سوچنے کا فریم ورک، قرآن کی نظر میں

تحریر: یا سر پیر زادہ


ایک عام مسلمان اپنی روز مرہ زندگی میں قرآن کی تلاوت کتنی مرتبہ کرتا ہے ؟ ظاہر ہے اس بات کا اعداد و شمار پر مبنی کوئی حتمی جواب تو نہیں دیا جا سکتا مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایسے مسلمانوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی جو پورے اہتمام کے ساتھ ہر روز قرآن کے ایک رکوع کی تلاوت کرتے ہوں گے ، اس سے بھی کم وہ لوگ ہوں گے جو اردو ترجمے کے ساتھ روزانہ قرآن پڑھتے ہوں گے ،اور ان لوگوں کی تعداد تو شائد بہت ہی تھوڑی ہو جو قرآن کی کچھ آیات بمع تفسیر باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے ہوں گے ، اور وہ خوش نصیب تو یقینا آٹے میں نمک کے برابر ہوں گے جو یہ سب کام کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی آیات پر نہ صرف غور کرتے ہوں گے بلکہ ان سے رہنمائی بھی حاصل کرتے ہوں گے۔بظاہر یہ آخری کام مشکل لگتا ہے مگر خود قرا ن کے الفاظ میں یہ ایسا مشکل بھی نہیں،'' ہم نے اسے (قرآن کو) سوچنے سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے ، تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے''!(مفہوم)۔افسوس کہ قرآن کی اس دعوت کے باوجود ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہیں جو خود اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ خود قرآن نے اس ضمن میں ہمیں سوچنے سمجھنے کا ایک فریم ورک دیا ہے مگر ہم میں سے شائدہی کبھی کسی نے اس پر غور کیا ہو۔ یہ فریم ورک کیا ہے ؟ یہ سوچنے سمجھنے کا وہ طریقہ ہے جو قرآن نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے۔ جو ں جوں میں نے اس پر غور کیا، میں ورطۂ حیرت میں ڈوبتا گیا۔ اس سے پہلے کبھی قرآن کے یہ معنی مجھ پر آشکار نہیں ہوئے تھے ،شائد اسی لئے قرآن کا مطلب ''بار بار پڑھی جانے والی کتاب'' ہے کہ ہم اسے بار بار پڑھیں اور ہر مرتبہ نئے انداز سے فیض یاب ہوں۔ اب ذرا اس سوچنے سمجھنے کے فریم ورک پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔


سوچ کا پہلا اصول قرآن نے یہ بتایا ہے کہ جن چیزوں کا ہمیں علم نہ ہو ان کے بارے سنی سنائی باتیں پھیلانا درست نہیں، حوالہ ہے سورہ بنی اسرائیل، آیات نمبر :36''کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔یقیناآنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہوگی۔''مولانا مودودی نے اس آیت کی تشریح یوں کی ہے کہ لوگ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہم و گمان کے بجائے ''علم'' کی پیروی کریں۔اگر ہم اس ایک آیت پر عمل کرنا شروع کر دیں تو حیرت انگیز نتائج نکلیں گے۔مثلاً آئے روز ہم مختلف مکاتب فکر کے مولوی حضرات کی باتیں سنتے ہیں ، ان میں سے بیشتر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی غرض سے قرآن و حدیث اور مختلف تاریخی کتب کا حوالہ بھی دیتے ہیں ، کیا ہم میں سے کبھی کسی نے یہ کوشش کی کہ جس قرآنی آیت یا حدیث کا حوالہ دیا جا رہا ہے ذرا زحمت کرکے اسے خود نکال کر پڑھ لیں ؟ میں تو اکثر یہ کام کرتا ہوں اور کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جو حوالہ دیا گیا ہوتا ہے وہ غلط پیرائے میں سیاق و سباق سے ہٹ کر دیا گیا ہوتا ہے اور اس کامفہوم اس بات سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو کوئی 'عالم' ہمیں بتا رہا ہوتا ہے۔یہ کام کرنا کوئی ایسا مشکل نہیں کیونکہ اب تو قرآن و حدیث کے ایسے سافٹ وئیر دستیاب ہیں جن کی مدد سے آن واحد میں آ پ متعلقہ آیات اور احادیث کا نہ صرف اصل متن بلکہ ترجمہ اور تشریح بھی پڑھ سکتے ہیں ، ایک سافٹ وئیر ہے
Easy Quran and Hadees
جو انٹرنیٹ پر مفت میسر ہے جس کی مدد سے آپ یہ کا م بآسانی کر سکتے ہیں ، اس سافٹ وئیر میں آپ کوئی بھی لفظ ڈالیں ، مثلازکوٰة تو یہ آ پ کو زکوٰةسے متعلق تمام آیات ، احادیث بمع ترجمہ و تفسیر پیش کر دے گا ، گویا بنیادی ماخذ آ پ کے سامنے ہے۔ اب کسی سنی سنائی بات پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں اور یہی قرآن کا حکم ہے۔


قرآن نے سوچنے کا دوسرا اصول ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان کو جذبات سے نہیں بلکہ عقل سے سوچنا چاہئے ، حوالہ سورہ الفرقان ، آیات نمبر:73-72 ''(اور رحمان کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ جنہیں اگر ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔'' یہ خوبصورت آیات ہیں مگر شائد ہی آ پ نے کسی عالم دین کو ٹی وی پر اس کی تشریح بیان کرتے سنا ہو۔ اس آیت میں خدا اپنے بندوں کی نشانی یہ بیان کر رہا ہے کہ اگر انہیں خدائی احکامات بھی سنائے جاتے ہیں تو وہ ان پر اندھے اور بہرے بن کر عمل کرنے میں نہیں جت جاتے، گویا غور کرتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرتے ہیں ،یعنی اللہ ہمیں یہ تلقین کر رہا ہے کہ مذہب کے معاملات میں بھی عقلی استدلال سے کام لیا جائے نہ کہ لوگوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں راغب کیا جائے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ جب انسان جذبات کے تابع ہو کر سوچتا ہے تو بہت سارے حقائق اسے نظر آنا بند ہو جاتے ہیں ، اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے ، وہ سچائی سے دور ہو جاتا ہے اور یوں اسے حقیقت کا ادراک نہیں ہو پاتا اور یہی وہ المیہ ہے جس کا ہم شکار ہیں۔


سوچنے کا تیسرا اصول جو قرآن سے ہم اخذ کر سکتے ہیں وہ تخلیقی سوچ کو روایتی سوچ پر ترجیح دینا ہے ، سورہ احزاب کی آیت نمبر66-67اور68 میں اللہ فرماتا ہے ''جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کر دیئے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ 'کاش ہم نے اللہ اور رسول ۖکی اطاعت کی ہوتی۔'اور کہیں گے 'اے رب، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بے راہ کر دیا۔اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔''اس کے بعد سورۂ سبا کی آیت نمبر46 میں اللہ فرماتا ہے: ''اے نبی ۖ ان سے کہو کہ 'میں تمہیں بس ایک نصیحت کرتا ہوں ،اﷲ کے لئے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑائواور سوچو ، تمہارے صاحب (مراد رسول اللہ ۖ) میں آخر کون سی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے۔''گویا سورہ احزاب میں خدا نے روایتی انداز میں سوچنے والے ان لوگوں کو، جنہوں نے اپنے ذہنوں کو محض اس لئے بند کر لیا تھا کہ ان میں اپنے سرداروں سے اختلاف کرنے کی جرأت نہیں تھی ، کا انجام بیان فرمایا ہے کہ جب آگ سے ان کے چہرے الٹ پلٹ کئے جائیں گے تو وہ اس وقت یہ تاویل دیں گے ، جبکہ دوسری طرف سورہ سبا میں اللہ تخلیقی سوچ کو ابھارنے کا حکم دے رہا ہے کہ ہمیں اپنا دماغ لڑانا چاہئے اور سوچنا چاہئے ، کیا
out of box thinking
اسی کو نہیں کہتے؟
آ ج جن اقوام نے قرآن کے بیان کردہ یہ آفاقی اصول اپنا رکھے ہیں وہ ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور مسلمان جن پر اللہ نے اپنی یہ کتاب نازل کی، ان زریں اصولوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں ، دنیا میں تو ہم رسوا ہو ہی رہے ہیں ، آخرت میں خدا ہم پر رحم کرے، آمین۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ولادتِ رسولِ عربیۖ

دربدر پھرتے تھے لوگ مارے مارے
ویرانوں میں پھر کر دن تھے گزارے
نہ تھا زندگی میں دستور کوئی
مغرور کوئی تو مجبور کوئی
کھالیتے وہ مل جاتا جہاں تک
تہذیب کا نہ تھا نام و نشاں تک
پیدائش پہ بیٹیاں تھے وہ مار دیتے
آپس میں لڑتے زندگیاں گزار دیتے
گناہوں کی چھائی تھی ہر سو خماری
بت پرستی، خود پرستی، ہر سو بیماری
قدرت کو اُن پہ تھا رحم آیا
اِک بندۂ خدا ان میں تشریف لایا
سادگی بھی تھی صفائی و سچائی بھی تھی
انسانیت کے لئے مسیحائی بھی تھی
صادق و امیں کہہ کر سب نے پکارا
یتیموں کے مولا بے کسوں کے سہارا
اس صورت سا کوئی نہ دنیا میںآیا
دیکھا جس نے چاہت سے کلمہ سنایا
وہ لوگ سب کے امام بن گئے
محمدۖ کی غلامی سے حکمران بن گئے
اسی تعلیم کی ہے سب کو ضرورت
ترقی ہے جس میں اور امن کی صورت

الیاس

*****

 
Read 476 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter