تحریر: مجاہد بریلوی

صوفی غلام مصطفٰی تبسّم معروف اصطلاح میں قطعی صوفی نہ تھے مگر ان کی شخصیت سراپا صوفیانہ و درویشانہ تھی۔ مولانا چراغ حسن حسرت کی طرح رندِ بلانوش تو نہ تھے مگر مَے و مینا سے آشنائی ضرور تھی اور اس کا سبب وہ محفل آرائیاں تھیں کہ جن کے بغیر اُن کی شامیں مکمل نہ ہوتیں۔ صوفی غلام مصطفٰی تبسّم اس پائے کے عالم اور استاد تھے کہ حفیظ ہوشیار پوری تک انہیں جگت استاد کہا کرتے تھے۔ بقول ممتاز نقاد مظفر علی سید محض لاہور اور امرتسر ہی نہیں پورے بر صغیر بلکہ چہار جہان میں ان کے شاگرد پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ سڑک پر دو قدم چلنا دوبھر ہو جاتا۔ہر کس و بے کس کے سلام کا مفصل جواب دینے رک جاتے تھے ''کیسے ہو؟ آج کل کہاں ہو؟ کیا کرتے ہو؟ گھر پر ضرور آنا''۔اور یہ بات صوفی صاحب صرف زبانی اور کلامی نہ کرتے۔ شاید ہی کوئی ایسا ہو جو یہ سن کر نہ آتا ہو بلکہ دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ''فلاں سیکریٹری یا جج صاحب کے پاس کاغذات رکے ہوئے ہیں آپ زحمت کریں تو عزت رہ جائے گی۔ سواری موجود ہے ابھی آدھے گھنٹے میں واپس آ جائیں گے''۔ اپنے وطن امرتسر کے کسی سائل کو تو وہ ٹال ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن دہلی سے علی گڑھ بلکہ کلکتے تک کے حاجت مندان کے لئے محترم تھے۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم مشرقی پنجاب کے مردم خیز شہر امرتسر میں 1899 میں پیدا ہوئے۔ بچپن اور جوانی امرتسر میں گزاری مگر زندگی بھر امرتسر سے نہیں نکل سکے۔ اردو اور فارسی کے گورنمنٹ کالج میں لیکچرار ہوئے اور پھر ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔( شاگردوں کی فوج ظفر موج کی… جب وہ 1948 سے 1954تک گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ اردو فارسی کی صدارت پر فائز رہے… ان سے خصوصی رغبت تھی) فیض صاحب بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔ اس سلسلے میں فیض صاحب کے بارے میں صوفی صاحب نے ایک بڑا دلچسپ واقعہ کہیں لکھا کہ گورنمنٹ کالج امرتسر میں امتحانات کے دوران جب وہ کلاس روم میں پہنچے تو ایک خوبرُو گھنے بالوں والا نوجوان، کبھی قلم سے ایک دو لائنیں لکھتا کبھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتا۔ صوفی صاحب نے قریب جا کر پوچھا ''بھئی کیا پریشانی ہے؟'' نوجوان فیض نے قمیض کی جیب سے سگریٹ کی ڈبیا اور ماچس نکال کر دکھائی۔ صوفی صاحب سمجھ گئے کہ سگریٹ کی شدید طلب قلم کی روانی میں رکاوٹ ہے۔ اجازت ملتے ہی فیض صاحب نے ادھر چند کش لئے نہیں کہ قلم رواں ہو گیا۔

sufisahab.jpg
فیض صاحب کی مے نوشی کے بھی بڑے چرچے ہم نے سنے ہیں مگر اصل میں وہ بلا کے سگریٹ نوش تھے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ سن لیں۔ اپنے انتقال سے کچھ ماہ پہلے کراچی میں بیگم مجید ملک کے گھر میں جہاں ان کا مستقل قیام رہتا پاس بیٹھے ایک بقراط نے سگریٹ نوشی کے نقصانات پر فیض صاحب کے سامنے تقریر شروع کر دی۔ یہی نہیں بلکہ جیب سے کیلکولیٹر نکال کر فرمانے لگے ''غالباََ آپ پچاس سال سے سگریٹ پی ہی رہے ہوں گے''۔ ایک لمبی 'ہوں' میں فیض صاحب نے جواب دیا۔ جس کا مطلب تھا 'جی ہاں'۔ اب موصوف فرماتے ہیں ''فیض صاحب آپ ایک دو پیکٹ تو ضرورپیتے ہوں گے۔ پچاس سال پہلے ایک سگریٹ کا پیکٹ آٹھ آنے کا ہوگا۔ چالیس سال پہلے ایک روپے کا۔ تیس سال پہلے 5 روپے کا۔ بیس سال پہلے 10روپے کا۔ اِن دنوں جو آپ سگریٹ پی رہے ہیں پچیس روپے کا تو ضرور ہوگا''۔ یہ کہہ کر ضرب جمع کر کے بتایاکہ آپ 18لاکھ 74ہزار6 سو42روپے کے سگریٹ پی چکے ہیں۔ بقراط صاحب فرمانے لگے ''اگر آج آپ کے پاس اتنی خطیر رقم ہوتی تو آپ اس کا کیا کرتے؟'' حسب معمول فیض صاحب نے ایک لمبی 'ہوں' کے ساتھ جواب دیا ''بھئی سگریٹ ہی پیتے۔


صوفی صاحب کے انتقال کے بعد فیض صاحب اکثر محفلوں میں کہا کرتے ''بھئی غزل کہتے ہوئے کبھی زبان اور عروض کا مسئلہ آجاتا تو ڈاکٹر تا ثیر رہے نہ صوفی صاحب اس لئے اکثر غزل مکمل ہونے کے بعد شرمندگی رہتی ہے۔ اگر ان اساتذہ کی نظر سے گزر جاتی تو اطمینان ہوتا''۔ جی ہاں 21ویں صدی کے عظیم شاعر کی نظر میں یہ مقام تھا استاذی صوفی غلام مصطفٰی تبسّم کا۔ جو لوگ صوفی صاحب کی شخصیت سے پوری طرح واقف نہیں تھے وہ انہیں بڑا رنگین مزاج آدمی سمجھتے جو نوجوانوں کو اپنی محفلوں میں بٹھا کر گمراہ کرنے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ پطرس بخاری سے منسوب یہ شعر اُن دنوں لاہور میں بڑا مشہور ہوا
رات کو رند صبح کو صوفی
یہ تبسّم عجیب انساں ہے


صوفی صاحب کو کھانے سے زیادہ کھلانے کا شوق تھا۔ خاص طور میں امرتسری کُلچہ اُن کی کمزوری تھا۔ امرتسر میں اپنی نوجوانی کے زمانے میں باقاعدہ اپنے ہاتھ سے کُلچے لگاتے۔ سہ پہر سے رات تک جو بھی مہمان آتا اس کی تواضع کشمیری چائے کے ساتھ امرتسری کُلچے سے ضرور ہوتی۔ ساتھ میں مربہ اور مکھن تو ضرور ہوتا۔ صوفی صاحب کی شخصیت کا جو سارا سراپا میں نے اب تک کھینچا ہے اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اُن کا سارا وقت محفل آرائیوں اور جگت بازی میں گزرتا تھا۔ خود صوفی صاحب ایک مستندشاعر تھے اور 1965 کی جنگ میں تو ان کا یہ عالم تھاکہ لاہور کے ریڈیو اسٹیشن پر آکر بیٹھ جاتے اور ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ سازینے ادھر دھن بنا ہی رہے ہوتے کہ مصرعے زبان پر آنا شروع ہو جاتے۔ صوفی صاحب کا یہ جنگی ترانہ''اے پتر ہٹاں تے نیں وکدے'' ''میریا ڈھول سپاہیا'' ''میرا ماہی چھیل چھبیلا،کرنیل نی جرنیل نی'' نے تو بڑی شہرت پائی۔ ہمارے فوجی جوان محاذِ جنگ پر خندقوں میں بیٹھے فرصت کے لمحوں میں اسے جھوم جھوم کر گنگنا رہے ہوتے اور پھر فریدہ خانم کی گائیکی نے تو صوفی صاحب کی اس غزل کو امر بنا دیا ۔
وہ مجھ سے ہوئے ہم کلا م اللہ اللہ
کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ


فیض صاحب بڑے شاعر تو تھے ہی مگر ایک تو راولپنڈی سازش کیس ، لینن پیس پرائز اورتیسرے اُن کی شخصیت کی محبوبیت نے بھی انہیں عالمی شہرت دی۔ ایک اور سبب ''کلاس'' کا بھی تھا کہ ہماری اشرافیہ نے بھی انہیں سنوارا بھی اور سنبھالا بھی۔ مگر صوفی صاحب ایک درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی درویشانہ بودوباش کے سبب افسوس اس طرح یاد نہیں کئے جاتے کہ جس کے وہ مستحق تھے۔


چراغِ زندگی ہو گا فروزاں، ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں، ہم نہیں ہوں گے
اگر ماضی منور تھا کبھی، تو ہم نہ تھے حاضر
جو مستقبل کبھی ہو گا درخشاں، ہم نہیں ہوں گے

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 40 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter