جلال آباد میں پاکستانی سفارتکار پر حملے کے اثرات

تحریر: عقیل یوسف زئی


افغانستان کے مشرقی شہر اور صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پچھلے دنوں پاکستانی قونصلیٹ کے اسسٹنٹ نیئر اقبال رانا کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے چھ گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ اس سے قبل اسی شہر سے پاکستانی سفارتی عملے کے ایک اور اہلکار کو اغوأ کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں افغان اداروں نے کئی روز کی کوششوں کے نتیجے میں باز یاب کرایا تھا۔ جبکہ گزشتہ 17 برسوں کے دوران افغانستان میں نہ صرف ایسے کئی واقعات ہوتے رہے ہیں بلکہ کئی بار پاکستانی، دیگر ممالک کے سفارتخانوںکے اہلکاروں اور قونصلیٹس کو حملوں کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق نیئر اقبال رانا اور بعض دیگر کو دھمکیاں دی جارہی تھیں اور یہ صورت حال متعلقہ افغان حکام کے نوٹس میں لائی جا چکی تھی۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمرسمیت متعدد دیگر اعلیٰ شخصیات نے اس واقعے پر جہاں ایک طرف پاکستانی حکومت سے رابطہ کر کے اظہارِ افسوس کیا ہے وہاں افغان صدر نے واقعے کی تحقیقات کا بذاتِ خود حکم دے کر ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کی ہدایات جاری کی ہیں۔ واقعے کے دوسرے روز حنیف اتمر نے قومی سلامتی کے پاکستانی مشیر ناصر خان جنجوعہ سے رابطہ کرکے اس واقعے پر افسوس ظاہر کیا اور یقین دلایا کہ مجرموں کی گرفتاری کے علاوہ سفارتکاروں کے مکمل تحفظ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ دوسری طرف اشرف غنی نے وزیرِاعظم شاہدخاقان عباسی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ہر ممکن تعاون کے علاوہ واقعے پر اظہارِ افسوس کرنے میں کوئی تاخیر نہیںکی جو کہ بدلتے حالات کے تناظر میں ایک خوش آئند اقدام اور طرزِ عمل ہے۔


قبل ازیں افغان حکام نے مقتول کی نعش کو پورے احترام، عزت اور پروٹوکول کے ساتھ طورخم بارڈر پر پہنچایا جہاں نعش ایف سی حکام کے حوالے کردی گئی۔ ان کی نعش اور تابوت پر پھولوں کے گلدستے چڑھائے گئے تھے اور اسے پاکستانی پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔

 

خطے کا امن دونوں ممالک کی دوستی اور اعتماد سازی کے ساتھ مشروط ہے۔ بدلتے حالات میں بعض قوتیں کوشش کریں گی کہ کشیدگی اور تصادم کی فضا کو فروغ دیا جائے۔ تاہم دونوں ممالک کو ٹھنڈے دل سے ایک دوسرے کی بعض مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے معاملات کو آگے لے کر جانا ہوگا۔

امر واقعہ تو یہ ہے کہ جس اہتمام کے ساتھ افغان حکام اور فورسز نے سفارتکار کے تابوت کو طورخم پہنچایا اور جو انتظامات کئے گئے، ہمارے ہاں اس نوعیت کے کوئی انتظامات نہیں تھے۔ غالباً یہ وہ واحد نعش تھی جس کو افغان فورسز نے اتنی عزت، دکھ اور اہتمام کے ساتھ پاکستانی اہلکاروں کے سپرد کیا جس سے ثابت یہ ہو رہا تھا کہ سانحے پر اعلیٰ ترین افغان شخصیات، اداروں اور حکام بھی رنجیدہ ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو ایک سال کی دوری، لاتعلقی اور کشیدگی کے بعد پھر سے قریب لانے کی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہورہی تھیں اور جنرل قمرجاوید باجوہ کے یکم اکتوبر کے دورئہ کابل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنی شروع ہوگئی تھی۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہے کہ جنرل باجوہ کے کامیاب دورے کے بعد نادیدہ قوتوں نے مسلسل کوشش کی کہ بداعتمادی اور کشیدگی پیدا کرنے کے لئے کابل اور دوسرے شہروں پر حملے تیز کئے جائیں اور افغان صدر اشرف غنی کے متوقع دورئہ اسلام آباد کا راستہ روکاجائے۔ جنرل باجوہ کے دورئہ کابل کے بعد کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا تھا اور دونوں ممالک قریب آرہے تھے کہ کابل سمیت دوسرے شہروں کو بدترین حملوں کا نشانہ بنانے کی مہم چل نکلی جو کہ ایک باقاعدہ پلاننگ کا حصہ تھی۔ جنرل باجوہ یکم اکتوبر کو کابل گئے تو اس کے بعد ایک مہینے کے دوران افغانستان کے تقریباً 15صوبوں پر طالبان، داعش اور دیگر نے تقریباً 21بڑے حملے کئے جن میںگیارہ خود کش حملے بھی شامل ہیں۔ صرف کابل کو ایک ماہ کے اندر 6 حملوں کانشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں 16 افسران اور فورسز کے 123 اہلکاروں سمیت300 لوگ مارے گئے۔ کابل کے 6 حملوں میں سے 4 ہائی پروفائل سکیورٹی زون میں کرائے گئے جہاں اہم دفاتر کے علاوہ متعدد سفارتخانے بھی موجود ہیں۔ اس صورت حال کا واحد مقصد یہ تھا کہ ان حملوں کی آڑ اور دبائو میں بہتر ہوتے تعلقات کا راستہ پھر سے روکا جائے اور ماضی کی طرح مجوزہ مفاہمتی اور مشترکہ کارروائیوں کے آپشن کا راستہ مسدود کیا جائے۔ وقتی طور پر حملہ آور یا اُن کے منصوبہ ساز اس کوشش میں کامیاب بھی ہوگئے کیونکہ افغان صدر کا دورئہ اسلام آباد تعطل کا شکار ہوا اور ان پر دبائو میں حسبِ سابق اضافہ ہونے لگا۔ اسی دوران پشاور آئے ہوئے افغان ڈپٹی گورنر محمدنبی احمدی لاپتہ ہوگئے اور کہا گیا کہ ان کو مسلح افراد نے ڈبگری گارڈن سے اٹھایا ہے۔ تادمِ تحریر ان کا سراغ نہیں ملا ہے۔ اس سے قبل اسی شہر میں بعض دیگر کے علاوہ ماضی قریب میں ایک افغان قونصل جنرل اور ایرانی قونصل جنرل کو بھی اغوا ء کیا گیا تھا جبکہ بعض اہم لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ان واقعات کو محض اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس قسم کے واقعات ایک مستقل اور مسلسل پالیسی کا نتیجہ ہیں اور اس کا مقصد بدگمانیوں اور فاصلوں میں اضافہ کرنا ہے اس لئے یہ کہنا کہ ایسے واقعات کو اتفاق، حادثہ یا حکومتی اداروں کا نتیجہ قرار دیا جائے، زمینی حقائق کے تناظر میں درست اپروچ نہیں ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ جب بھی دونوں پڑوسی ممالک قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے واقعات کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں حکومتیں ایسے واقعات اور معاملات پر سخت ردِ عمل اورجذباتی بیانات کے بجائے ٹھنڈے دل سے ان ہاتھوں کا سراغ لگائیں جو کہ مسلسل پالیسی کے ذریعے ایسے واقعات کی آڑ میں کشیدگی کا راستہ ہموار کرتے آئے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ افغان حکمران ماضی کے مقابلے میں حملوں یا دیگر واقعات کے بعد پاکستان پر روایتی الزامات لگانے سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور پاکستان کا رویہ بھی مثبت ہے تاہم ایسے واقعات ہوتے رہیں گے کیونکہ مفاہمتی عمل اور ریاستوں کے درمیان قربت دہشت گردوں کے علاوہ بعض ان عالمی اور علاقائی قوتوں کے لئے بھی قابلِ قبول اور سود مند نہیں ہے جو کہ افغانستان اور پاکستان کو قریب آنے نہیں دے رہے ہیں اور ان کے مفادات کشیدگی اور بداعتمادی سے جڑے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو حالیہ واقعے کے ذریعے دیوار سے لگانے کی کامیاب سازش کی گئی ہے کیونکہ اس بات کا اعتراف جناب اشرف غنی خود کر چکے ہیں کہ سفارتکاروں کو سکیورٹی فراہم کرنا ان کی ریاستی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں پاکستان کو ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے افغانستان کی مجبوریوں اور کمزوریوں کو مدِ نظر رکھ کر اس قسم کی سازشوں کو ٹھنڈے دل اور بہتر طرزِ عمل کے ساتھ ڈیل کرنا ہوگا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ افغان ڈپٹی گورنر کا اغواء اور پاکستانی سفارت کار کے قتل کے محرکات ذاتی یا مجرمانہ پسِ منظررکھتے ہوں۔ ایسے میں لازمی ہے کہ حملہ آوروں کے مقاصد کو سامنے رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے اور اعتماد سازی کو سبوتاژ کرنے والی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔

jalalabadmain.jpg
یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ بعض افغان حکام کی بداحتیاطی بھی بدمزگی کی وجہ بنتی رہی ہے، مثلاً اعلیٰ افغان حکام کی پشاوراور دیگر شہروں سے گمشدگی اور بعض ذمہ داران کی غیر قانونی سرگرمیوں نے افغانستان اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کو پھر سے مشکوک اور تلخ بنایا ہے جس پر پاکستانی ادارے بھی تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ برس اسلام آباد میں صوبہ کنڑ کے گورنر لاپتہ ہوگئے تھے جن کی بازیابی کے لئے کئی روز کارروائیاں ہوتی رہیں اور تلخی بڑھتی گئی۔ چند روز قبل پشاور میں افغانستان کے نئے قونصل جنرل معین مرستیال کے پرسنل سیکرٹری اور سابق ٹریڈ کمشنر میرویس یوسفزئی نے پشاور کے علاقے شیخ کلی میں چند دیگر افراد کے ہمراہ رحمان اﷲ ولد رحمان الدین پر حملہ کرکے فائرنگ کی جس کو دو گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوگیا۔ ان کی رپورٹ پر پشاور پولیس نے میر ویس کو گرفتار کرلیا۔ اس تنازعے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ موصوف نے چند برس قبل پشاور میں افغان سفارتی عملے کا رُکن ہوتے ہوئے غیرقانونی طور پر جائیداد خریدی اور اس کے بعد کاغذات کے معاملہ پر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ اسی عرصے کے دوران انکشاف ہوا کہ موصوف نے نہ صرف افغان تاجروں سے بھاری رشوت لی بلکہ سٹاف کی تنخواہوں میں غبن بھی کیا۔ مسلسل شکایات کے بعد گزشتہ برس سابق قونصلر ڈاکٹر عبداﷲ پویان نے ان کو برطرف کردیا اور تلخی اتنی بڑھی کہ ان پر افغان قونصلیٹ میں داخلے پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی اور ایک بار ان کو قونصلیٹ کی حدود سے گارڈز کے ذریعے باہر نکلوایا گیا۔ نئے قونصل جنرل معین مرستیال نے چند ہفتے بعد چارج سنبھالا تو میرویس یوسفزئی کو انہوں نے تمام سابقہ شکایات اور کارروائیوں کے باوجود اپنا پرسنل سیکرٹری مقرر کیا۔ اس دوران شکایات آئیں کہ وہ بعض دیگر کارندوں کے ذریعے ویزے جاری کرنے پر 10 سے 20ہزار تک کی رشوت لینے میں ملوث ہے اور بعض مشکوک لوگوں کو ویزے جاری کررہا ہے جس پر متعدد انکوائریاں بھی ہوئیں۔ یہ سکینڈل زیرِ بحث تھا کہ اس نے جائیداد کے تنازعے پر ایک شخص پر فائرنگ کا انتہائی اقدام بھی اٹھایا۔ ابھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تھا کہ دیگری گارڈز سے صوبہ کنڑ کے ڈپٹی گورنر نبی احمدی لاپتہ ہوگئے جو کہ نجی دورے پر علاج کی غرض سے پشاور آئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ افغان سفارتی عملہ بھی اُن کی آمد سے لاعلم دکھائی دیا۔ اس سے کئی برس قبل حیات آباد پشاور سے بداحتیاطی کے باعث افغان قونصلر جنرل خرامی بھی اٹھائے گئے تھے جن کی بازیابی کے لئے کروڑوں کی ادائیگی کی گئی تھی۔ تاہم حالیہ واقعات نے صورتحال کو اور بھی گمبھیر بنادیا ہے۔


سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کو یہ علم ہے کہ بعض نادیدہ قوتیں اور تیسرے ہاتھ جیسے عوامل نہیں چاہتے کہ بحالی تعلقات کی کوششوں کو کامیاب ہونے دیا جائے تو ایسے میں فریقین احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے؟ یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے تناظر میں خصوصی اقدامات کیوں نہیںکئے جاتے اور مزید بدگمانیوں کا راستہ کیوں نہیں روکا جاتا۔ خیبر ایجنسی کے وہ 17 لوگ تاحال لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو افغانستان میں رکھاگیا ہے۔ حال ہی میں جب افغان سرزمین سے آئے بعض دہشت گردوں نے باجوڑ کی ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور کیپٹن سمیت متعدد افراد کو نشانہ بنایا تو وہ متعدد زخمی پھر آسانی سے واپس افغانستان چلے گئے جن کو جوابی کارروائی میں پاک فوج نے نشانہ بنایا تھا۔اس واقعے کی اطلاع دوسری سائیڈ کو دی گئی مگر وہاں سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔ اس کے برعکس افغان تجزیہ کار مسلسل الزام لگارہے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے بعض سرحدی صوبوں پر گولہ باری کی جاتی رہی ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ عام آبادی کو نہیں بلکہ ان مبینہ ٹھکانوںکو کبھی کبھار نشانہ بناتے ہیں جہاں پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گرد چھپے ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل بھی بات چیت کے ذریعے نکالنا لازمی ہے تاکہ ان عناصر کے پروپیگنڈے کا راستہ روکا جاسکے جو ایسے اقدامات یا کارروائیوں کی آڑ میں بدگمانی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔


اس ضمن میں سابق سفارتکار رستم شاہ مہمند نے رابطے پر بتایا کہ بعض افسوسناک واقعات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی کی کوششیں رک جائیں۔ ان کے مطابق افغانستان نہ صرف حالتِ جنگ میں ہے بلکہ جاری جنگ کے کھلاڑیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ کوششوں کا راستہ مختلف سازشیں کرکے روکا جائے گااور بعض ایسے واقعات کا راستہ ہموار کیا جائے گاجن سے تلخیاں بڑھیںگی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور ساتھ میں صلح اور امن کی ریاستی کوششیں بھی جاری رکھنی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتکار کی ہلاکت میں حکومت ملوث نہیں ہوسکتی۔


سینیئر تجزیہ کار طاہر خان نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ خطے کا امن دونوں ممالک کی دوستی اور اعتماد سازی کے ساتھ مشروط ہے۔ بدلتے حالات میں بعض قوتیں کوشش کریں گی کہ کشیدگی اور تصادم کی فضا کو فروغ دیا جائے۔ تاہم دونوں ممالک کو ٹھنڈے دل سے ایک دوسرے کی بعض مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے معاملات کو آگے لے کر جانا ہوگا۔ ان کے مطابق ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کی اشد ضرورت ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ ماضی کے برعکس اس بار الزامات کے بجائے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور اعلیٰ حکام دوطرفہ طور پر بعض واقعات کے بعد ایک دوسرے کو اعتماد میں لینے بھی لگے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 460 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter