تحریر: محمد امجد چوہدری

طلباء و طلبات کو شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ رکھنے کی ضرورت

درسگاہیں اور علم گاہیں کسی معاشرے کو باشعور، منظم اور مہذب بنانے میں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ قوموں کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی میں ان کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ جامعہ کراچی کا شمار پاکستان کے ان اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں معمار قوم کا کردار ادا کیا اورآج بھی جدید تقاضوں کے مطابق نوجوانان وطن کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ بارہ سو ایکٹر رقبے پر مشتمل اس یونیورسٹی کا قیام1951ء میں عمل میں لایا گیا ۔صرف دو شعبوں سے تدریسی اور تحقیقی کام کا آغاز کرنے والی یہ جامعہ آج سائنس اور آرٹس کے53 مختلف شعبوں اور عالمی طرز کے20جدیدترین تحقیقاتی سنٹر ز اور انسٹی ٹیوٹس پر مشتمل ہے جہاں 24ہزار سے زائد طلباء و طالبات 800سے زائد قابل اساتذہ اوردرس و تدریس کے اڑھائی ہزارسٹاف کی زیرنگرانی اپنی علمی و تحقیقی پیاس بجھا رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تدریسی وتحقیقی معیار میں جامعہ کراچی کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔اس کے فارغ التحصیل طلباء قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔ جامعہ کراچی کی ترقی اور ارتقاء کے عمل میں اس کے دُوراندیش اساتذہ کی محنت و قابلیت اور انتظامیہ کی کوششوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ تعلیمی ادارے علم وعمل اور آگہی و شعور کے مرکز ہوتے ہیں، اسی لئے تو ملک دشمن عناصر کا اولین نشانہ بھی یہی ہوتے ہیں۔پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان کی ہر وہ شے جو ہمارے وقار، ترقی اورروشن مستقبل کی علامت سمجھی جاتی ہے، دہشت گردوں کے نشانے پر رہی۔ کراچی سے خیبر تک انہوں نے معصوم شہریوں اور سیکورٹی اداروں پر حملے کئے۔ تعلیمی ادارے خاص طور پر ان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ وہ نہ صرف انہیں نشانہ بنا رہے تھے بلکہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں بھی مصروف عمل تھے۔اسی بھنور میں جامعہ کراچی کو بھی دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں بھی شدت پسندی، بدامنی اور بے یقینی کے بیج بونے کی کوشش کی گئی تاہم طلباء و طالبات کی ہوشمندی، اساتذہ کی مستعدی، انتظامیہ کے تعاون اور سکیورٹی فورسز کی کڑی نگرانی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان (ستارہ امتیاز) یہاں کے بہت سے مسائل جن میں انتظامی اور مالی قابل ذکر ہیں، حل کرنے میں انتہائی اہم کردار اداکررہے ہیں۔وہ نباتات کے استاد ہیں اور یونیورسٹی کو سرسبزوشاداب اور پھلتا پھولتا دیکھنے کی متمنی ہیں۔ اسی لئے بعض معاملات خاص طور پر فنڈنگ اور مالی خسارے کے لحاظ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں مگر شدید مالی مسائل ہماری رہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی یونیورسٹی کو اتنی رقم دی جائے جتنی کہ ایک عام یونیورسٹی کو فراہم کی جاتی ہے تو پچیس سال میں انقلابی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں ترقی اور علوم میں تبدیلی و جدت آرہی ہے، ہم بھی اپنے ملک کو اس سے ہمکنار کر سکتے ہیں ۔یہ تبھی ممکن ہے جب ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا اثر کراچی یونیورسٹی پر بھی پڑتا ہے۔ جب ہمیں کھل کر بات کرنے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پروفیشنل بحث و مباحثے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پیشہ ورانہ مضامین میں تحقیق کرنے کے لئے مالی آزادی ہوگی، توہم پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور کامیاب بنانے میں بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس تناظر میں کراچی یونیورسٹی پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان پر سرمایہ کاری ہے۔ یونیورسٹی کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی پروفیسرڈاکٹر محمد اجمل خان نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ وہ اس حوالے سے رینجرزکے کردار کے معترف ہیں۔ان کا کہنا ہے کراچی یونیورسٹی آپریشن ردالفساد کا ایک
Main Component
ہے۔ یہاں جو چند لوگ فساد کرکے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان سے نجات ضروری ہے اور اس سلسلے میں رینجرز اپنا مؤثر کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ جامعہ کو سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مشکوک افراد پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ اس طرح ان تمام مجموعی کوششوں سے جامعہ کراچی کو شدت پسندی کا لیبل لگا کر اس کی ساکھ کو متاثر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ دہشت گرد عناصر ہماری کمزوریوں کی تاک میں ہیں۔ وہ پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے کا موقع ہرگز ضائع نہیں کرتے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے نوجوانوں کے شعور میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہے۔ پاک فوج دہشت گردوں سے براہ راست نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں بھی بہت سے اقدامات اٹھارہی ہے۔

jamiat.jpg

گزشتہ دنوں جنرل ہیڈکوارٹرز میں ''شدت پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کے کردار'' کے موضوع پر ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا جس میں پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو شکست دی جاچکی، شدت پسندی کو شکست دینے کے لئے ہمارے تعلیمی ادارے اور میڈیا معاشرے کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ ہم باہمی تعاون سے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے والی قوتوں کو شکست دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کا دورہ کیا اور طلباء سے خطاب بھی کیا۔ طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء منفی چیزوں پر دھیان نہ دیں اوروالدین کے خواب پورے کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں کہ سب لوگ دنیا کو میری نظر سے دیکھیں تو میں بنیاد پرست نہیں انتہا پسند کہلائوں گا۔ جب میں دوسروں کو اپنے نظریات ماننے پر مجبور کروں تو تشدد پسند یا دہشت گرد کہلائوں گا۔مجھے کسی کو ثابت نہیں کرنا کہ میں مسلم ہوں ، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، مسلمان ہونے کے لئے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں، عمل سے ثابت کریں۔اس طرح کے سیمینارزاور کانفرنسیں یقینا ہمارے نوجوانوں کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں کے بارے میں مؤثر طور پر باخبر اور باشعور رکھتی ہیں۔ بہرحال جامعہ کراچی علم کا ایک ایسا رواں چشمہ ہے جس نے پاکستان کی تعمیر سے استحکام تک ایک ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ یہ چشمہ اسی طرح رواں رہ کر ملک کی ترقی اور استحکام کو دوام بخشتا رہے گا۔

 
Read 16 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter