سکردو۔زمین پر جنت

Published in Hilal Urdu

تحریر: عمران علی ملک

قدرت نے ارضِ وطن پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کی آب و ہوا اور سال بھر کے دوران رنگ بدلتے موسم ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی یہاںگرمی کی شدید لہر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آسمان سے سورج گرمی برساتا ہے تو زمین بھی تپش کی شدت سے آگ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ ایسے میں شمالی علاقہ جات کی سیاحت کا رجحان بڑھ جاتا ہے ۔ دہشت گردی کی لہر نے پورے ملک سے سیاحت کا سلسلہ تقریباً ختم کر دیا تھا لیکن پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں اور بیش بہا قربانیوں سے وطن عزیز ایک بار پھر سیاحت کے لئے محفوظ مقام بن چکا ہے۔ سیاحت کی بات ہو تو گلگت بلتستان کسی جنت سے کم نہیں۔ویسے تو بلتستان کا ہر علاقہ قدرتی مناظر میں اپنی مثال آپ ہے لیکن ان میں سکردو ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

skerdozamen.jpg
اسلام آباد سے سکرودو کے لئے فضائی سفر کی سہولت بھی موجود ہے۔ پی آئی اے کی پروازیں روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں لیکن موسم خراب ہونے کی صورت میں پروازیں منسوخ کر دی جاتی ہیں۔ اسلام آباد سے سکردو کا زمینی سفر قراقرم ہائی وے کے ذریعے ہوتا ہے ۔دہشت گردی کے دوران یہ سفر قدرے غیر محفوظ تھا مگر پاک فوج اور ایف سی کے زیر نگرانی یہ سفر قافلوں کی شکل میں جاری رہا۔ راستوں میں بھی جگہ جگہ ایف سی اہلکار ڈیوٹی دیتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سنگلاخ چٹانوں میں بنا کسی سائے کے ڈیوٹی دیتے اہلکار وں کر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وطنِ عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے یہ جوان کس قدر پُر عزم ہیں۔ پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں کی وجہ سے اب یہ سفر انتہائی محفوظ ہے ۔
جگلوٹ اور گلگت سے سکردو تک پہنچنے کے لئے واحد زمینی راستہ 167 کلومیٹر، گلگت ـسکردو روڈ ہے ۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ یہ دشوار گزار راستہ ہے مگر سکردو کے ڈرائیور نہایت مہارت سے ڈرائیونگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلگتـ سکردو روڈ میں ایک جانب فلک بوس پہاڑ ہیں تو دوسری جانب زمین کی تہوں میں دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے کبھی یہ راستہ منقطع بھی ہو جاتا ہے ۔ جس کو ایف ڈبلیو او کم سے کم وقت میں ٹرانسپورٹ کے لئے بحال کردیتی ہے۔


سکردو میں اپریل کے آخر میں بہار کا آغاز ہوتے ہی سیاحت کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ اپریل سے ستمبر تک سیاحت کا بھرپور موسم ہوتا ہے۔ سیاح سکردو کا رُخ کرتے ہیں۔ اکتوبر میں یہ حسین وادی سفید چادر اوڑھنا شروع کر دیتی ہے اور رفتہ رفتہ ہر طرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے ۔


سکردو شہر سے 50فٹ بلند پہاڑ پر واقع قلعہ کھرپوچو اپنے ڈیزائن اور محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس قلعے کی بناوٹ ایسی ہے کہ اس سے پورا سکردو شہر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔ نیز اس قلعے سے دریائے سندھ اور اس کے پیچھے بلند و بالا پہاڑ اتنہائی دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔


کھرپوچو کے عقب میں واقع گائوں ننگ سوق کو ''آرگینک ویلج'' کا نام دیا گیا ہے۔اس گائوں میں آج تک مصنوعی اشیاء سے پاک 100فیصد قدرتی اجناس استعمال کی جاتی ہیں ۔اس گائوں میں نہ تو سرکاری بجلی ہے اور نہ ہی کوئی سڑک موجود ہے۔گائوں تک پہنچنے کا واحد راستہ انتہائی دشوار گزار ہے جہاں سے پیدل گزرنا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں تھا مگر پاک فوج نے اب اس راستے کو قدرے آسان بنانے کے لئے لکڑی کے پُل بنا دئیے ہیں ۔
سکردو سے شگر جاتے ہوئے ایک نہایت ہی خوبصورت مقام سے گزرتے ہیں یہ ایک صحرا ہے جو کولڈ ڈیزرٹ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دریائے سندھ کے ساتھ کئی میلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس صحرا کے درمیان سے گزرتی سڑک اور پس منظر میں خوبصورت پہاڑ ایک دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔


وادیٔ شگراور شگر فورٹ
وادٔ شگر بلتستان کی ایک خوبصورت وادی ہے ۔یہ 170کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ جونہی اس وادی میں داخل ہوں یہاں ایک خاص قسم کی خوشبو آپ کا استقبال کرتی ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنے اس کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ وادٔ شگر سے دریائے شگر گزرتا ہے جو آگے جا کر دریائے سندھ میں ضم ہو جاتا ہے۔ اس وادی میںسب سے مشہور مقام شگر فورٹ اور شگر پیلس ہے۔ اس کو بلتی زبان میں ''پھونک کھر'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''چٹان پر محل'' یہ بلتستان کے فن تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے۔ آج کل یہاں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے اور پیلس کی عمارت کا کچھ حصہ ایک ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وادٔ شگر میں قائم مسجد امبوریک کا شمار بلتستان کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔ اس مسجد کی بنیاد سید امیر کبیر علی ہمدانی نے رکھی اور یہ آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔یونیسکو نے اس مسجد کو کلچرل ایوارڈ بھی دیا ہے ۔


شنگریلا جھیل
کچورہ گائوں میں موجود ہونے کی وجہ سے اس جھیل کا اصل نام کچورہ جھیل ہے۔ یہاں 1983میں قومی ایئر لائن کا ایک طیارہ گر گیا تھا جس کو کسی نے خرید کر ایک ریسٹورنٹ میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام شنگریلا رکھا۔ ''شنگری لا ''تبتی الفاظ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے ''زمین پر جنت''۔ جھیل کے کنارے یہ اپنی نوعیت کا منفرد ریسٹورنٹ ہے جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔ چاروں جانب پہاڑوں میں گھرے اس خوبصورت مقام پر جائے بغیر سکردو کی سیاحت مکمل نہیں سمجھی جا سکتی ۔


اپر کچورہ جھیل
یہ انتہائی شفاف پانی کی ایک وسیع و عریض جھیل ہے کچورہ۔ شنگریلا جھیل سے کئی گنا بڑی جھیل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی گہری بھی ہے ۔ اس کی گہرائی 280فٹ ہے۔ یہ انتہائی خوبصورت تفریحی مقام ہے ۔سر سبز درختوں میں گھرے کچے راستے ٹریکنگ کے شوقین حضرات کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ لیکن ناکافی سہولیات اور قدرے دشوار گزار راستے کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمدورفت کم ہوتی ہے۔
سکردو شہر سے 40کلومیٹر دور وادیء کھرمنگ میں منٹھوکھا آبشارواقع ہے ۔ اس کی اونچائی زمین سے 180فٹ ہے۔ دورونزدیک سے لوگ یہاں تفریح کے لئے آتے ہیں۔ آبشار سے اُڑتی پھوار ہوا میں شامل ہو کر انتہائی دلفریب نظارہ پیش کرتی ہے۔


منٹھال بُدھا راک
سکردو۔ سدپارہ روڈ پر سکردو سے 3کلومیٹر دور منٹھال گائوں میں واقع یہ گرینائٹ کا چٹان نما پتھر ہے جس کی اونچائی تقریباً50فٹ ہے ۔اس چٹان کے درمیان میں بُدھا کی ایک بڑی اور اطراف میں کئی چھوٹی تصاویر کندہ کی گئی ہیں۔


دیوسائی نیشنل پارک
دیوسائی (جنات کی سرزمین) استور اور سکردو کے درمیان دنیا کے دوسرے بڑے میدان ہیںجو سطح سمندر سے 13,497فٹ بلند ی پر واقع ہیں ۔ یہ میدان 3000مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ دیوسائی کو بلتی زبان میں ''غبیارسہ'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''گرمیوں کی جگہ''کیونکہ اس علاقے تک رسائی گرمیوں کے صرف 3مہینے ہی ممکن ہوتی ہے۔ دیوسائی کو 1993میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں برفانی چیتا، برائون ریچھ، مرموٹ، مارخور، ہڑیال اور باز کی کئی نسلیں پائی جاتی ہیں۔ سرسبز گھاس کی چادر اوڑھے ان میدانوں میں رنگا رنگ خوبصورت پھولوں ، اُڑتی تتلیوں ، خوشبوئوں اور بہتے پانیوں سے جو نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہاں آنے والوں کو ہمیشہ کے لئے اپنا اسیر کر لیتا ہے۔


سکردو پاکستان کے سیاحتی مقامات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں برف پوش پہاڑوں کو چھو کر گزرنے والی ہوا ئوں کا احساس ہی تن بدن میں تازگی پیدا کر دیتا ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنوں سے اُٹھنے والی ٹھنڈی پھوار سانسوں کو ایسی تازگی بخشتی ہے کہ روح تک ٹھنڈک محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہاں کی وادیوں میں ایک خاص خوشبو سے سانسیں بھی مہک جاتی ہیں اور انسان اُس خوشبو کو کبھی بھی بُھلا نہیں سکتا۔ یہاں سیب ، چیری، خوبانی ، آلوبخارہ، انجیراور بادام کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ سکردو کی خوبصورتی کی طرح یہاں کے لوگ بھی لالچ سے دور ، انتہائی خوش اخلاق اور پُر امن ہیں۔محنت کا رجحان بچوں اور بڑوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔ بچے بہت ملنسار اور تعلیم کے شوقین ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے کئی کئی میل کا سفر بھی پیدل کرتے ہیں۔سیاحت کے دلدادہ سکردو جانے کے بعد کبھی اس کے سحر سے نکل نہیں پائیں گے۔جیسا کہ ایک نغمے کے بول کچھ یوں ہیں 
ایک بار جو آئے …
دل یہاں رہ جائے …
جانا چاہے نہ پھر یہاں سے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 28 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter