دامِ لہو قسط چہارم

Published in Hilal Urdu

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ اقساط کا خلاصہ
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیںاور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔
مجاہد جب سے اس مدرسہ میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔
بڑے مولانا صاحب کی ہدایات مدرسے میں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ پہلی بار جب مجاہد مولوی ثناء اللہ سے ملا تواسے کچھ اندازہ تو اس بات کا ہو گیا۔ان کے کمرے سے نکل کروہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔
صبا آرمی پبلک سکول میں ٹیچر ہے اور اس کا خاوند ارسلان ایک بنک میں نوکری کرتا ے۔ دونوں کے بیچ محبت بھری نوک جھونک جاری رہتی ہے۔

 

قسط چہارم

شکیل بھائی میں اس رات ویسے ہی کمرے سے نکلا۔نیند نہیں آرہی تھی مجھے۔ میں قسمت سے مولاناصاحب کے کمرے کے پیچھے کی طرف سے مڑکرآیا۔وہاں روشنی جل رہی تھی۔اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبورہوکرمیں نے اندرجھانکاتومجھے کچھ انجان لوگ نظرآئے۔بالکل انجانے جن کومیں نے کبھی دیکھابھی نہیں تھا۔ میں وہیں کھڑے ہوکران کی باتیں سنتارہااورجیسے جیسے میں سنتارہامجھے لگامیں زمین میں دھنستاجارہاہوں۔ وہاں کپڑے کاایک تھیلابھی پڑاہواتھا۔وہ لوگ کہیں پرکچھ دھماکہ کرنے کی بات کررہے تھے اورپیسوں کی کچھ بات کررہے تھے لیکن مولانا صاحب نہیں مان رہے تھے۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیاہورہاہے لیکن بس یہ سمجھ پایاکہ مولاناصاحب نہیں مان رہے۔بھلاوہ اللہ اوررسولۖکے غلام ہیں پیسے لے کرکیسے دھماکہ کرسکتے تھے لیکن یہ میری سوچ تھی جوبالکل غلط ثابت ہوئی جب میں نے دیکھاکہ مولانا صاحب کے سامنے و ہ تھیلا اوراس جیساایک اور تھیلا انڈیلاگیااوران دونوں تھیلوں میں سے نوٹوں کی گڈیاں نکلیں۔ مولانا صاحب کے چہرے پراس وقت ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جومیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے پیسوں کے عوض دھماکہ کرنے کامعاہدہ کرلیا۔ اب آپ بتائیں شکیل بھائی جب مجھے یہ پتاچل گیاہے کہ مجھے ہی نہیں مجھ جیسے ہزاروں لڑکوں کومذہب کے نام پردھوکہ دیاگیاہے اوردیاجارہاہے تومیں یہاں کیسے رہوں گا۔۔۔
جوتم نے کہاوہ سب میں جانتاہوں اوراگرتم اس کے علاوہ بھی کچھ جانتے ہوتومجھے بتادو۔وہ بدستوراب بھی مسکرارہے تھے۔
کیا؟؟؟؟؟؟؟؟ وہ چیخا
آپ یہ سب جانتے ہیں؟؟؟؟؟
ہاں۔۔۔ جواب مختصرتھا۔
اورآپ پھربھی یہاں ہیں؟؟؟؟؟ کیوں؟؟؟؟
کیونکہ تم بھی یہاں ہو۔۔۔
لیکن میں یہاں نہیں رہوں گا۔بھاگ جاؤں گایہاں سے۔وہ تقریباً چلّاتے ہوئے بولا ۔
یہ میں نے بھی سوچاتھالیکن صرف سوچ ہی پایاتھا۔کرنہیں پایامجاہد۔۔شکیل زمین پرنظریں جماتے ہوئے بولے۔
کیوں؟؟؟؟
زندگی میں کبھی کبھی سوچ اورعمل کے درمیان اتنافاصلہ آجاتاہے مجاہد،کہ سوچنا تو آپ کے بس میں رہ جاتاہے لیکن عمل کرنانہیں۔ میرے ساتھ بھی ایساہی ہوا۔ میں بھی صرف سوچ ہی پایا۔تمہارے ساتھ بھی ایساہی ہے تم بھی صرف سوچ ہی پا رہے ہو۔سوچ اورعمل کے بیچ کافاصلہ پاٹناتمہارے بس میں بھی نہیں ہے ۔ان کی مسکراہٹ اب ختم ہوچکی تھی۔
شکیل بھائی میں اگرغلط راستے پرچلاتھا، اوراب مجھے اندازہ بھی ہوگیاہے اور اب میں اس راستے کوترک کرناچاہ رہاہوں تویہ اتنامشکل کیوں ہے ۔ وہ کافی پریشان تھا۔
مشکل نہیں ہے بیٹاناممکن ہے ۔۔۔
لیکن کیوں؟؟؟
کیوں کہ کبھی کبھی غلط راستے پرچلتے چلتے ہم ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے صرف آگے جانے کاراستہ ملتاہے ۔پیچھے کاراستہ تووہاں کوئی ہوتاہی نہیں ہے اوروہ آگے کاراستہ مزیدغلطی اورتباہی کاہوتاہے۔ لیکن اس پرچلنابھی ہماری مجبوری ہوتی ہے ۔
وہ خاموش رہا۔
مجاہد بیٹاکبھی کبھی زندگی میں کی جانے والی ایک غلطی کی قیمت ہم ساری زندگی نہیں چکاپاتے۔ وہ غلطی ہماری زندگی تولے سکتی ہے لیکن سدھرنہیں سکتی اور اس غلطی کی قیمت کے آگے ہماری اپنی زندگی کی قیمت بہت کم ہوتی ہے ۔سمجھ لو کہ تم بھی اپنے حصے کی وہ غلطی کرچکے ہواورمیں بھی کرچکاہوں۔اب ہمارے پاس واپسی کاکوئی راستہ نہیں۔۔۔۔
آپ کیوں نہیں چلے جاتے یہاں سے شکیل بھائی۔آپ توبھاگ جائیں نا۔ ویسے بھی آپ کبھی ہفتے ڈیڑھ ہفتے میں ایک چکرلگاتے ہیں یہاں کا،تونہ آئیں یہاں۔ آپ کے لئے تو یہاں سے نکلنے کامسئلہ بھی نہیں ہے ۔اس نے اپنی طرف سے تجویزدی۔
اگریہ میرے لئے ممکن ہوتاتومیں کب کاایساکرچکاہوتا۔۔ وہ چائے کی چسکی بھرتے ہوئے بولے۔
آپ کے لئے ممکن کیوں نہیں ہے ؟؟؟
کیونکہ میں بھی اپنی وہ غلطی کرچکاہوں جس کے بعدواپسی کاکوئی راستہ نہیں بچتا۔۔
میں سمجھا نہیں۔ وہ واقعی بالکل نہیں سمجھا تھا۔بھلا ان کے لئے کیا مشکل تھا یہاں سے جانا۔
وہ کچھ دیرخاموشی سے چائے کے سپ پھرتے رہے اورپھرگویاہوئے ۔
مجاہدبیٹا تم کیاجانتے ہومیرے بارے میں؟؟
کچھ خاص نہیں۔
میری ایک بیٹی اوردوبیٹے ہیں۔بیوی اورماں باپ بھی زندہ ہیں۔بہنوں کی شادی ہوچکی ہے اورمیرے ماں باپ،بیوی اوراولاد باہرکے ملک میں رہ رہے ہیں۔ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں بہت آسائشوں والی زندگی۔ لیکن تب تک جب تک میں یہاں یہی کام کرتارہوں جوابھی کر رہاہوں۔مجھ پراورمیرے گھروالوں پرلمحہ لمحہ نظررکھی جاتی ہے ۔ ادھرمیں نے کوئی ایسی کوشش کی جوتم کہہ رہے ہویاان کی بات ماننے سے انکارکردیاتو میرے خاندان کانام ونشان مٹنے میں ایک سے دوسرے لمحے کی دیرنہیں لگے گی۔ میں جب یہاں آیاتھاتوتم سب کی طرح دین کی خدمت کے جذبے سے آیاتھااورمیں تب بھی ڈاکٹرتھااوریہی کام کرتاتھا جو اب کر رہا ہوں۔پھرایک دن مجھے بھی پتاچلاکہ میرے ساتھ دھوکہ ہورہاہے اورمجھے دین کی خدمت نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیاجارہاہے اورپھرمیں نے بالکل تمہاری طرح سوچا۔یہاں سے نکلنے کی ٹھان لی۔ لیکن مجھے فون ملاکردیاگیاجس میں میری سترہ سال کی بیٹی کواغوا کیاگیاتھا اور اس سے میری بات کروائی گئی۔
وہ چندلمحے چپ رہے ۔شایداپنی سوچوں کومجتمع کررہے تھے۔
اوراسی لمحے میری ہمت دم توڑ گئی اورمیں نے یہاں کے لوگوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔میں مجبورتھاکیاکرتا۔ میں توشایدیہاں سے بھاگ جاتالیکن اپنے ساتھ جڑے چھ لوگوں کی موت سہنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میںاوریہ ہمت تم میں بھی نہیں ہوگی۔ بیٹالوگ کہتے ہیں کہ مردکبھی بھی مجبور نہیں ہوتالیکن میں نہیں مانتا۔ مرد بھی مجبورہوتاہے ۔باقی کسی چیزیاکسی رشتے سے نہ بھی ہوتاہواپنی اولاد سے ضرور مجبورہوجاتاہے۔میں بھی اپنی بیٹی اوربیوی کی بے حرمتی اوراس کے بعد دردناک موت اوراپنے بیٹوں کی حسرت ناک موت اوراپنے ماں باپ کی آنکھوں کے دئیے نہیں بجھاسکتا۔اتنی ہمت نہیں تھی مجھ میں۔
وہ خاموش ہوگیا۔اس کمرے میں تھوڑی دیرگھمبیرخاموشی رہی۔ وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتاتھاکہ جس شکیل بھائی کووہ سب بہت خوش قسمت اورخوش باش سمجھتے تھے وہ بھی قسمت،حالات اورمجبوری کی ایسی بھٹی میں جل رہے ہیں جس سے نجات کی کوئی امیدنہیں ہے ۔ایک نہ ختم ہونے والی اندھیری رات ان کی زندگی کوبھی مکمل طورپرگھیرے ہوئے ہے ۔
بڑے مولاناصاحب نے مجھے کہا ہے کہ اگرمیں اگلے مشن میں ان کاساتھ دوں گا اور ان کاکام کر دوں گا تووہ مجھے اس کے بعدآزادکردیں گے بشرطیکہ میں قرآن پر حلف اُٹھاؤں کہ پوری زندگی یہ سارے رازاپنے سینے میں ہی رکھوں گا۔۔۔
انہوں نے گھورکراس کی طر ف د یکھا۔ایسے جیسے اچنبھے کی بات کی ہواُس نے۔
ایسے کہا انہوں نے ؟؟؟
ہاں ایسے ہی۔۔۔
پھرکیاجواب دیاتم نے ؟؟؟
میں نے وہی کہاکہ اب میں کسی بے گناہ کی جان نہیں لوں گا۔۔وہ اب بھی اپنی بات پر اٹکاہواتھا۔
تو کیاکروگے ؟؟؟
میں یہاں سے بھاگ جاؤں گا۔کچھ بھی کرلوں گااورچلاجاؤں گایہاں سے لیکن اب مولانا صاحب کی بات نہیں مانوں گا۔بہت جانیں لے لی ہیں میں نے ان کے لئے ۔
لیکن جاؤگے کہاں؟؟؟
یہاں سے بھاگ جاؤں گاتوکسی بڑے سرکاری آفیسر یا پھرکسی بڑے آدمی سے مل کریہاں کی ساری سچائی بتادوں گااوراپنے اوراپنے خاندان کے لئے پناہ بھی مانگ لوں گا۔
اورتمہیں لگتاہے کہ وہ لوگ تمہاری مدد کریں گے ؟؟؟
کیوں نہیں کریں گے ۔۔۔
وہ ایک دم سے قہقہہ لگاکرہنسے اوراتناہنسے کہ ان کی پلکیں بھیگ گئی ایسے جیسے اس نے کوئی بہت ہی اچھالطیفہ سنایاہو۔جب ہنستے ہنستے تھک گئے تو اس کی طرف غور سے دیکھنے لگے۔ وہ بھی کافی اچنبھے سے ان کی طرف دیکھتا رہا۔ ایسے قہقہے مارمارکرتووہ کبھی نہیں ہنسے تھے۔
بہت معصوم ہوتم مجاہداللہ۔۔۔ تم نے گھر، مدرسے اوریہاں کے لوگوں کے علاوہ دنیاکو دیکھا ہی نہیںہے۔تمہیں کیالگتاہے کہ مولاناصاحب اورہزاروں پرمشتمل ان کا گروہ جوکرتاہے وہ ان بڑے لوگوں سے چھپ کرکرتاہے ؟؟؟ ایسا نہیں ہے۔ اس ملک کے بہت سے بااثر افراد بھی اِن خطرناک لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ تمہارے مولانا صاحب کے پاس آنے سے پہلے اسی طرح کے کئی تھیلے ان کے ہاں بھی پہنچادئیے جاتے ہیں۔ وہ پہلے سے باخبرہوتے ہیں کہ آج فلاں جگہ دھماکہ ہوناہے یاآج فلاں چوک پرمعصوموں پرفائرنگ ہونی ہے۔ اس لئے کبھی سننے میں نہیں آیاکہ ایساکوئی بندہ مراہے اورہمارے نام کے مجاہدوں کوایسے بندوں کی نہیں بلکہ معصوموں کی موت کاحکم نامہ ملتاہے اورتم جانتے ہو مجاہد اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ فائدے میں وہ لوگ رہتے ہیں جومذہب کے نام پرسیاست کرتے ہیں، جو داڑھی رکھ کروہاں لوگوں کے لیڈر بنے ہوتے ہیں اوریہاں سے ان معصوموں کی موت کی قیمت وصول کرتے ہیں اورتم یہ مت سمجھو کہ یہ صرف مولاناصاحب ہیں جو یہ سب کررہے ہیں۔ ان کے پیچھے مختلف ممالک کے لوگ ہیں جوپیسے دے کران سے یہ کام کرواتے ہیں اورمولانا صاحب تم اورمجھ جیسے لوگوں سے مذہب کے نام پروہی کام کروالیتے ہیں جس کے لئے انہوں نے پیسوں کے تھیلے لئے ہوتے ہیںاورجس کام کے لئے ابھی تمہیں مولانا صاحب کہہ رہے ہیں تم جانتے ہواس میں کیاہوگا؟؟؟
کیا؟؟؟؟ وہ مزید انکشافات کا منتظرہوگیا۔
اس کام میں فوجی وردی استعمال ہوگی اورفوجی تمغے بھی اورنقلی فوجی وردی نہیں بلکہ بالکل اصلی وردی اورتم لوگ وردی پہن کریہ کام کروگے اورتم جانتے نہیں ہو مجاہد کہ وہ وردی کہاں سے آئے گی۔۔میں بتاتاہوں۔۔۔
وہ چندلمحے رُکے ۔۔۔۔
اس کام کے لئے پہلے سے لوگوں کوخریداجاتاہے اوراس دنیامیں آج سب کے ایمان کی ایک قیمت ہے اورجب مولاناصاحب کے بڑے وہ قیمت دے دیتے ہیں توکوئی بھی بک جاتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور کسی کی کم۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سچے ہوتے ہیں اور کسی قیمت پر ایمان نہیں بیچتے۔اللہ کے بعد ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ ملک چل رہا ہے ورنہ کب کا سب کچھ ختم ہوچکا ہوتا۔فوج ایسا ادارہ ہے جو مخلص ہے اس وطن کے ساتھ۔ لیکن اس پوری فوج کے اندر کوئی ایک آدھ ایسا آدمی ہو گا جس کی ایمان کی قیمت ہو گی۔وہ بھی اپنی قیمت وصول کر کے یہ وردی اور تمغے فراہم کر دے گا اوریہ فوجی وردی وہیں سے آئے گی۔جہاں تک میں جانتا ہوں سارے ہی فوجی چاہے وہ افسر ہو یا سپاہی وطن پرجان دینا اعزاز سمجھتے ہیںاور جان دیتے بھی ہیں لیکن مولانا صاحب اور ان کے نیٹ ورک کو اپنے کام کے لئے پورے ادارے میں ایک بھی بندہ مل جائے تو ان کا کام ہو جائے گا اور یہ لوگ ہرجگہ ایسے ہی ایک آدھ بندے کوتلاشتے ہیں۔
وہ سراسیمگی کی حالت میں انہیں دیکھتارہااوروہ انکشاف پرانکشاف کرتے رہے۔۔۔۔
مر تا وہی ہے مجاہد جوبے خبرہوتاہے ۔جو کسی بازارمیں سبزی بیچنے والاہوتاہے یاریڑھی پر سجائی چوڑیاں بیچنے والایا پھروہ خریدارجس کی بدقسمتی اسے اس وقت وہاں لے کرآئی تھی۔ جسے پہلے سے دھماکے کاوقت اورجگہ پتاہوتی ہے وہ وہاں کیوں آئے گا۔اب تم ہی مجھے بتادوکہ جودین راستے سے پتھرہٹانے پربخشش کی نوید دیتاہواورکسی یتیم کوکھاناکھلانے پرجنت کاحقدارٹھراتاہووہ بھلادھماکہ کرکے کئی معصوم بچوں کویتیم کردینے والے کوکیسے جنت دے سکتاہے اورمیراخیال ہے کہ تمہیں بھی یہ باتیں سمجھ آگئی ہیں لیکن اب وقت نہیں ہے ۔دیر توپہلے ہی ہو چکی ہے ۔تمہارے لئے اب بہتریہ ہے کہ تم ان کی اس پیشکش پرغور کرلوجوانہوں نے تمہیں دی ہے۔ کیونکہ تم بھی کسی اورچیزسے مجبور ہو نہ ہواپنی اولادسے ضرور مجبور ہو گے۔ تمہارابھی توایک بیٹاہے ناجوتم کوابھی پہچانتابھی نہیں ہے۔ جویہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا باپ کس مجبوری کی سلاخوں میں جکڑا ہواہے۔
آپ کیسی باتیں کررہے ہیں شکیل بھائی۔آپ کے کہنے کامطلب ہے کہ مولانا صاحب خون بہانے کے پیسے لیتے ہیں؟؟؟
ہاں میرایہی مطلب ہے ۔انہیں ہی کیاان کے گروہ کے سرغنوں میں سے کسی کو بھی نہ دین کی کوئی خدمت کرنی ہے اورنہ ہی انہیں دین سے کوئی لگاؤ ہے۔ اگر ایسا کچھ ہوتاتووہ کسی بے گناہ کی جان کاسوداکیوں کرتے ؟؟تمہیں شایدیادنہ ہو کہ آج سے پندرہ سال پہلے یہاں ایک مدرسے پربم پھینک دئیے گئے اور سیکڑوں معصوم بے گناہوں کی جان چلی گئی اورکہاگیاکہ وہاں اسلحہ تھا۔ وہاں واقعی اسلحہ تھا لیکن وہ کسی معصوم بچے نے نہیں رکھاتھا۔ان کوتوپتابھی نہیں تھاکہ وہاں اس طرح کی کوئی چیزتھی۔جنہوں نے حملہ کیاانہوں نے پہلے مولاناصاحب جیسے کسی بندے سے وہ رکھوایااورپھراسی کابہانابناکران معصوموں پربمباری کر دی۔
مولاناصاحب جیسے یا۔۔۔۔؟؟؟؟ اسنے معنی خیزلہجے میں پوچھا۔ مولانا صاحب نے ۔۔
مجاہدنے ایک لمبی سانس لی۔ شکیل کے انکشافات اس کے لئے قبول کرنا آسان نہیں تھے ۔
مجاہد اللہ مولانا صاحب کوجب وہاں کا کام دیاگیاتو وہ کچھ عرصہ وہاں پڑھانے لگے اورتم جانتے ہوکہ دل اوردماغ کواپنے قابومیں کرنے کے فن میں انہیں بہت مہارت حاصل ہے۔ سو انہوں نے یہی کیااورکچھ ہی عرصے میں جہاد میں استعمال ہونے والے اسلحے کی حفاظت کے نام پرکچھ اسلحہ وہاں منتقل کر دیا اور جب ان کا کام ختم ہوا تو اسی اسلحے کے نام پر مدرسے میں پڑھنے والے معصوموں پرایسی بمباری کردی گئی کہ اُن کے اعضاکابھی پتانہیں چل سکا اور ایسے ہی نوٹوں سے بھرے ہوئے تھیلے تب بھی انہوں نے لئے تھے اورمیں تب بھی جانتا تھا اوراب بھی جانتاہوں لیکن تب بھی کچھ نہیں کرسکتاتھااوراب بھی بے بس ہوں۔۔
وہ بالکل خاموش تھا۔ایسے جیسے سانپ سونگھ گیاہو۔
جانتے ہومجاہد میں نے ایک باریہ بھی سوچاکہ اپنے خاندان کی قربانی دے دوں گالیکن مزیدمعصوموں کاگنہگار نہیں بنوں گالیکن جانتے ہوتب کیاہوا؟؟
وہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتارہا۔۔
تب میں نے بہت رازداری سے کھوج لگایاکہ میں جاکرکس سے بات کروں اور کس سے مدد مانگوں۔ لیکن مجھے مکمل طورپر ناکامی ہوئی۔ہرشاخ پر الو بیٹھا تھا جس کے سامنے کسی کی جان کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔پھرمیں نے مذہبی لوگوں کا سراغ لگایاجووزیروں، مشیروں اور بڑے بڑے عہدوں پرہیں۔میں نے سوچا کہ یہ تووہ لوگ ہیں جواللہ اوررسولۖکے راستے اوراحکامات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہ لوگ میری کسی طرح سے مددکردیںگے لیکن یہاں پرتومیں بالکل ہی مایوس ہوگیا۔وہ لوگ اپنے ذاتی مسائل اور طاقت کے کھیل میں اتنے مصروف تھے کہ اس کو خداسمجھ بیٹھے تھے اوروہی سب کررہے تھے جویہاں پرمولاناصاحب کررہے ہیں۔ مذہب کی فکرنہ یہاں کسی کوہے اورنہ وہاں۔یہاں بھی مذہب کے سوداگراوروہاں بھی اسی کے نام پرلوگوں کی بے وقوفی۔ یہاں سے میں نے مایوس ہوکروہی راستہ دوبارہ پکڑلیاجس کو چھوڑنا چاہا تھا۔ اگر میں کچھ کرنہیں سکتاتھاتواپنے چھ پیاروں کواپنے ساتھ مرواکرمیں کیاحاصل کرلیتا؟؟
وہ اب بھی انہیں اسی طرح حیرت سے ٹک ٹک تکے جارہاتھا۔اس کے پاس پڑی چائے کی پیالی کب کی ٹھنڈی ہوچکی تھی۔
تومیں سمجھ جاؤں کہ میرے پاس واپسی کاکوئی راستہ نہیں ہے ۔اب ساری زندگی مجھے بے گناہوں کی جانیں ہی لینی ہیں۔۔اس کے لہجے میں ایک لٹا ہارا ہوا مسافر بول رہا تھا۔
لیکن تم نے توابھی کہاہے کہ مولاناصاحب نے تم سے کہاہے کہ اگرتم اگلاایک مشن ان کی مرضی سے کرلوتووہ تمہیں جانے دے سکتے ہیں۔۔۔
آپ کولگتاہے کہ وہ ایساکرسکتے ہیں؟؟ اس کی مسکراہٹ بہت تھکی ہوئی تھی، اگرانہوں نے کہاہے تووہ ضرورایساکرسکتے ہیں۔کیوںکہ کچھ بھی ہے ایک بات کی گواہی میں ضروردوں گاکہ مولاناصاحب جھوٹ نہیں بولتے ۔ وہ زبردستی بھی تم سے کوئی کام کروا سکتے ہیں اوروہ واقعی ایساکربھی سکتے ہیں۔ لیکن اگرانہوں نے تمہیں پیشکش کی ہے تو میرا خیال ہے کہ تم غورکرلواس پر۔۔پہلے اچھی طرح سے حالات کاجائزہ لے لو۔ہرزاویے سے ۔اس کے بعد فیصلہ کرنا۔۔
مجاہدوہاں بیٹھاسوچ رہاتھاکہ اس کے حالات توبالکل ہارون جیسے ہوگئے تھے۔ کسی نے اس سے کہاتھاکہ ’’ہارون جیسامت بننابیٹا۔‘‘
لیکن وہ ہارون جیساہی بن گیاتھا۔۔۔۔

جمیلہ اسے عالمِ دین ہی بناناچاہتی تھی سوان دونوں نے اسے سکول داخل کرنے سے پہلے قاری ادریس کے پاس بٹھاناچاہا۔۔۔رات کوانہوں نے یہی فیصلہ کیاکہ اسے قاری صاحب کے پاس بھیجناشروع کردیاجائے اورسکول میں جب داخلوں کاموسم آئے گاتواس باراسے داخل کر دیںگے لیکن ا س میں ابھی سات مہینے کاعرصہ رہتاتھا۔۔
اوراگلے دن تونہیں ہو سکاالبتہ اس سے اگلے دن فضل نے ٹھیکیدارسے جلدی چھٹی لے لی تھی اورگھرآکررحمت کوگھرکے قریب والی مسجدمیں لے گیاتھاجس کی امامت قاری ادریس کرتے تھے ۔ بہت ہی بردباراورعزت دارانسان تھے ۔ گاؤں کے لوگ ان کوقاری صاحب ہی بولتے تھے ۔فضل اوربچے اسی مسجدمیں نمازپڑھنے آتے تھے ۔
یہ اصل میں ایک چھوٹی سی مسجدتھی جس کونمازکے اوقات کے بعد مدرسے کے طورپر استعمال کیاجاتاتھا۔محلے کے اکثربچے قاری ادریس سے قرآن کاسبق پڑھنے آتے تھے اورقاری ادریس ایک بارصبح اورایک بارعصرمیں بچوں کوپڑھاتے تھے ۔جو بچے سکول جاتے تھے وہ عصرکی نمازکے بعدپڑھ لیتے تھے اورجوسکول نہیں جاتے وہ صبح پڑھ لیتے اس طرح سے مسجدکاصحن بھی تنگ نہ پڑتااورمحلے کے سارے بچے پڑھ بھی جاتے ۔
گاؤں کے لوگ قاری صاحب کی بہت عزت کرتے تھے ۔وہ تھے ہی اتنے اچھے ۔ہرکسی سے عزت سے ملتے تھے ۔کبھی فضول بات نہ کرتے ۔نہ کبھی کسی سے کچھ مانگتے تھے ۔ان کاتعلق اس گاؤں سے نہیں تھالیکن کسی کوپتہ نہیں تھاکہ ان کاخاندان کہاں ہے ۔وہ بس پچھلے چھ سال سے محلہ جھنگی کی مسجدمیں آبادتھے۔ گاؤں کے لوگوں نے کبھی ان کے منہ سے اپنے خاندان کے کسی فردکے بارے میں نہیں سنااگرکبھی کسی نے کوشش کی بھی توقاری صاحب ٹال دیتے ۔ خود داری ان میں بہت تھی۔بھوکارہ لیتے لیکن خودکسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے ۔گاؤں کے کچھ مالی طورپرمستحکم لوگوں نے آپس میں ان کے کھانے کابندوبست کررکھاتھا۔اب وہی لوگ ایک ایک دن کاکھاناقاری صاحب کوبھجواتے تھے ۔ قاری صاحب گاؤں کے بچوں کوبغیراجرت کے پڑھاتے تھے ۔ پڑھانے کی اجرت انہوں نے کبھی نہیں مانگی اگرکسی نے کبھی دینے کی کوشش کی بھی توقاری صاحب یہ کہہ کرمنع کردیتے کہ وہ یہ کام اللہ کی رضاکے لئے کر رہے ہیں اوراللہ کے لئے کئے جانے والے کام کی اجرت نہیں لی جاتی رہا کھانے اورکپڑوں کا معاملہ تووہ گاؤں میں کوئی نہ کوئی قاری صاحب کو دے ہی دیتا۔لیکن قاری صاحب کی عجیب بات تھی کہ وہ پورے سال میں دو سے زیادہ جوڑے قبول ہی نہیں کرتے تھے ۔جب ان کوسال میں دوجوڑے مل جاتے تھے توتیسراوہ اصرارپربھی نہیں لیتے تھے ۔
جب فضل، رحمت کی انگلی تھامے مسجدمیں داخل ہوا تو بچے سبق ختم کرکے اٹھ گئے تھے ۔جب کہ قاری صاحب ادھرہی صحن میں چادربچھاکربیٹھے تھے ۔
السلام علیکم قاری صاحب۔۔،فضلونے عقیدت سے سلام کیا۔
وعلیکم السلام فضل اللہ کیسے ہو؟آؤ بیٹھو۔۔ قاری صاحب نے بچھی ہوئی چادرکے ایک طرف فضل کے لئے جگہ خالی کی۔
کہواس وقت کیسے آناہوا۔۔۔؟
قاری صاحب یہ میراچھوٹابیٹاہے رحمت اللہ۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ آپ کی طرح بنے ۔دنیا اور آخرت میں واقعی ہمارے لئے رحمت بن جائے ۔۔۔فضل نے مدعابیان کیا۔
(جاری ہے……)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔
 
Read 66 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter