگرد سے کہا ''تمہاری منزل امریکہ نہیں پاکستان ہے اور دیکھو سول سروس کی چمک دمک کا شکار نہ ہوجانا، پاکستان کو افسروں سے زیادہ ٹیچروں کی ضرورت ہوگی۔ قومیں سکولوں میں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ خدا نے تمہیں ٹیچر پیدا کیا ہے اورتمھاری منزل کلاس روم ہے''۔
سعید راشد نے اپنے عظیم اُستادکی بات کو پلّے باندھ لیا۔ پاکستان ہجرت کی اور 11جون 1950 کو اس پاک سر زمین پر قدم رکھا۔ مختلف جگہوں پر ٹیچنگ کے لئے اپلائی کیا۔ 21 اگست کو ملٹری کالج جہلم کے لئے انٹر ویو ہوا اور 22 اگست 1950 کو اس ادرے سے منسلک ہوگئے۔
اپنے نئے وطن کی تعمیر کا جو جذبہ وہ لے کر آئے تھے، اسی کو مشعل راہ بنا کر اگلے 38 سال اپنے ملک کے مستقبل کی کردار سازی کرتے رہے۔ آپ کا نصب العین انگریزی ناول
Good bye Mr Chips
کا یہ مشہور جملہ تھا کہ
''It is so important to be influencing them who are going to grow up and matter to the world.''
ملٹری کالج جہلم میں ایک استاد ہونے کے علاوہ وہ ہائوس ماسٹر بھی تھے اور اس حیثیت سے انہوں نے طالب علموں کے والدین کی طرح ان کی نشوونما پر توجہ دی۔ ان کامشن تھا کہ ہر طالب علم کو انفرادی طور پر اس کی اہمیت اور صلاحیتوں کا احساس دلایا جائے اور متقبل کے قائدانہ کردار کے لئے تیار کیا جائے۔
From discovery to development
کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہر طالب علم کی حوصلہ افزائی کی جاتی کہ زیادہ سے زیادہ سرگرمیوں میں حصہ لے اور اپنے آپ کو خوب سے خوب تر بنائے۔ ہائوس کی لائبریری ہر وقت کھلی رہتی۔ جس کا جی چاہے جو کتاب پڑھے یا ساتھ لے جائے کہیں نوٹ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح ایک ٹک شاپ تھی جہاں بچے خود چیزیں اٹھاتے اور قیمت رکھ دیتے۔
انہوں نے تخلیقی صلاحیتوںکو اجاگر کرنے کے لئے بک ریویو، مضمون نویسی، جنرل نالج اور پبلک اسپیکنگ پر خاص توجہ دی۔ انہوں نے کالج میگزین کی ادارت بھی کی۔ اس کے علاوہ ڈرامے لکھے اور پروڈیوس کئے۔
سعید راشد کے شاگردوں میں14 شہید، 1 نشان حیدر، 25 ستارہ جرأت اور 20 اعزازِ شمشیر
(Sword of Honour)
حاصل کرنے والے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد میں جنرل کے عہدے تک پہنچنے والے شامل ہیں۔آپ کی جوہر شناس نظر تھی کہ کئی ایسے طالب علم جن کے لئے آپ نے اعلیٰ عہدوں کی پیش گوئی کی اور وہ اسی طرح پوری ہوئی۔
اپنے دور کے 38 سال سعید راشد نے ایک مثالی زندگی گزاری، کبھی اپنی کلاس یا ذمہ داری سے لیٹ نہیں ہوئے۔ کبھی شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا، کبھی

Improper

لباس نہیں پہنا۔ ان کا لباس ہمیشہ سفید پینٹ شرٹ ہوتا جو دودھ کی طرح صاف ہوتا۔ کلاس میں ہر طالب علم سے اتنی عزت و احترام سے بات کرتے کہ وہ اپنے آپ کو کوئی

VIP

سمجھتا۔ کسی کی اصلاح کرنی ہوتی تو عمدہ طریقے سے بتاتے۔ ان کی توجہ شخصیت سازی پر ہوتی اور ہر طالب علم کا انفرادی طور پر جائزہ لیتے۔ اکثر نصیحت کرتے ''زندگی کا حاصل زندگی کی طوالت میں نہیں ہے بلکہ اس کے عرض
width
میں ہے۔''
1988 میں کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 2سال میں ملٹری کالج کی تاریخ لکھی۔ 1990-1994 اے پی ایس جہلم، منگلا کینٹ کے پرنسپل رہے۔ انہوں نے 1999 میںراولپنڈی میں وفات پائی لیکن اپنے طالب علموں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ ہمیں ایسے ہی بے لوث اساتذہ کی آج بھی ضرورت ہے جو اپنے کردار سے ایک اچھے انسان کا نمونہ پیش کریں تاکہ اُن کی تقلید کرکے طالب علم اپنی زندگیاں سنوار سکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 471 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter