منزلوں کا سفر جاری ہے

تحریر: جویریہ صدیق


اے پی ایس پشاورکے شہداء کی یاد میں لکھی جانے والی ایک تحریر

 

اقوام کے سامنے بعض اوقات ایسا بھی وقت آتا ہے جب زندگی ان کی ہر دل عزیز چیز کی قربانی مانگ لیتی ہے۔پاک فوج کا تو ہر سپاہی اپنی زندگی اس ملک کو سونپ کر آگے آتا ہے لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کے ننھے سپاہی جوکہ قلم دوات کے ساتھ مستقبل کے خواب سجائے درس گاہ میں تعلیم حاصل کررہے ہوں گے، قوم کے لئے قربانی کا کٹھن مرحلہ ان کے سامنے آجائے گا۔


کتنے غازی بچے کہتے رہے اگر ہمارے پاس بھی ہتھیار ہوتے تو ہم ایک بھی ملعون دہشت گرد کو سکول سے زندہ واپس نہ جانے دیتے اس وطن عزیز پر جان بھی نچھاور۔خیر و شر کی جنگ میں قسمت بھی کیا موڑ لائی جس نے ہم سے ہمارے پیارے بچوں اور ان کے اساتذہ کی قربانی مانگی۔1971کی جنگ کے بعد یہ دوسرا بڑا سانحہ تھا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور سفاک دہشت گردوں کو اپنے ہاتھوں سے کیفر کردار تک پہنچانے کی طالب تھی۔

 

manzlonkasafar.jpgسانحہ آرمی پبلک سکول ورسک روڈ پشاور میں 122طالب علموں، 22 اساتذہ بشمول کالج سٹاف نے جام شہادت نوش کیا۔لائنس نائیک محمد الطاف اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھے۔ قریب سے گزر رہے تھے، انہوں نے بھی گولیوں کی آوازیں سن کر اپنے طور پر بچوں کو بچانے کا کام شروع کیا اور دہشتگردوں کی فائرنگ کا شکار ہوکر شہید ہوگئے۔


ان معصوم طالب علموں اور ان کے اساتذہ کی قربانی صدق خلیل اور صبر حسین کی عظیم روایت کا احیا ہے۔سولہ دسمبر ایک قیامت تھی جو ہم سب پر گزری۔ مائوں کی گودیں اجڑ گئیں، باپ کے کندھے جھک گئے اور بہت سے لال ماں اور والد کی شفقت سے محروم ہوگئے تو کچھ کے شریک حیات ابدی نیند سوگئے۔پھولوں کے شہر نے پھولوں کے اتنے جنازے دیکھے کہ ایسا لگ رہا تھا کہ اس رات کی کوئی صبح نہیں ۔


سب نگاہیں اس پاک وطن کی پاک فوج پر مرکوز تھیں۔ ہر دل میں بدلے کی آگ تھی، ہر شخص معصوموں کے لئے تڑپ رہا تھا۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرکے رہیں گے ۔انہوں نے اے پی ایس حملے کو پاکستان کے دل پرحملہ قرار دیا۔جنرل راحیل شریف نے کہا یہ حملہ پاک فوج کے جونئیر دستے پر حملہ ہے ۔اس وقت پاکستان کے ہر فوجی نے مشرقی اور مغربی باڈر سے لے کر گوادر کے ساحل سے سیاچین کے پہاڑوں پر ڈیوٹی کرتے ہوئے یہ قسم کھائی کہ خون کا آخری قطرہ بھی بہا دیں گے لیکن اپنے بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ان کے خون کا بدلہ لیں گے ۔
اس سانحے کے بعد لگ رہا تھا کہ پاکستانی بچے کبھی سکول جا ہی نہیں سکیں گے۔ ہر طرف خوف ہراس تھا لیکن 12 جنوری کو جب آرمی پبلک سکول کو دوبارہ کھولا گیا تو سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ استقبال کے لئے سپہ سالار خود کھڑا تھا۔ پاکستان کی فوج نے شہداء کے لواحقین کی دلجوئی اور غازیوں کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ان اقدامات نے پاکستانیوں کو خوف سے نکلنے میں مدد دی اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس بحال ہوگئی۔


جون 2014 سے جاری آپریشن ضرب عضب میں مزید تیزی لائی گئی اور ارادہ مزید پختہ کیا گیا کہ جب تک شمالی وزیرستان اور پاک افغان سرحد کو محفوظ نہیں بنالیا جاتا چین کی سانس نہیں لیں گے۔فوجی یونٹوں اور خود جنرل راحیل شریف نے اے پی ایس سانحے کے شہداء کی تصاویر اپنے سامنے آویزاں کر رکھی تھیں جنہیں دیکھ کر ہر روز اسی عہد کی تجدید کی جاتی کہ ایک ایک دہشت گرد کو جہنم واصل کرنا ہے۔اس سانحے نے ملک میں انقلاب برپاکردیا۔

سولہ دسمبر لہو سے فتح کے چراغ روشن کرنے کا دن ہے۔یہ ایک قیامت تھی جو ہم پر بیت گئی لیکن اس دن قربانی شجاعت اور صبر کی ایسی داستان لکھی گئی جس کی تاریخ نہیں ملتی۔اس دن نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد کیا۔ ملک میں امن و امان قائم کرنا صرف حکومت اور فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم سب کو مل کر حصہ ڈالنا ہوگا۔

2001 سے 2009 تک جنوبی وزیرستان،سوات میں امن قائم کرنے کے لئے آپریشن کے گئے تھے لیکن آپریشن ضرب عضب میں صرف دو برس کی قلیل مدت میں شمالی وزیرستان میں حکومتی عملداری قائم کی گئی اور عارضی طور پر بے دخل افراد کو گھر بھیجنے کا کام شروع ہوا۔یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔ جوانوں نے دشمن اور اس کی بچھائی گئی بارودی سرنگوںکے علاوہ زمینی اور موسمی مشکلات کی موجودگی کے باوجود مشن جاری رکھا۔ 500 سے زائد فوجیوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور ڈھائی ہزار سے زائد زخمی ہوئے لیکن آپریشن جاری رہا۔


شمالی وزیرستان کے علاقے میں تاریخ کی مشکل ترین جنگ لڑ کر حکومتی رٹ قائم کی گئی۔وادی شوال جسے دہشت گردوں کی آخری آماجگاہ کہا جاتا تھا وہاں تحریک طالبان پاکستان، سجناں گروپ اور فضل اللہ گروپ متحرک تھے۔پاک فوج نے کارروائی کا آغازمشکل ترین چوٹی آسمان پنگا سے کیا اور ڈابر، کنڈغر، مانہ، انزرکس، مگروٹی،گربز کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔جنرل راحیل شریف نے خود اگلے مورچوں پر جاکر جوانوں کا حوصلہ بلند کیا۔
منفی دس درجہ حرارت اور تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر حق و باطل کی جنگ لڑی گئی اور حق کی فتح ہوئی ۔جو علاقے کبھی تاج برطانیہ میں بھی فتح نہیں ہو سکے، آج وہاں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے ۔
حضرت محمدۖ کی تلوار مبارک کے نام پر شروع ہونے والے آپریشن نے سپاہیوں میں وہ جذبہ ایمانی بھر دیا کہ وہ اپنے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو توڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور حق کی فتح ہوگئی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں جنگ لڑتے ہوئے فوجیوں نے کہا کہ پیچھے جاکر ہم وطنوں کو بتائیں کہ ہم نے اے پی ایس کا بدلہ لے لیا۔یہ کہتے ہوئے ان کی اواز فرطِ جذبات سے بھر سی آئی اور میڈیا کے نمائندوں کی انکھیں بھی پرنم ہوگئیں۔

 

اچھے اور بُرے دہشت گرد کی تفریق ختم کرنا ہوگی۔چندہ دینے سے پہلے دیکھ لیں کہ کہیں ہم دہشت گردوں کو گولی تو نہیں خرید کر دے رہے۔ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ پاکستانیوں کو شکست نہیں دے سکتے، جس ملک کے بچے ان کے استاتذہ اتنی بڑی قربانی کی داستان رقم کرچکے ہوں، اسی قربانی کی بنیاد پر ہم اپنی ازادی اور خود مختاری کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ہم تمام معصوم شہداء کے قرض دار ہیں۔

فوجی کمان میں تبدیلی کے بعد جب جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور آرمی چیف حلف اٹھایا تو انہوں نے بھی اس عہد کی تجدید کی کہ اے پی ایس کے شہداء کا خون مجھ پر قرض ہے۔انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ جنرل راحیل شریف کی طرح ان کے دفتر میں بھی اے پی ایس کے شہید بچوں کی تصاویر موجود ہیں۔ میں گاہے بگاہے ان تصاویر کو دیکھتا رہتا ہوں تاکہ میرا عزم کبھی متزلزل نا ہو۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے 22 فروری 2017 کوآپریشن رد الفساد کا اعلان کیا اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی نئی حکمتِ عملی بنائی۔جنرل باجوہ نے کہا ہر پاکستانی رد الفساد کا سپاہی ہے اور ہمیں مل کر فسادیوں سے ملک پاک کرنا ہوگا۔


حقائق نے یہ ثابت کردیا تھا کہ اے پی ایس حملہ آور افغانستان سے آئے تھے اور ان کو ملا فضل اللہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔لشکرِ جھنگوی،مجلس الاحرار، ٹی ٹی پی، الافامی گروپ اور بلوچ لبریشن آرمی کی ڈوریں بھارت اور افغانستان سے ہلائی جارہی تھیں۔ان کے سہولت کار ملک میں بیٹھے ہوئے تھے اور چھپ کر بزدلانہ کارروائیاں کررہے تھے۔


رد الفساد کے تحت ملک بھر میں چھپے ہوئے فسادیوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں ۔دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن ہوئے جس کے بعد امن و امان کی صورتحال میں واضح فرق آگیا ۔آپریشن ردالفساد کی وجہ سے قتل، ڈکیتی، اغوا، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ستر فیصد کمی آچکی ہے اور پاکستان نے اپنے عظیم دوست چین کے ساتھ تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے سی پیک کا آغاز کردیا ۔
فوج نے اپنے نئے جنگی ڈاکٹرین میں عوام کو بھی اپنے ساتھ آپریشن کا حصہ بنا لیا۔ انہیں اپیل کی کہ انہیں اپنی آنکھیں اور کان کھلا رکھنے ہیں اور اپنے اردگرد کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوج کو دینی ہے۔16 جولائی 2017 کو آپریشن خیبرفور کا آغاز کیا گیا ۔خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں بڑا آپریشن ہوا اور سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔پاک فوج نے آپریشن رد الفساد کے دوسرے مرحلے میں افغانستان کے ساتھ بارڈر کو بھی سیل کرنے کے کام کا آغاز کیا۔ پہلے مرحلے میں باجوڑ، مہمند ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں باڑ لگائی گئی ہے۔چمن بارڈر پر قلعے قائم کئے گئے ہیں۔ اب تک بارڈر پر بیالیس کلومیٹر پر باڑ لگانے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اور 750 قلعے بنائے جارہے ہیں اوران میں سے کئی قلعے مکمل ہوگئے ہیں ۔


سولہ دسمبر لہو سے فتح کے چراغ روشن کرنے کا دن ہے۔یہ ایک قیامت تھی جو ہم پر بیت گئی لیکن اس دن قربانی شجاعت اور صبر کی ایسی داستان لکھی گئی جس کی تاریخ نہیں ملتی۔اس دن نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد کیا۔ ملک میں امن و امان قائم کرنا صرف حکومت اور فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم سب کو مل کر حصہ ڈالنا ہوگا۔ اچھے اور بُرے دہشت گرد کی تفریق ختم کرنا ہوگی۔چندہ دینے سے پہلے دیکھ لیں کہ کہیں ہم دہشت گردوں کو گولی تو نہیں خرید کر دے رہے۔ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ پاکستانیوں کو شکست نہیں دے سکتے، جس ملک کے بچے ان کے استاتذہ اتنی بڑی قربانی کی داستان رقم کرچکے ہوں، اسی قربانی کی بنیاد پر ہم اپنی ازادی اور خود مختاری کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ہم تمام معصوم شہداء کے قرض دار ہیں۔ اے پی ایس کے تمام شہداء اور ان کے لواحقین زندہ باد پاکستان پایندہ باد۔

مضمون نگار: ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب 'سانحہ آرمی پبلک سکول' شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

twitter@Javerias

 
Read 1220 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter