مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا

Published in Hilal Urdu

محمد اعظم خان

خوبصورت مقام سکردو میں پوسٹنگ اور خدمات کی انجام دہی کا احوال ریڈیو پاکستان کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر محمد اعظم خان کے قلم سے

1990 میںبحیثیت سٹیشن ڈائریکٹر میری پوسٹنگ سکردو ہوئی تو مجھے 5فروری کو وہاں پہنچنے کا حکم ملا۔ میں نے فوری طور پر سکردو کے لئے پی آئی اے سے اپنی ٹکٹ حاصل کر لی۔سکردو جانے سے پہلے ناردرن ایریاز بکنگ آفس سے ٹکٹ کی کنفرمیشن کرانی ضروری ہوتی ہے۔ یہ کام بھی ہو گیا۔ میں اپنے کالج کے ساتھی محمداختر کے پاس ٹھہر گیا۔ وہ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایئرپورٹ لائے۔ 5فروری سے لے کر 8فروری تک مسلسل 4روز پرواز منسوخ ہوتی رہی۔ اس کی وجہ سکردو کا موسم تھا۔ خدا خدا کر کے 9فروری کو فلائٹ روانہ ہوئی۔ ایئرپورٹ پر مجھ سے پہلے والے سٹیشن ڈائریکٹر محترم ضمیر صدیقی مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ 10فروری کو میں نے بحیثیت ڈائریکٹر چارج لیا۔ ضمیر صدیقی صاحب نے مجھے تمام سٹاف سے ملایا۔ مجھے وہاں کام کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ یہاں کے لوگ بہت ہی محنتی اور ایماندار ہیں۔ چوری چکاری کا دور دور تک خدشہ نہیں ۔ سکردو سٹیشن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ
Hard
ایریا ہونے کی وجہ سے آرمی آفیسرز سے بہت واسطہ رہتا ہے۔ میرے زمانے میں میجر افتخار کی بیگم ہمارے فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئر تھیں۔ نہایت عمدہ پروگرام کرتی تھیں۔ میری یہی کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ فوجی جوانوں کی فرمائش پوری کی جائے۔ کیونکہ اس وقت صرف ریڈیو سٹیشن سکردو ہی تفریح کا واحد ذریعہ تھا۔ ریڈیو سٹیشن کی خبروں کو بڑے شوق سے سنا جاتا تھا۔ آرمی سٹیشن کمانڈر مجھے اپنی خاص میٹنگ کے لئے ضرور بلاتے تھے۔ اور میں فوجی تقریبات میں بڑے شوق سے جاتا تھا ایک دفعہ میں نے میجر عاصم سے اپنی ایک خواہش کا ذکر کیا کہ مجھے سیاچن دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر کسی خاص کام سے سیاچن جا رہا تھا کہ مجھے میجر عاصم کا ٹیلی فون آیا کہ آپ کل صبح آٹھ بجے ہیلی پیڈ پہنچ جائیں۔ اس کا مکمل احوال ان شاء اﷲ اگلے مضمون میں بتائوں گا کہ اس قدر سخت سردی یعنی منفی 50ڈگری میں وہاں فوجی آفیسر اور جوان کیسے رہتے ہیں۔

mujyyadhasbzara.jpg

بہت دلیری اور ہمت کی بات ہے۔ یہ انہی کا کام ہے کہ دشمن کو پیش قدمی سے روکے ہوئے ہیں۔ میرے اپنے ایک عزیز کرنل محمود بھی اُن دنوں سکردو میں تعینات تھے۔ ان سے بھی کافی معلومات حاصل ہوتی رہتی تھیں۔ وہاں کے آرمی آفیسرز اور سول آفیسرز کا سلوک مجھے بہت اچھا لگا۔ اکثر کھانوں اور پارٹیوں میں ملاقات رہتی۔ شنگریلا جھیل اور صدپارہ جھیل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ خاص کر شنگریلا جہاں جہاز کے اندر ایک چھوٹا سا چند کمروں کا ہوٹل بنا ہوا ہے۔ شنگریلا جھیل کے اندر ہوٹل کا منظر بھی بہت اچھا ہے اور وہاں کھانا کھاتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آپ مچھلیوں کے ساتھ اس جگہ پر موجود ہیں۔ شنگریلا سے پہلے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا چڑیاگھر بھی ہے۔ سکردو میں دو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ بلتی اور نوربختی دونوں ہی بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ میں نے سکردو ریڈیو سٹیشن پر پروگراموں کے علاوہ دو کام ایسے کئے کہ وہاں کے لوگ مجھے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ایک ٹرانسمشن کا وقت تبدیل کیا کیونکہ مجھے میرے ڈرائیور محمد حسین اور دوسرے ملازم کہتے تھے کہ سر رات کو گیارہ بجے ریڈیو سٹیشن بند ہوتا ہے۔ ہمیں سٹاف کو چھوڑتے چھوڑتے رات کا ایک بج جاتا ہے۔ پھر گاڑی کو ریڈیو سٹیشن چھوڑنا ہوتا ہے۔ گھر پہنچنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ آپ براہ مہربانی ہیڈکوارٹر سے اجازت لے کر اس ٹرانسمشن کا وقت 4سے 11بجے کے بجائے 3سے 10بجے تک کرا دیں۔ میں نے اپنے سٹاف کی خاطر بڑی کوشش سے ہیڈکوارٹر سے اجازت لے کر ریڈیو کا پروگرام نشر کرنے کا وقت 3بجے سے 10بجے رات کروا دیا۔ اس سے میرے سٹاف میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسی طرح میری دلی خواہش تھی کہ ریڈیو سٹیشن کے احاطے میں مسجد ہو اس کے لئے ایک جگہ مقرر کی اور اس کی پہلی اینٹ اپنے ہاتھ سے رکھی۔ یہ اﷲ تعالیٰ نے مجھ سے دیگر کاموں کے علاوہ بہت اچھا کام کروایا۔ سٹیشن پر سردی کے موسم میں مجھے 40من لکڑی استعمال کرنے کی اجازت تھی جو کہ میں اپنے سٹاف خاص کر گارڈ، ڈرائیور اور پولیس سٹاف کو بانٹ دیتا تھا۔ صدپارہ جھیل کا میں نے تین چار دفعہ نظارہ کیا۔ میری سکردو پوسٹنگ سے پہلے میری والدہ مجھے اکثر کہتی ''بیٹا ٹھنڈی ہوا بادل کا سایہ'' میں کہتا امی جان آپ یہ کیا بات کرتی ہیں۔ وہ میری خدمت سے بہت خوش تھیں اور دعا کے طور پر بار بار کہتی ''ٹھنڈی ہوا بادل کا سایہ'' یہ بات مجھے سکردو جا کر سمجھ آئی کہ میری والدہ کے کہنے کا کیا مطلب تھا یعنی سکردو میں ٹھنڈی ہوا کا اور بادل کا سایہ ہمیشہ رہا۔ مختلف وادیوں میں بھی گئے۔ آئندہ ان شاء اﷲ سیاچن کا ذکر کروں گا کہ اتنی بلندی پر بھی ہماری پاکستانی افواج کیسے بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہاں دنیا کی سب سے اونچی پوسٹیں ہیں۔ پاکستانی بہادر فوج کیسے کیسے کام سرانجام دیتی ہے۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
(....جاری ہے)

 

علامہ ڈاکٹرمحمداقبال
کیااقبال کے اشعار نے بیدار ملت کو
کہ آزادی وطن کی آج ہے درکار ملت کو
اسی سے قوم نے قلب و نظر کی روشنی پائی
ہوئی بیدار سوئی قوم جس سے لے کے انگڑائی
ہوا بیدار جذبۂ خودی اشعار سے تیرے
ملی جو رہنمائی قوم کو افکار سے تیرے
تیرے فکر و تخیّل سے ملا احساسِ آزادی
تو غافل قوم کو منزل کی اس نے راہ دکھلا دی
رگ و جاں میں ہوئے بیدار اسرار جہانبانی
کہ ہے کردار کے اندر نہاں رمزِ مسلمانی
تیری بانگِ درا نے کردیا بیدار قوموں کو
غلامی میں ملا درسِ خودی نادار قوموں کو
رہائی قوم کو حاصل ہوئی جس دم غلامی سے
چمن گویا مہک اُٹھا بہارِ شادمانی سے
خودی کے درس نے اہلِ وطن کو دی توانائی
وطن کے گوشے گوشے سے صدائے مرحبا آئی
تیرے شاہیں نے جس دم رفعتِ پرواز سکھلادی
شعور و آگہی نے روشنی منزل کی دکھلا دی
لبِ دریا پہ اسرارِ جہاں کی جستجو کرنا
خضر کے ساتھ ملنا اور شب بھر گفتگو کرنا
یہ تُو نے پیش گوئی کی وطن آزاد ہونے کی
تصور میں تِرے تصویر تھی جو شاد ہونے کی
ہے ندرت بھی سخن میں قوتِ الہامِ کامل بھی
خودی کے ساتھ آزادی کا ہے پیغام شامل بھی
تدبّر نے تِرے پائی زمانے میں پذیرائی
تفکر نے تِرے عظمت کی شہرت دائمی پائی
رہے گا جنت الفردوس میں تیرا مقام آخر
فلک پر تااَبد روشن رہے گا تیرا نام آخر
مِلا اقبال کی عظمت کو بھی اقبال تابندہ
کہ دانشور رہا کرتے ہیں اسلم جاوداں زندہ
مظفر اسلم

*****

 
Read 30 times
More in this category: « جامعات فہرست »

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter