موجودہ تعلیمی نظام اس کے مسائل اور متوقع حل

Published in Hilal Urdu

تحریر ۔ طاہرہ حبیب جالب

''تعلیم'' یہ انسان میں شعور پیدا کرتی ہے اس کی بدولت ہی انسان اچھے بُرے کی تمیز کرسکتا ہے یعنی تعلیم ہی بنیادی مسائل کا حل ہے۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کررہا ہے۔ ظاہری طور پر پاکستان میں دو تعلیمی نظام ہیں۔ اُردو میڈیم جو سرکاری سکولوں یا گلی محلوں کے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے جس میں اُردو مضامین اور اسلامیات کو اہمیت دی جاتی ہے ان سکولوں میں غریبوں کے بچے ہی پڑھتے ہیں اور طلباء کو رٹا سسٹم پر لگایا جاتا ہے۔ ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں میں سے بیشتر کے لئے انگریزی زبان ہمیشہ خوفناک جن یا آفت ہی رہتی ہے۔دوسری قسم انگلش میڈیم سکولوں کی ہے۔ان سکولوں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں ان میں صرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ایلیٹ کلاس کی اولادیں ہی پڑھ سکتی ہیں۔ غریب ان سکولز کے پاس سے صرف گزر ہی سکتے ہیں۔ سفید پوش طبقے کی جیب پر ان سکول کی فیسیں صرف بجلی گرانے اور صفایا کرنے کا ہی کام کرسکتی ہیں۔ ان سکولز میں اسلامی مضامین یا اُردو کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور اُردو ہمیشہ ان سکولز کے طلباء کے لئے مسئلہ بنی رہتی ہے۔ سکولوں کی ایک اور قسم بھی پاکستان میں رائج ہے وہ دینی مدارس ہیں۔مدارس کو نظام کے بجائے سب سسٹم کہنا زیادہ بہتر ہوگا جن میں اسلامی مضامین کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ انگلش، کمپیوٹر، سائنس اور سائنسی مضامین کو یکسر نظر انداز نہ سہی مگر توجہ کم ہی دی جاتی ہے۔یعنی دنیاوی علوم کو بھی شامل نصاب کرنا لازم ہوتا ہے اور جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ان مدارس کی آڑ میں شدت پسندی کو فروغ بھی دیا جاتا ہے۔

majodatleeminizam.jpg
یہ تین طبقاتی تعلیمی نظام ملک اور انسانیت کی کوئی خدمت نہیں کررہے بلکہ نوجوان نسل اور ملک کے مستقبل کے معماروں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں جس کی وجہ سے بیرون ملک ہمارے اداروں کی ڈگریوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور طلباء کو دوبارہ اپ گریڈیشن کی ضرورت پڑتی ہے۔


پاکستان میں نظام تعلیم کی زبوں حالی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے سب سے پہلی حکومتی لاپروائی، غیر حقیقی منصوبہ بندی اور ملک کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات ہیں۔ اُردو ، انگریزی میڈیم میں تقسیم بھی اس زمرے میں آتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ تمام اُردو میڈیم یا دوسرے الفاظ میں سرکاری اداروں میں تعلیم کا معیار بہت کم ہے اور تمام انگلش میڈیم یا پرائیویٹ اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ بڑے شہروں میں پرائیویٹ سکول اپنی کارکردگی بہترین دکھاتے پائے جائیں گے مگر ان سکولز کو چھوٹے شہروں میں دیکھا جائے تو اکثر کی حالت سرکاری سکول جیسی ہی ہوتی ہے۔ دراصل پاکستان میں سکول سسٹمز ایک کاروبار بن چکا ہے جس کے پاس کچھ پیسہ اکٹھا ہوا وہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کا سوچنے لگتا ہے ذرا سوچئے کہ جب کاروباری ذہنیت کے لوگ اس میدان کے کرتا دھرتا ہوں تو معیاری تعلیم کی توقع فضول ہے۔ دیہاتوں کے سکولوں کی زبوں حالی کا تو جواب ہی نہیں ہے بمشکل 20سے 25 بچے ایسے نکلتے ہوںگے جو پڑھائی جاری رکھ سکتے ہوں گے باقی بچے معاشی مجبوریوں کے تحت اسی عمر میں کھیتوں میں، یا پھر کسی نجی ادارے میں، کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ پرائمری سکولوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ آج بھی وہاں بچے ٹاٹ پر پڑھ رہے ہیں جیسا کہ آج سے 20 سال پہلے دیکھا جاسکتا تھا۔ اس وقت بھی بچے ماسٹر کے گھر کا سودا سلف لا رہے ہوتے تھے اور آج بھی یہ روایت قائم ہے۔ کل بھی بچے ماسٹرکے لئے مکھن ، لسی لاتے تھے اور آج بھی لارہے ہیں۔اس وقت بھی بچے سکول سے بھاگ کر کھیلنے کودنے کیلئے کھیتوں میں چلے جاتے تھے آج بھی وہی صورت حال ہے۔ دوران کلاس اُستاد سگریٹ نوشی سے بھی اجتناب نہیں کرتے اور اپنے لباس کی صفائی کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی کہ اُستاد ''رول ماڈل'' ہوا کرتے ہیں۔سرکاری سکولز میں بچوں کی یونیفارم اور ظاہری حالت پر توجہ نہیں دی جاتی۔ وہی نیلی شلوار قمیض یا سفید شرٹ، خاکی پینٹ۔
سکول انتظامیہ یونیفارم پر زور دے دیتی ہے مگر اکثر یونیفارم کی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ غیر استری شدہ لباس، بچوں کے ناخن، بال اور جوتوں کی صفائی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ زور دیا جاتا ہے تو صرف اس بات پر کہ سبق یاد کرو اور سبق بھی وہی جو کتاب میں لکھا ہے اگر ایک لفظ بھی ادھر سے اُدھر ہوگیا تو خاطر تواضع حاضر۔۔۔۔۔


اس کلچر کے زیر اثر ہم ایسے ذہنوں کی تربیت کررہے ہیں جو لکیر کے فقیر بنے رہتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی کام ہونا چاہئے یہی ان کی شخصیت اور کردار میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ بچے پڑھ لکھ تو جائیں گے مگر نظم و ضبط اور متوازن شخصیت کے بغیر ''پڑھے لکھے ان پڑھ'' بن جائیں گے۔ اس میں کسی حد تک اساتذہ کرام کی آمدنی کا بھی تعلق ہے جوکہ تنخواہوں کی صورت میں بہت کم ہے۔ اس وجہ سے وہ بچوں کو الگ سے ٹیوشن پڑھانے پر زور دیتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی بہت کم ہوتی ہے اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مجھ سے ٹیوشن پڑھو۔ آج کے دور میں الگ سے ٹیوشن پڑھانا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے بلکہ اس کام کے لئے باقاعدہ اکیڈیمیز تشکیل پاچکی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ آج کے دور میں تعلیمی ادارے منافع بخش کاروبار ہیں۔ ہم تعلیمی نظام کو ایک صورت میں بہتر بنا سکتے ہیں کہ حکومت اپنی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ کو سرِ فہرست رکھے۔ اس کے لئے نہ صرف مناسب بجٹ رکھا جائے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ بجٹ کا مناسب اور صحیح جگہ پر استعمال بھی کیا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بجٹ یعنی وسائل کے باوجود محکمہ تعلیم کے افسران اور ملازمین کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بہت سے سکولوں، کالجوں کی عمارتوں، کلاس رومز، فنی تربیت کی تجربہ گاہوں اور سپورٹس گرائونڈ کا بُرا حال ہوتا ہے۔ اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کا صحیح استعمال بھی یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔اگر استاد کی بنیادی ضرویات کو پورا کیا جائے گا تو وہ طلبہ کی تعلیمی ضرورتوں کا خیال رکھے گا۔ اسی طرح طالب علموں کی معیاری اور مفت تعلیم ہونی چاہئے۔ اس کے لئے نصاب میں بھی ردوبدل ضروری ہے۔


حکومت کو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔اگر ممکن ہو تو ایسے سکولوں کا اجراء کیا جائے جہاں طلباء اور طالبات کومیٹرک تک تعلیم مکمل طور پرمفت دی جائے۔ اس طرح غربت کا شکار عوام کو تعلیمی سہولتوں سے آراستہ کیا جاسکتا ہے ۔ اگر پرائمری تک مخلوط تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں تو کم از کم اداروں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ طلباء و طالبات کو تعلیمی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کو گروس نیشنل پروڈکٹ کا نمایاں حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ دیگر ممالک مثلاً بنگلہ دیش میں کم از کم گروس نیشنل پروڈکٹ کا 2.2% ، بھارت میں 3-3% اور نیپال میں 3-2% خرچ ہوتا ہے۔لہٰذا پاکستان کو بھی گروس نیشنل پروڈکٹ کا 4% تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا تاکہ تعلیمی مسائل حل ہوسکیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 34 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter