پاک ایران تعلّقات اور آرمی چیف کا حالیہ دورہ

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے نومبر کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان حکومتی سطح پر اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت کے دورے اکثر ہوتے رہتے ہیں لیکن جنرل باجوہ کا یہ دورہ تین وجوہات کی بناء پر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تو یہ کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطوں میں سیاسی حالات تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں۔'' داعش'' یا ''اسلامی خلافت'' جس کی افواج تین سال قبل عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قابض تھیں، عسکری لحاظ سے شکست کھا کر تتر بِتّر ہو رہی ہیں اور اس کے جنگجو اردگرد کے اسلامی ملکوں جن میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں، میں پناہ لے رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس خطے کی سلامتی کے لئے ایک نیا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ ایران کے ساتھ تقریباً900 کلومیٹر لمبی سرحد اور آبنائے ہرُمز کے دہانے پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان خلیج فارس کی دفاعی حکمتِ عملی کا ایک اہم پارٹنر ہے۔ خلیج فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے پاکستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خصوصاً ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی پاکستان کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ دونوں پاکستان کے دوست ممالک ہیں۔ ان حالات کی روشنی میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ حکومتی سطح پر تبادلۂ خیال اور صلاح مشورہ ضروری ہے۔


جنرل باجوہ کا دورئہ ایران جس دوسری وجہ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے وہ یہ کہ حال ہی میں افغانستان نے بھارت سے درآمدات کے لئے ایران کی بندر گاہ چابہار کا استعمال شروع کیا ہے۔ اس کے تحت افغانستان کے لئے بھارتی گندم کی پہلی کھیپ حال ہی میں ایران کے راستے افغانستان پہنچی ہے۔ اس سے قبل افغانستان کی درآمدات بھارت سے کراچی کے راستے آتی تھیں۔ چابہار گوادر سے صرف72 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر میں بھارت ایران کو مالی امداد فراہم کررہا ہے۔

 

pakirantaluuk.jpgاس بندر گاہ کے راستے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کا اجراء صرف معاشی مضمرات کا حامل نہیں بلکہ سیاسی اور دفاعی لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور ایران دوبرادر اسلامی ممالک ہیں۔ دونوں کے باہمی تعلقات ماضی میں بھی خوشگوار رہے ہیں اور اب بھی جذبۂ خیرسگالی، باہمی احترام اور تعاون کی سپرٹ سے مزّین ہیں۔ اس لئے یہ ایک بالکل قدرتی بات ہے کہ دونوں میں سے کسی کے لئے بھی اگر کوئی مسئلہ تشویش کا باعث ہو تو اُس پر بات چیت اور تبادلۂ خیال ہونا چاہئے۔ تیسرے، باوجود اس کے کہ دونوں ملکوں میں حکومتی اور عوامی سطح پر خوشگوار تعلقات قائم ہیں، پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر سکیورٹی کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردوں، خصوصاً پاک طالبان اور ''داعش'' کے جنگجوئوں، کی موجودگی اور اُن کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان ملاقات کا سلسلہ لازمی ہے۔ جنرل باجوہ کے دورئہ ایران کا ایک اہم مقصد پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد کی سکیورٹی کو اور بھی یقینی بنانا ہے تاکہ دہشت گرد، تخریب کار اور جرائم پیشہ افراد جن میں غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے لوگ، اسلحہ، منشیات اور انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث لوگ شامل ہیں، اس سرحد کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال نہ کرسکیں۔ بلوچستان میں فوج اور ایف سی کی نگرانی میں دونوں ملکوں کی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان میں پاکستان کی طرف سرحد کے ساتھ ساتھ گہری خندق اور چیک پوسٹوں کا قیام بھی شامل ہے۔ پاکستان نے ایران سے بھی سرحد کی دوسری طرف سے اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے، جس طرح پاک۔ افغان بارڈر کی سکیورٹی کے لئے پاکستان نے اپنی طرف اہم اور مؤثر اقدامات کئے ہیں، اسی طرح پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ دہشت گرد پاک، ایران سرحد کو اپنی مذموم سرگرمیوں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لئے پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت نے دوطرفہ بنیادوں پر باہمی روابط کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر اور مضبوط بنانا صرف اسی لئے ضروری نہیں کہ سرحدکے اُس پار سے دہشت گرد پاکستانی صوبہ بلوچستان میں داخل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرسکتے ہیں بلکہ طویل سرحد کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میںجرائم پیشہ افراد کی غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سرگرمیوں میں انسانی سمگلنگ، منشیات اور سب سے نمایاں غیر قانونی طور پر پاکستان سے ایران جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ان میں سے بہت سے سرحد پر دھر لئے جاتے ہیں اس کے باوجود ان غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو چوری چھپے پاکستان سے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق ایران نے 2015 میں ایسے 26,000 افراد کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا جبکہ اُس سے ایک سال قبل ایسے افراد کی تعداد 5218 تھی۔ اس طرح ایران سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں ممالک کی حکومتیں اس صورت حال سے پریشان ہیں کیونکہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے ان افراد میں سمگلر اور جرائم پیشہ افراد کے علاوہ دہشت گرد بھی ہوسکتے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ایک افسر کلبھوشن یادیو کی مثال ہمارے سامنے ہے جسے ایران سے بلوچستان میں خفیہ طور پر داخل ہوتے وقت پاکستانی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ سرحد کے آر پار غیر قانونی افراد کی نقل و حرکت کو روکنے اور مؤثر بارڈر کے لئے جو اقدامات کئے جارہے ہیں اُن میں دونوں ممالک کا تعاون شامل ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان اور ایران دونوں اِن اقدامات کی افادیت اور اہمیت پر متفق ہیں۔ اس کا اظہار دونوں جانب سے جنرل باجوہ کے دورئہ ایران کے موقع پر کیا گیا تھا۔

 

باوجود اس کے کہ دونوں ملکوں میں حکومتی اور عوامی سطح پر خوشگوار تعلقات قائم ہیں، پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر سکیورٹی کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردوں، خصوصاً پاک طالبان اور ''داعش'' کے جنگجوئوں، کی موجودگی اور اُن کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان ملاقات کا سلسلہ لازمی ہے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات اتنے گہرے، ہمہ گیر، دیرینہ اور مضبوط ہیں کہ انہیں محض بارڈر سکیورٹی تک محدود نہیں رکھا گیا ۔ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ملک نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لئے اس جغرافیائی حقیقت سے آگے بھی بہت کچھ ہیں۔ ماضی میں جب ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت پیش آئی، تو دونوں میں سے کسی نے بخل سے کام نہیں لیا۔ 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پاکستانی معیشت خصوصاً برآمدات پر سخت دبائو پڑا تو ایران نے پاکستانی برآمدت کے لئے اپنی منڈیوں کے دروازے کھول دیئے تھے اور صرف تین سال کے عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حُجم میںگیارہ گنا اضافہ ہوگیا تھا۔ اسی طرح 1979کے اسلامی انقلاب اور اس کے ساتھ ہی عراق کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں جب ایرانی بھائی مشکلات کا شکار ہوئے تو پاکستان نے اپنے وسائل کے مطابق ایران کو اشیائے خورو نوش، اناج اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی جاری رکھی۔ پاکستان اور ایران دو آزاد اور خود مختار علیحدہ ممالک ہیں اوران میںسے ہر ایک کی علاقائی اور عالمی پالیسی اُس کے قومی مفادات کے تابع ہے لیکن دونوں نے ایسا کرتے وقت کسی کے بنیادی مفاد کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی۔ اسی سلسلے میں ایران کی طرف سے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت ایک نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح پاکستان نے یمن میں اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کسی ایسے اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتا جس کی وجہ سے ہمسایہ اسلامی ملکوں کے مفاد پر زد پڑتی ہو۔ حکومتی سطح پر پاکستان اور ایران میں ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی اور محبت کی کوئی کمی نہیں۔ تاہم ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے پاک ایران دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں کمی واقع ہوگئی تھی۔ لیکن دوسال قبل ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ایٹمی سمجھوتے کے بعد ایران کے خلاف پابندیاں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے ممالک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسیع کررہے ہیں۔ کیونکہ ایران تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کا مالک ہے۔ پاکستان نے بھی اس سمت پیش رفت کی ہے۔ مارچ 2016 میں پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ تجارت خرم دستگیر نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو آئندہ پانچ برسوں میں ایک بلین ڈالر سے بڑھا کر 5بلین ڈالر کی سطح تک لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُسی برس ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اُن کے دورے کے دوران اس مقصد کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت
MOU
پر بھی دستخط کئے گئے تھے۔ دوطرفہ تجارت میں فروغ کے علاوہ پاکستان اور ایران نے حال ہی میں عوامی سطح پر روابط میں اضافہ کرنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ ان میں دونوںملکوں کے درمیان مزید دو کراسنگ پوائنٹس کا قیام ہے۔ یہ کراسنگ پوائنٹس گید اور مند پاکستان میں اورایمدان اور پشین سرحد کی دوسری طرف ایران میں ہیں۔ ان کراسنگ پوائنٹس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بھی بڑھے گی اور لوگوں کی آمد و رفت میں بھی اضافہ ہوگا۔ سفری سہولتوں کو مزید آسان اور سستا بنانے کے لئے پاکستان اور ایران نے ایک فیری سروس شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت اورآمدو رفت کا سب سے قدیم راستہ تفتان سے گزرتا ہے۔ اس کو وسیع کیا گیا ہے اور اسے نئی سہولتوں سے مزّین کیا گیا ہے۔ اس پر ایک شاندار گیٹ تعمیر کیا گیاہے جس کا افتتاح دسمبر2016 میں کیا گیا تھا۔ اسی تناظر میںآرمی چیف جنرل باجوہ کے دورے کو خصوصی اہمیت حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ اس سے ان سہولتوں کو مستحکم کرنے اور مزید وسعت دینے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 476 times
More in this category: فہرست »

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter