سائبو رگ ٹیکنالوجی

Published in Hilal Urdu

تحریر: صائمہ بتول

لفظ سائبو رگ 1960 میں
Manfred Clynes
اور
Nathan S. Kline
نے دریافت کیا۔ یاد رہے کہ یہ لفظ اینڈ رائڈ، بائیو نک، بائیو میٹرک اور مافوق الفطرت اعضاء رکھنے والی مخلوق سے یکسر مختلف اور بہت ساری خصوصیات میں ملتا جلتا تاثر رکھتاہے۔ یہ ٹیکنالوجی تمام دودھ دینے والے جانور اور انسانوں میں ایسے اعضائ، جو ناکارہ ہو چکے ہوں مگر نقصان کے باوجود بحالی کی تھوڑی گنجائش رکھتے ہوں،میں بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ڈی ایس ہیلسی سائبو رگ نے 1965میں ایک کردار سپرمین تخلیق کرکے انسانی زندگی میں ممکنات کے کئی دروازے کھول دیئے اور اس کردار کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ زندگی کے اندرونی اور بیرونی معاملات و احساسات کے درمیان ایک پُل موجود ہے جو دماغ اور
Matter
کے درمیان کارفرما ہو سکتا ہے۔ اسی خیال کو مختلف ذرائع سے پیش کیا گیا جس میں فلم ''سٹارٹریک'' اور ''سٹار وار'' کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سے قبل 1843 میں ایک کردار جو انتہائی طاقتور تھا، جو مشین اور انسان دونوں کا امتزاج تھا، متعارف ہوا اور وہی کردار آگے چل کر کیپٹن ''فیوچر'' کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ 1928 میں کیپٹن فیوچر ہر انسان کی خواہش بن گیا۔ اس کے علاوہ1944 میں سی ایل مور
(C.L. Moore)
کی کہانی نو وومن بورن
(No Woman Born)
ایسی رقاصہ کے بارے میں ہے جس کا جسم ایک حادثے میں جل کر خاکستر ہوگیا مگر دماغ سلامت رہا جسے بعد میں ایک مشینی جسم دے دیا گیا۔ یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پانچ دہائیوں کی مسلسل محنت اور عرق ریزی کے بعد یہ ٹیکنالوجی اب سائنس کی حیرت انگیز دنیا میں انسانی زندگی کی بقاء کی ضامن کے طور پر اُبھر رہی ہے۔ اور اب نیل ہربی سن اور ایملی بورگ اس صدی کے پہلے ''سائبورگ ہیومن'' کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔
تینتیس سالہ نیل ہربی سن
(Neil Harbisson)
27جولائی 1984 میں کاتلونیہ(سپین) میں پیدا ہوا۔ برطانیہ میں پلا بڑھا اور نیویارک امریکہ کا رہائشی ہے نیل ہربی سن پیدائشی
Colour Blind
تھا۔ وہ ہر چیز کو فقط مٹیالے رنگ میںہی دیکھ سکتا تھا جو کلر بلائنڈ کی انتہائی بڑی کیفیت ہے۔ نیل ہربی سن ایک سیماب صفات لڑکا ہے جو مختلف سکولوں میں آرٹ اور موسیقی کا علم حاصل کرتا رہا۔ گیارہ سال کی عمر میں اِسے اپنے سکول کی طرف سے ایک خصوصی رعایت دی گئی۔ جس میں اس کا تصویروں اور چیزوں میںرنگ بھرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ بس پھر کیا تھا لڑکے نے صرف کالے اور سفید رنگ کی مدد سے ایک عدد پیانو جوڑ لیا۔ یہ لڑکا عمرکے 29 برس کالے اور سفید رنگ کی دنیا تک محدود رہا اور کوئی رنگ دار لباس نہ پہن سکا۔19 سال کی عمرمیں انگلینڈ پڑھنے چلا گیا۔ جہاں اس نے موسیقی، سُر ، لَے، اس کی ساخت ، بناوٹ اورترکیب کا علم ڈارلنگٹن کالج سے حاصل کیا۔

cybert3ech.jpg
آوازوں کو سننے اور میوزک سے محبت کرنے والا یہ نوجوان جونہی کالے اور سفید دائروں سے نکلا اس نے آرٹ اور میوزک کی دنیا میں ٹیکنالوجی کی ایک اور شاخ کو باقاعدہ طور پر متعارف کرواتے ہوئے اپنی قومی شناخت اپنے پاسپورٹ پر ایک برقی اینٹینا کے ساتھ ہی کروائی۔ بظاہر یہ مشکل کام تھا کہ انسان کو دھاتی اعضاء سمیت انسان کے طورپر دیکھاجا سکے لیکن نیل بضد رہا اور بااعتماد بھی اور بالآخر برطانیہ کے نجی شعبے کو آمادہ کرنے میں کامیاب رہا کہ یہ برقی تار تمام آلات سمیت اس کی آنکھ اورحسیات کا حصہ ہیں۔ یہ سب کچھ کب اور کیسے ممکن ہوا؟ دراصل نیل ہربی سن کبھی بھی اپنے رنگوں سے عاری مزاج سے مطمئن اور خوش نہیں تھا۔ وہ اپنی اس بے تابی اور بے رنگی کی کیفیت کا اظہار کئی اچھے اور بڑے طریقوں سے کرتا رہا اور بچپن میں اپنی ماں سے سنی گئی قوسِ قزح کی کہانی سے تحریک لیتا رہا۔ اس کے علاوہ یورپ کی جدید اور ترقی یافتہ دنیا کے کئی ایک واقعات اور سائنسی تبدیلیاں اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔ جس کو نیل ہربی سن نے اپنے مختلف انٹرویوز اور تقاریر میں بیان کیا ہے۔ وہ اپنی اس قدرتی اور پیدائشی کمی کا مشکور ہے جس نے اسے رنگوں اور سروں کی امتزاجی دنیا سے متعارف کرا دیا۔ اس کے علاوہ وہ ایک اور ساتھی مون بیباس
(Moonbibas)
سے متاثر ہے جس کے بائیں بازو میں ایک دھاتی سنسر ڈال دیا گیا ہے جس سے اسے زلزلے کی آمد کا پتہ معلوم ہو جاتا ہے۔ حرکت ، سنسناہٹ اور جھنجھناہٹ نیل نے اپنی کارکردگی میں بھی نقل کی۔ اس کے علاوہ فرانسیسی خاتون
ORLAN
کی مثال بھی اس کے سامنے ہے ۔جو اپنی ظاہری شکل کو تقریباً 9 مرتبہ بدلوا چکی ہے۔ نیل ہر بی سن 2004میں بہت سارے ناکام تجربوں کے بعد اپنی کھوپڑی میںایک دھاتی برقی اور باقاعدہ حسیات والا چپ
(Chip)
ڈلوانے میں کامیاب ہو گیا۔ جس کا اینٹینا مکھی کی طرح اس کے سر کے سامنے والے حصے سے گزرتا ہوا ماتھے سے ذرا فاصلے پر آنکھوں کے سامنے رک جاتا ہے۔ جس کی مدد سے وہ رنگوں کو سونگھ اور سن کر شکل و صورت اور حرکات میںڈھال سکتا ہے۔ نیل ہربی سن اس تمام کارکردگی اور تجربات کی تفصیل سے گریز ہی کرتا ہے۔ اپریل 2017ء میںنیشنل جیو گرافک رسالے کے نمائندے ڈی۔ ٹی میکس
(D.T.MAX)
کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی وہ تفصیلات میں جانے سے گریزاں ہی دکھائی دیا۔ مگر اس سے ہرگز یہ تاثر نہیں ملتا کہ نیل ہربی سن انسانی زندگی میں تغیراتی حیاتیاتی اور ثقافتی حقیقت کا ایک سنگ میل بن کر سامنے نہیں آیا۔ ایک موسیقار جو سروں کا سوداگر ہے یقینا رنگوں اور قدرت کے کرشموں سے بھی ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ بارش کے بعد آسمان پر سات رنگی قوس قزح بھی اس پیغام کی ایک سطر ہے۔ یہ سب کچھ جب وائبریشن،بلوٹوتھ،سنسر، مائیکروچپ اور ابلاغیات و مواصلات میں ڈھلتے ہیں تو انسانی زندگی میں مادوں کی طاقت اور مدد سے تبدیلی ممکن ہے۔ اگر ہم 69سالہ رے کروز وبل جو ایک امریکی سائنسدان ہونے کے علاوہ گوگل کا اہم رکن اور او سی آر پہلی ریڈنگ مشین کا بانی ہے کو پڑھیں جو کہتا ہے کہ 1978 میں متعارف کروائی جانے والی
Kurzweil Technology
کی تحریک اور آئیڈیا فضائی سفر کے دوران ایک اندھے انسان سے گفتگو کے دوران ملا۔رے کروزویل کی کتاب ہاؤٹو ٹریٹ اے مائنڈ
(How to treat a mind)
جو 2012 میں شائع ہوئی میںسائبورگ ٹیکنالوجی کو عملی اور قابل استعمال بنانے میں کئی جامع اور قابل عمل پیرے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دی ایج آف سِپر چوئیل مشین
The Age Of Spiritual Machine 
بھی کچھ اس قسم کے اشارے کرتی ہے۔ ہربی سن کو برطانوی حکومت نے بھی پاسپورٹ پر اینٹینا سمیت دکھا کر اسے دنیاکی پہلی باقاعدہ برقی و انسانی مخلوق تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک مقصد بن چکا ہے جس کی نقل میں کئی مزید انسان اپنے اندر سائبورگ ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ اگر شہد کی مکھی اپنے ننھے منے اینٹینا کی مدد سے کئی میل دور سے سیدھی رس پر بیٹھ سکتی ہے تو حضرت انسان بھی اپنی عقل، سوچ، عمل، حسیات اور محسوسات سے کام لیتے ہوئے کائنات کو حیرت کدہ بناتا چلا جارہا ہے۔برقی آنکھ کے حوالے سے نیل ہربی سن کی کتاب 2014میں شائع ہو چکی ہے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور دو کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 28 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter