پردیس میں دیسی کھانے

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر ھمامیر

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کینیڈا ایک سرد ملک ہے جہاں زیادہ تر ٹھنڈ رہتی ہے لیکن یہاں کی خزاں ایک ایسا موسم ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہمارے خیال سے تو یہاں کی برف یہاں کی خصوصیت ہے۔ تاہم سیاح برفباری کے بجائے خزاں دیکھنے کینیڈا آتے ہیں۔


ہم تو ہمیشہ یہی کہتے آئے ہیں کہ خزاں ہمیں بہت پسند ہے، ہمارا تعلق اُسی طبقۂ فکر سے ہے جو موسمِ خزاں کو بہار پہ فوقیت دیتے ہیں، اس کے حسین رنگوں میں کھو جاتے ہیں اور اسے بہترین موسم گردانتے ہیں۔ تاہم اب ہم یہ اعتراف بھی کررہے ہیںکہ جب سورج کی تمازت کم ہو جائے ، آسماں ہمہ وقت سیاہ بادلوں سے ڈھکا رہے، سرمئی شاموں میںسرسراتی تیز ہوا سوکھے پتوں کو ہر سُو بکھیردے تو دل کبھی اداس بھی ہو ہی جاتا ہے۔ جانے یہ اثر موسم کی یک لخت تبدیلی کا ہے یا گھر سے دوری کا لیکن اتناضرور ہے کہ پردیس میں تنہائی کلیجے پر کٹار کی طرح لگتی ہے۔


ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں یہاں کینیڈا میں اچھے پُرخلوص دوست ملے۔ یہاں اکثر و بیشتر ادبی، ثقافتی محافل بھی منعقد ہوتی رہتی ہیں، ہمارا ٹی وی شو بھی کامیابی سے چل رہا ہے لیکن ان سب کے باوجود کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس چلے جائیں، اپنوں سے لاکھوں میل دور، سات سمندر پار، دیارِ غیر میں شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک اجنبی سرزمین پر ہیں، وطنِ عزیز کی یاد ہمہ وقت دل میں چٹکیاں لیتی رہتی ہے۔ کچھ بھی ہو اپنا وطن اپنا ہی ہوتاہے۔

newsdesmainperdais.jpg
موسم سرد ہونا شروع ہوا تو جہاں دیگر معمولات میں تبدیلی آئی وہیں کھانے پینے کے معاملات میں بھی فرق پڑنے لگا۔ مثلاً خشک میوہ جات، کافی اور چائے کا استعمال بڑھ گیا۔ ویسے تو یہاں لوگ سال کے بارہ مہینے کافی پیتے ہیں اور وہ بھی نہار منہ تاہم سردیوں میں کافی زیادہ پی جاتی ہے۔ ویک اینڈ پر دیسی ریستورانوں میں حلوہ پوری کے ساتھ پائے کا بھی ناشتہ ہوتا ہے۔ نہایت عمدہ پائے اور گرما گرم نان، واہ ! مزہ ہی آجاتا ہے۔ حلوہ پوری کا بھی جواب نہیں، بڑی بڑی پھولی پھولی کڑھائی سے نکلی پوری، چنے کا سالن جس کے اوپر ہری مرچیں اور ہرا دھنیا پڑا ہوتا ہے، آلو کی خشک ترکاری ساتھ میں سوجی کا حلوہ جس میں اصلی زردے کا رنگ شامل ہوتا ہے اور اصلی گھی میں بنا ہوتا ہے، دہی، کٹی پیاز اور اچار بھی ملتا ہے۔ اس مزیدار ناشتے کے ساتھ لسی پیجئے، نمکین یا میٹھی اور بعدازاں چائے۔ ہم تو حلوہ پوری کے بھی شوقین ہیں اور پائے کے بھی ۔ پائے میں نان چور کے کھاتے ہیں، پائے کے لوازمات یعنی باریک کٹی ادرک، ہرا دھنیا، پودینہ، ہری مرچیںاور لیموں وغیرہ 'کھانے کا' لطف دوبالاکردیتے ہیں۔


کینیڈا میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بازار کا کھانا ناقص نہیں ہوتا، یہاں ہوٹلوں میں حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے، سموسے، پکوڑے یا جلیبیاں گندی کڑھائی کے پرانے کالے تیل میں نہیں تلی جاتیں ، دوپٹہ رنگنے کے کلر کے بجائے مٹھائیوں میں اصل فوڈ کلر استعمال ہوتا ہے۔ تیل بھی معیاری ہے، کیونکہ دو نمبر یاتین نمبر چیزیں نہ بنتی ہیں نہ بکتی ہیں، نہ جانوروں کے سینگوں اور ہڈیوں سے جعلی تیل بنتا ہے نہ غیر قانونی کارخانے ہیں۔


کھانا پکانے کے لئے سب سے اہم چیز تیل یا گھی ہوتا ہے، کینیڈا میں دونوں عمدہ ملتے ہیں، پھر مصالحہ جات کی بات کریں تو لال مرچ پسی ہوئی واقعی لال مرچ ہی ہوتی ہے، پسی ہوئی اینٹیں نہیں، اسی طرح چائے کی پتی بھی چائے ہی ہوتی ہے چنے کے چھلکے نہیں۔ ویسے تو یہاں کھلی پتی کا رواج نہیں زیادہ تر ٹی بیگ ہی استعمال ہوتا ہے۔ ایک بات ہم فخریہ بتانا چاہتے ہیں کہ کینیڈا کی مارکیٹ میں پاکستانی مصالحوں، پاکستانی اچار اور پاکستانی چاول کے علاوہ پاکستانی چائے کی بھی بہت ڈیمانڈ ہے۔ پاکستانی چاول دیگر چاولوں کے مقابلے میں دویا تین گنا مہنگا ضرور ہے مگر معیاری ہونے کے باعث لوگ اسے فوقیت دیتے ہیں۔ باسمتی چاول کے لمبے دانے اور پکتے وقت ان سے اٹھتی مہک انہیں سب سے ممتاز کرتی ہے۔ پاکستانی مصالحے اور اچار بھی خوب بِکتے ہیں۔ عجیب بات ہے یہی اچار جب پاکستان میں کھائو تو ذائقہ الگ اور یہاں کھائو تو ذائقہ الگ۔ معلوم نہیںکوالٹی کنٹرول اس کی وجہ ہے یا کوئی اور بات، تاہم یہ تو طے ہے ہمارے کچن میں پاکستانی مصنوعات ہی اپنی بہار دکھاتی ہیں۔ کینیڈا میں گوشت اچھا تازہ ملتا ہے، حلال گوشت نسبتاً مہنگا ہوتا ہے۔ یہاں قصاب کی دکانوں میں گوشت نفیس انداز سے رکھا ہوتا ہے۔ ایک تو ٹرکوں پر کھلا گوشت لے جانے کاکوئی تصور نہیں پھر بکرے کے گوشت کے نام پر بکر ے کا ہی گوشت ملتا ہے، جانور کی بھی بڑی توقیر ہے۔ یہاں نس میں پانی ڈال کے وزن بھی کوئی نہیں بڑھاتا، نہ بیمار جانور کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ اسی لئے بیف، چکن یا مٹن اس کا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے۔ نہاری کے لئے جو گوشت ملتا ہے نہایت ملائم، ہم تو حیران ہی رہ گئے، کراچی میں نہاری کا گوشت ایسا ہوتا ہے کہ ہم تو خالی شوربہ ہی کھاتے تھے مگر یہاں صورت حال مختلف ہے، واقعی کھانے کا مزہ ہے۔ یہاں ہر چیز عمدہ اور معیاری، چاندی کا ورق جو کھیریا دیگر میٹھے پکوان پر لگاتے ہیں وہ بھی پنّی کے بجائے اصلی چاندی کا ملتا ہے، اسی طرح دودھ، دودھ تو اتنا خالص ہے کہ کیا کہیں، دنیا کا بہترین دودھ کینیڈا میں ملتا ہے۔ ان بیچاروں کو علم ہی نہیں کہ دودھ میں ٹیلکم پائوڈراور کیمیکل یا دیگر زہر ملا کے بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ گائے کو ہارمون کے انجیکشن لگا لگا کے زیادہ دودھ نکال سکتے ہیں، پھر یہ لوگ دودھ بھی گائے بھینسوں کا ہی بیچتے ہیں خود فیکٹری میں دودھ بنانے نہیں بیٹھ جاتے۔ اب یہاں گائے بھی تو سرسبز و شاداب کھلیانوں میں چارہ کھاتی ہے ہماری گائے کی طرح کچرے کے ڈھیر پر تو منہ نہیں مارتی۔
Cattle Farm
جا کے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مویشی کیسے شاہانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہمارے غریب مویشی تو سڑکوں پر آوارہ پھرتے ہیں، بڑی شاہراہوں پر جہاں ہیوی ٹریفک ہو، وہاں بھی ادھر اُدھر سے گائے بکریاں آجاتی ہیں۔ کینیڈا میں انسانی زندگی کی قدرومنزلت تو ہے ہی لیکن جس طر ح یہاں جانوروں، پھولوں، پودوں کی قدر ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ درخت کاٹنا سنگین جرم ہے یہاں۔ یہاں ٹمبر مافیا کا کوئی وجود نہیں۔ حالانکہ لکڑی درختوں سے ہی حاصل کی جاتی ہے، درخت کٹتے بھی ہیں لیکن سب قانون کے دائرے میں رہ کر ہوتا ہے، یعنی درختوں کی کٹائی کے لئے انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ ویسے یہ بھی خوب ہے کہ کینیڈا میں ہرکام کے لئے لائسنس یا اجازت نامہ لیناضروری ہے اور اجازت نامہ حاصل کرنے کے لئے اُس کام کی تربیت لینی ضروری ہے جس کے لئے لائسنس لیا جا رہا ہے۔ کسی میلے میں پکوڑے بیچنے ہیں تو اس کے لئے بھی یہی قانون لاگو ہوگا۔ میلے کا لفظ یوں استعمال کیا کہ سڑک پر چھابڑی یا ٹھیلا لگا کر کوئی بھی چیز فروخت نہیں کی جاسکتی۔ فٹ پاتھ پر ریڑھی والوںاور سڑک کنارے چھابڑی والوں کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئی ہیں۔ اینٹی انکروچمنٹ کا محکمہ غالباً یہاں نہیں ہوگا کیونکہ ضرورت ہی نہیں پڑتی یا ہوگا بھی تو ہر وقت فارغ ہی رہتا ہوگا۔ سنا ہے ہمارے یہاں بھی یہ محکمہ ہے اور سب سے زیادہ کمائی بھی اسی کی ہے۔


کینیڈا میں اکثر پاکستانی خواتین کیٹرنگ کا کام کرتی ہیں۔ یہ کام وہ گھر میں انجام دیتی ہیں۔ یعنی اگر آپ کو گھر پہ دعوت کرنی ہے اور بریانی، قورما، نان، نہاری یاکباب وغیرہ بنوانے ہیں تو فون پر آرڈر کرسکتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں بازار سے خریدیں تو مہنگی بھی ہوں گی اور وہ ذائقہ بھی نہ ہوگا جو گھر کا ہوتا ہے۔ چھوٹی موٹی دعوتوں کے لئے یہ انتظام بہتر ہے تاہم بڑی دعوتوں اور پارٹیوں کے لئے ہوٹل والے کیٹرنگ کرتے ہیں۔ دعوت کے علاوہ آپ اپنے لئے بھی کیٹرنگ کروا سکتے ہیں، مثلاً درجن بھر نان یا پراٹھے بنوالیں اور فریزر میں رکھ کے روزانہ ایک ایک نکال کر کھاتے جائیں۔ جو لوگ زیادہ مصروف ہوتے ہیں اور بالکل کوکنگ نہیں کرسکتے وہ ماہانہ پیسے دے کر روزانہ دو وقت کے کھانے کا پیکج لے سکتے ہیں۔ ہمیں تو لگتا ہے دنیا کا بہترین کھانا اپنا دیسی کھانا ہے، برگر اور پیزا سے اپنا گزارہ نہیں ہوتا۔جانے دنیا یہ فاسٹ فوڈ کو کیوں اتنا پسند کرتی ہے؟ خیر پسند اپنی اپنی۔ ہمیں تو ناشتے میں پراٹھے ہی پسند ہیں۔ ہمیں یہی فکر تھی کہ کینیڈا میں پراٹھوں کا کیا ہوگا، والدہ کے ہاتھ کے بنے پراٹھے ہماری کمزوری تھی، مگر الحمدﷲ ! یہاں کے آلو پراٹھے، گوبھی کے پراٹھے، پنیر کے پراٹھے، مولی کے پراٹھے، سادہ پراٹھے سبھی ملتے ہیں۔ ہم نے اپنے فریزر میں خوب پراٹھے بھر رکھے ہیں۔ جو ہم گرم کرکے کھاتے ہیں تاہم فریزر سے نکلے پراٹھوں میں وہ بات کہاں جو ماں کے ہاتھ کے گرم گرم تازہ لچھے دار پراٹھوں میں ہے۔


کھانے پینے کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہم نے کینیڈا آکر استعمال کرنی شروع کیں۔ مثلاً گڑ، شکر کی چائے، مصالحہ چائے، گھر کا دہی یعنی گھر میں دہی جمائی اور کھائی، پراٹھے کے ساتھ دہی اور اچار ایک ساتھ، نہاری کا گوشت (پہلے ہم صرف شوبہ کھاتے تھے) سبزی کی ترکاری میں اجوائن اور السی، بادام مکھن، سبزی منچورین اور اصلی شہد۔ ایسا نہیں کہ پاکستان میں یہ چیزیں میسر نہیں دراصل کراچی کی تیزرفتار زندگی میں کھانے کا اسٹائل ہی الگ ہے۔ہمیں تو اصلی شہد کی بہت خوشی ہے، ایک تو وہ شہد ہے جو اسٹورز سے ملتا ہے، وہ بھی اصلی ہوتا ہے مگر
Pasturized
ہوتاہے، ہم جو شہد استعمال کرتے ہیں وہ ایک ایسی خاص دکان سے لاتے ہیں جو شہد کے لئے مخصوص ہے، یہاں شہد کی مختلف ورائٹی ہے، یہ شہد مختلف پھولوں سے حاصل کیا ہوتا ہے اور ہر شیشی پر اس کے پھول کا نام لکھا ہوتاہے، چونکہ یہ
Pasturized
نہیں ہوتا یعنی کسی خاص درجہ حرارت پرگرم نہیں کیا جاتا لہٰذا ذرا مہنگا ہے مگر بے مثال ہے، یہ دکان
Bee Centre
کہلاتی ہے۔ یہاں پر ایسا شہد بھی ملتا ہے جسے براہِ راست چھتے سے نکالاہوتا ہے۔ اس شہد کو چھانا نہیں جاتا، یعنی اصلی کا بھی اصلی شہد، واہ ، واہ بھئی کیا کہنے!
شہد ایک تو صحت کے لئے بہت مفید ہے پھر اسلامی نقطۂ نگاہ سے بھی اس کی اہمیت مسلم ہے۔ گڑ اور شہد کھانے کے باعث اب چینی کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے، حیرت انگیز طور پر ہمارے کھانے پینے کا انداز تبدیل ہوگیا ہے۔ ہم سوچتے تھے کینیڈا میں ڈبل روٹی انڈے ملیں گے، مغربی انداز کے پھیکے کھانوں کے تصور سے ہماری جان نکلتی تھی مگر کمال یہ ہے کہ اب ہم مکمل دیسی اسٹائل کا کھانا کھا رہے ہیں، اتنا دیسی تو کراچی میں بھی نہ تھا جو یہاں ونکو ور میں ہے۔

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 34 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter